February 22, 2015

راج کرے گا کون - سمیع آہوجہ


دو بھینسیں اور دو ہی بیل،کھیت سے لوٹنے کے بعد لہنا سنگھ کے باپ گرو دتّے نے گُتاوا جو توڑی ،شٹالے کا کُترہ ،تیل نکالے ہوئے بیجوں کی کَھل ،دادڑچنے کی دال ، ایک چھلّی سِٹے سمیت ،تھوڑا بہت بنولہ دودھ گاڑا کرنے کے لےے ،صبح کے نکالے پانی ملے دودھ کی دو چار گڑویاں، اور زمینوں پر اُگایا ہوا موسمی سبزے کا آمیزہ ،کھرلی میںملا کر اُن چارو ںکے آگے ڈالا تو گرو دتّے کی بیوہ بھابھی پیتل کی مانجھی ہوئی لِشکارے مارتیں دوولٹوئیاںلے کرآپہنچی ،بھوری کی کمر پر ہاتھ پھیرا تو لہنا سنگھ کے نام کی زور آورجَھوٹی گردن گھما کر اُس کی گردن پر زُبان پھیرنے اور پھرڈکارنے پروہ اسے بھی تھاپڑا دیتے دودھ دوہنے بھوری کے نیچے بیٹھ گئی اور تھنوں پر پانی کے چھینٹے مارتی ،دھوتی جَھوٹی کی طرف دیکھتے ہنسی، پیاری چھوٹی پہلے بھوری کو دُوہ لوں پھر تیری باری ہے۔ اور علیحدہ علیحدہ نکالا دودھ ہانڈیوں میں چولہوں پر چڑھا کر ،دونوں کے اُبلنے کے انتظار میں پِیڑی پر بیٹھتے ہی صحن کو دیکھا ۔تو لہنا ،سیاہ داڑھی موچھ کی روئیدگی میں کِھلتاگورا چِٹاچہرہ، اپنے چاچے گرو دتّے کا بے انت لاڈلا ،اور اُس کا اپنا بیٹاکرتارا۔ وہ تینو ں ڈیگر والے کھانے سے فارغ ہو چکے تھے ۔اور باقی لہنے کی ماں کاکی اوروہ خود رہ گئی تھی ۔بس کاکی ذرا دودھ کو اُبالا آجائے تو میں آتی ہوں۔اور پُتر کرتارے یہ چھوٹی ہانڈی ٹھنڈی ہو جائے تو گُر سبھا میں پہنچانی ہے ،بے بے پتہ ہے مجھے،روز کا کام ہے ،تُو پھر بھی سر پر سوار ہو جاتی ہے ۔لہنا بھی ساتھ ہی چِلایا مَیں بھی ساتھ ہی جاﺅں گا، کیوں نہیں ، نانی کے لڈو یاد آرہے ہیں ۔ویسے تو تم روز ہی جاتے ہو،مگر پھر بھی جب جاﺅ تو بڑی ماں کو بھی میرا سلام کہنا اور کہنا کہ کیرتن والے دن مَیں کاکی کے ساتھ ضرور آوں گی۔مگر کہلوانے والا سندیس بھی کیسا ؟ دو قدم پر تو حویلی میں سجی گُرسبھا ،جو کاکی کے پڑدادا کو امرتسر کے گرنتھی کی طرف سے مسند عطا کی گئی۔ جہاںمتھا ٹکواتی،گرنتھ پاٹ کاپریم سبھاﺅ سُجھاتی،اور گِڑگڑاتی سکھ چین کی چھت سر پر قائم ودائم رکھی رہنے کے لیے سر کی چادر کے دونوںپھیلی باہوں پر پڑے پلو کو بھر دینے کی آرزو مند ۔یہی حویلی گُرو دِتّے کا سُسرال تھا ،جہاں وہ صبح گرنتھ صاحب کو متھا ٹیکنے ضرور جاتا ،اور گھر کی دونوں عورتیںروز تو نہیں مگرہر دوجے دن وہ گرنتھ پاٹ میں شامل ہو جاتیں۔۔
برسوں پرانی چلی آتی رِیت تھی کہ رات بھیگنے لگتی تو دادی ،یا نانی یا اُس سے بھی بوڑھی عورت کو بچے گھیر کر بیٹھ جاتے ،اور کرید کرید کر پیچھے بیتی کو کتھا روپ میں کان دھر کر سُنتے ،اور مانجھا اور مالوہ کی لہو رنگی یہی رِیت و رہتل جاٹوں کی مختلف گوتوں کی آماجگاہ تھی ۔ایسی ہی بھیگتی رات میں جب ٹھنڈی ہوا کادریا سے اُٹھا پہلا جھونکا آتا تو لہنا سِنگھ اور پڑوس کے دوچار بچوں کے سنگ کرتارے کے ساتھ دودھ بھری ہانڈی کو لےے دو گلیاں کے موڑ پر پہلا گھر گُر سبھاکی چوکھٹ پر پہلے متھا ٹیکتے اور پھر دہلیز پار کرتے ،یہ ہی کاکی کا میکہ بھی تھا ۔بابا کے مرنے کے بعداب تو گرنتھی داس اُس کا بڑا بھائی ہی تھا ۔اور اُسی گھر میں تین عورتیں گرنتھی داس کی بیوی اور اُ س کی چھوٹی سی دودھ پیتی بچی ،اور پھر اُس کی بوڑھی ماں اور بوڑھی دادی ،اِتنی بوڑھی کہ جس کے چہرے اور باہوں کا گوشت بھی لٹک آیا تھا ،سارے بچے لہنے کی نانی سے ایک ایک بوندی کا لڈو اور میٹھے چنوں کی ایک لَپ کھاتے اُسے گھیر کر بیٹھ جاتے اور اُس کے پوپلے منہ سے نکلے،مٹھاس بھرے، نچڑتے الفاظ ،اُن کے اندر جاگزیں ہوجاتے رہے ۔اور وہی الفاظ اُس نے بھی اپنے بڑوں سے سنے ۔اور یہی شنیدنی اُس کی اپنی رت سے نچڑ کربچوںمیں سوچ کے لمحات بیدار کردیتی ۔۔
اور سارے بچے مُغل شاہی افواج کو دل ہی دل میں لعنت ملامت کرتے ،اپنے بزرگوں کے گھوڑوں کی راسیں پکڑے، گُرُو کے فوجی دستوں کے ہم رکاب ،جانیں تو وہ ننھی سی تھیں مگر پھر بھی وہ جذبے جوش میں بھرے ، اُسے ،ہتھیلی پر رکھنے کی آرزومیں تیرتے،بس اسی لمحے کے چُبھتے چھیدتے شبدوں سے بَنے زخموں کی پرداخت سے بنی ایک یخ میں ڈوبی آہ نکلی ،اپنی جد کو گُر منتروں میں ہلار ے دیتی پلٹی اور بچوں کی توجہ کوپھر سے سوچ کی راہوں پر لا کھڑا کیا۔
پہاڑوں کی چڑھائی چڑھتے ،تلاشِ گُورومیں بلندیوں کی سنگلاخی کو چھلنی میں چھانتے، مغل فوجوں سے خونی تصادم کے بعدمیں جدّ،جو گرو کی ہمرکابی میںہی چپکا رہا تھا ۔اُس کی مدت مدید تک کوئی خبر ہی نہ ملی اور جب پہاڑوں سے کسی تصادم میں گورو کے آوازے پر اُس کے قُربان ہونے کی خبر اُتری توجدکی اولادمیں قہر بھری جولانی جاگ اُٹھی، دونوںکی دیوانی سُوجھ بُوجھ گھوڑوں اوراسلحے کی خرید کے لےے، کھیتوں کی چھاتی کھول کر ملاپ کرنے کے لےے کِھل اُٹھی ، اور امرتسر کے نواح میںتقریباً گیارہ میل سنہری گردوارہ سے جنوب میں گرو ارجن کے ترن تارن میں بنائے تالابِ نجات سے مِیل بھر نیچے، اچھی بھلی زمینداری جاٹ بزرگوں کے وقت سے چلی آتی تھی اور یہ بھی نہیں تھا کہ اُس کا کوئی ٹکڑا خراب ہو، بڑی ہی زرخیز زمین تھی ۔کنوئیں کا پانی تو وافر تھا ہی لیکن جیسے بارش کا ایک چھینٹا پڑتا تو ہریاول سر نکالے لہلہاتے واہی بیجی والوںکے وجود وں کو ان گنت سُروں کی چُلبلاہٹ سے مست کر دیتی ۔جد کے باپ نے سنہری گردوارے کی تعمیر کے لےے اپنی آمدن کا دسواں حصہ گورو دکھشنا کے نام پر گورو کے حکم بموجب ہرفصل کی آمدن سے نکالتا۔اور جِسے وہ سنہرے گوردوارے کے کھاتے میں امرتسر میںبساکھی کے میلے پر جمع کراتا رہا۔لیکن جہانگیری حکم ِشاہی سے گورو ارجن کا قتل اور سارا سِکھی اثاثہ جس پر کوئی سرکاری حق نامہ نہیں لکھا تھا ضبط ہونے پروہ دل ہی میں مسوساپِیلتے رہ گئے ۔گورو ہرگوبند کے حکم پر وہ گھڑ سوداگروں سے نسلی گھوڑے سال کے سال خریدتے اور گرو دھکشنا میں سنہرے گردوارے کے حساب میں جمع کرتے رہے۔سرکاری مالیہ بھی گورو کے فرمان کے مطابق دل پر کڑا جبر کرکے جمع کراتے رہے کہ محاصل کی ممنوعات کے لےے اُن کے اورشاہی مُغل افواج کے درمیان ابھی لکیر نہیں کھنچی تھی اور نہ ہی سِکھی دربار نے کوئی حکمی سدّ کھڑی کی تھی۔
مگرموسمی حالات کی کِسے خبر ہوتی ہے،سیلاب کی منہ زوری میں ساری کھڑی فصل برباد ہوگئی ۔اپنے گاﺅں کے کھیت مزدوروں کو آدھی پچاتی اپنی کوٹھیوں میں سال کے دانے دُنکے میں سے حصہ دار بنانا پڑگیا، جو انہوں نے دل خوشی سے تسلیم کیا ۔ مگر سرکاری محاصل کہاں سے دئیے جاتے،پنجاب کے چغتائی حاکم دارا شکوہ نے تو سیلاب زدہ علاقے کے محاصل معاف کردیے مگر شاہ جہان کو شاہ جہان آباد کے قلعے اور مسجد کی تعمیر میںجلدی تھی ۔محاصل زبردستی سے وصولنے کا حکم نامہ جاری ہوا ۔اور گرو ارجن پر جہانگیر کا عائید کیا ہوا جرمانہ بھی ابھی وصول کرنا تھا ،بس اسی جرُمانے کے ساتھ گوروہر گوبند کی افغانیوں کے ہاتھوں فوجی تربیت کے اجتماع پر بغاوت کی پخ لگاتے تصادم شر و ع کردیا۔آس پاس کے کئی ایک دیہاتوں کے جنگی اسیروں کے قتل کے بعدلاہوری قصابوں کے ہاتھوں بوٹیاں بنانے کے عمل نے اک ایسی آگ بھڑکائی کہ لہنا کی گوت کی ابتدائی لڑی گور و ارجن کے قتل اور گورو ہر گوبند کے مسند پر بیٹھتے ہی سکھی پرستاروں میں شامل ہوگئی اور پھر خبریں فوجی تصادمی جمگھٹے میں پیوست ہوگئی تھیں ۔ شاہی فوج سے تصادم میں گورو کے فرار کی راہ کھولتے ہوئے جان قُربان کرنے کی باری آئی تو اُس وقت لہنا کی لڑی کے جد امجد نے اُس پر لبیک کہتے حلقوم پر چُھری پھروالی ۔جد امجد کے دونوں بیٹوں میں سے بڑے نے ہل بیجی کے زور پر اپنی زمینیں ہریاول میں تبدیل کر ڈالیں اور چھوٹے نے گھوڑوں کے سوداگروں سے کانٹا لگا لیا اور اچھی نسل کے گھوڑوں کی کمر یا گردن پر ہاتھ پھیرتے پہلا ملکیتی تھاپڑااُس کا ہی ہوتا ،اور وہ مول تول کرتے گورو کے حکم بموجب اُسے خرید کر سنہری گوردوارے پہنچا دیتا ،آخر سنہری مندر کے لےے اپنی آمدنی کا دس فیصد دینا دونوں کی دین داری ہی تھی نا ۔
گرو ارجن کے قتل اورجلیان والے قتل عام کے بیچ ڈھائی پونے تین صدیوں کا فاصلہ حائل تھا ۔مگر سِکھی دودھ میں اُس وقت بے وقت مغل شاہی کے ہاتھوں جو خون بہایا گیا ۔وہ گروﺅں سے بندھے سِکھی قول و قرار کی ڈوروں میںپرویاذہن کا ہارسنگھار ہوگیا۔ مندروں میں جاٹ برادریوں کے آتے چڑھاوے کا رُخ سنہری گردوارے اور گرو استھانوں کی جانب پھرنے سے ،مال و دولت کے شدید بھوکے پنڈتوں کی درس وتدریس میں آگ لگ گئی اور اُنہوں نے بھڑکتے ہندوںکو سکھوں پر ہشکار دیا ۔اور مسلمان ۔؟
مغلوں کے پایہ¿ حُکمرانی کو بِلا فصل اپنا ہم مذہب جانتے،!
مسلمانوں کے اسی رویے کی بدولت انتقام کی آتش ،مقاومت میں لپپٹتی چلی گئی ۔ اور بوڑھی پڑدادی، پڑ نانی ،اور دادی نانی کی آہوں سنگ نکلتی بدعائیںآنے والی نسل کے خون میں ایسی اُتریں کہ ساری سِکھی بارہ مثلیں ،ہندوں اور مسلمانوں سے ،سنہری گردوارے کی بنیاد پڑتے ہی ، اُن کے سرکاری رویے کے سبب پہلے ہی سے سخت منحرف ہو چُکی تھیں ۔ اور جب ابدالی نے سنہری گردوارے کو لوٹ لاٹ مسمار کرتے ، امرت تالاب کو بھی گھوڑوں کی لیداور رخنے بند کرتی زمینی رال کے آمیزے سے ایسا پاٹ ڈالاکہ زمین سنگلاخ ہوگئی ۔اُس زمان کے مسلمان چاہے وہ افغانی تھے یا مقامی دیو بندی مسلمان،انتہا پسندی کی راہوں میں حائل ہونے والے ہر جی دار کو اپنے رہوار کی ٹاپوں تلے قیمہ کرتے ، زندگی گزارنے کے تمام مذہبی اور معاشرتی اصولوں کو فراموش کرواتے قتل ،لوٹ ماراور غارت گری کے شکنجے میں پھانسے رکھتے تڑپنے پر مجبور کرتے ،اُن کی افغانی درندگی میں رچی، پلتی رَت کوکیا لگے کسی قانون کو محترم بنانے کا ، وہ تو مذہبی احکامات کی تمام تر خُو کو اپنی مرضی مطابق گھڑتے ۔ احترام کا ساراقضیہ تو مدتوں پہلے ہی لشکری ادوارِ اُمیہ میںہی بزورتیغ قبرستان میں دفن ہو چُکا تھا۔اگر وہ مذہبی محترم اصولوں کا لڑ پکڑے ہوتے تواِس غیر انسانی سلوک سے دور رہتے۔ اُن کے مذہبی قواعد میںسے ایک نمائندہ اصول کہ دوجے مذاہب کی عبادت گاہو ں کا احترام کریں اوراُن میں کسی قسم کی دست اندازی نہ کریں ،مگرکسی بھی ماتھے پر محرابی نشان نمایاں کرنے والوں کی غیرت جاگی اور نہ ہی کِسی مدافعت کا واویلا اُٹھا، اور تواور۔؟ افغانی یا دیو بند مسلک مسلمانوں کو تو میاںمیر صاحب کی سنہرے مندر کی حُرمتی بنیاد تک یا دنہ آئی ، بابے کی کُٹیا تک تار تار کرتے ہوا میں اُچھا ڈالی۔ اگلی نسل کے کانوں میں پڑتی ٹُھکتی میخوں کی پیڑااِسی غم گلوٹھی میںاُسے تڑپاتے ،بلبلاتے دماغ سُن کر دیتے۔ اتنا ظلم! سکھ ان کے ساتھ کسی جنگی امداد میں سینہ سپر نہیں ہوئے تو دُکھ کی کیا بات۔ !
رنجیت سنگھ کا زمانہ آیاتوسنہری گردوارے کی مسمار حالت کو دیکھتے اُس کی ہی غیرت جاگی اور اُس نے سنہری مندر دوبارہ بنایا اور امرت تالاب کوبھی دوبارہ جار ی کیا۔
اوراسی سوچ بچار کے بَل اُٹھا اُس کا قدم ،کیا گروہی انداز میں کسی پل کسی نے اس دُکھ درد کو محسوس کرتے سوچا؟شاید سوچا بھی ہو ،جس کی ہم تک خبر نہ پہنچ سکی ،لیکن اب ہم ملکر سوچنے پر مجبور ہیں۔ آخر سکھوں کا فرنگیوں کے ساتھ دست پنجہ کِس صف میں لپیٹ کر دفنایا جائے۔اور تفصیل کے مدفن خزانے کی کیسے نشان دہی ہو۔؟
لہنا کی نسل کے وجود میں شدید نفرت اور۔؟
اسی سے پھوٹتا سوچ و بچار کا اک نیا چشمہ ۔۔؟
جلیانوالا باغ کا وحشیانہ فرنگی درندگی کے ہاتھوں قتال ۔۔!
لہنا سنگھ کاپوتا،بلبیرسنگھ ،اک نوجوان سکھ ۔!
اُس کی خالص گردوارے میں پلی سوچ میں اک گہری دراڑ پڑگئی ۔کہ رنجیت سنگھ کے امن و امان کے چالیس سالہ دور کے بعد سکھوں کی فرنگیوں کی خدمت کا صلہ کیا ملا۔؟اِسی جان فشانی اور اتنی اہم کاری کے سبب پنجاب میں فرنگی قدم جم سکے۔اُس کے صلے میں ملا کیا۔؟ اک لمبی غارت گِری ،اور پھر اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی میں جیالوں کی شکست کے بعدہر اک نیٹو اُن کی نظر میں مطعون ،اورپھر اسی بل بوتے پرمحکوموں پر مسلط کیا گیا دہشتناک فوجی راج ،ساری سوچ و فکر کو تہہ تیغ رکھے یکے بعد قتل و غارت اور سولیاں،اور اس درندگی سے نیٹو کے لہو سے نہائی شمشیریںاپنے انتہا پرپہنچیں،جب جنرل ڈائر کے حکم نامے پرآگ میںجلتا ہوا جلیانوالہ باغ گورا سپاہ کے کمیلہ¿ ٹامی میں قصابی اسلحے کے زور سے مقتولوں کی کٹتی بوٹیوں سے ایک عشرہ بعد خوف و ہراس میں ملفوف خبر جب لہناسنگھ کی آنے والے نسلی پوتے کے کانوں میں پڑی تو پھر ایک لمبی سرد آہ ، مگراسی میں لِپٹا سوالوں کا ملغوبہ کہ مجرموںکا شکار کِیسے کر یں۔۔؟
چاروں طرف اُڑتی دُھنی روئی ،اور الزمات کا انبار،گورے کے شدادی ہاتھوں کے قہر افلاک سے کڑکتی، گِرتی جلاتی ،بے حرمتی کے منظر نامے کی ساری شکل رو نما ہو ۔مگر بے بس ہاتھوں اور نظروں کی چھان بین غوطے ہی کھاتی رہی ،کچھ بھی تو گرفت میں نہیں آیا ،بیچارگی سے ساری سعی اور جرا¿ت پژمردہ۔ مگرجب ان ہی پژمردہ لمحوں کے شاہد بوڑھوں کی بیانیہ اُن کی خشک اکڑی زُبان سے اُبلی توقربان گاہوں کو پھرولتے عشرہ ہی گزرا تھا، غریب بستیوں کی آتش زدگی اس لےے ہوئی کہ چڑیا گھر کے لےے جلیانوالہ باغ کی نواحی غریب جھوپڑ پٹی ،غریب مرد اور عورتوں کی باہم محنت سے اُساری ، بسائی بستیاں شہر کے میئر کی حاکمانہ حویلی کے چہرے پر اک بد نما داغ تو تھاہی ،مگروہ میئرجنرل ڈائر کے شہوت بھرے عاشقانہ کندھوں پر سوار تھا ۔اُس کے ان بستیوں کی مسماری حکم نامے کے مقابل احتجاجی انبوہ جو اپنی بستیوں کے گھیراﺅ، جلاﺅ، کٹاﺅ، اوران کے مسمار کرنے اورخوبصورت پرندوں چرندوں اور درندوں کا چڑیا گھر بنا کر محل نما حویلی کے چہرے پر لگے داغ کی صفائی کے لےے حاکمانہ نظروں میں تذلیل کیے جانے کا وقوعہ تراشاگیا ۔جنرل ڈائر کی معشوقہ¿ دلنوار فرنگی گوری ،میئرِ شہر کی بیٹی تھی،پس اُس کے اغوا اور جبریہ بے حرمتی کا الزام بہت بڑا سبب بنا،جنرل ڈائر کی آنکھیں قہر سے اُبل پڑیں،اور جلیان والا باغ کا واحددروازہ بند کرتے ،امن امان میں اپنی بستیاں اور گھر بچانے کے لےے احتجاجی جلسہ کرنے والوں پر ڈائر کے حُکم سے فوجیوں کا کُھلا فائر،لاشوں کے انبار لگ گئے ،راہِ فرار کی چھوٹی سی گلی ، دہشت سے نکلنے والے اک دوجے کو کچلتے نکلے باہر سڑک ،زمین سے لگی ناک ،اور سینے کے بل رینگتی مکروہ سیاہ فام چھپکلیاں ،اور اوپر برستا گذرتا گولیوں کا طوفان ، ذرا سا سر بلند ہونے پر موت کودعوت اور جو باقی بچے ،وہ روبروقہر برساتی کرسی نشین باز پُرس کی شعلہ فگار آنکھوں میں سوال اُبلے تو کیسا۔۔؟
بس مانگے جواب۔۔؟
مگرجواب کی پیہم مروڑی سن سُتلی گانٹھ میں پیہم آہ و بکالپیٹتی تصویر ظاہرہوئی۔۔
مگر تصویر کیسی۔۔؟
آگ میںجلتا جلیانوالہ باغ روبرو آکھڑا ہوا،لا تعداد بند وقفوںمیں سچ انگنت مجبور و مہجور لوگوں کی چیخ و پکار میں ظاہر ہے۔اور جھوٹ کا قہر ٹوٹے توبیتاب سزاﺅں میں لپٹا ،جھوٹ کو سچ بناتا، فرنگی سرکار کے تفتیشی کرسی نشین افسرکاچیختا چِلاتااونٹ حلق،اس سے نکلتی بِلبلاہٹ میں مجرم قرار پاتے ،لوگوں کی سہمی نظروں پرنفرت بھری لاسا لگاتی قہر آنکھیں گھات میں نشانہ باندھے گرجتے برستے ،مسلط ہوا فرنگی قانون ،سر پر تنا آسمان ، اسی قانون کے جُثے سے ٹپکتا گرجتا برستا اپنی پرکھ کا آویزاں ترازو ،بھاری پلڑے سے نکلتے دفعات کے دفاتر میں بغاوت لکھی گئی۔۔!
ہینگ ٹِل ڈیتھ۔۔!
کیا سولیوں کی قطار آئی گنتی میں ۔۔؟
تصویر ی چوکھٹے سینوں میں آویزاں،اس میں چِت اور پَٹ دونوں کا فیصلہ بلا دلیل گُناہ تھوپتے فردِ جُرم عائد کرتا،کرسی نشین ایک لاٹھی پرے تین قطار ،چوتڑ چوکڑی پر براجمان بندوق بندنیٹو سپاہ کی گھنی حفاظتی باڑ،اُس کے عقب میں حاکم اعلی ،بازار چودھری، باز پُرس ،جسٹس ،اور گولیوں کے برسانے کا رفتار پیما صوبیدار میجر اور سار ا ہی کچھ یک جان کُرسی نشین میں مدغم ،اور فردِ جُرم تلے پِستے افراد کا اک انبوہ بیکراں،سینے او ر پیٹ کے بل لیٹے ،سروں سے گزرتی گولیوں کی بوچھار مانندِ مُور و ملخ زمین میں ناکیں گُھسیڑے اپنے دم توڑتے ڈھیر ہوتے ساتھیوں کی نعشوں سے پہلُو بچاتے سینے کے بل بلا تکان سرکاری سڑکوں کی خُشک اینٹوں پر مسلسل رینگتے، اور جو آتی جاتی سانسوں میں ہونکتے، باقی بچے ،وہ کڑے پہرے میں مضبوط سلاخوں کے پیچھے بند ، ہمیش خالی رہتے دریچے سفید اور کھچڑی ڈاڑھیوںکی خُشک آنکھیں،باز پُرس کو اک خون چوسنے و الے کیڑے کی ماہیت میں تبدیل کرتے اور کداتے گھوڑوںکی ٹاپوں سے قیمہ کرنے کی قصاب جبلتوں بیچ خون آشامی کے دہن سے ٹپکتے لہو میں غُسل کی آرزو۔۔
مگر یہ ہے بڑے حوصلہ مندی کی بات۔۔
مگر دُوجی کٹھن راہیںتو اپنے بیان میں کچھ اور ہی کہتی اورکچھ اور ہی دُھنتی ہیں۔؟
مگر لہنے کی اگلی نسل نے سوچ بچار کرنے کی راہ میں حائل کھتوئی آخر نکال ہی لی ،اک سکھ نے جس کے متعلق فرنگی کہتے رہے کہ گھڑی غلط ہو سکتی ہے ،سِکھ نہیںتو۔ ۔؟
مسند نشین گُرداس کو بھی اس کی سمجھ بوجھ نہیں تھی ۔وہ تو یہ سمجھتا تھا کہ سکھوں اور فرنگیوں کے دست پوشی ہوجانے کے بعد جو کچھ بھی ہے سِکھو ں کے لےے اچھا ہی ہوگا۔سَروں کی فصل بہت کٹالی ۔۔!گِردو نواح کے جاٹ سِکھ اور دوجی مثلوں کے سکھوں کے زرعی محاصل سرکار نے نصف کر ڈالے ،مگر پھر بھی سوال تو اُٹھا اور جہاں سِکھ کی سوئی اٹک جائے ،حلق کھنگورا مارنے سے صاف نہیں ہوتا ،جب تک بلغمی گولی تھوکی نہ جائے۔۔
اور اسی چلتر فرنگی راج نے مرا¿ت یافتگی کے ہنر سے اپنے خیرخواہوں کے گلے میں ڈلا پٹا اور انہار سازی کی بنی زمینوں کی آباد کاری کے لےے ،یہ عطیہ سکھوں ہندوﺅں اور مسلمانوں میں بانٹا گیا گھوڑا پال کے نام سے۔۔!
کالج میں عمومی سیاسی حالات نے یار دوستوں کا اکٹھ اک گروہ میں تبدیل اور اس کا بنایا ہواچھوٹا سا گروہ ،آخر کِس کھوج پہ پہلے ہاتھ ڈالے ۔سوالوں کا اک انبار ۔۔؟
آخر یہ کیسی محویت کا عالم ہے کہ جوسوچ بچار کے تمام لمحات کو ویران کر گیا۔ہر اک شخص کی مجبوری کہ اس کے ہاتھ ہی میں کِسی بھی ڈور کا سرا نہیں آتاتھا ۔۔!
بات ساری پانچ سات راہوں پر تقسیم ہو گئی ہے ۔
رولٹ قوانین جو مجموعہ تھا دو قوانین کا ،انڈین کریمنل لاءایمنڈمنٹ ایکٹ اور انڈین کریمنیل لاءایمرجنسی پاور ایکٹ جو فرنگی جج سر ڈزنی رولٹ کی سر براہی میں لجسلیٹو کونسل نے ایک کمیٹی کی سفارشات کے مطابق منظور کیے ۔جو ہندوستانیوں کے لےے دودھاری تلوار تھا۔کیونکہ اُن کے خیال کے مطابق نومبر انیس سو سترہ میںروس سُرخ پرولتاری دو دھاری تلوار تھا۔ پرولتاری نظام کا لبادہ اوڑھنے اور سوویت یونین بننے سے وہ ان کے لےے زارِ روس سے بھی زیادہ خطرناک ہوگیا تھا ۔ فرنگی تھنک ٹینک کواس غلام دھرتی سے پرولتاری اُگ آنے کا اندیشہ کلبلا رہا تھا ۔مگر ساتھ ہی جنگ کے دوران پُر تشدد اورانگریزی تسلط سے آزادی حاصل کرنے کے خواہش مند انقلابیوں کی کاروائیوں کا بھی سدِباب کرنا تھا جو بنگال ،پنجاب اور ہندوستان کے دوجے علاقوں میں شروع تھیں ۔ان قوانین کے بل بوتے کسی شخص کو بھی بلا کسی وجہ اور تشریح کے بنا گرفتار کر کے غیر محدود مدت تک نظر بند رکھا جا سکتا تھا ۔ مسلم لیگ اور کانگرس کے درمیان ہونے والے معاہدے کی بدولت اتحاد و یگانگت کی فضا پیدا ہوگئی تھی ۔ان قوانین کے نفاذ پر مہاتما گاندھی نے ستیہ گر مزاحمت کا اعلان کیا ۔دلّی میں یومِ احتجاج کے جلوس پر گولی چلا دی گئی ۔اور اس پر پنجاب میں لاہور کے علاوہ وسطی پنجاب میں بھی احتجاجی ہڑتالیں اور جلوس نکالے گئے۔ گاندھی کو انتظامیہ نے متھرا سے نکال کر بمبئی چھوڑ دیا ۔لاہو میں شدید احتجاجی جلوس نکالنے پر پولیس نے ہائی کورٹ کے سامنے اُن پر گولی چلا دی ۔پھر لوہاری میں گولی چلی ۔اور اگلے روز شہر میں فوج نافذ کرکے جگہ بجگہ فوجی چوکیاں بنا کر دہشت پھیلا دی ۔شاہی مسجد کے پاس فوجی چوکی کے حاضرہ فوجیوں نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لےے گولی چلا دی ۔لیکن۔۔؟
لیکن بلبیر کے شہر امرتسر میں ۔۔؟
بندوق گولی کی خونخواری میں لِپٹی سرکار کے چھاونی کی آفزائش میں جا بجافوجی چوکیوں کے انڈے بچے دے ڈالے ۔اور سیاسی لیڈران یعنی سیف الدین کِچلُو اور ڈاکٹر ستیہ پال کو گرفتار کر لیا ۔شہر بھر دکانیں بند لورمکمل ہڑتال ہوگئی اور ایک اچھا خاصا بڑاجلوس اپنے لیڈروں کی رہائی کے لےے ڈپٹی کمشنر کی کوٹھی کی طرف نعرہ زن ،چل پڑا ۔پولیس راہ میں مزاحم ہوگئی اور ہجوم کو منتشر کرنے کے لےے گولی چلا دی ،ہجوم میں بھگدڑ مچ گی اورمنتشر ہجوم واپسی کی راہ پر پھر اکٹھا ہوگیا ۔غصے سے بپھرے ہجوم نے نیشنل بینک اور الائیڈ بنک کی عمارتوں کو آگ لگادی اور چار یورپین افسران اور ایک مشنری عورت کو ہلاک کر ڈالا،اور ٹیلیگراف کی تاریں توڑدیں ۔امرتسر کے سرکردہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا اور ہر قسم کے جلسے جلوسوں پر پابندی لگا دی گئی ۔مگر تیرہ اپریل کو بیساکھی کے موقعہ پر امرتسر کے مشہور باغ جلیانوالہ میں ایک احتجاجی جلسہ تقریباً بیس ہزار کی نفری سے منعقد ہوا ۔تو ایریا کمانڈر جنرل ڈائر پچاس انگریز اور ایک سو نیٹو سپاہ کے ہمراہ وہاں وارد ہوگیا۔ اور بغیر کسی وارننگ کے گولی چلوا دی ،باغ کے چاروں طرف دیواریں کھنچی ہوئی تھیں اور آنے جانے کے لےے ایک ہی دروازہ تھا ۔یعنی فرار ہونے کی ساری راہیں مسدود،چاروں طرف کی عمارتوں میں پناہ لیکر انگنت لوگوں نے جانیں بچائیں ۔فوجیوں نے مسلسل دس منٹ تک فائر کھولے رکھا ۔ جس میں سولہ سو پچاس گولیاں چلائی گئیں ،اور اس وحشت ناکی کا دوردورا اُس وقت تمام ہوا جب فوجیوں کے پاس گولیاں ختم ہو گئیں۔انگریز ی سرکار کی رپورٹ کے مطابق تین سو اناسی افراد ہلاک اور بارہ سو زخمی ہوئے ۔لیکن کانگرس کی تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار تھی اور سیوا سمتی نے تو پانچ سو لاشیں گنتی کیں۔ اور اُسی شام سارے پنجاب میں افغان وار کا واویلا کرتے مارشل لا لگا دیا گیا ۔امریکی جرنلسٹ کے بقول اِسی واقعہ سے غیر مُلکی تسلط کے ختم ہونے کی بنیاد پڑ گئی ۔لیکن نہ صرف یہ واقعہ وجہ بنا بلکہ اٹھار سو ستاون کی درندگی کے جو زخم نہیں بھرے تھے ، کئی بار جا بجاپھٹ پڑے ۔
لیکن نانی پڑ نانی اور مسند نشین کے دل میں تووہی مغلوں والی تباہی کابم لگا ہوا تھاجو گاہے بگاہے منفجر ہوتا رہا۔اور شایداسی بدولت اٹھارہ سو ستاون کی جنگ دِلّی میںانگریز فوجیوں کے ہاتھوں نکل گئی تھی لیکن سکھ اور چند ایک پٹھان پلٹنوں نے اُن کے ہاتھوں نکلتی جنگ جتوا دی تھی ۔اور پنجاب کی فرنگیوں سے چار جنگوں میں سکھی سالاروں سے گٹھ جوڑ کرکے ہاری ہوئی جنگ جیت لی ۔پھر مراعات یافتگی کا اک طوفان کھڑا کر دیا۔
اب اگر ابتدائی نیشنلسٹوں کی سعی اور جدوجہد کے تجزےے میں اٹھارہ سو ستاون کے متحاربہ ولولے کو دیکھیں تو سکھی مسند شناسوں کی نا سمجھی کا اک روپ ظاہر ہوجائے۔
جن کے جگرے میں گوری فوج سے چھٹکارا پانے کی اُمنگ روشن ہو، وہی اُس آتش ِ فشاں تک پہنچاتے اُس گنجلک زمان کے بند کھولتے ہوئے مکالمہ کرتے ہیں۔ اور یہ ہی لڑی ،پولیس لاٹھی چارج میںچھوٹو رام کے قتل پر نئی جہت میں بھگت سنگھ اور اُس کے ساتھیوں میں کِھلتے مہکی۔ معمول کے مطابق کاروبارِ حیات سے فارغ ہوتے ہی سِر شام اُن کی جمتی سبھا ۔کمپنی باغ کے درختوں کی گھنی اوٹ میںنجانے کب سے روشنی کی شمع روشن کرنے کی آس میں ،چوکڑی جمائے،لہنا سنگھ کی اگلی نسل کا اک بیٹا اپنے کیس سمیت ،ایک چھوٹاسا ہم خیال جتھابنا بیٹھا،جن کی عمر یںتابناکی سے نکلتی ڈھلوان پر آکھڑی ہوئی تھیں ۔۔!
ہوسکتا ہے کہ یہ اک ہراول دستہ ہو جس کی بھر پُورنمو بھگت سنگھ اور اُس کے ساتھیوں تک پہنچ کر اپنے عروج پر پھوٹی ہو ،یا یہ درمیانی زمان کا کٹھ جوڑ ہوکہ جن کے سینے آزادی کی دلداری میں شعلہ فگاں۔۔
بلبیر اورچند نفری گروہ ۔۔
اس گرو ہ میں پانچ سکھ ، چار ہندو،سات مسلمان اور چار شودر۔۔
زمینی رشتے میں وہ سب ذات پات کے جنجھٹوںسے بے نیاز ،اس عہد وپیمان میںبندھے کہ جو کٹنے اور فکر کرنے کے انکڑے میں پھنسنے سے گھبراتا ہو ،وہ بلا شبہ اپنی پناہ گاہ کی جانب پلٹ جائے ۔وہ سب توپنجاب کی چھاونیوںکااحوالِ پھرولتے ہر اک چھاونی کی پناہ میں مخفی گوری پلٹن اور نیٹو کی فوجیوں کا مالکانہ اور غلامانہ رویے میں اٹھارہ سوستاون کو اُجالتے، سرکار کی احسان مند انہ چڑھاوا لکھت نویس دربار ی،اپنی تعریف اور لکھتے اور مقامی آبادی کو جہل کی مہر سے کندہ نقش نگارِ زدہ ِ غلامی چولے میں اُتارتے ،اسی میں سے وہ سارے اصلی راہ کھوجتے۔مگر یہ راہ تھی بڑی کٹھن ۔ابھی تو اس ہنگامِ اٹھارہ سو ستاون کی تفہیم سرکار ودربار کی ڈھول پیٹتی ،درد انسانیت کی گمراہ کُن پرچارک لکھت سے منسلک ہے، مگرباریک بینی سے چھان پھٹک کرنا تو اِن سب کافرض۔۔!
اس کاسر پیراُنہوںنے ضلع امرت سرسے ہی ٹٹولنا شروع کیا،کیونکہ چھاونی کی بغل میں چھوٹا سا فوجی یونٹ جو کمشنرکے احکامات کا دستِ نِگرتھا،وہی مرکزی شہر میں متعین۔۔!
قلعہ گوبند گڑھ کی چھاونی میں ہندوستانی پلٹن نمبر اُنسٹھ کے ستر سپاہی شک شبہے کی تنور میں دہکتی آنکھوں کے بل دُھتکارتے ہتھیار لے لےے گئے۔اور اُن کی جگہ گورا پلٹن نمبر ایک کے اکیاسی کے سپاہ مامور کیے گئے۔اکتیس جولائی اٹھارہ سو ستاون۔ میاں میر چھاونی سے چھ سو سپاہ کا بھاگا ہوا گروہ بمقام بال گھاٹ آپہنچا،اور زمینداروں سے پایاب راستہ پوچھا ۔ فرنگی کے سنگ بندھے قول و قرار کے سچے اور مفادات کی سانجھے زمیندارسانپ کے بل داری شکنجے میں جکڑے ہوئے تھے ،انہوں نے انہیں باتوں میں پھانس کر پانی پایاب ہونے کے لےے انتظار کرنے کو کہا اورساتھ ہی ایک آدمی کو پورے معاملے کی تفصیل کے ساتھ تحصیلداراجنالہ کے پاس روانہ کیا ،تحصیلدار نے تحصیل و تھانے کی سپاہ نفری کےساتھ وہاں کا رُخ کیا ،لڑائی میں انہیں اُلجھا کر ایک سوار کے ہاتھ ڈپٹی کمشنر امرت سر کو خبربھجوائی ۔ڈپٹی کمشنر اسّی سواراور اکسٹرا اسسٹنٹ سردار جودہ سنگھ کے ساتھ وہاں پہنچ گیا ،مگر صاحب کے آنے سے قبل ہی ایک سو پچاس باغی، تحصیل داراور زمینداروں نے مل کرمار گرائے،اور باقی ماندہ دریا کے بیچ ٹاپو میںگِھر گئے۔ دوسرے روز توپیں آ پہنچیں، اور وہ سب توپ کے گولوں سے مارے گئے باقی بچے پیتالیس نفر وہ بھوک سے مر گئے ۔ د وسو ستتربے ہتھیارمفرور جو زندہ فرنگی گورا فوج کے ہاتھ آگئے وہ توپ سے اُڑائے گئے،اور ساتھ ہی قلعہ گو بندگڑھ کی بے ہتھیارہندی پلٹن کے سپاہ کا نام و نشان مِٹ گیا ۔ہر ایک کے خانوادے کی بھی کوئی خبر باقی نہ رہی ،اور وہ سارے ،پُرانی بوڑھی یاداشتوں کی لائبریریاںپھرولتے ، قتال کی لہو سے بھری جمی ہوئی چاٹی، پھر سے رڑکنے بیٹھے ہیں ۔دیکھیں کب سُچل جوہر نکل آئے ۔۔
مغل دودھ اور خون سے جوان ہوا بابر اپنے ہی عزیزوں کے ہاتھوں مار کھاتا ، سمر قند کی حکومت گنواتا آ پڑا ہماری زمین پر حاکمیت کی لالچ میں، ساتھ ہی توپ تفنگ کاقہر ہمیں پلاتے ، لکھت تو معجون میں حل ،تاکہ پینے والوں کے اندر بے حسی کا نشہ مغز میں بسیرا کرے اور فرنگی مظالم احسانات کا روپ دھارے۔لیکن کہنے والوں نے نصیحت کی،اور جواُس چھوٹے سے جتھے نے سُنی ۔۔
اب آپ اِس گم شدہ کُتھلی سے نکلی بپتا کا کونے کھدرے کھولتے مکالمے میں سر پٹخاتے، جاننا اور سننا ہی چاہتے توکان دھر کر سنیے ،مگر ہماری آنکھوں کی چمک کی راہ کھوٹی نہ کی جیئے گا۔۔
مگر اندھیری سنگلاخ راہ کے رخ پرمنزل کا اشارہ ہاتھ اُٹھا کرتے ،اور نظروں کا ٹھٹھااطراف میںپھراتے،گھورتے وہ اپنی روشن فکری کی گٹھڑی کی چاروں گانٹھیں کھولتے غرائے۔۔؟
اب اس جوہڑی منجمد خون کو بھول جاﺅ،اب اس میں سے کچھ نہیں نکلے گا ۔دانشمندوں نے اپنے جواہر قلم سے بہت پہلے ہی سچ سوجھ سوجھڑے کی تصویر کشی کر ڈالی تھی۔۔!
لیکن ہم اس انجماد کے پِگلاﺅ کوجوہڑ نہیں سمجھتے ۔۔
ہر اک گھرانے کا ٹپکا لہو،جو کچھ بھی تھا جیسا بھی تھا ،وہی کچھ فرنگی سرکار نے اپنے انصاف اور قانون کے بَل پر چُھپایاتو چُھپایا کیوں؟۔بس اُسے ہی کرید کر نکالنا چاہتے ہیں،شاید اسی سے ہماری اپنی راہ نِکل آئے۔مگر اے پُرسان حال کے دعوے دارو! اپنے ہی لکھے میںمختاریت کی ستم گری تو آپ بھول گئے۔اب حوصلے سے دیکھو ،اور ٹٹولوکہ پنجاب کو مقبوضہ¿ فرنگی بنانے میں کیا کچھ ہوا تھا۔۔؟
خورد سالہ دلیپ پسرِ رنجیت کو خود ہی نام وناموس کے کھولتے خون کو ٹھنڈا کرنے کے لےے تخت پر بٹھایا اور پھر وقت کی بیڑیاں پہنتے خود ہی معزول کرنے کی رسم لارڈ ڈلہوزی گورنر جنرل کے ہاتھوں اٹھارہ سو انچاس میں ادا ہوئی اور وقوعہ پذیری کی لکھت اپنے مرضی کے لفظوں میں بُن ڈالی،اور پورے علاقے کی ضلعی درجہ بندی کرتے ،کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے پلُّو میں باندھ دیا ۔اور مقاومت کرنے والے سکھوں کے ہتھیار ڈلوانے کے باوجوداپنے عیارانہ ذہن میں سے اک شُرلی نکالی اور بے اعتباری کی مہر لگا کر پورے پنجاب کے لوگوں سے امن عامہ کے نام پرہتھیا ر بندوں کی تعداد لکھوا تے ،کرنجی آنکھوں کی لپیٹ میں لےے رکھا ۔فوجی یونٹوں کے علاوہ ہر ضلع میں چھوٹی بڑی چھاونیوں کا جال بچھا دیا ۔اور اپنے مرا¿ت یافتہ سکھ جرنیل جو عین فتح پر جنگ سے علیحدہ ہوئے ،اُن ہی سکھ سرداروں کی بدولت فتح کا طبل بجا،جن میں مہاراجہ نابھہ، مہاراجہ پٹیالہ،مہاراجہ کپور تھلہ،ضلع فیروز پور ، اور بہت سے دوجے راجگان ،اور ضلع جالندھر سے لے کر اٹک تک کے سکھوں کی دلی نفرت دھونے کے لےے مرا¿ت سے حلق بھر ڈالا ،مسلمان برادریوں کے کلیدی سرداروںکوبھرتی کے لےے سپاہی اور گھوڑا پال کے نام پرجاگیریں عطا کیںاور سِرکاڈھے مسلمانوںکو سستے داموں زمینیں بیچیں اور ہندو بانیوں ،ساہوکاروں کو بھی جاگیریں تعویض کیں اور ان کے ذمہ بھی وفادار سپاہ مہیا کرنے اور گھوڑے پالنے کا دُم چھلہ باندھ دیا ۔
اب بولو۔!
سکھی بارہ مَثلوں کے سردار و۔؟
جی،جِجمان کرتے تمہارا تو ہو گےا بولو رام ۔!
اب بوجھو بجھارت تاکہ آنکھ میں چڑھا نشہ اُترے۔۔
ایک دو دس ،پیپل کی توڑی نس ،بنگلے کا توڑا تالا ، تُو گِن لے پورے بارہ ۔۔
مگر پو بارہ سمیٹتی ،لیجاتی سرکار کے گماشتوں کے گھر کی لونڈی تھی ۔نہ صرف وہ سردار بلبیر سنگھ اوراُس کے چھوٹے سے گروہ کا ہر نفر،گروہ میں دِل وجان سے شریک کار ہونے کے باوجود ا پنے آپے میںتنہا تھا۔ کیونکہ فرنگی مخبروں کے منکر نکیرکندھوں پر براجمان،
خفیہ پرچہ نویس سچ لکھے یا جھوٹ،ایک دہشت اِن کی ،اوردوجے انعام و اکرام کی لالچ میں بِکے دوجوں کو اسی ترغیب میں سانس بیچنے والوں کی تیغ حلقوم پر ٹِکی رہتی،ہر کوئی اپنے آپے کو غیر محفوظ سمجھتا،اور گروہ کے ہر اک نفردوجے کو پوشیدہ آنکھ سے مشکوک چھلنی میں چھانتا رہتا۔۔ !
اب سوچنے کا مرحلہ آپ کی گود میںپڑا سوالوںکے ہلارے لے، کہ ہر اک تنہا،یعنی مَیں!کیسے گنوں، میری تو قبر کی ہونے والی مٹی بھی روندی گئی ،والی وارث کاشباب ہی مٹی کاڈ ھیر،اُسے کولی میں بھر کر ریڑھ کا ستون ہی مسمار کیا جا چُکا،تو باقی کیا بچتا؟ شباب میں دِن دھاڑے کی لُوٹ سے ،مقطر شراب سے مست الست خونخوار مچلتے ہاتھ،تندی¿ بادِ مسموم کی ہوسِ سے اُٹھے، پھر اُلٹے انگرکھے تلے وجود پرپِھرتی پھرکی شہوت لبریز انگلیاں،وہی وجود اب مٹی کا ڈھیر۔۔!
غدر کی دہل گورنر جنرل لارڈ کیننگ کے رعونت بھرے ایام میںگونجی ۔اور دیسی فوج کے اندر تک اُترے تیور وں میں پِگھلتی ٹھاٹھیں مارتی رعونت کے بل پھٹ پڑی ۔لیکن شاید چیف کمشنر سر جان لارنس کے اندر اپنی ہی فرنگی رعونت کے احساس سے بغاوت کا خوف بھی سرایت کر گیا تھا۔اسی کی بدولت سکھوں پر اعتبارنہ ہوتے ہوئے بھی راجہ پٹیالہ کی ضمانت پر ایک بھاری فوج بھرتی کرلی اور اسی فوج میں کچھ تعداد افغانیوں کی بھی شامل کر لی گئی تھی،تاکہ اونچ نیچ کی خبر داری رہے ،اور اسی سِکھ فوج کی بدولت دِلّی پر قبضہ قائم رہا ورنہ بے دریغ گاجر مولی کی طرح لوگوں اور مقاومت کرنے والی گورا فوج کی گلی کوچوں کے عوام کی تیغوں اور دیگر اسلحے یا جس کے ہتھے کوئی ہتھیار نہ آیا، وہ لکڑی لاٹھی لےے پِل پڑا اور گورا سپاہی کی اتنی دُھنائی ہوئی کہ وہ انتہائی بِیدّل پسپا ہو تے ،لاشیں گرواتے کشمیری دروازے تک پہنچ چُکے تھے ۔۔
میرٹھ کی آتش زدگی اور تصادم کی خبروں نے ضلع فیروز پور چھاونی میںایسی آگ بھڑکا دی کہ چودہ مئی کو نیٹو فوجیوں کی پیتالیس اور ستاون نمبرپلٹن کا بیشتر حصہ باغی ہوگیا ،چھاونی کے مکانات اور افسروں کو موت کے گھاٹ اُتار ڈالااور چاہا کہ قلعے کے میگزین پر قبضہ کرلیںمگر گورا پلٹن برگیڈیر کی پلاننگ کے مطابق میدن میں ایسی اُتری کہ قلعے کا میگزین جو سات ہزار بارود بھرے ڈرم اور دیگر میگزین کے دوجے بڑے سٹور اُن کی حفاظت کی بدولت بچ گئے۔،نیٹو سپاہ ایسے ہی اپنے محدود چھینے ہوئے ہتھیاروں کے بل آگ اور خون کی ہولی کھیلتے دلی کی جانب بڑھے تو پلٹن چودہ اور دس شمارے کا رسالہ بھی ان کے ساتھ شامل ہوگیا۔ لیکن پیچھے انتقامی گواہوں کے پرچے پرڈپٹی کمشنر نے بلا کوئی مقدمہ چلائے ،باغیوں کے ہمدردوں اور مدد گارو ں کو سولیاں گاڑ کر پھانسی دے دی ۔
میرٹھ چھاونی کی للکار نے لودھیانہ کی چھوٹی سی لشکر گاہی کوبھی بغاوت کے اکھاڑے میں اُتار لیا۔ آگ انگار اور قتل و مقاومت کی لہرہندی سپاہ میں بلند ہوئی تو ڈپٹی کمشنر چوکنے ہوگئے اورمقامی سپاہ اور شہری انتطامیہ سے ہتھیار مانگے تو جواب انکار کے ساتھ ہی اُبل پڑا ۔ افسرانِ ضلع کے گھر پھونک ڈالے،گرجا گھر اور پادریوں کے مکانات بھی راکھ کا ڈھیر بنا ڈالے اور ڈپٹی کچھ بھی نہ کر پائے ۔جب باغی سپاہ دریا پار اُترے توفلورکے مقام پرپڑاﺅ ڈالے تیسری ہندی پلٹن بھی اُن کے ساتھ شریک ہوگئی،ڈپٹی کمشنر اپنے وفادار ہندی سپاہ کو لےے مقابلے پر اُترے ،مگر پہلی جھڑپ پر ہی اُن کے وفاداربھاگ کھڑے ہوئے ۔راجہ نابھہ کی فوج بھی راجہ کا حکم ماننے سے انکاری ہوگئی ۔صرف کپتان روتھنی کی پلٹن چار کے سکھ سپاہ اُس کے ساتھ لگے رہے ۔جس میں زخمیوں کی کافی تعداد ہم رکاب تھی ۔لیکن باغی تواس مڈ بھیڑ کے دو روز بعد دِلّی نکلتے چلے گئے ۔لیکن بعد کی تحقیقات جو جھوٹ سچ کا عدالتی میزان لٹکائے رکھنے کے دعوےدار،بِلا کسی منصف کے شہریوں سے پچپن ہزار دو سو چورانوے روپے جرمانے میں وصول کرتے ہوئے، بائیس افراد کو سولی پر لٹکا دیا ۔۔
اب ایک منظر نامہ ضلع جالندھر کا بھی کھولا جائے۔مئی سن اٹھارہ سو ستاون کا معرکہ دہلی کی خبریں پہنچنے پر بلا کسی مقامی وقوعہ یا حادثے کے، ڈپٹی کمشنر مسٹر فرنگٹن کا ہندی فوج سے اعتبارِ فرمابرداری اُٹھ گیا ۔اور مقامی انگریزوں سے مشورے کے بعد فلور قلعہ کا خزانہ تیسری پلٹن سے محفوظ کر نے کے لےے،انہیں روزینہ کے خرچے دینے کے بعدتمام خزانہ قلعہ پھلور منتقل کرتے اور بھاری ہتھیار لیتے ہوئے انہیںدریا کے کنارے بناے گئے کیمپ میں منتقل کیا ،مگر وہ توخزانے کی نگہداشت چِھن جانے پر ہی بے اعتباری کی مہر زدگی پربھڑک اُ ٹھے،رات کو جا بجا آگ لگنے لگی اورساتویں روز آگ بجھانے والے افسر کو بندوقوں کے بٹ مارمار کر موت کے گھاٹ اُتار ڈالا ، روز اول سے ساتویں روز تک متواتر گوروں کے بنگلے اورگارد جلتی رہی اور کوئی نہ کوئی افسر یا جو بھی گورا ہتھے چڑھتا قتل کر دیا جاتا ۔ڈپٹی کمشنر نے جالندھر کا توپ خانہ اورقلعے کی دو توپیں مزید گورا فوج کے حوالے کر ڈالیں۔تمام گوری آبادی کو شہر کی تحصیل میں منتقل کرکے بھاری اسلحے سے لدی گورا پولیس پلٹن کے قلعہ نما حصار میں محفوظ کر دیا ۔ان ہی ایام میں راجہ کپور تھلہ چھ توپوں ،دوسو سواروں اور ایک ہزار پیدل فوج کے ساتھ آشامل ہوا ۔اُسی روزکُل ہندی فوج سوائے توپ خانہ کے باغی ہوگئی۔ رات کو ایک حصہ ہوشیار پُور نکل پڑا اور دوسرا بڑا حصہ دِلی کی جانب نکل لیا۔تعاقب میں آٹھویں گورا پلٹن،چھ توپیں ،اور پولس فورس رات بھر اپنے کیمپ سے نہ نکل سکی ۔آٹھ بجے صبح شدید گرمی میںنکلی اور ڈپٹی کمشنر کپور تھلہ کے ڈیڑھ سو سپاہ کو ساتھ لےے بمشکل بھگواڑہ تک پہنچی جب کہ باغی فوج فلور جا پہنچی اور اس قلعہ کی محافظ ، پلٹن تین ،وہ بھی آنے والے باغیوں سے مِل گئے اور کشتیوں کے ذریعے بڑی آسانی سے دریا پار کر گئی ۔لودھیانہ کے ڈپٹی کمشنر کی زیر دست فوج سے مکمل جنگ کُھل گئی ۔اور تعاقب میں آنے والا جنرل،کشتیاں نہ ہونے کے سبب وہ صرف جنگ دیکھتا رہ گیا اور باغیوں نے لودھیانہ قلعے پر قبضہ کر لیااور جیل سے سب قیدی آزاد کر ڈالے ۔دسویں جون کوجنرل کی معیت کی گورا فوج نے دریا پار کیا ۔ باغی قلعہ خالی کرچکے تھے۔مگر گورا فوج بمعہ جنرل تھکے ہارے گرمی میں بُھنتے موضع دھن سے واپس لوٹ گئے او ر باغی دلّی کی طرف نکلتے چلے گئے۔ تھکے ہارے جنرل نے اپنا تمام غصہ پلٹن تیتیس اور پینتیس ہند پرفلور کے مقام پر ہتھیار رکھوا کرنکالا ۔۔
لاسکی پردِلّی کی خبریں سُنتے ہی ضلع ہوشیار پُور کے ڈپٹی کمشنر ایبٹ نے تحصیل کو فوجی طرز پر مستحکم کیا، فرنگیوں کی عورتوں کو دھرم شالہ بھیج دیا ۔آٹھ سو نئے فوجی سفارشِ راجگانِ ہندی رکھ لےے،راجہ آلووالیہ ،راجہ رجواڑی ، راجہ منڈی اور ٹوانہ کی فوج اور پولیس پلٹن اس حفاظتی بندوبست پر لگا دی گئی۔ماہ جولائی میں قیدیوں نے بلوہ کیا تو پانچ کو پھانسی دے دی گئی اور باقیوں کی زندانی مدت بڑھا کر قلعہ بجواڑہ میں بھجوا دیا۔
ضلع کانگڑہ میں بہت سی ریاستیں ہونے کی بدولت دریا کے تمام گھاٹوں پر نئے فوجی لگادیے گئے، کلّو میں رائے ٹھاکر کے اشارے پر گیان سنگھ کی مخالفت میں بلوہ کرنے والے ایک شخص کو پھانسی اور سولہ ہمکاروں کو قید کرلیا گیا،اور مطیع فوج نے بحکم ڈپٹی کمشنر قلعہ نور اور کانگڑا پر ہندی سپاہ سے ہتھیا رکھوالےے،اور دو نوں قلعے خالی کروالیے،یہ ہندی فوجی اس پر بھی نہ بھڑکے اور دم بغاوت کے آخرتک مطیع فرنگی سرکار رہے۔
لاہورمیں تیرہ مئی اٹھارہ سوستاون کو خبر پہنچی کہ ہندی فوج لاہور کے قلعہ میں محفوظ خزانہ اور وافر میگزین پرقبضہ کرنے ا ور چھاونی کو روند نے کی تیاری پرہے۔
یارو ۔؟
بتاﺅاب یہ خبر جیسے ہی بد طینت جاسوسوں نے گھڑی ،اس کا متمع نظرسوائے اعتماد کو بھٹکا کر اپنا اُلُّو سیدھا کرنا تھا۔جس کا نتیجہ اور کشت و خون کِس کے سرچڑھے ۔لالچ میں سرتاپا غرق، رالیں ٹپکاتے افراد کے سر، اور کِس کے سر۔!
تیرہ مئی یعنی خبر والے دن ہی اکاسی پلٹن کی تین گورا کمپنیاںقلعہ میں پہنچیں اور ہندوستانی مامور فوج کوقلعے سے بیرکوں میں بھجوادیااورتمام فرنگی زن اور مرد اور بچوں کو قلعے میں رہائش کے لیے بلا لیا ۔اور ہندی سپاہ کوپریڈ گراونڈ میں پہنچنے کا حکم ہونے پر جب وہ وہاں اکٹھے ہوئے تو اکیاسی گورا پلٹن اور توپ خانہ اور پنجاب پولیس نے گھراﺅ کر لیا اور توپیں بھر دی گئیں اورہتھیار رکھوانے سے پیشتر توپ خانے کو حکم ہوا کہ ہتھیار ڈالنے پر پس و پیش ہوتو انہیں توپوں سے اُڑا دیا جائے۔حکم سنتے کسی رد و کد کے بغیر ہتھیار ڈھیر کردیے،سواروں نے تلواریں پھینک دیں۔اور پھر بحکم ،سب فوجی کسی حیل و حجت کے بیرکو ںمیں چلے گئے ۔اگلے روز ہی میاں میر چھاونی کی ایک پلٹن کے بھاگ جانے کی خبر سارے فوجیوں میں سرا¿یت کر گئی۔ جنہیں مرا¿ت یافتہ زمینداروں نے پکڑا اور وہ توپ دم کر دیے گئے۔اور باقی ماندہ ہندی فوج جو بھاگنے کے لےے تیار تھی گورا پلٹن کے آنے کی خبر سُنتے ہی بیرکس میں گُھس گئی ۔ چھبیس جولائی کو بے ہتھیار پلٹن نے میاں میر چھاونی میں بغاوت کردی میجر سپنسر اور ایک انگریز اور دو ہندو افسروں کو مار کر بھاگ کھڑی ہوئی۔مگر یہی مفرور فوج امرت سر کے ڈپٹی کمشنر کے ہمراہی سپاہ کے ہاتھوں مار ڈالی گئی۔اِسی دورانیے میں انتظامیہ کو خبر ملی کہ شہر میں پانچ سو کے لگ بھگ انقلابی فقیر اور درویش شہر میں آگھسے ہیں اور شہریوں کے ورغلائے جانے کا خطرہ ہے تو انہوں نے ڈپٹی کمشنر کے حکم سے انہیں گرفتار کرکے سولیوں پر لٹکا دیا۔
ضلع گورداسپورمیں بغاوت کے وقت اُنسٹھ نمبر کی ہندی پلٹن کا کچھ حصہ اسی ضلع میں تھا ۔اُسے ڈپٹی کمشنر نے کمک کے طور پر امرت سر بھجوادیا اور خزانے کا سات لاکھ روپیہ سکھ پولیس کی حفاظت میں وہ بھی امرت سر بھجوادیا ۔جس قدر گارد اور پہرے دار ہندی فوج مادھو پور اور کارخانہ شاہ نہر تھے اُن کو ڈیوٹی سے ہٹا کر بیرک پابند کر دیا گیا ۔پلٹن نمبر چھیالیس اور نو نمبر کا رسالہ جنہوں نے سیالکوٹ میں فرنگی اطاعت سے منہ موڑا اور دِلّی جانے کے لےے اس ضلع میں داخل ہوئے ۔اُن کی راہ روکنے کے لےے چھ توپیں کپتان برچیر کی ماتحتی میں دےے گئے اورگورا پلٹن نمبر باون کے چھ سوفوجیوںکے علاوہ تازہ فوجی رنگروٹ اور سکھی رسالہ ساتھ لگادیا گیا ۔کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر لاہور بھی ساتھ ہی تھے ۔باغی تریموںگھاٹ علاقہ شکر گڑھ دریائے پار کر رہے تھے کہ فرنگی فوج راہ روک کر کھڑی ہوگئی ۔نو نمبر رسالہ نے توپ خانے پر حملہ کرکے چند گولہ اندازوں کو بھی قتل کر ڈالا اور پھر چھیالیس نمبر پلٹن اُن کے ساتھ آپہنچے اور اتنی شدت سے حملہ کیا تھا کہ قریب تھا کہ فرنگیوں کی ساری توپیںچھن جائیں ۔مگر گورا فوج سنگینوں کے بل حملہ آوروں پر پِل پڑیںاور باغی پسپا ہوگئے۔کچھ باغی بھاگ گئے اور باقیوں نے ر اوی کے جزیرے پر پناہ لی جہاںسیالکوٹ سے لوٹا ہوامال جمع کر رکھا تھا۔سولہ جو لائی کو فرنگی فوج نے توپ خانے سے حملہ کیا تو بے شمارباغی دریا میں ڈوب گئے اور کافی تعداد بھاگتے ہوئے مارے گئے اور زندہ پکڑے گئے قیدیوں کو توپ دم کر دیا گیا ۔
ضلع سیالکوٹ میں بغاوت کے ایام میںواک کے ماتحت سوار توپ خانہ ،کپتان بوچر کے زیر دست فرنگی توپ خانہ ،باون نمبر پلٹن ، نو نمبر کا ہندوستانی سپاہ کا رسالہ ،پینتیس نمبر کی ہندی فوج کی پلٹن ،چھیالس نمبر کی ہندوستانی پلٹن اور توپ خانہ ،ستائیس نمبر کی گورا پلٹن ،پیسٹھ نمبر کی ہندوستانی پلٹن ۔جب گردشی لشکر کو ترتیب دیا گیا تو ہندی فوجیوں کی پلٹن نمبرچھیالیس اور دائیں اور بائیں بازو کے ہندی فوج کے نو نمبر کے رسالے کے علاوہ تمام فوج شامل کی گئی۔برگیڈیر برناڈ کی خواہش تھی کہ انڈین سولجر کے ساتھ کوچ نہ کیا جائے بلکہ ہتھیار لے کر انہیں لائن حاضر کر دیا جائے ۔مگر اس پر کسی آفیسر نے غور نہ کیا ۔نو جولائی اٹھارہ سو ستاون کو ہندی فوج نے سیالکوٹ میں بغاوت کر دی ۔جس سے ضلع بھر کی حکومت معطل ہو کر رہ گئی سواروں نے برگیڈیر پر حملہ کرکے اُسے مار ڈالا ۔ڈاکٹر کو اُس کے خانوادے کے ساتھ مار ڈالا ۔کپتان یشب برگیڈیر میجر قلعے کے سامنے گولہ لگنے سے مر گیا ،پادری بمعہ اپنے خانوادے ماراگیا ۔باقی انگریز چھاونی سے بھاگ کرراجہ تیجا سنگھ کے ایک قلعے میں جا چھپے۔باغیوں نے جیل کھول کر تمام قیدی رہا کر دیے ۔اور تمام خزانہ لوٹ لیا ،دفاتر اور کچہریاں جلا دی گئیں ۔صبح سے دوپہر تک باغی سیالکوٹ چھاونی کو آگ و خون سے نہلاتے اور دوپہر کے بعد گورداس پور روانہ ہوگئی۔اور ان راوی کنارے مارے جانے فوجیوں کے سیالکوٹ کے باسیوں کی شامت آگئی۔جس کسی کی بھی مخبری ہوئی ، سچ سوجڑے کا موقعہ نہ دیا گیا ،سب کو ہی توپ دم کر دیا گیا ۔
ضلع گوجرانوالہ میںکڑے کنٹرول کے سبب مکمل امن رہا ۔
ضلع راو لپنڈی میں چند ایک سپاہ کے حوالے سے افواہ پھیلائی گئی کہ باغی کوہ مری پر حملہ کیا چاہتے ہیں۔اُس وقت چھاونی میں ایک گورکھا پلٹن ،ایک ہندوستانی گھڑ سوار توپ خانہ ،دو رجمنٹ بے قاعدہ سواروں کی اٹھاون نمبر ہندی پلٹن،اور کچھ حصہ چودہ پلٹن کا تھا ۔اس زمانے میں کوئی ہنگامہ نہ ہوا مگر پھر بھی سات جولائی کو تمام ہندی فوج سے ہتھیار لے لےے گئے ۔
ضلع شاہ پور میں کوئی آواز بھی غدر کی حمایت میں بلندنہ ہوئی ۔مگر ایک کلرک کو بغاوت پر بھڑکانے کے سبب پھانسی دے دی گئی۔
ضلع گجرات میں بغاوت کے زمانے میںپینتیس ہندی پلٹن کا کچھ حصہ موجودتھا ۔جِسے گشتی فوج میں شامل کر دیا گیا اورپھر فلور کے مقام پر اُن سے ہتھیا لے لےے گئے ۔جہلم کا اک باغی گروہ ضلع گجرات پہنچا تو اُسے دریائے جہلم کے ایک جزیرے میں گھیر کر مار ڈالا گیا ۔اضلاع لیہ ،خان گڑھ اور ڈیرہ غازی خان اورڈیرہ اسماعیل خان میں کوئی ہنگامہ نہ ہوا ۔ضلع ملتان میںنیٹو پلٹن انہتر اور پلٹن بہتّر سے نئی ہندی فوج اوربے قاعدہ سواروں کے انچارج میجر چمبرلین نے ہتھیار رکھوالےے جو انہوں نے بِلا کسی حیل و حجت رکھ دےے ، توپ خانے کے اک سر پھرے ہندی افسرکی ہچر پچر پراُسے پھانسی د ے د ی ۔اور مگر اس چھو ٹے وقوعہ بعد کوئی وا ویلا بلندنہیں ہوا۔
ضلع جہلم میں غدر کے ایام میں ایک نیٹو کنٹرول توپ خانہ اور دونیٹوپلٹنیں چودہ اور انتالیس نمبر موجود تھیں۔گورا فوج نہ ہونے کے سبب ،اوپری سطح پر مشورے کے بعد انتالیس پلٹن کو بغیر میگزین ڈیرہ اسماعیل خان بھجوادیا گیا ۔توپ خانہ لاہور بھیج دیا گیا ،جہاں اُن سے توپیں لے لی گئیں ۔چودہ نمبر پلٹن سے چیف کمشنر کا ارادہ ہتھیا رکھوالینے کا تھا ،مگر پلٹن کے انگریز افسروں کے بقول، یہ پلٹن مکمل مطیعِ ٹامی تھی۔مگراس کی قوت کو بڑے طریقے سے کمزور بنانے کے لےے نفری کم کردی گئی ۔اس کی دو کمپنیاں راولپنڈی بھجوادی گئیں۔اور جا بجا دوجی کمپنیاں متعین کرنے پرصرف پانچ سو آدمی بچے ،اور ان سے ہتھیار لینے پہلے راولپنڈی ہی سے گورا فوج مع توپ خانہ منگوا لی گئی ۔چودہ نمبر کی ہی سکھ کمپنی سے بھی ہتھیار لینے کے لےے توپ خانہ اور گورا فوج کی زیرِ نگرانی پریڈ میں آنے کا جلّادی حکم نافذ ہوا ۔پریڈ پرہندوستانی فوجیوں نے اپنے افسروں کے آگے اپنی اطاعت کا برملا اعلان کیا مگر جب ہتھیار رکھ دینے کا اصرار بڑھا تو وہ چار و ناچار غیظ سے اُبل پڑے گئے۔اور اپنے افسروں پر گولیاں چلا دیں۔کمپنیاں توڑ کر لین میں جا گُھسے ۔سکھ کمپنی اور گورا فوج نے تعاقب کیا۔گھمسان کی لڑائی میں کافی انگریز مارے گئے ۔کرنل اُنس کمانڈنگ افیسر بھی شدید زخمی ہوا کپتان سرنگ مارا گیا ،ہندی سپاہ جب لین میں کافی تنگ ہوگئے تو وہاں سے نکل کر ایک قریبی گاﺅں میں گُھس گئے، اس دوران لڑائی مسلسل ہوتی رہی ،آخر انگر یزفوج تیز دھوپ اور گرمی اور شدید حبس سے پژمردہ ہونے لگی ،پھر سین سیری گولوں کی تین توپیں بیکار ہوگئیں،ایک توپ باغیوں نے چھین لی ۔چار بجے گورا سپاہ کی نفری پھر اپنے آپ کو مجتمع کرتے ہوئے گاﺅں پر حملہ آور ہوئی ،مگر مقابلہ ہندوستانیوں نے بڑی جوانمردی سے کیا ۔توپوں کے گروپ کے کافی سپاہ مارے گئے ۔ناچار واپسی کا بگل بجا ،اور رات بھی دونوں فریق ،شب خون سے خوف زدہ اپنے اپنے مورچوں میںچوکس بیٹھے رہے ۔دوسرے روز صبح پتا چلا کہ ہندی فوج گاﺅں سے بھاگ نکلی ہے کیونکہ ان کے پاس میگزین نہیں بچاتھا۔بھاگنے والوں میں سے بہت سے باغیوں کو پولیس نے گرفتارکر لیا ۔بہت سے دریا میں ڈوب گئے،اور جو باقی بچے اُن کو بلا کسی عذر و دلیل کے توپ دم کر دیا گیا ۔ایک سو چالیس تو لڑائی میں مارے گئے تھے۔ لیکن پانچ سو آدمیوں کا بالکل بھی پتہ نہ چل سکا ۔
ضلع جھنگ میں کوئی ہنگامہ قابل ذکر نہیں ،دورُخے ہونے والے،مشکوک زمیندار وں کو بھی فساد کرنے کی جرا¿ت نہ ہوئی ۔
ضلع ہزارہ میں سکھ اور گورکھا فوج تھی جس کی وجہ سے کسی ہنگامہ کا کوئی امکان ہی نہ رہا ۔
ضلع کوہاٹ میں پنجابی فوج نے انتظام سنبھالے رکھااور شر انگیز قبا¾لی جب اس ضلع کی سرحد پر نمودار ہوئے تو انہیں انعام واکرام سے اس طریقے سے نوازا گیاکہ وہ پلٹ گئے ۔پچپن نمبر کی پلٹن جو پشاور سے کوہاٹ آئی تو انہیں بے ہتھیار کر دیا گیا ۔اور وہ مدت تک سرکاری خرچ پر وہاں ہی بے ہتھیار پڑے رہے ۔
ضلع پشاورمیں بغاوت کے وقت برگیڈیر جان نکلسن ڈپٹی کمشنر تھا اور اس کی کمان میںمسلح ہندی فوج آٹھ ہزار اور دوہزار آٹھ سو گورا فوج تھی ۔اٹھارہ چھوٹی توپیں اور ایک بڑی توپ تھی ،اور وہ اپنی عیارانہ صلاحیتوں کی بدولت تقسیم کے بندوبست سے بھر پور مطمئن تھا ۔ایک قابل اعتماد فوج کو گشت پر معمور کیا کہ بغاوت پر کوئی ہنگام اگر اُکسائے تو اُسے پوری طرح باندھ کر رکھا جائے ۔پلٹن نمبر پچپن کو نوشہرہ سے مردان منتقل کر دیا ۔اور پلٹن چونسٹھ کو تین حصوں میں بانٹ کر مختلف جگہوںپر جدا جدا متعین کر دیا ۔اور ہندی فوج کی اکثریت ٹُکڑیوں میں تقسیم کر ڈالی ۔قلعہ اٹک سے ہندی فوج نکال کر پنجابی فوج مامور کردی ۔اور گئیڈ فوج کو مردان سے بھی اسی تدبیر سے دِلّی منتقل کر ڈالا ۔لیکن چند ہی ایام کے بعد اٹک کے گھاٹ پر پچپن نمبر پلٹن کا ایک حصہ جو وہاں متعین تھا ۔وہ وہاں سے نافرمانی کرتے نوشہرہ چلا گیا راستے ہی میں چوبیس نمبر پلٹن جو پشاور کمسریٹ والی رسد پشاورلے جارہی تھی وہ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئی ۔یہ باغی نوشہرہ چھاونی کے دروازے پر ہی دس نمبر کے سواروں سے دوبدو ہوگئی اور جلد ہی بے ہتھیار کرکے محبوس کر دی گئی ۔ان کے قیدی بننے کی خبریں پچپن نمبر کی کمپنیوں تک نوشہرہ اندرون چھاونی پہنچی تو انہوں نے بھی سر اُٹھا لیا۔اور چھاونی کے میگزین پر قبضہ کرلیا اور دریائے کابل کے پار بقایا پچپن پلٹن کے ساتھ جاملیں ۔مگر انجینیر کے پُل تڑوانے کے سبب وہ کمپنیاں کشتیوں کے ذریعے پارجا اُتریں اس خبر نے پشاور کی انتظامیہ کو ہندوستانی فوج سے ہتھیار لینے پر مجبور کیا مگر انگریز افسر جو ان ہندی افواج پر متعین تھے وہ اس فیصلے پر از حد ناراضی ہوگئے دوسرے ہی روز پانچ نمبر رسالے اور چوبیس،ستائیس اور اکاون نمبر کی پلٹنوںسے ہتھیار پریڈ گراونڈ میں رکھوانے کے لےے گورا پلٹن اور نئی پنجابی فوج ان کی مدد کے لےے میدان میں اُتر آئی ،ہندی فوج نے بِلا کسی عذر کے ہتھیار اتار ڈالے۔اُن کے انگریز افسروں نے بھی تلواریں اُتار کر نوکری چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔صرف اکیس نمبرپلٹن اور سات اور اٹھارہ نمبر کی بے قاعدہ فوج اس مواخذے سے چُھوٹی رہیں۔بعد ازیں پچپن نمبر کی پلٹن سے ایک سو بیس کی نفری کوچھوڑ کر باقی نکل بھاگے کرنل نکلسن کے سواروں نے تعاقب کرکے اُن سے مبارزہ آرائی کی ۔اس لڑائی میں ایک سو پچاس باغی قتل ہوئے ۔زخمی بھی بہت ہوئے ۔ایک سو چالیس قید کر لےے گئے اور پانچ سو سوات میں داخل ہوگئے۔اس فتح کے بعد عیا ر فرنگی فوج کا مکمل رعب بیٹھ گیا۔
ضلع گوگیرہ میں غدر کی خبر پہنچی اوراُسی روزڈپٹی کمشنر کو پرچہ لگا کہ دروغہ جیل قیدیوں کو ساتھ ملا کر بغاوت پر تُلا ہے۔چنانچہ بلا تفتیش ، جاسوس کی اطلاع کو صحیح جانتے، اُسے فی الفوبر خاست کر دیا ۔احمد خان کھرل کو ،جس کے متعلق بھی شبہ ظاہر کیا گیا تھا ،بلا کر نظر بند کر دیا گیا ۔چھبیس اگست کو جیل میں قیدیوں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا ۔کٹار مکھی پلٹن کے سپاہ بلا ہتھیار قیدیوں پر ٹوٹ پڑے اوربڑی بے رحمی سے اکاون قیدی مارڈالے۔احمد خان کھرل جیل سے بھاگ نکلا ۔دوبارہ طلبی پر آنے کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا ۔مگر سولہ ستمبر خبر پہنچی کہ زمیندار انِ کھرل قبائل نے بغاوت کر دی ہے اور اس کا سربراہ احمد خان کھرل ہے ۔اس پر اسسٹنٹ کمشنر برکلے دریا کے کنارے پہنچے اور دوجے کنارے پر احمد خان کھرل کو مع باغیوں کی نفری کھڑے دیکھا اُس نے بآواز بلند ،سوال کے جواب میں کہا کہ میں نے انگریزی اطاعت چھوڑ کر دِلّی کے بادشاہ کی اطاعت کر لی ہے ۔اس پر فرنگی فوج نے ایک مولوی کوپکڑا اور زمیند اروں کے جانور پکڑ لےے ،اور جھامرا نامی گاﺅں کو جلا ڈالا۔تیسرے روز زمینداروں نے ضلع کچہری پر حملہ کردیا ۔ عین اُسی وقت کرنل پاٹن اسسٹنٹ کوارٹر مارشل لاہور سے تین توپیںاور اکاسی نمبر گورا پلٹن اور کچھ سپاہی سبحان خان کرنل کی پلٹن سے لے کر آ پہنچا ۔اور پے درپے توپ کے گولے باغیوں پر گِرے تو وہ سب بھاگ کھڑے ہوئے اور گورا فوج اُن کے تعاقب میں نکل کھڑی ہوئی راہ میں ہی دونوں کا شدید ٹکراﺅ ہوگیا ۔اس لڑائی میں احمد خان کھرل اور لیفٹیننٹ اے جے جسٹر مارا گیا ۔تیسرے روز پھر دوسرا معرکہ ہوگیا ۔اس میں اسسٹننٹ کمشنربرکلے مارا گیا ۔باغیوں نے ہڑپہ تحصیل پر حملہ کرکے شدید نقصان پہنچایا ۔کھرلوں کی یہ بغاوت بہت ہی طول کھینچ گئی اور جا بجا فرنگیوں کی لمبی سرکوبی ہوئی تو کپتان مکندرو اک بھاری فوج کے ساتھ وہاں پہنچا اور کرنل پاٹن کی ہمراہی میں چیچہ وطنی میںچمرلین کو باغیوں کے محاصرے سے چھڑایا اور ایک طویل عرصے تک یہ جنگی محاذ کھلا رہا ۔آخر کار باغیوں کو شکست ہوئی ،کچھ مارے گئے کچھ پکڑے گئے اور بعض نے اطاعت قبول کر لی ۔اس بغاوت میں قوم کاٹھیا ، قوم کھرل، قوم ستیانہ اور چوتھی وٹو شامل رہی اور اس ٹکراﺅ میں ان کے تیس ہزار کے قریب افراد شامل رہے ۔ہتھیار ختم ہوجانے کے باوجود لاٹھیوں کلہاڑوں تلواروں،اور خنجروںسے لڑتے رہے ۔اور یہ ہی مقاومت میں فصیل بنے سینے کیسے سُرخی¿ لہو سے دہک اُٹھے۔۔؟
چاندی کی توپ سونے کے گولے،دھما دھم بولے۔۔
آخرِ کار ہو گئی ناتوپ کی رونمائی ،لڑاکوں کے جولانی بھرے وجود ،لاشوں میں ڈھیر،شق سینے خون آلودہ۔۔
بابر یارا یہ تم کیا اُٹھالائے لہو لہان کرنے کا اسبابِ فتوحات۔۔
ادر نادری دور میںہاں ہاں، مرہٹوں کی دُرگد کیسی بنی ،پار شُو بچوں کی مت پوچھو۔۔
قیمہ توہوا ہمارا۔۔
فتح کیسی۔۔؟
دُشت بھاﺅ گُوہی مٹی میں گم ،دُوشکالی لمبی دو شاخہ شکاری زُبان، دا ہنی بُرج سے نکلی چار ناچار سمتوں میںگومتی گُوھمائے کمان ،آٹھ ڈیلوںکی کھڑکار،آئے کہاں سے فاصلے مارتے گُھمنڈی چار کھروں کے پرچارک پر چار کمیت سوارسامنا کرت پانی پت مگر۔۔؟
تیغوں کی چمک اور گھوڑوں کی ہمہماہٹ تو مرہٹی ہے ،تین لاکھ کا جثہ روبرو نادر شاہ افشار ،جو شکم گُندھے ۔مُلک گِیری کی ہوسِ ناگزیرمیں ملفوف، دھرم نندا،غرور و نخوت،فہرست ِ فردِ جرائم گیری،اپنا قُلہ شجر بنا لُوٹ اور چیرا دستی اُٹھانے سے انکاری۔۔
کرسٹوفر ہی برٹ نے اپنی بیانیہ تاریخ ”عظیم بغاوت،انڈیا ۷۵۸۱ “میں وہی بندشی باریک بین نقطہ موجود ہے کہ جو سرسید کی دُعا میںبندھاہے کہ ٹامی ہم ہندیوں کامحسن،اور ہم احسان فراموش،اس کتاب میں بھی جو بولیاں ٹھولیاں جمع کی گئی ہیںاس میں جو بھی دو نقطے اُبھرے ہیں۔اس کا رنگ روپ بھی ہمیں ہی مطعون کرتا ہے ۔اس بغاوت کاسبب تو ان کی نظر میںفرنگی نفرت انگیز رویہ ہے ۔لیکن بادشاہت اور سوداگروں کی لُوٹ کے بل بوتے اک گماشتہ طبقہ پیدا کیا۔اور لالچ کی اتنی بے توقیری حِس درجاتی انجیکٹ کی گئی کہ سبزازار کی رحمتیں نازل کرتا ملک مسلسل بھوک و درندگی میں لپٹا مصنوعی قحط کا شکار،اور اُن کی سورج نہ غروب ہوتی سلطنت کی محافظت کے لےے سپاہ خوراک مہیا کرنے کی زمین رہ گئی۔جنگ عظیم اول کے چھ سات لاکھ سپاہ اسی مُلک کے باشندے تھے ۔پیٹ روٹی کی خاطر اُن سے چپک گئے ،مگراپنی زندگی کے زور سے فرنگی تخت کو بچاتے موت کے دوارے جا بسے۔مگر ہتھے کیا آیا۔۔؟ایڈمُنڈورنی ایک جوان نیول فرنگی نے اس بات کواپنے باپ کو لکھا، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اُس نے ایک اور زاویہ سے دیکھا اور بعنیہ اظہار کر ڈالا کہ ہند میں قیام پذیرانگلستانی عمومی طور پر نیٹو سے تنگ نظری شکار ہیں،اور اس کا اظہاراُن کے برتاﺅ میں ظاہر ہو جاتا ہے۔
نیٹو کو وہ کاہل ،ہڈ حرام ،مٹھائی اور گھی سے چمکاتے ،اور چلم تمباکو میں دن رات غرق رہتے ہیں ۔اور فرنگی ان سورﺅں کے اِجڑ کو تربیت دیتے ہیں۔۔
لیکن سردارو ،سچ سچ بتاﺅ،کیا تم تک اُن کی گالیاں نہیں پہنچتیںاور ۔۔؟
اورکیا ان سے اسرائیلی تربیت یافتہ تورات اور داﺅں بدلنے کی تربیت تم نے لے لی ہے ۔ ا ن کی طرح اپنے گورواور اُن کا لوکائی فرمان بدل کر کوئی نیا گرنتھ لکھ مارا ۔تمہیں فرنگی کے ہاتھوں بِکنے اوربدلے میںما ل بٹورنے کا تحکیمی گرنتھ کُھلا اور کیا مِلا۔۔؟
دو اگنی کا لمبو دیکھو ۔!ساری سکھی مثلوں کو سِرعام بیچا تم نے ۔۔!
اوراس جی داری کی بدولت ملا کیا؟
فیروزی ۔۔؟
سورٹھا سورج گرہن میں مقفل ۔سُنتے کان ،پُر سرُوراور مخمور،خمار انگریز ی میں لہکتے تھے ۔کہ گورو گوبند سنگھ کی رائج سلامی،سانوں اُس نے فتح بولی ہے ۔۔
کاٹھیوں،کھرلوں ،ستیانوں،وٹوﺅں نے توجی داری دِکھائی، راوی رُت رَس کنارے ،کسی حاصل حصول کے لےے نہیں ،اپنی زمینوں کی ساری پیداوار اپنے قوتِ بازو سے نکالی ہوئی ساری اجناس کو بچانے، اپنے ہاتھوں بچوں اور خانگی عورتوں کے لےے چڑھائے کوٹھے کُلّوں کو بچانے کے لےے لڑے ،ہار جیت سے بے نیاز رہتے ہوئے۔ہار گئے تو کیا ہوا اک روشنی کا ساری ہندی مخلوق کے دل میںآفتاب روشن تو کر گئے۔۔!
بے اِختیارکال بلیندی میں لوکی کیا کہتے تھے۔۔!
کال بلیندی نادر چا بّدھا اے ڈھانا
انگریزاں دا مُلکھ ولیت اے ، برکلّی وِچ پنجاب دے دھانا
چڑھدے نوں ماں مَتّیںد یوے،پُترا جاویں ہوسیانا
توں وگیا جاناایں وچ پنجاب دے کھرل راٹھ نی،بیگا،باجا،نونہیاں با ہدر
چر ہیڑیاںاگے وی چھڈیا اے سیدھ کرانا
٭٭٭
ساریاں قوماں دا سردار احمد خان ہئی،سُچا اوہنداپیٹا تے تانا
اگّے وی نال حکومت دے اوہ لیندا مورچے ،اوس توں وَلا کے لکھ جاندا
راجہ رنجیت سنگھ نمانا
٭٭٭
برکلّی آکھے:چُپ کر جا او سوہریئے! تیرا مَیں پلّے نہیں لیندا بنھ جُھرنا
ماں آکھس : جِتھے زور پانی دا ہوئے ،پُترا اگوں کوئی نہیں لیندا ٹھلّھ اڈانا
برکلّی آکھے : مَیں جاساں وچ پنجاب دے ، جاندیاں نال احمد خان دے
جوڑا اے گھانا
بنگلے کیتے آن اُتارے ،پوند بنایا ضلع ،مُڑتحصیل کو لے چا بنانا جیل خانا
برکلّی آکھے : جے کدی احمد خان رنگروٹ تے گھوڑیاں نہ دیسیں
بنھ بنھ کے ضلیاں نوں دیساں ٹور چلانا
راٹھاں نوں بولیاں پھٹ کریندیاں ، پھٹ مرداں نوں ہوندا گاہنا
احمد آکھے: تینوں انج رنگروٹ بھگتیساں ،جویں مرزے تو رن لاہی کھرلاں
چھڈ یا اے دِلّی وی چَٹ نشانا
تھوڑا جیہاحوصلے وچ رہو اوہ بے دینا ! کم اوہو اے
جیڑا مولا پاک نوں بھاتا
اور اس کے مقابلے میںتمہیں کیا مِلا ؟تمسخر،ٹھٹھا!کیوں نہ یہ ٹھٹھا تمھارا پیچھا کرے ،تم نے تو پنجاب کی فرنگیوں سے جیتی ہوئی چارجنگوں میں دست پنجا کرتے ،فتح کے چڑھدے سورج کی کرن نکلتے دیکھتے ہی معرکے سے اُٹھ بھاگے ،اورشکست خوردہ فرنگیوں کو جِتا ڈالا۔۔
پھر بَن کرکیارہ گئے۔۔ ؟
اک درباری کلاﺅن۔۔!!
انہوں نے تو اپنے افسروں اور گورا سپاہیوںکے پنجاب کے میدانِ جنگ میںمرنے کاساٹھ سال تک رِڑکا درد کو ، لیکن جو دوجوں کے گھر آگ لگائی ،جو کچھ لوٹا ،اپنے گھر میں تو سونے کی اینٹیں بچھا کر نئی نئی ایجادات کی فیکٹریاںکھڑی کرڈالیں اور ہمارے ہاںجو علمی چولا پہنا ڈالا۔ اُس میں اک نیا علمِ تکبربلند کیا کہ جو بھی پڑھ لکھ جائے وہ صاحبِ تکریم بابو ،جس کا مقدر کوٹ پینٹ اور کرسی سے بندھا،اور کلرکوں کا لشکرِ جرار پیدا کیا۔اور جو اپنے زور پر اُڑان بھرنے کے قابل ہوجائے وہ فرنگی دیس میں زیادہ مال کمانے کی روش میںکھنچ جائے اور غلامی کی نئی نہج پر چل نکلے ،سوچ بچار کے سب لمحے اُس کے بے حسی میں ڈالتے، پکاتے،وقت کا احساس گُم کرتے ، ایک ہی یقین محکم اُن کے اندر پرویش کرے کہ دیر سویر کرسی یا مشین تک پہنچنے میں ہوجائے تو اُس روز کارِزق ہی چِھن جائے ۔دل میں لگی اس آگ کو بھڑکانے کا عمل ان ہی فرنگیوں کے ہاتھوں ہوا۔
ہور چُوبو سردار جی ۔!
اگ لگ گئی اندر باہر جی۔!!
جلیان والہ باغ کے سامنے ،دو دو منزلہ مکانوں کے پیچھے جہاں سڑک کٹ کر پھر دو حصوں میں تقسیم ہوکر ، کالج روڈ پر نکلتی کھلکھلاتی ہے ۔وہاں سے دوجی سمت سیدھی فرنگی چھاونی کے منڈوے کی جانب بڑھ جاتی ہے۔اسی ڈھلوان میں اُترتی کٹاﺅ والی جگہ پر گورے فوجی افسر کی آنکھیںاپنی کلائی پر بندھی گھڑی کودیکھتے ہی اُٹھتی ہیں اور بھولے بھالے درگاہ چوک سے آتے سائیکل سوارسردار جی پر جم جاتی ہیں ۔اور کٹاﺅ والی سڑک کے درمیانی فاصلے کو آنکھوں میں سمیٹتے وہ منڈوے روڈ کی طرف بڑھا مگر عین اسی کٹاﺅ والی سڑک پر پہنچتے ہی وہ ایک لمحے کے لےے رُکتاکہ سائیکل سوار نکل جائے۔مگر وہ وہاں سے سیدھا نکلنے کی بجائے کالج روڈ سے آنے والی اوپر چڑھتی سڑک کے کٹاﺅ پر کھڑے گورے فوجی افسر سے ٹکرا گیا ۔اور پھر پُھرتی سے اُٹھ کر سڑک پر ہی گِرے گورے فوجی کو اُٹھا کر اُس کے کپڑے جھاڑتے،معافی مانگنے لگا ۔
او پتہ نئیں جی کیویں سیکل تواڈے ول مڑگئی ۔ میں تے سِدھا جا رہیا سا ں۔
گورا فوجی یک دم غصے سے بڑبڑا اُٹھا
ویل کوئی بات نئیں ،ہمارا گھڑی ہی غلط ٹائم بتا رہا تھا ،تم بالکل صحیح ہے ۔
اوراپنی گھڑی کی سوئیاں بارہ پر منجمد کر تے سڑک پردے ماری ۔۔
ویل گھڑی غلط ہو سکتا ہے ،سردار کبھی نہیں ۔۔
ہون دسو سردار جی،لتھی کہ چڑھی۔۔!
تالیوں پر بھنگڑا ،ناچو،او جٹا آئی وساکھی۔۔!
سردار جی سردار جی ،اگ لگ گئی اندر باہر جی۔۔
کسی گلی میں کوئی سکھ تنہا جا رہا ہو تا تو احوا ل پوچھنے پر یہ اطمینان تو ظاہر تھا کہ وہ گروہ کے کسی بھی فرد کوکسی مغل کی مونچھ کا بال یا خبر نامے کا پرچہ نویس نہیں سمجھے گا ۔اور ہم سب مل کر یا اکیلا میں۔؟
یعنی بلبیر سنگھ اُس سے معانقہ کرتے ،اُن کی قومیتی خون ریزی پراپنی کسم پُرسی کا درد بانٹ سکتا ہوں۔ جو وہ عوام میں سے ہوتے ہی سوچے گا ضرور ،مگر وہ تعداد کی بڑھوتی پر جب ایک سے دوہوجائیں او رقدم مارتے دو جی طرف سے آتے دکھائی دیں تو۔۔؟
تو چہرے پر نفرت اور غیظ کے جلوے معدوم کرنے کے لےے ماتھے پر گلاب کِھلاتے ،چہرہ مسکراہٹ سے فزوںضرور ہو ، کلام کا لحن اُن پر باہم ترشح کردینے کی اک بے اختیار چاہت۔۔
فوجاں کتھے چلیاں نئیں۔؟
اوجی بس اساں جاناں کتھے وے ،بس سوچیا کہ چُنج ہری کر لےے ،تے تُسی وی آﺅ نا،ملایاں مار کے لسّی دے دو، دو ، دَور چڑھالےے ۔
اور نہ صرف مَیں میرے ساتھی بھی تشکر کی روشنی بکھیرتے دلجوئی کے الفاظ سے انہیں بھنگڑا ڈالنے پر مجبور کر دیتے۔!
شاوا بھئی شاوا ،ہسدے کھیڈ دے ای چنگے لگدے او،یاراں دی جڑت توں کدے ویل ہوئی تے فیر تواڈے نال قدم پٹاں گے ۔
لیکن ہم سب میں یہ فوجاں والا زہر گھمن گھیریاں ڈالے رقصاں ہے ۔
نجانے سکھ بھائیوں میں یہ کسب کیسے جاگا ۔۔؟
سوال کی اندوھناکی ہم سب کو اس کی کھوج کی جانب دوڑا دیتی ہے ۔؟
گمشدہ محبتوں کی کھوج ۔؟
بابا گرو نانک نے انسانی برادری کی سفارت کی ابتدا بابر سے محبت کا رشتہ استوار کرتے دعاﺅں کے جُھولے میں ہلکورے دے ڈالے ۔اور دوجے گرو نے برہمنوںکے بنائے ذات پات کے جال میں پھنسے پنجابیوںکو اس سے نکالنے کے لےے کھنڈور میں اک لنگر جاری کیا۔ اورپنجابی زُبان کو تیجا رسم الخط گورمکھی کے نام سے ودیعت کیا ۔پہلے دو رسم الخط تو تھے ہی شاہ مکھی اور دیو ناگری اور تیجے گرو نے بے گھر سکھوں کے لےے بیاس کنارے اک بستی بسائی ،اور پیاسوں کے لےے چوراسی سیڑھیوں والی باولی بنوائی، اکبر نے چوتھے گورو رام داس سے ملاقات بھی کی اور لنگر کے اخراجات کے لےے پانچ سو بیگھہ زرخیز زرعی زمین خرید نے کی اجازت بھی دی ۔۔اُن کے بیٹے پانچویں گرو ارجن نے شاہ حسین کی مشاورت سے گرنتھ صاحب کو مرتب کیا ۔اور بیکار آوارہ پھرنے والے سکھوں کو زرعی زمینوں کی واہی بیجی پر لگانے کا مشورہ دیا ۔جس پر انہوں نے دو شہر بیاس کے کنارے ہی بسائے اور اجناس کی منڈی بننے سے سکھوں کی معاشی حالت سدھر نے لگی ۔اور سکھوں کو اک مرکزی مقام دینے کے لےے امرت سر میںگورو دوارہ بنوایا جِس کا سنگِ بنیاد میاں میر نے رکھا ،میاں صاحب جتنے دن وہاں گورو دوارے کے ساتھ اک کٹیا میں رہے ، اور آج بھی وہ کٹیا میاں کی کُلّی کے نام سے متبرک جانی جاتی ہے ۔اس سارے محبتوں کی جڑت کے جلتے چراغ کِس نے گل کردیے۔۔!
اور پرانے وقتوں میںمغلوں کے غرور سے سکھوں کی نفرت اور فوج اور چھاونی کاقصہ کیوں جاگا ،اور کیسے مغلوں کی نفرت میں سب طبقات مسلم اس چکی میں پِسے ۔شاہ حسین کے مشورے پر آوارگی کا خاتمہ کرنے والے ،اور میاں میر صاحب کے سنہری گورودوارے کی بنیاد رکھنے کی کتھا تو کچھ اور ہی کہتی ہے اگر کوئی غلط کام گرو ارجن سے سرزد ہو رہا تھا تو یہ دونوں طرح دے دیتے ۔لیکن سرہندی شیخ کونجانے کیا غلط فہمی ہوئی مکاتیب میںایک مراسلہ جلال الدین اکبر چغتائی کے نام ہے ،جس میں آڈی گرنتھ اور گرو ارجن کے باغیانہ رویہ اورسلامی روش سے گمراہ کرنے کی خبر رسانی کی گئی ،کہ غریب مسلمانوںکو سکھ دھرم میں کھینچنے کا احتمال جگایا گیا ۔لیکن جب اکبر لاہور جاتے ہوئے وہاں رُکا تو نو رتنوں میں سے دو علماءنے آڈی گرنتھ کو دیکھا اور پھر کھیتی باڑی سے آوارگی کا انہدام ہوتے ،شہروں کی آبادکاری اور تجارت دیکھی تو شک شبہے کی ساری تہمتیںدُھل گئیں،گرو ارجن کی بہبود مردم میں لگن دیکھتے ہوئے آڈی گرنتھ کے پیغامِ انسان دوستی سے بے خود ہوتے سلامی دی اور حاضری کے دست مبارکہ پر اکاون سونے کی مہروں کا چڑھاوا چڑھایا ۔۔
لیکن جہانگیرکے تخت نشین ہوتے ہی دوسرامراسلہ بغاوت کی بُو مٹانے کی تُندی میں لپٹا پہنچا تو گرو ارجن کی زمین اور مال و اسباب ضبط،اور قیدِوبندو سلاسل سے قتل کا اہتمام اور پھر راوی بُرد ہونے والے گرو کے بیٹے گوروکے دل میں مغلوں کے خلاف انتقام کی آگ لگا دی ۔لیکن دینی مُلّاان بدطینت بے حرف مغلوں کو مسلم جانتے ،مساوی جاننے کے تعلق کو کفر جانتے مغل مذہب کی تفسیر اپنے نام اور طریقت کی رکھیل بناتے، مسلمانوںکوسکھوں کے خلاف بڑھکاتے رہے۔اور سکھوں نے مغلوں کے ظلم کی چکّی میں چھان بورا بننے کی بجائے مقاومت کا رستہ اختیار کیا ۔مگر پہلی جنگ ہی مغلوبہ ٹھیری اور پکڑے گئے قیدی مغل شاہ کے حکم سے قتل ہونے کے بعد لاہور کے قصابوں کے ہاتھوں بوٹی بوٹی میں تقسیم ساری لاشیں ۔۔!
لاشوں کی اتنی بے حرمتی کیا مذہبی صلح جوئی اور روا داری اس کی اجازت دیتی ہے۔۔؟ مگرنفرتوں کی بنیادپرکمیلہ کھولنا تو مغلوں میں اپنے اجداد کے خون سے اُن کے اندر حلول کیا ہوا تھااب بھی ، اپنی جوانی کغ عصا کوتھامے کھڑا اُکساتا تھااور وہی وطیرہ ،قہر کی تیغِ نیام سے بے نیام ہوئی اوردھار کی تیزی اور آبداری کو پرکھتے ،اندھا دُھند بے ہتھیاروں کو ہتھیار اُٹھانے پر اُکساتی پِل پڑی۔ اور لڑائی مغلوں کی بجائے مسلمانوں اور سکھوں کے گھر خاکستر کرگئی ،جہانگیر،شاہ جہان ، اورنگ زیب اور پھر فرخ سیر تک بھی یہ قتل و غارت گری کا سلسلہ بند نہ ہوا ۔۔
اور یہی دشمنی ۔؟
قتال۔۔؟
سکھوں کو فرنگیوں کے ساتھ نتھی کر گئی ۔ورنہ سکھی چار جنگوں سے گورا اپنے برطانوی افسروں اور برطانوی سپاہ کے قتال کو تو نہیں بھولا تھا ،ساٹھ سال تک ان کا رونا پیٹنا تو مسودات میں بھی مچلتا رہا ۔لیکن تیسری افغان جنگ میں فرنگی فوج کا قیمہ،کہ کابل سے صرف ایک ہی فرد بچ کر آسکا۔یہ تو تھی ایک وجہ ،اسی کے اُٹھتے ہول کے اُٹھتے گردباد بننے کے سبب اور شوروی کا ہَوّا خوابوں کی راحت کو اُجاڑنے کی بدولت۔۔؟
شوروی خوف ایسا کہ ہندوستان اُن کے لےے اک سونے کی چِڑیا،جو انہیں اپنے ہاتھ سے نکلتی محسوس ہوئی ۔اسی سبب اپنے پنجے پنجاب میں پکے کرنے کی خاطر سکھ سرداروں کو مرا¿ت سے بھر کر اپنی شکست کے لمحے سے جان چھڑالی، چند نفری ٹولیوں کو چھوڑ کر باقی سکھ فرنگیوں کے گرویدہ،اور بساکھی پھر سے زندہ تابندہ۔۔!
اوربھنگڑا تال پر اُن کے قدم رقصاں ۔۔
پنجاب کی اٹھارہ سو اکتالیس اور اٹھارہ سو انچاس کی سکھ افواج اور انگریزوں کے
مابین ہونے والی جنگوں کی بدولت کہ جس میں شکست کھانے کے باوجود سکھوں نے انہیں لہو رنگ میں رنگ ڈالا ۔اور اِسی غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لےے نئی انہار کی بدولت لائل پور اور منٹگمری کی نئی کالونیاںجو ویرانی کا شکار تھیں۔اُن میںان غولِ بیابانی کو لایا گیا ۔ اٹھارہ سو ستاون کی سکھ وفاداریوں کا صلہ عنایت اور مہر سے سکھ جاٹوں کو وہاں بساتے وسیع و عریض زرعی زمینیں دیے دی گئیں اور اُنہیں معاشی پریشانیوں سے آزاد کر دیا ۔اورپھر ہندی فوج میں بھرتی پر،پہریداری کاگِرایا ہوا بیریر اُٹھا دیا گیا،اوردُشمنی کھوجتے شلاک و تفنگ بردارکی مسلط پابندیوں کوختم کرتے ہوئے اُن کے لےے دروازے مکمل کھول دیے ،اور اسی سبب پہلی جنگِ عظیم میں اُن کی تعداد کل فوج کا چھٹا حصہ بن گیا۔اور ۔؟
جیت کے بعد،ہند کے برطانوی تاج کے ساتھ الحاق پرچِپکنے پر کیا مِلا ۔۔؟
جب کہ سکھ سلطنت اور اُس میں شامل علاقوں کا انتظام ریجنسی کونسل کے سپرد کر دیا گیاتھا ۔اور سیدھے پڑاﺅ پر نگران الفاظ میں دیکھیں تو چھاونی کے جبروت سے پھوٹافرنگی فوجی راج مُسلط اور باقی مُلک کی ڈور فرنگی شاہ کے تخت، واقع انگلستان کے پائے سے بندھی ۔۔!
اور سکھوں کو اُن کی اس محبت کا صلہ کیا مِلا۔۔؟
اور راج کرنے کاوسوسا کیسا رہا ۔۔؟
بولو سردار جی ۔۔؟؟
ہے کوئی جواب پوری قوم کے پاس ۔۔!
اور وہ ۔؟
بلبیر سنگھ ۔؟
بلبیر سِنگھ اپنے سارے ہم جولیوں سنگ اسی بات پر ہی انتہائی رنج اور دُکھ میں لِپٹے،خفیہ دستاویزات کی لفظ بہ لفظ چھان پھٹک کرتے حیران ہیں کہ اب ان ساری دلدلی زمینوں کو خُشک کیسے کریں۔۔
شاید باہمی سوچ وفکر اوربھائی گیتی اور مکالمے سے کوئی نئی راہ نکل آئے۔۔







دشت تمنا - رشید امجد





خزانے کا خواب متوسط طبقے کے اکثر لوگوں کی طرح اسے بھی وراثت میں ملا تھا، پرانے گھر میں اس کے باپ نے بھی کئی جگہیں لکھ دی تھیں لیکن خزانہ تو نہ ملا گھر کی خستگی میں اضافہ ہوگیا۔ پھر اس نے یہ خواب دیکھنا چھوڑ دیا جو اسے اپنی ماں سے ورثے میں ملا تھا۔ عمر کے آخری دنوں میں وہ مایوس ہوگیا لیکن نہیں جانتا تھا کہ یہ خواب وراثت میں اس کے بیٹے کو منتقل ہوگیا ہے۔ وراثت میں منتقل ہونے کے لئے کچھ تھا بھی نہیں، بس یہ خستہ آبائی گھر۔ دونوں میاں بیوی نے ملازمت کرکے دس مرلے کا ایک پلاٹ خریدا تھا لیکن اس پر مکان بنانے کی نوبت ہی نہ آئی۔ دونوں میاں بیوی آگے پیچھے نیا مکان بنانے کی حسرت ہی میں دنیا سے چلے گئے۔ اس کی بیوی بھی ملازمت کرتی تھی۔ کچھ کمیٹیاں ڈال کر، قرضے لے کر اس نے باپ کے خریدے پلاٹ پر چھوٹا سا گھر بنالیا۔
نئے گھر میں منتقل ہوئے تو بیوی بچے بہت خوش ہوئے لیکن اس کی اداسی نہ گئی۔ ” کنال کا ہوتا تو کیا بات تھی، دس مرلے تو لان کے لئے چھوڑتا اور دس مرلے میں عمارت بناتا“۔
بیوی بولی۔ ”شکر کرویہ بھی بن گیا۔ پرانے گھر میں تو اب چھتوں سے مٹی بھرنے لگی تھی۔ “
”وہ تو ٹھیک ہے“۔ اس نے سر ہلایا۔ ”لیکن….“
اور اس لیکن کے لئے خزانے کا خواب تھا، اگر ایک کروڑ کا بندوبست ہوجائے تو کسی اور اچھے علاقے میں کنال کا گھر بن سکتا ہے، لیکن یہ ایک کروڑ کہاں سے آئیں گے۔ یہ گھر تو بنا تھا اس کے کسی کونے کھدرے میں پرانا خزانہ ملنے کی امید نہیں تھی، تو پھر خزانہ کہاں سے ملے، لاٹریوں اور پرائز بونڈ سے بڑی امیدیں تھیں۔ ہر مہینے پچاس سو روپے کا بونڈ خریدتا۔ قرعہ اندازی کا نتیجہ آتا تو دو دو تین بار نمبر پڑھتا لیکن کبھی دس روپے کا انعام بھی نہیں نکلا۔ شائد میرے نام کا انعام نہیں نکلتا۔ بیوی اور پھر بچوں کے نام سے پرائز بونڈ لینے لگے لیکن کسی کا نام نہ آیا۔ کوئی انعامی اسکیم شروع ہوتی فوراً وہ چیز خرید کر انعامی کوپن بھرتا لیکن کبھی کوئی انعام نہ نکلا۔
زندگی کی گاڑی آہستہ آہستہ گھسٹتی گئی۔ بچے بڑے ہوگئے تھے۔ اب موٹر سائیکل پر سب کا جانا مشکل ہوگیا تھا۔ بیوی نے اسکول میں کمیٹی ڈالی اور موٹر سائیکل بیچ کر انہوں نے ایک پرانی کار لے لی۔
کار کو پہلے دن سے پورچ میں کھڑا کرتے ہوئے سوچا ”کچھ اور پیسے ہوتے تو ذرا بڑی گاڑی لیتا“۔ خزانے کا خواب پھر جھلملانے لگا، اگر کہیں سے خزانہ مل جائے تو۔ لیکن کہاں سے۔ اب خزانے زمینوں میں دفن نہیں کئے جاتے۔ بنکوں میں رکھے جاتے ہیں اور اسے حاصل کرنے کے لئے ڈکیتی کرنی پڑتی ہے۔ اس تصور ہی سے جھرجھری آگئی۔
کار پرانی تھی، روز ہی کوئی نہ کوئی مسئلہ ہوتا۔ اتوار کا دن تو مستریوں کے پاس گزرتا، ہر بار سوچتا کاش کہیں سے خزانہ ہاتھ آجائے تو کم از کم نئی گاڑی ہی لے لوں۔ کئی خیال ذہن میں آتے کیا معلوم کوئی غلطی سے اس کے اکاﺅنٹ میں رقم جمع کرادے۔ سڑک پر چلتے چلتے کوئی موٹا بٹوا مل جائے۔ سوچتا، اب تو پانچ ہزار کا نوٹ بھی آگیا۔ ایک کروڑ کے لئے بہت سی گڈیوں کی ضرورت ہی نہیں۔
بیوی نے پھر ہمت کی، گھر کے خرچے میں سے پیسہ پیسہ جوڑ کر اور نئی کمیٹی ڈال کر اتنی رقم جمع کرلی کہ پرانی کار بیچ کر نئی گاڑی لی جاسکے۔
پہلے دن نئی گاڑی چلاتے ہوئے اور ہی مزہ آیا۔ ”واہ کیا بات ہے“ لیکن اسی لمحے خیال آیا اور پیسے ہوتے تو بڑی گاڑی لیتے۔ سڑک پر قریب سے بڑی گاڑیاں گزرتیں تو اسے عجب بے بسی اور بے وقعتی کا احساس ہوتا۔ خزانے کا خواب آنکھوں میں سرسرانے لگتا۔
دس مرلے کا گھر اور نئی گاڑی۔ بیوی کہتی۔ ”تم ناشکرے ہو، تنگ گلی کے اس بوسیدہ گھر میں موٹر سائیکل کے ساتھ رہتے تھے اور اب اس نئی آبادی میں اپنا گھر ہے، گاڑی ہے اور کیا چاہئے۔“
وہ کہتا، ”ٹھیک کہتی ہو، لیکن….“
اس سے اچھے علاقے میں بڑاگھر، بڑا لان سوچتا…. ”اب تو اس کے لئے دو کروڑ چاہئے۔ زمین بھی مہنگی ہوگئی ہے اور لاگت بھی کہیں سے کہیں پہنچ گئی ہے“۔ بیوی اور بچے اب اس کے خواب سے لذّت لینے لگے تھے۔بڑا بیٹا کبھی کبھی ہنستے ہوئے کہتا…. ”ابو اب آپ کا بجٹ کیا ہے۔“
وہ کہتا…. ”یار اب تو معاملہ دو کروڑ سے آگے چلا گیا ہے“۔
سوچتا….” جن کے پاس اربوں ہیں ان کے لئے دو کروڑ کیا معنی رکھتے ہیں۔“
خواب میں دیکھتا…. ڈاکئے نے لفافہ دیا ہے، کھولتا تو اس میں دو کروڑ کا چیک ہوتا۔ یہ کون نادیدہ مہربان ہے؟ لیکن جھرجھری آتے ہی حقیقی دنیا میں آجاتا۔ بٹوے میں تو دو تین ہزار ہی رہ گئے ہیں اور ابھی تنخواہ ملنے میں بیس دن ہیں۔
کچھ عرصے کے لئے خزانے کا خواب محو ہوجاتا، بس جو ہے یہی ہے۔ کچھ عرصہ مطمئن رہتا، پھر کسی اچھے علاقے میں جانا ہوتا تو بڑے گھر، بڑی گاڑیاں دیکھ کر جی کلبلانے لگتا۔ ایک عجب بے چینی اندر ہی اندر ایسے کاٹتی، جیسے کوئی چھری کی نوک چبھا رہا ہے۔ بیوی مزاج آشنا تھی، سمجھ جاتی کہ خزانے کا خواب ان دنوں پھر اس کے ذہن میں کھدبدا رہا ہے۔
کبھی کبھی ہنس کر پوچھتی…. ”اب اسٹی میٹ کیا ہے؟“
وہ پوری سنجیدگی سے کہتا…. ”اب تو تین کروڑ سے زیادہ ہی چاہئے۔“
اور سوچتا کیا معلوم کسی دن سڑک پر کوئی بریف کیس مل جائے جو ڈالروں سے بھرا ہو۔ لیکن اتنی رقم رکھی کہاں جائے گی۔ گھر میں رکھی اور کسی کو بھنک بھی پڑگئی تو سب کی جانیں بھی جائیں گی۔ بنک میں لے گیا توٹیکس والے پوچھیں گے اتنی رقم کہاں سے آتی۔ بہت سوچا، بہت سوچا پھر ایک پلان ذہن میں آیا کہ گھر کے سارے افراد کے اکاﺅنٹ کھول کر تھوڑی رقم سب میں جمع کرادی جائے اور کچھ گھر میں رکھ لی جائے۔ گھر میں دو تین محفوظ جگہیں بھی تلاش کرلیں، ایک الماری کے سب کے اوپر ایک خلا سا رہ گیا تھا۔ بہت ہی مناسب جگہ تھی، چور ڈاکو آبھی جاتے تو تلاش نہ کرپاتے۔
اب شہر میں دھماکے شروع ہوگئے تھے۔ بریف کیس پھٹتے تھے۔ خیال آیا کہ ایسا نہ ہو کہ وہ بریف کیس کھولے اور دھماکہ ہوجائے۔ پورے جسم میں جھرجھری آجاتی۔
”نہیں یہ مناسب نہیں، تو پھر“۔
اب این جی اوز کا بھی بڑا چرچا تھا۔ سنتا تھا کہ باہر کے ملکوں سے کھلا پیسہ ملتا ہے لیکن یہ اس کی حیثیت سے بہت اونچا کام تھا۔ وہ تو اس کے بارے میں بھی خواب ہی دیکھ سکتا تھا کہ وہ ایک این جی او چلا رہا ہے۔ کھلا پیسہ آرہا ہے اور اس نے اس میں سے تین کروڑبچا لئے ہیں۔ پوش علاقے میں دو کنال کا گھر…. ایک کنال پر عمارت اور ایک کنال کا لان…. یہ بڑی گاڑی بلکہ گاڑیاں۔
لیکن یہ بھی خواب ہی تھا۔
دہشت گردوں کو بوریوں میں بھر کر ڈالر ملتے ہیں، لیکن وہ تو اس چیونٹی کو بھی نہیں مارسکتا تھاجو اس کے جسم پر کاٹتی پھرتی تھی۔ تو خزانے کا خواب، کچھ عرصہ بری طرح ذہن پر سوار رہتا، کچھ عرصہ بھول جاتا۔ بچے اب بڑے ہوگئے تھے، ناشتے کی میز پر چھیڑتے…. ”ابو اب آپ کا بجٹ کیا ہے“۔
وہ سنجیدگی سے کہتا…. ”اب تو چار کروڑ ….“
سب ہنستے، وہ بھی کھسیانی سی ہنسی سے ان کا ساتھ دیتا۔
اسی دوران بیٹی کی شادی ہوگئی، دونوں بیٹے ملازمتیں کرنے لگے۔
بیوی نے ایک دن بتایا…. ”دونوں باہر جانے کے چکر میں ہیں“۔
اس نے بے بسی سے سر ہلایا…. ”شاید باہر انہیں وہ مل جائے جو میں نہیں پاسکا“۔
دونوں بیٹوں کی شادیاں ہوگئیں۔ وہ دونوں میاں بیوی بھی ریٹائر ہوگئے۔
اب سارا وقت خواب دیکھنے کے سوا اور کچھ نہ تھا، صبح ناشتہ کیا، اخبار پڑھا اور پھرخزانے کا خواب زینہ زینہ اس کی آنکھوں میں اترنے لگتا۔
”کیا معلوم کسی دن اسے اچانک ہی کسی نامعلوم کی طرف سے چار کروڑ کا چیک مل جائے“۔
پھر خود ہی ہنس پڑتا۔
سوچتا، اربوں کھربوں والوں کے لئے تو چار کروڑ ایسے ہیں جیسے ہمارے لئے چار ہزار، لیکن کوئی کسی کو کیوں دے؟
سب سے پہلے بڑے بیٹے نے خبر سنائی کہ اسے باہر ملازمت مل گئی ہے اور وہ دس پندرہ دن میں جارہا ہے۔
اب گھر میں دونوں میاں بیوی کے علاوہ چھوٹا بیٹا، اس کی بیوی اور ان کا بیٹا رہ گئے تھے۔ پوتا ابھی اسکول نہیں جاتا تھا۔ وہ دن بھر اس سے کھیلتا رہتا۔ تین چار مہینے بھی نہیں گزرے تھے کہ چھوٹا بیٹا بھی بیوی بچوں کے ساتھ باہر چلاگیا۔ اب گھر میںدونوں میاں بیوی رہ گئے تھے۔ گھر کے چار کمروں میں سے تین خالی ہوگئے۔ ایک کمرہ اور لاﺅنج ان کے استعمال میں تھا۔ ڈرائنگ روم تو کبھی کبھار ہی آباد ہوتا۔ ڈرائیور بھی رکھ لیا تھا۔ کہیں آنے جانے کی تکلیف نہیں۔ چار کمروں کے گھر میں دو فرد لیکن پوش علاقے میں گھر کی خواہش ختم نہ ہوئی۔
کبھی کبھی افسردگی سے سوچتا، اگر میرے پاس آٹھ دس کروڑ ہوتے تو بچے باہر نہ جاتے۔ سوچتے سوچتے کہیں سے کہیں پہنچ جاتا۔ دو کروڑ کا تو دوکنال کا پلاٹ، دو کروڑ اوپر، ہوگئے چار کروڑ، ایک کروڑ گھر کو سجانے اور شاندار گاڑی کے لئے یہ ہوئے پانچ،دو کروڑ سیونگ میں جس سے آٹھ فیصد کے حساب سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار انٹریسٹ ملے گا۔ پچاس ہزار پنشن ہے دو لاکھ دس ہزار۔ دونوں میاں بیوی کے لئے بہت ہے۔ بہت عمدہ۔ باقی تین کروڑ تینوں بچوں کے اکاﺅنٹ میں جمع کرادے گا۔ پیسا کمانے باہر گئے ہیں نا۔ یہاں پیسہ مل جائے تو واپس آجائیں گے۔ لیکن رہیں گے کہاں؟ ممکن ہے ان کی بیویاں ساتھ نہ رہیں تو چلو ایک پرانے گھر میں رہ لیں گے۔ ایک کروڑ سیونگ میں سے نکال کر دوسرے کو بھی چھوٹا گھر بنادے گا….
تھوڑا سا ہاتھ تنگ ہوجائے گا لیکن کوئی بات نہیں۔ بیٹے ساتھ نہ رہیں، ہوں گے تو اسی شہر میں۔ کبھی ایک کے گھر چلے گئے، کبھی دوسرے کے…. دس کروڑ کی بات ہے۔ کچھ لوگوں کے لئے تو یہ دس ہزار کے برابر بھی نہیں۔
دس کروڑ کا خواب اب بھوت کی طرح اسے چمٹ گیا تھا۔ اٹھتے بیٹھتے سوچتا کہ یہ دس کروڑ کہاں سے مل سکتے ہیں۔ کوئی لاٹری، کوئی انعام لیکن اتنا بڑا انعام تو ہوتا ہی نہیں۔ سڑک پر پڑا بریف کیس۔ اب تو ڈالروں کا زمانہ ہے۔ دس کروڑ کے لئے زیادہ جگہ درکار بھی نہیں۔
صبح شام خواب…. خزانے کا خواب
چھوٹے بیٹے کا فون آیا…. ”ویزے اور ٹکٹ بھیج رہا ہوں، مہینے بھر کے لئے آجائیں۔“
زندگی میں پہلی بار باہر نکلنا ہوا تھا…. یہ دنیا ہی اور تھی، ہر وقت چکاچوند، گلیمر۔ مہینہ تو پتہ ہی نہیں چلا کیسے گزرا۔ جس دن انہوں نے واپس جانا تھا۔ بیٹے نے کھانے کی میز پر بیٹھتے ہوئے پوچھا…. ”ابو اب آپ کا اسٹی میٹ کیا ہے۔“
اس نے سنجیدگی سے کہا…. ”دس کروڑ“
سب ہنسنے لگے ، وہ بھی کھسیانا سا ان میں شامل ہوگیا۔
ایئر پورٹ پر بیٹا، اس کی بیوی اور دونوں بچے انہیں چھوڑنے آئے۔
جہاز میں بیٹھتے ہوئے عجیب سی اداسی تھی، بیوی بھی چپ تھی۔ یہ دن کتنے مزے کے تھے، اس نے سوچا، ہر ہفتے بیٹا انہیں کھانا کھلانے باہر لے جاتا تھا، کیا مزے مزے کے کھانے تھے اور سلاد، واہ! اس کی بات ہی نہیں۔
جہاز فضا میں بلند ہوا۔سات آٹھ گھنٹوں کا سفر تھا۔ ابھی آدھا راستہ ہی طے ہوا تھا کہ جھٹکے لگنے لگے۔ کپتان نے ایمرجنسی کا اعلان کیا تو مسافروں کے منہ سے کلمے کا ورد ہونے لگا۔ بیوی ڈر کر اس کے ساتھ لگ گئی۔ اُس نے اُس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا…. ”چلو آخری لمحے میں بھی ساتھ ہیں، تم نے ساری زندگی میرا بہت خیال رکھا ہے۔“
ابھی شائد کچھ کہتا کہ جہاز نے ڈبکی کھائی، ایک دھماکہ اور پھر……..
سوئم کرنے کے بعد تینوں بہن بھائیوں نے طے کیا کہ وہ ہر سال ان کی برسی پر اکھٹے ہوا کریں گے۔
پہلی برسی پر برسی کے ختم کے رسومات سے فارغ ہو کر تینوں لاﺅنج میں بیٹھ گئے۔
بڑے بھائی نے کہا….”سال بھر سے یہ گھر خالی پڑا ہے۔ میں اسے کرائے پر دینے کے حق میں نہیں، کرایہ دار سے کون کرایہ وصول کرے گا اور اگر کوئی ایسا ویسا کرایہ دار آگیا تو مکان ہی کھا جائے گا، تم دونوں اتفاق کرو تو اسے بیچ دیتے ہیں“۔
بہن نے اثبات میں سر ہلایا۔
اس سے پہلے کہ چھوٹا کچھ کہتا، گیٹ کی گھنٹی بجی، بڑا اٹھ کر باہر آیا۔ ٹی سی ایس کے ہرکارے سے لفافہ لے کر وہ اُسے کھولتے ہوئے اندر آیا۔
پڑھ کر اس کے منہ سے چیخ نکل گئی اور کاغذ نیچے جاگرا۔ چھوٹے نے جلدی سے اٹھایا۔ خط فضائی کمپنی سے تھا، لکھا تھا۔
”مرحومین کی حادثاتی ایئر انشورنس کے دس کروڑ روپے کے چیک کی وصولی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لئے فوری طور پر کمپنی کے انشورنس کے شعبے سے رابطہ کیا جائے۔“


حجلہ چمن آرائی - سمیع آہوجہ


وہ اُس کی جوانی میں قدم رکھنے کے ایام تھے، جب چمن سے آنے والے لشکر نے قندھار کے نواح میں پڑاﺅ ڈالا،تو گاﺅں والوں کے کانوں میں بھی خبریں لشکری نامہ بر کے آنے سے پڑ گئیںاور وہ بات چیت میںسارا زور قبائلی مُسلمانوں پر سکھوں کے ظلم اور کشت و خون کے بَل اُن کی قبول کردہ غلامی اور باج گزاری سے آزاد کرانے اور اسلام کی صحیح راہ پر چھائی تاریکیاں صاف کرنے آئے تھے،اور ساتھ ہی احمد شاہ کا پیغام سردار کو دیتے اگلے گاﺅں کی جانب چل نکلے ۔ اجتماع میں آنے والوںکے چہرے بلا کسی تفریق آزادی کے نام سے ہی جگمگا اُٹھے ۔سارا گاﺅں اُن کے نعروں سے گونج اُٹھا۔پدرِ بزرگ نے اپنے مِیر منشی کی زِیرِ نگرانی اور چار نوکروں کے ساتھ آٹھ دنبے او رغلّے سے لدے چھ گدھے لشکر کے پڑاﺅ کے لےے روانہ کردیے، اورجیسے ہی یہ گاﺅں کی آخری پگڈنڈی سے باہر نکلے تو وہیں سے مسجد کا امام اور ادھیڑ عمری سے سر نکالے چندگاﺅں والے،جو اپنا گھریلوبچت والا سامان جس میں خوراک بھی شامل تھی ،اپنی اپنی استعاعت کے مطابق غریبِ شہرلشکریوںکی مدداور خیرات و زکو ةکے حساب سے گھٹڑیوں میں باندھے ،کندھوںپر لٹکائے اُن کے ساتھ شامل ہوگئے۔اور اس قطار کے پیچھے سردارکی اجازت سے اُس کا پوتا اوردس مسیں بِھیگتے اُس کے ہم عمربھی نکل پڑے،جب پا پیدل چلتے ، تھکے ہارے لشکر میں پہنچے تو اتنا بڑا مسلح لشکر دیکھتے ہی اُن سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ،خیموں کا اک شہر بسا ہواتھا،اوراُن کے بیچ میں خالی جگہیں،آپ ہی آپ بنی خود ساختہ گلیاں،آتے جاتے لشکریوں کے قدموںسے اُٹھتی دھول میں ملفوف ۔اُس نے میر منشی سے لشکر کی تعداد پوچھی تو وہ ہنس دیا ،یہی کوئی آٹھ دس ہزار سے کیا کم ہو گا ۔اور جب عشا کی نماز کے بعد ہر خیمے کے لشکری اپنے اپنے صفرے پر بیٹھے تو خوراک کے محدود کیے جانے کا طبل اُن کے اندر بجنے لگا ۔مگر اس کے باوجودانہیں شراکتی محدود خوراک کے سنگ جیسے تیسے ایک خیمے میں رات بھر کے لےے کھپایا گیا ۔صبح فجر کے بعد ناشتے پر نواح کے دیہاتوںسے آنے والی خشک خواک کاڈھیر اک دو اطراف سے کُھلے وسیع شامیانے تلے میر منشی کے ساتھ لائے سامان کے ساتھ رکھا ہوا نظرپڑ گیا۔ میر منشی سے اُس نے اپنی الجھن کو سنوارنے کی سعی کر ہی ڈالی ۔کیا یہ لوگ ہمیشہ سے اسی طرح آدھے شکم صُفرے سے اُٹھ جاتے ہیں۔؟اور وہ کھلکھلا کر ہنس دیا ،،خوراک کی کمیابی کو یہ ناپ تول سے پورا کرکے خرچ کررہے ہیں،و رنہ مُلّا کی خوراک کبھی تم نے اُن کے شکم میں اُترتی نہیں دیکھی ،ہم درانیوں سے دُگنی تِگنی مقدار پر بھی وہ مطمعن نہیںہوتے۔!
تو پھرمیں پدرِ بزرگ سے اور خوراک بھجوانے کے لےے کہوں گا ۔!
بہت مشکل ہے ،کہہ دیکھو، کیونکہ میرے آقا کی جان ،پردیسی کی مہمانداری کے علاوہ خیرات کی ساری حد بھی انہوں نے لُدوا کر بھجوا دی تھی ، تم اپنی فرمائش کی جدول اُن کے سامنے کھول کر دیکھ لو،شاید کسی اور بہی کھاتے کو کھول کر کِسی مخفی لےے دےے کو نچوڑ کر تمہاری ضد پوری کرسکیں۔
پدرِ بزرگ اُس کی فرمائش سُنتے ہی بولے پردیسیوں کی مہمانداری اور پھر خیرات کی مخصوص بندھی گھٹڑی بھی کھول کرساری اُن کی جھولی میں اُلٹا ڈالی۔بس اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔تو وہ اپنی ماں کی طرف لپکا جو اُس کی پیدائش کے جشن کی بہت ہی زیادہ رطب السان تھی ۔
قندھار سے کو ئی بیس بائیس میل کی دوری پر منڈی گاک اک نو احی گاﺅںمیں اولین لحن میرے کانوں میں اُتارا گیا ۔اور جب میں سمجھ بوجھ کے حواسوں میں اُترا تو ماں نے کئی بار،میری پیدائش پر ہونے والے درانیوں کے جشن ، پے درپے شوشکی دھماکو ں، اوربیک وقت کئی ایک ڈھولوں کے، کان کے پردہ شِکن ڈغوں میں لِپٹی مارکبادیاں،جو حجرے میں بیک وقت میرے پدر اور پدرِ بزرگ کو دی گئیں اور اور پھر بلا کسی مرتبے کے بچھے دستر خوان پر پلاﺅ،اور دنبوں کی چرب زدہ بھنی ہوئی چانپوں،تکوں،کبابوں کے بھرے طباق ،اور سِیرو سیراب کرنے والی تین چار شیرنیاں ۔اور گاﺅںکے ہر گھر میں پہنچائی گئی شیرنی کے بھرے روسی پیالے اُس کے علاوہ تھے ،کہ سردار کے گھر مدتوں بعد پوتا پیدا ہوا ۔خوراک اور شِیرنی کا بہتات تو قبیلے کی روا¿یت تھی ۔مگر اُس کی ماں کے آگے پھیلائی گئی لاڈوں بھی جھولی پہلی بار خالی ہی رہ گئی کہ پدرِ بزرگ نے اپنی استعاعت سے زیادہ لشکر کو پہنچا دیا تھا ۔اب اگر ایک شاہی خوراک نکال دی جاتی تو فاقوں کے ایام سے سامنا ہو سکتا تھا ۔
افغانستان کی آبادکاری میں مختلف قومیں شامل ہیں۔ لیکن قندھار میں غلزی اور ابدالیوں کی کثرت تھی مگر غلزیوں کی حاکمیت اصفہان میں شکست کے بعدہاتھ سے ایسے نکلی کہ قندھار بھی کچھ عرصے کے بعد اُن کے ہاتھ سے نکل گیا اورغلزی دریائے کابل کے جنوب میں کوہ سفیداور کوہ سلیمان کے بیچ اور مشرق میںہزارہ جات اور مغرب میں قندھار کے نیچے کے صوبے میں بکھر گئے ۔اور قندھار میںابدالیوں کی مختلف شاخوں نے حالات کو دیکھتے لوئی جرگے میں احمد شاہ ابدالی کو اپنا امیر چُن لیا ،جس نے درانی نام سے سارے ابدالیوں کو ایک بڑے قبیلے میں پیوست کر دیا،ان درانیوں کے مجموعی طور پر کردار میں حد درجہ تضادات شروع سے ہی ہیں ۔ خوش خلق ،وجیہ ،خوبصورت ،مہمان نواز،بہادر،باوقار اورذی شان توہیں ہی۔لیکن جو خصوصیت ان کے کردار کو نمایاں کرتی ہیں ۔ان کے مرد اور عورتیں بلا امتیاز جب تشدد پر اُتر آئیں تو خون آشام ،ایسے ہی رنگ روپ اور چُلبلاہٹ پر نگاہ پڑتے ہی آنکھیں شہوت سے بھر پور، بدکرداری میں بھی ملوث ہونے پر مجبور کردیتی۔مال و دولت اکٹھا کرنے کے لےے ساری صفتیں موقوف کرتے برق آسا ،انتہائی درجے کے متشددحملہ آور لٹیرے،ڈاکو ۔۔
مگر۔؟
شدید سردی کا عالم اوربھوک کی شدت اور سامانِ رسد نا پید ،اس تلخی اور تنگی کے کی سرد آہوں کو سُننے کے باوجود درانی اور دوجے چھوٹے قبائل کے افراد یا سردارکہاں تک سید کے لشکریوں کے شکم بھرتے رہتے ،اُن کے تو اپنے ہاتھ موسم کی شدت سے تنگ ہونے لگے تھے۔آزادی کی خواہش اور سکھوں سے نبر آزمائی کی بدولت سردار کا پوتا، گاﺅں کے چند لوگوں کے ساتھ ،اپنے ذاتی زاد راہ کے ساتھ شاملِ لشکر ہوئے تھے ،اور دستر خوان پر ہمراہی لشکریوں کو شامل کرنے نے اور سال بھر میں ہی دیہاتی معصومیت اور جب تنگی کا زمان اُن کے شکموں میں بِلبلانے لگا توسادگی اُڑن چھو ہوگئی اور دھیرے دھیرے اُس کے وجود میں اُترتاسید کا مبہم اور انتہا پسندی کا غرور اندر ہی اندر اپنی ساری پرتیں اُتارتے ،لشکریوں کی مبہم مکریاںکُھلتی چلی گئی۔اور آمد کے تمام پینترے ،رنگ روپ بدلتی چالیں ، پشاور کی فتح سے پہلے حاکمِ پشاور درانی سردار کے بھائی کے تصادم میں قتل نے ہی سب کچھ نہاں کر ڈالا۔مگر علیحدگی کی راہ میں مذہبی حجت سدّ بنے کھڑی تھی ۔ورنہ بات تو ساری روزِ روشن کی طرح واضح ہو گئی تھی ۔
کہ وہ دِلّی سے چلے توچمن تک تواُن کا نصیبا جاگا رہا ،کہ فرنگی کا علمدار ہُن برسانے کے حکم نامہ¿ بالا سے عہد بند ہونے کے سبب ،اُن کی دست رس میں مال و سرمائے کی چھنک گونجتی رہی۔چمن سے قندھار پہنچے توپھلوں کے باغات کی شہرت سید کے کانوں میں دِلّی ہی میں پڑ گئی تھی ۔سرسبز درختوں اور کھیتوں میں گِھرے ،انجیر،انگور ، ناشپاتی اور اناروں کی بہتات سے لدے باغات توسارے لشکر کی آنکھوں میں رچ بس گئے تھے ۔ اس فراوانی کے سبب امید تھی کہ اُن کا خوراک سے خالی ہوتا دامن بھر دیا جائے گا۔کہ مسلمان غریب لشکر کی بھوک کو درانیوں کی اناج بھری کوٹھیاںکیسے فراموش کر سکتی ہیںاور درانیوں کی مہمان نوازی کی تو ان گنت مثالیں موجود تھیں۔مگر وہ اپنی بھوک اور طمع میں یہ بھول گئے کہ یہ پھل اگر دساور نہ جائے تو چند متمول سرداروں کو چھوڑ کر سارے قندھاریوں کو روٹی کے لالے پڑجائیں۔جتنا وہ کر سکتے تھے وہ سمیٹ سماٹ کر سید کی جھولی میں ڈال دیا گیاتھا۔
قندھار سے نکلے تو کابل پہنچنے تک فرنگی کے لادے گے خزانے کا بوجھ ہلکا ہوتے ہوئے ،رتتّیوں کی صورت بھی ناپید، یعنی ہوئے بالکل خلاص ہوگیا۔ورنہ جہا دی عہد نامے سے بندھنے سے پہلے تو نہ صرف شکم بلکہ حلق تک خوراک سے پُر رکھنے کے عادی تھے ۔جو ایک وقت کا فاقہ برداشت کرنے کے بھی قابل نہ تھے۔مگر اب وہ نصف شکم کو بھرتے اور نصف شکم بھوک سے مجبور ،بِلبلاہٹ میں کھنچتے، بلاآخراسی شکم کو خالی رہنے کی بندش نے اتنے سخت تنا ﺅ سے کسا کہ اُن کا بھوکا درندہ باہردبے پاﺅں شکار کی تلاش میںنکلنے کو بیتابی¿ امکانات کی مُشکوں میں کسا،حا لتِ بے کسی ،مگر صبر کی طنابیں توڑتادرندہ ،جب اپنوں کو ہی پھاڑ کھانے کے نزدیک پہنچ گیاتو۔۔؟
مگرکابل سے نکلے جلال آباد اور پشاور میں پھر بھی خوانین کے وظیفے ،خیرات و صدقات ،دیارِ غیر کے فقیر سمجھتے آپ ہی آپ اُن کی جھولی میں آگرا۔مگر یہی خوراک اتنی تسلی بخش کہاں،جیسی کہ فرنگی عملداری میں تھی۔۔!
فرنگی کی عملداری سے گزرتے ہوئے مالی اور غذائی اجناس کے بندھے گٹھڑ متواتر ملتے رہے ۔مگر آگے کا کوئی بھی علاقہ فرنگی مقبوضہ تو نہیں تھا،جو وائسرائے کی ہدایت کے مطابق مقامی انتظامیہ سے ہر نوع کمک ملتی رہتی۔چمن سے قندھار تک جمع کیا ہوا سٹورراشن بندھی کے بَل سسک سسک کر چلتا رہا۔مگر قندھا رمیں اس بے ترتیب قافلہ نما تھکاوٹ سے چُور ا جتماع کے پاﺅں دھرنے سے لے کر،کئی ہفتوںکا طویل فاصلہ پشاور تک بیچ میں حائیل، اُس مقررہ منزل تک پہنچنے تک خوراک اور دیگر اجناس اور سرمائے نے ختم ہونا ہی تھا۔ آخرمجاہدین کی خوراک اک انبار کی صورت اُن کے وجود میں پرویش ہوتی تھی اور ساری راہ میں آتی بستیوں کی مُسلم آبادیاں ،مسجدوں میں اُن کا واویلا سنتے ،غریبِ شہر جانتے ، جتنی اُن کی حیثیت تھی اُس سے زیادہ خیرات اُن کی جھولی میں ڈالتے رہے ۔مگر وہ ساری اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر،جو باجرے جوی اور گندم کی ملی جُلی روٹی اور پیازاور سِیر پر مبنی تھی ،مگر جیسے تیسے وہ پشاور پہنچے تو سہی۔مگر پشاور کے مختصر قیام میں نواحی بستیاں انجان بھیس بدلے ، چہروں پر ڈھاٹھے مڑے لٹیروں کے شب خون سے بِلبلاا ُٹھیں۔لٹیرے ڈاکو کون تھے ،اس کی ساری حقیقت تو اُن کے آگے نکلنے کے بعد کُھل گئی۔
ضرورتِ شکمی کے لئے خوراک اک لازمی ضرورت، مگر بے سروسامانی کے ان ایام سے نکلنے کی واحد راہ ، بستیوں پر شب خون، اور قتل وغارت گری میں لُوٹ سے ہی یہ سامان ہتھے لگ سکتا تھا ۔تو کفر و الحاد کے الزامات تھوپتے جا بجا حملوں کی ابتدا بھی ہوئی اور منڈیوں کے دیگر مذاہب کے نہتے مکینوں کی رہائش گاہوں اوردکانوںمیں مقتل گاہیں کُھل گئیں اورلُوٹ سے اُن جگہوں پر اتنا سا بھی اثاثہ باقی نہ بچاکہ بچے کھچے فراری پھر لوٹ کر اپنا ٹھیہ جما سکیں ۔
کیا عجب تھے ناصیہ سائی کے محرم۔!کِس انتہا پسندی کے بِرتے پر شرفِ وقار کو اپنایا ،کہ جس میں دوسرے کا احترام ملیا میٹ کرتے ،اپنے آپ کو حق پر موجزن قرار دیتے ایسے بے رحم طریقے اپنائے۔رائے بریلی کا سید اپنی سپاہ سنگ دِلّی سے ملتان ،اور پھر فرنگیوں کے مطیع میروں کے سندھ سے گزرتے چمن قندھار کابل ہوتے پشاور میں اُترا ،تین دن قیام کے بعد وہاں سے چمکنی ہوتے ہوئے ہشت نگر پہنچا اور خویشگی سے کوچ کیا تو نوشہرہ میں پڑاﺅ ڈال دیا ۔کہ دریائے سندھ کے اِس کنارے باجگذارمطیع قبائل کی علمداری تھی اور دریا پاررنجیت سنگھ کی ۔ دریا سندھ کے پار جرنیل بُدھ سنگھ اپنے لشکر کے ساتھ قیام پذیر تھا ۔سکھوں سے جنگ سے قبل روایتی طریقِ کار سے رنجیت سنگھ کو ایک اعلامیہ بھیجا جو کہ اک دکھاوا تھا ،اپنے ہر چہ کار میں تقدس کا شہد ٹپکاتے ۔اعلامیہ میں اُسے مسلمان ہونے کی دعوت دی بصورتِ دیگر اُن کی اطاعت کے سنگ جزیہ دینا قبولنے کا حکم نامہ ،ورنہ جنگ! ۔لیکن جواب آنے انتظار کِس کو تھا ،احتمامِ حجت تو اطلاع نامے کی کسروں میں مقید،سو جواب آنے میں تو دیر ہونی ہی تھی ۔ نامہ ¿ سید دربار میں بھجوانے سے پہلے، نامہ برہوا برابر پُرانی آشنائی کے بل بوتے رنجیت سنگھ کے مقررہ قاضی فتح الدین کی عدالت میں جا پہنچے ۔پُرانی شناسائی کے پھول توقاضی کے ذہن میں نہ کِھلے،مگر دربار میں حاضری دینے کی بجائے اُس کی عدالت کے در کھٹکھٹائے جانے پر شدیدالجھن میں لِپٹی حیرت ہوئی،مگرغریبِ شہر جانتے کسی کی شوریدہ سری کاقیاس دماغ میں اُترتے ہی وہ لرز گیا۔ فوراً حاضری کی اجازت مِلتے ہی وہ پانچوں کے پانچوں پگڑیاں گلے میں ڈالے ،ننگے سر ، اور ننگے پاﺅں ،ہاتھ جوڑے ہوئے داخل ہوئے ۔قاضی اُن کی حالت دیکھتے ہی جلال سے بھر گیا ،وہ ذہن میںاُٹھا پولا پھر گونج گیا،سمجھا کہ ان پردیسیوں پر کسی نے اپنی درندگی ہُشکار دی ہے ،جو سِکھ نہنگوں سے بعید نہیں تھا ۔اور اُس کی ایک للکار پر عدالت پہرے داروں سے بھر گئی ۔بتاﺅ غریبانِ شہر تمھارے ساتھ کِس نے ظلم روا رکھا ہے۔اس حکم کے جاری ہوتے ہی نامہ بروں کے چہرے یک دم آنسوﺅں کی چلتی چلہاروں سے بھیگ گئے ۔نہیں قاضی صاحب ہم پر یہاں کسی نے کوئی ظلم نہیں کیا ۔ہم تو مذہبی تُندی کے ہاتھوں مصلوب ہو رہے ہیں ۔ہم سکھوں کو ظالم اور بے دِین سمجھتے سید کے ساتھ اودھ سے ساتھ ہولےے تھے مگر مہا ساگر پارکرتے ہی یہاں کی شاہراہوں اور راستے کی سراﺅں نے تو مظالم کی کھنچی تصویر ہی جلا ڈالی۔ الزامات سوائے افواہوں کے پلندوں میں چُھپا جھوٹ تھا جو عیاں ہو گیا ۔رنجیت سنگھ کی عملداری میں تو کوئی گریہ نہیں سُنا۔آدھا دربار مُسلمانوں سے بھرا ہواحتاکہ کہ وزیر اعظم بھی مُسلمان اور آپ خود ۔۔؟
اتنے اہم عہدے پر آپ خود مسلمان ہوتے ہوئے بھی موجود ہیں بس ہمیںجواب کے ساتھ واپس نہ بھیجا جائے ، اور اس کے ساتھ ہی ہمارے دینی مدرسے کی یہ بات بھی عیاں ہوگئی کہ کتھولک چرچ کے ہاتھوں اور پوپ کے بحکم تین سو سال جو ظلم یورپ نے روا رکھا اُس کی انتہائی شکل پرتگیزیوں کی تجارت کے نام پر تنی چادرکے پھیلاﺅ تلے وہ اپنے بادبانی جہازوں پرجب سورت میں آئے تو مشنری اور پوپ کے بحکم مسجد کو آگ لگاتے تمام مُسلمانوں کو تہہ تیغ کیا ۔اس کا ثبوت اُن کے خطوط سے ملتا ہے ۔پرتگیزیوں کے ان مظالمانہ رویے کو رنجیت سنگھ کے سکھ ہونے کے ساتھ چسپاں گیا۔ یہ بھی اک جھوٹ دوجی نوعیت کے الزام سے مرصع تھا۔ اور شاہی مسجد اور نیلا گنبد والی مساجد جو مغلوں کی ہی بنوائی اور زیر انتظام چلتی تھیں اُن میں بارود کے گودام بنانے اور گھوڑے باندھنے کا اہتمام تو اک انتقام تھا جو مغلوں نے اُن کے ساتھ کیا اور پھر ابدالی کے سنہرے گردوارے کی تباہی اور لید اور تارکول سے بھری گئی امرت جھیل بھی اِسی بدلے کے پلڑے میں رکھی ہوئی تھی۔ کیونکہ کسی بھی مسلم فرقے نے مغلوں سے یا ابدالی سے اس سلسلے میں کوئی احتجاج نہیں کیا ۔بلکہ اُن پر ڈھائے گئے مظالم اور شکست پر دیو بند میں شادیانے بجائے گئے،مگرکسی کے دماغ میں یہ احساس نہیں گونجاکہ سنہری گوردوارے کی بنیاد تو میاں میر نے رکھی تھی ۔مگر اہلِحدیثوں اور دیوبندیوں نے تو،دِلّی چاندنی چوک اوردیو بندمیں سنہری گوردوار کی لُٹائی اور تباہی پرباقاعدہ گِھی کے چراغ جلائے ،اور پھر اسی گوردوارے کو، امرت پانی کی جھیل کو اور بابے کی کٹیا کو رنجیت سنگھ نے دوبارہ بنوایاتھا۔بس اسی مذہبی منافقت کا پردہ چاک ہونے پر ہمارے پاﺅں زنجیر ڈال دی ہے ۔ہم واپس جانے کے لےے تیار نہیں۔۔! آپ ۔۔؟
آپ ہمیں بس یہاں ہی کسی بھی مُسلمان محلے میں رہنے کی جگہ دے دیں ۔اور کام کاج تو ہم نخاس میں ڈھونڈ ہی لےں گے ۔ویسے ہم پانچوں گھوڑوں کی نسلی اور کاکردگی کی پہچان سے بخوبی آشنا ہیںاور کِسی حد تک گھوڑوں کو سدھا بھی سکتے ہیں ۔اور پھر شمشیر زنی سے بخوبی آشنا ہیں۔
آپ نے جو کچھ کہا وہ سچ تو ہے مگرآپ احمد شاہ کے بھیجے ہوئے نامہ بر ہیں دربار کے، اور دربار میں حاضری آپ کی لازم ،مگر ساتھ ہی مجھے یوں محسوس ہواجیسے آپ تفصیل سے اِن تمام معاملات کو نہیں جانتے ۔ورنہ ابتدا سے ہی آپ لوگ اس انتہا پسندی کے جتھے کے ساتھ شریک نہ ہوتے،آپ چاہیں تودربار میں حاضری کے بعد میرے ساتھ کھانا کھائیں،وہیں یہ باتیں ہوجائیں گی ۔باقی رہی آپ کے قیام کی بات تو وہ بالکل عیاں ہے،آپ تخت لہور کے مہمان ہیںاور اُسی کے مہمان خانے میں ہی قیام کریں گے ۔
سِر شام بچھے صُفرہ پر پھیلی غذا سے جب سیر ہوگئے تو ان ہی کی فرمائش پر قاضی نے تاریخ کے پوشیدہ بکھرے ہوئے اوراق پلٹ ڈالے ۔یورپی مذہبی تشدد کے پیچھے در اصل مال و دولت اکٹھا کرنے کا جنون اور خونخواری لگی ہوئی تھی ۔پرتگیزیوں کے ملازم عرب جہاز رانوں کے بَل بوتے واسکوڈی گاما مئی ۸۹۴۱ءمیں براعظم افریقہ کا چکر کاٹ کر کالی کٹ کے مقام پر لنگر انداز ہوا ۔تجارت اُس کی آمد کا ظاہری سبب تھی ،جوہندوستان کے ساتھ منسلک تھی ۔مگر اس کی تہہ میںمذہبی انتہا پرستی کے پھیلاﺅ کا جنوں بھی چمٹا ہوا تھا ۔یعنی الف لیلہ کے اوراق سے سندباد جہازی نکلا ،اِدھر کا مال اُدھر،بحری جہازوں پر لیے پھرتا اور دولت کے ڈھیر سمیٹتا چلا جاتا ۔مشرق کی تمام تر تجارت داستانی تاجر کی طرح عرب جہازرانوںکی راہنمائی اور بدست پرتگیز یورپ منتقل ہوجاتی تھی ۔مشرق کی تمام تر اشیا بحیرہ قُلزم کے راستے مصر ہوتی ہوئی بحرِ روم کی بندرگاہوں تک پہنچتی تھی ۔اور زمانہ جہالت کے عرب جب مسلمان ہوئے تو یہی تجارت اُن کے مذہبی مقسوم میں منتقِل ہو گئی ۔ساری تجارت مسلمانوں کے ہاتھ میں تھی اور ہر ملک کی بندرگاہوں میں اُن کی تجارتی کوٹھیاں قائم تھیں۔ مصری بندرگاہوں سے لے کر انڈونیشیا اور چین تک بندرگاہوں میں سمندری بیڑے بھی مسلمانوں کے تھے ۔ملاح سے لے کر امیر البحر مسلمان تھے ۔پندرھویں صدی میں پہلی بار پرتگیزی جہاز ران سوداگری کا علم اُٹھائے مشرقی ساحلوں تک پہنچے اور پھر اسی سوداگری میں دیگر یورپین ممالک ولندریزی (ہالینڈ) اُن کے بعدہسپانوی، انگریز اور فرانسیسی بھی شامل ہوگئے ۔پُرتگیزیوں کی اُبھرتی ہوئی بحری تجارت کے پیچھے بحری لوٹ مار ،مذہبی جنون اور انتہا پسندی بھی شامل تھی۔ اسپین اور پرتگال سے مسلمانوں کو نکالنے میں پوپ کا پروانہ¿ جنت اور پُرتگیزی بادشاہ کی بھی اشیر باد شامل رہی ۔اسپین اورپُرتگال سے مسلمانوں کو نکالنے،سمندر میں دھکیلنے کی تمنا کے سنگ اُن صلیبی مجاہدوںکا انہیںتجارت سے بھی محروم کرنے کا عزم شامل تھا ۔جس میں بے شمار مسلمان لالچ اور عیاری میں پھنسے ان کے ممد و معاون رہے ،خصوصاً عرب نیوی گیٹر اور ملاح ۔پُرتگیزیوں نے بحر ہند میں آنے جانے والے جہازوں کو بے دریغ لُوٹا اور قتال کی رسم زندہ رکھی کہ اس سے جنت کی راہ اور بھی ہموار اور کشادہ ہوتی تھی ۔جنوبی ہند کے ساحلی علاقے بھی ان لٹیروں کی لوٹ اورقتال سے روندے گئے ۔۔!
پُرتگیزی امیرالبحر البوقرق نے گوا کو جب فتح کیا تو اپنے بادشاہ کو مطلع کرتے لکھا کہ گوا میں جو بھی مسلمان نظر آیا اسے تہہ تیغ کیا اور جو بچ کر مسجدوں میں جمع ہوئے تو ہم نے ان مسجدوں کو آگ لگا کر خاکستر کیا ۔سمندر سے آنے والے ہر قومیت کے لُٹیرے ،شمال سے آنے والے لٹیروں سے کم نہ تھے، اورنگ زیب کی بد انتظامی کی بدولت سارا ملک طوائف الملکی کی لپیٹ میں آچُکا تھا۔لیکن طوائف الملوکی اور سمندری بھوکی مخلُوق کے تصادم سے ضرور ایک شکل واضح ہوگئی اور وہ سارا علاقہ بلا آخرِ فرنگی کی مرضی میں گُھل مِل گیا ۔مگر پنجاب کا ہراک باشندہ شمال سے آنے والے حملہ آور لٹیروں کی بدولت سو سال تک سُکھ کی نیند نہیں سو پایا ۔اور پھر اپنوں اوربیرونی اور اندرونی قاتلوں اور لٹیروں کی تلوار کی دھار کے نیچے ہی لگا کٹتا رہا ۔اور جو کچھ بھی ہوا مذہبی انتہا پرستی کی بدولت ۔مگر رنجیت سنگھ کا دربار سجتے ہی جا بجا بے ہنگام علاقوں میں امن ہوتا چلا گیا ۔مہاراجہ کی عقل و فراست کی بدولت چالیس سال انگریز ستلج پار ہی ٹِکے رہ گئے اور اُس پتن کو پار کرنے کی کبھی جرا¿ت نہ ہوئی اور اب پھر سے مذہبی بنیاد پر سید باشاہ توسیع پسندی کا جال بچھانے میں لگے ہیں جس کا فائیدہ فرنگی کو ہوگا ۔بات تو بہت لمبی اور تفصیل مانگتی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ عقلمند کے لےے اتنا ہی اشارہ کافی ہے اور۔۔؟
اور اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ۔۔!
لیکن پیشتر اس کے کہ رنجیت سنگھ کی جانب سے کوئی جواب آئے رائے بریلوی ،سید احمدکے مو لوی شکم گُندے میں چُھپا ،بھوکا تیندوا پہاڑوں سے ترائی میں اُتر کھڑا ہوا۔
اکوڑہ میں سکھ سپاہ اپنی لشکر گاہ میںجو اکوڑہ سے باہر کُھلے میدان میں لگے خیموں میں محوِ خواب تھے ۔اور اس اطمینان سے لمبی تانے ہوئے تھے کہ مراسلہ لہور دربار چلا گیا ہے ۔اب جو کچھ بھی ہوگا وہ جواب پرہی اپنے پٹ کھولے گا ۔زیادہ سے زیادہ میدان جنگ میں دُو بدو ہونے کا سبب بنے گا اس دورانیے میں شب خون کاکوئی اندیشہ نہیں۔لیکن ۔۔؟
تیندوے کی بھوک تو پہلے ہی خوراک کی کمی کے سبب شدید تھی ۔مگر پہلے فاقے کی نوبت نے رائے بریلی کے انتہا پسند ایمانی متشددمولوی اور اُس کے بھوکے تیندوںکوشب خون مارنے پر مجبور کر دیا۔اور پوری درندگی سے چاروں چھاپہ مار دستے ،تین چار فرلانگ کے فاصلے پر خُشک پہاڑی نالے میں چُھپے کن سوئیاں لیتے رہے۔ سکھی لشکر کے طلایہ نے ناگہانی حملے سے محفوظ رہنے کے لےے خار دار جھاڑیاں اور ببول کے درخت کاٹ کر پڑاﺅ کے چاروں طرف ڈالے ہوئے تھے ۔مگر انتہا پرستوں کے چاروں دستے سنگھرکوصبح کاذب سے قبل آگ دکھاتے ،پھلانگتے لشکر گاہ میں گُھس گئے اور ہڑبونگ میں سکھی پہرے داروں کے ہاتھوں چلتی گولیوں سے تین چار مارے بھی گئے مگر انتہا پسند مختلف اطراف سے اندر گُھس پڑے اور خیموں کی طنابیں کاٹتے ،سوئے ہوئے ہڑبونگ کی سراسیمگی میں بیدار ہوتے سکھ فوجی جو مئے خوری کی انتہائی آخری لپیٹ سے باہر بھی نہ نکل پائے تھے کہ شروع کے خیموں کے کچھ فوجی اوپر تلے برچھیوں تلواروں اور گولیوں کی لپیٹ میںآکر دم توڑ گئے ۔اِس مکارانہ ہڑبونگ میںکافی سکھ فوجی مارے گئے ۔مگر ساتھ ہی اس غُل غڑپے کے سبب سکھی لشکر بیدار ہوگیا اور سنبھلنے کا لمحہ ساتھ ہی اُن پر وارد ہوگیا اور جنگ شروع ہو گئی ۔اس ہڑبونگ اور بادلوں کی تاریکی کی بدولت بُدھ سنگھ کے لشکریوں نے سمجھا کہ دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔مگر توپچی کے رن مہتابی جلانے اور کھینچی ڈور سے بلند ہونے پرسارے حملہ آوروںکی تعداد اور جگہیں واضح ہوگئیں اور ان چھاپہ ماروں میںسے بیشتر کا لمحوں میں ہی قلع قمع کرڈالا گیا، اور باقی فرار ہونے والوں کی زیادہ تعداد زخمی تھی۔اس کے بعد اُنہوں نے حضرو کے قریب سکھی عملداری کی منڈیوں اور قصبوں اور مختلف دیہاتوں پر چھاپے مارتے،قتل و غارت کرتے لُوٹ میں سارا سامان سمیٹ کرلیجاتے رہے ۔۔لیکن مال غنیمت کی مقدار دیکھتے ہی بیت المال کا شرعی حوالہ بیدار ہوگیااور لوٹا ہوامال اکھٹا کرنا چاہا ۔تو وہ آپس میں ہی لڑنے مرنے پر تُل گئے ۔مگر رائے بریلوی سید کی مداخلت پر باہمی فساد تو رُک گیا مگرلوٹا ہوا مال واپس نہ مِل سکا ۔تو اُس نے شرعی نفاذ کے حوالے سے ہی اپنی امامت کی بیت کروا لی ۔اور امامت کے واضح کیے گئے قانون کی بدولت تمام حواری قبائل کے سرداروں کی راسیں رائے بریلوی کے ہاتھ میں آگئی ۔اور وہ اسّی ہزار کے جنگجو لشکر کے ساتھ بالا کوٹ پردوبدو ہونے کے لےے اُتر آیا ۔لیکن بُدھ سنگھ کے قبائلی سرداروںسے سلسلہ جنبانی کی بدولت وہ سردار اور قبیلے جو خود سر تھے اور صرف اپنے سردار کی آوازپراپنے مفادات کی خاطر میدانِ کارزار میں اُترتے تھے ،اور اپنے قبیلے سے باہر کسی کے آگے سَرِ تسلیم خم نہیں کرتے تھے ۔اس بار رائے بریلی کے سید کے ہاتھ میں باگ ڈور دیکھتے ہی تلملائے بیٹھے تھے ۔ سید رائے بریلوی کی حیثیت کی حاکمانہ اطاعت اُن سب کو کِھل رہی تھی ۔اور وہ سب جدائی کے لمحے کے لےے کسی بیرونی طاقت کے اشاروں کے منتظر بیٹھے تھے کہ وہ بدھ سنگھ کی گفت و شنید کے بعد بالا کوٹ کا معرکہ شروع ہونے سے پہلے ہی وہ خوانین سید کی فوج سے علیحدہ ہوکر اپنے علاقوں میں پلٹ گئے ۔اور پھر۔۔؟
بالا کوٹ کے معرکے سے پہلے خوانین کے لشکروں کے ساتھ اسّی ہزار کی تعدار شمار کی گئی ،اور اسی کثرت کے غرور کے بَل سید رائے بریلی نے سردار بُدھ کے لشکر پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔سردار یار محمد کی بیس ہزار چاک و چو بند فوج اور توپ خانہ اس کے علاوہ تھا ۔سید بادشاہ ہنڈ سے نو شہرہ پہنچے ،تھوڑے سے توقف کے بعد شیدو کی جانب چل پڑے ۔جہاں سردار بُدھ سنگھ اپنے لشکر کے ساتھ پڑاﺅ ڈالے ہوئے تھا ۔شیدو کے میدان میں دونوں لشکر پہلی بار آمنے سامنے ہوئے ۔شیدو گاﺅں سے جنوب مغرب کی جانب سِکھی لشکرچاروں جانب سنگھرکے حصار میں خیمہ زن تھے۔سید بادشاہ کا لشکرخٹک کی پہاڑیوں سے متصل دریائے لنڈا تک ہلالی شکل میں جنگی ترتیب سے آ جما ۔سرداریار محمد اور اُس کے گھڑ سوار انتہائی مغرب میں تھے بائیں جانب متعین کیے فاصلے پریار محمد کے دونوں بھائی سُلطان محمد خان اور پیر محمدصف آرا تھے۔پیر محمد کے بائیں جانب سمہ کے خوانین فتح خان ،اشرف خان ،خادی خان اپنے اپنے سپاہ کے ساتھ صف آرا تھے اور اُن کے بائیں جانب سید بادشاہ کا لشکراور ساتھ ہی گودڑی شہزادہ کا لشکر مورچہ بند تھا ۔سنگھر سے نکلے اک سِکھی دستے نے دونوں لشکروں کے درمیانی پہاڑی نالے میں چار مورچے بنا لےے تھے اور سکھ لشکر کی توپیں اس طریقے سے نصب کی گئیں کہ پورا سید بادشاہ کالشکر اُن کی زد میں تھا ۔لڑائی کا آغاز مجاہدوں کے بے قابو و بے تاب دستوں نے کیا ۔سکھوں نے انہیں گولیوں پر رکھ لیا۔اور مجاہدین پر توپوں سے بمباری بھی کی مگر لُوٹ مار نے ان سے جان کاخوف چھین لیا ۔نالے کے چاروں سِکھی مورچوں پر گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی اور قلب سے گودڑی شہزاد اور اُس کے ساتھی مجاہدگولیوں کی بارش سے اپنے ساتھیوں کی گِرتی لاشوں اور اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سنگھر پھلانگ کر سِکھ لشکر گاہ میں جاگُھسے ۔قریب تھا کہ اس طوفانی جھڑپوں سے سردار محمد یار خان بُدھ سنگھ سے کیے معاہدے سے پھر کر لُوٹ مار کو روبروہوتے دیکھ کر شامل جنگ ہو جاتا۔ کہ ایک توپچی کا گولہ عین اُس کے قریب آگرا ،وہ تو بچ گیا،مگر اُس کے قریب ہی کھڑے کئی سواروں جو میدان جنگ کے اُتار چڑھاﺅ دیکھنے میں محوتھے ،اُن کے پرخچے اُڑ گئے ۔اور یار محمد اِسے بدھ سنگھ کا انتباہ سمجھتے اپنے فوجیوں کو نکل لینے کا نعرہ لگاتے بھاگ نکلا ۔مجاہدوں کے لشکر میں اُس کے بھاگتے ہی اک آوازہ اُس کی فراریت کا گونجا تو اُس کے دونوں بھائی جو خشک نالے میں اُتر کر دست بدستہ معرکے میں پھنسے ہوئے تھے ،وہ خبر سنتے ہی پیچھے نکل پڑے اور ساتھ ہی سمہ کے خوانین میں ابتری پھیل گئی ۔باقی ماندہ مقامی خوانین بھی شکست سمجھتے ہوئے اپنے لشکروں سمیت بھاگ نکلے اور ساتھ ہی سکھوں نے اپنا دباﺅ بڑھایا تو سید کے ساتھ آئے مجاہد بھی پسپا ہوگئے ۔اور واویلا ،فرنگی مورخوں نے رنجیت سنگھ کے مقابل یہ ہی تحریر کر وایا کہ مجاہدین سردار یار محمد خان کی بدولت جیتی ہوئی جنگ ہار گئے ۔شیدو کی جنگ کے فوراً بعد ڈمگلہ اور شنکیاری جیسی چھوٹی چھوٹی شب خون ماری گئی جھڑپوں کو بھی بہت اُچھالا گیا۔جس میں اچانک حملوں سے تقریباً دوسو سپاہ سکھ مارے گئے ۔!
اور پھر خونین کی علمداریاں مذہبی توضیحات کی بدولت پشاور سے امب تک سید بادشاہ کے زیرِ تسلط ہونے کے بموجب اُن کے دماغ میں اپنی فرقے کے قوانین ،جو دیگر فرقے کے ایمان کو شرک اور بدعت کے فارمولوں میں انتہا پرستی کی چکی میں پیستے مشرکین کو واجبِ قتل قرار دینے کا اک انتہائی شدید قہر کا ملغوبہ بنائے ہوئے اُن کے سروں پر ننگی تلواریں لےے کھڑے تھے ۔ اور بین ہی عبدالوہاب نجدی کے نقشے قدم پرچلتے تمام درس و تدریس سے جا بجا انتہا پسندوں کی ایک واضح جماعت بنانی شروع کردی اور اسی کے بل بوتے امامت اور امیری کا کج کلاہ نمایاںکرتے ،قوت اور تمام علمداریاں خوانینیں کی ہتھیا لیں ۔اور خوانین کے اندر اپنی بے ثباطی پر ایسی ہل چل اُٹھی کہ وہ سید بادشاہ کے سامنے سینہ سپر ہوگئے ۔جس میں اُن غیظ وغضب کے انگار ے برسا تے خوانین کی جنگی بے ترتیبی کی بدولت پے در پے تین معرکو ں میں شکست ہوئی اور پشاو ر بھی اُن کے قبضے میں آگیا ۔لیکن اس تسلط نے جس ریاست کی داغ بیل ڈالنے کی سعی کی ، وہی مذہبی تدبیر الٹی پڑ گئی ۔کہ معرکہ بالا کوٹ رونما ہوگیا ۔اور سارے خوانین سے کیے معاہدے ہواﺅں میں تحلیل ہوگئے اور عین وقت پر یوسف زئی اور درانی ان کا ساتھ چھوڑ گئے ۔لیکن اس کے باوجود سید بادشاہ کا ذہن اپنے ساتھ کی فوجی طاقت بدھ سنگھ سے ڈیڑھ پونے دو گُنا اب بھی زیادہ ہونے کی بدولت اور دوجے خوانین سے جھڑپوں میں فتح یابی کے غرور سے بپھرا ہوا،حد درجہ تیقن کہ اس فاتح نفری سے وہ سردار بُدھ سنگھ کی فوج کو مسل کر رکھ دیں گے ۔اور دوجے اُن کے اندر چُھپی ہوئی فرنگیوں سے زبانی قول و اقرار کی بندش سے نمو پائی درندگی ایسی کہ رنجیت سنگھ کے مضبوط فوجی بازو کو سید سے اُلجھے ہوئے دیکھتے ہی فرنگی دوجی جانب یعنی ستلج سے اُتر آئیں گے ۔مگر فرنگیوں کی چلتر بازی تھی کہ فتح یا شکست کسی کی بھی ہو،دونوں کی ہی قوت بُری طرح مجروح ہونے میں فائیدہ اُسی کا تھا۔بدھ سنگھ کی قوت کیا کم ہوتی ۔اُس کی منظم تربیت یافتہ فوج نے کُھلی جنگ میں سید بادشاہ کی تمام نفری کا تہس نہس کر ڈالا۔اور بچے کھچے مذہبی انتہا پرست کچھ ستھانہ کی جانب نکل گئے اور کچھ پنجتارکچھ کوائی،کچھ سوات ،بونیر، کچھ اسمست اور کچھ چمر کنڈ کے پہاڑی سلسلوں میں بکھر گئے ۔اس انتہا پسندی کے فرقے میں اک مُلّا عبدالغفور اخوند بھی تھا۔ جس کا نہ صرف سوات میںبلکہ پورے سرحدی قبائل میں بہت ہی نیچے تک احکامات کا وسیع جادو چلتا تھااور والی¿ سوات سید اکبر شاہ بھی جو جنگجو مزاج رکھتا تھا وہ بھی اس مُلّا کی مرضی کے خلاف کوئی قدم نہیں اُٹھا سکتا تھا ۔فرنگیوں نے جتنا فائیدہ ان مذہبی دیوانگی میں پھنسے ہوئے مجاہدین سے اُٹھانا تھا وہ تو اُٹھا چکی تھی اور اب وہ ان سرحدی قبائل میں اُن کی شدت پسندی کو برداشت نہیں کر سکتے تھے ۔ کل تک مجاہدین کی جماعت فرنگیوں کی حمایت سمیٹے ہوئے تھی ،لیکن رنجیت سنگھ کی علمداری پر فرنگیوں کا قبضہ ہوتے ہی اُن ہی کے خلاف ان کے پر نکل آئے ،اوکنلے کے بقول :
”مجاہدین کی باتوں میں اب انگریز کافر،اور اُن کے خلاف مسلسل نفرت کی آگ بڑکانے میں لگے ہوئے تھے ۔مولانا عنایت علی کی سربراہی میں مجاہد روزانہ پریڈاور ہتھیا استعمال کرنے اور جنگ لڑنے کی مشقیں کرتے اور جہاد کے متعلق نظمیں پڑھی جاتیں ،جمعے کی نماز کے بعد بہشت کی شادمانیوںکے بارے میں وعظ دیے جاتے ۔“
” مَیں اُن بے عزتیوں ، حملوں اور قتل و غارت کی تفصیلات میں جانا نہیں چاہتا جو۶۵۸۱ءمیں سرحدی جنگ کا باعث ہوئے ۔اس دوران میں ان مذہبی دیوانوں نے سرحدی قبائل کو انگریزی حکومت کے خلاف متواتر اُکسائے رکھا ۔ایک ہی بات سے حالات کا بڑی حد تک اندازہ ہوجائے گا ۔یعنی ۰۵۸۱ ءسے ۷۵۸۱ ءتک ہم علیحدہ علیحدہ سولہ فوجی مہمیں بھیجنے پر مجبور ہوئے جس سے باقاعدہ فوج کی تعداد۵۳ ہزار ہوگئی تھی ۔اور ۶۵۸۱ءسے ۰۶۸۱ءتک اُن فوجی مہموں کی گنتی بیس تک پہنچ گئی تھی اور باقاعدہ فوج کی مجموعی تعدادساٹھ ہزار تک ہوگئی تھی ،بے قاعدہ فوج اور پولیس اس کے علاوہ تھی “
یعنی ان انتہا پسندوں کے شرعی اصول صرف تلوار کی دھار سے ہم کلام ہونے کا شیوا اپنائے ہوئے تھے ۔ہر کس کہ ان کی متعین کر دہ راہ پرنہ چلے وہ کافر اور اُس سے جنگ لازم، اگر مارے گئے تو شہید جس کی جگہ جنت میں محفوظ،مگر بچ جائے تو غازی اور رستا خیزی میں اوراپنی جنت پانے کے لےے اور زیادہ کُفّار کا قتال کرے۔۔!
فرنگیوںنے اپنی طاقت میں مجموعی اضافے کی خاطرسرحدی صوبے میں جا بجا چھاونیاں بنا ڈالیں۔ اپنے مرا¿ت یافتہ خوانین سرداروں میں سے چناﺅ کرتے مختلف علاقائی ٹکڑوں کو ریاستی شکل دیتے اُن کو اپنی حکومت کے زِیرِ دست اک نیم خود مختار علمداری کا نواب یا بڑا خان بنا ڈالا ۔اور یہی اخوندسوات میں کیا گیا ۔مُلّا عبدالغفوراخوند ایک متشدد وہابی تھا ۔اور وہ اپنے پروگرام پکانے میں کِسی طرح بھی فرنگیوں سے پیچھے نہیں تھا۔وہ مجاہدین کے معرکوں میں ہار جیت پر کڑی نگاہ رکھتا ،اور انعام میں اپنے منصوبہ جاتی مذہبی تسلط کو اپنی ریاست میں قائم کرنا چاہتا تھا ۔اور جو ریاستوں کی علمداری ملتے ہی شروع ہوگئی اور سوات میں اُس کا چاک شدہ متشدد قانون نافظ ہوگیا ۔لیکن اس کے انسانیت کُش نتائج آنے والی نسل کو بھگتنے پڑے ۔فرنگیوں کا کیا گیا۔اس نے تو بس لالچ کا اک ایسا لاسہ لگایا تھاجو انتہائی وجود کے رگ و ریشے میں نسل در نسل رواں دواں ہوگیا ۔
فرنگیوں سے سیکھی سید بادشاہ کی ساری فریب کاری اور مکاری کی شطرنج چالیں،اُسی زمان میں عیاں ہوگئی تھیں ۔اگر ایک اسلامک سیٹیٹ کو وجود میں لانے کی ان متشدد وہابیوں کے دل میں آرزو تھی تو اس کام کے لےے پور ا افغانستان کُھلا پڑا تھا۔مگر مذہبی انتہا پسندی کی انتظامیہ میں کوئی سلوک کی صورت ہی نہیں ہوسکتی۔ وہ توسعودی ریگ زاروں کے مسافر تھے،جو زمین سے کالا سونا برآمد ہونے کے بعد قوانین کو اپنی نمائشی صورت میں انصاف سے پُر کرتے ،اپنی آمدنی سے ہر سعودی کا وظیفہ باندھے ہوئے تھے۔ جس کی بدولت ،اُن کی پہلے والی خونخوار چِیرپھاڑ کرتی ،لُوٹتی فطرت معدوم ہوگئی ۔ورنہ اس سے پیشتر قتال کرنے کی رسم کو اپنا عقیدہ مانتے اور لُوٹ کے مال کو مال غنیمت جانتے تھے،حتاکہ حج پر آتے حاجی بھی ان کی دریدہ دہنی سے کبھی نہ بچے ،وہ تو حاجیوں کی جیب الٹا کر الف ننگا ،انہیںبھوکے پیاسے، صحرا کی پیاس بجھانے،ریتلے مرغولوں میں اُتار کر ، دوڑلگوا دیتے تھے۔۔اور یہی شیوا صرف الفاظ کے ہیر پھیر سے یہاں کے مجاہدین اور طالبان کا ہے ۔ افغانستان میں وہ تصادم کے بغیرتبلیغی حربہ آزما تے ہوئے اپنے مقصد کو پہنچ سکتے تھے ۔اورسنٹرل ایشیا میں توسیع پسند زارِ روس کی وحشی و ظالمانہ کاروائیوںسے اپنے مسلمان بھائیوں کے بچانے کے لےے یہ ہی بفر اسٹیٹ محافظت اور پناہ گاہ کا کام کر جاتی۔مگر اُن کی قہار،درندہ صفت حریص آنکھیں تو کہیں اور ہی لگی رہتی تھیں ۔ہندوستان کی بات تو بہت بعد کی ہے ۔اور وہاں فرنگی سے دوستی کی بجائے تصادم کا در کھول بیٹھتے ۔مگر وہ رنجیت سنگھ کو فنا کرنے یا کمزور کرنے کے لےے آزاد قبائلی علاقے میں فرنگی کی پوری مدد کے ساتھ جاپہنچے ۔جب کہ اس سکھا شاہی حکومت پر انگریز چڑھائی کرنے اور دو بدو ہونے سے ہچکچاتا رہا ۔ حقائق سے اجتناب کرنے والے تو ان کے حق میں یہ بھی کہتے ہیں اگر خوانین آزاد قبائل سید باشاہ سے انحراف نہ کرتے اور بادشاہ سید پر چھوٹے چھوٹے خوانین کے ساتھ ٹکراﺅ کی فتح کاہوائی کُلاہ سر پر کسا گیا نہ ہوتا اور رنجیت سنگھ پر فتح پانے کی جلد بازی میںان کے لشکر کوبدھ سنگھ کی فوج معرکہ¿ بالا کوٹ میں تہس نہس نہ کرگئی ہوتی تو شایدفرنگی دریائے سندھ کے پار کے علاقے میں مجاہدین کے مقبوضہ کے سامنے گُھٹنے ٹیک چُکے ہوتے ۔مگر جنگی معرکوں میں تدبر کی اہمیت اولین حیثیت ہے ۔مگر اُسی تدبر میں یہ بات گھول کر پِلائی جاتی ہے کہ آپ کس کی طرف ہیں ظاہری طور پر ،اور کس کی طرف تشریف کا ٹوکرا جمائے ہوئے ،انتہائی اتھاہ میں سازشی انگلی کس کی ہے اور کِس کَس بل پر تھامی ۔ اس ساری تشریح کے باوجود آپ کی آنکھوں پر مذہبی پٹی بندھی ہوئی ہے اور وہ بھی انتہا پسندی کی تو ہم اس جھوٹ گٹھڑکے بندنہیں کھولتے اور مان لیتے ہیں کہ غلطیاں ہوئیں اور اس میں بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ سید رائے بریلی نے ہندوستان سے سرحدِ آزاد میں پہنچ کر دعوت و تبلیغ کے کام کِیے اور تحریک کے مقاصد مقامی لوگوں کے دل و دماغ میں بٹھائے بغیر محض اس مفروضے پر سکھوں سے جنگ چھیڑ دی کہ اس علاقے کے پختون لوگ مسلمان ہیں اور سکھوں کے ہاتھوں زخم خوردہ ، اس مہم میں لازماً ان کا ساتھ دیں گے کہ یہ جنگ برصغیر کے مسلمانوں کی نہیں خود اُن کی اپنی جنگ تھی ۔تیز و تند حالات سے نبٹنے کے جذبے نے یہ حقیقت اُن کی نگاہوں سے اوجھل کردی کہ محض جذباتی عقیدت بے بنیاد ہوتی ہے اور جذباتی رشتے جذبات کی بڑھتی گھٹتی لہروں کے ساتھ ساتھ متاثر ہوتے رہتے ہیں ۔جذبات اور صرف جذبات کے سہارے کوئی ٹھوس اور پائدار کام سر انجام نہیں دیا جا سکتا اور نہ نِرے جذباتی انسان کسی موقف پر اس طرح جمے رہ سکتے ہیں کہ حالات کی آندھیاں اور طوفان چاہے کتنی ہی شدید اُٹھیں وہ اپنی جگہ سے ہلنے نہیں پاتے ۔جذبات بلا شبہ کسی تحریک اور دعوت کی کامیابی میں اہم کر دار ادا کرتے ہیں لیکن اُس کی اصل قوّت محض جذبات کے مدوجذر پر چلنے والے لوگ نہیںہوتے بلکہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس تحریک اور دعوت کو حق سمجھ کر شعوری طور پر قبول کرتے ہیں اوراس کے اصول و نظریات اور مقاصد اور اُن کی زندگیوں میں روح کی طرح رچ بس جاتے ہیں اور اس کے نصب العین کو پوری طرح سمجھ کر اپنی زندگی کا نصب العین قرار دیتے ہیں۔
معرکہ¿ بالا کوٹ فرنگی کے لےے انتہائی تحیر خیز اور جنگی چالوں کا محفوظ درس تھا ۔شمال سے جنوب تک کا پہاڑی سلسلہ دریائے کنہار کی بدولت اب بھی دوپھاڑ ہے اور زمانِ تندی میں دریا دائیں بائیں رگڑ کھاتے پہاڑی مٹی ریت اور سنگلاخ سنگ ریزوں کو ساتھ لےے جنوب کی پہاڑی سدّکو چیرتا ہوا وادی¿ کاغان سے نئی وادی میں داخل ہوتا ہے جہاں پہاڑی نشیب وفراز کے پھیلاﺅ پربالا کوٹ کی آبادی ہے ۔مٹی گاﺅں کے دامن میں اونچی نیچی پہاڑی کھیتیاں ہیں جو مٹی کوٹ نالے سے ست بنے نالے سے بھی آگے تک پھیل جاتی ہیں۔اسی پہاڑی نشیب و فراز میں مجاہدوں کے لشکر نے ہلالی شکل میں صف بندی کی کہ اس پہاڑی نشیب وفراز میں مخصوص پہاڑی تربیت جو سکھوں میں اورنگ زیب کے وقت سے پرویش کر گئی تھی ۔اسی کی بدولت اُن کے ہلالی قدامت کو بدھ سنگھ کی میمنا اور میسرا بازوں سے دوبدو ہونے ،اور سکھی توپ خانے کی گولہ باری اور گولیوں کی گھن گرج اور جا بجا دست بدست تصادم کے سورج کے ڈھلتی ہوئی دھوپ میں اُن کے مقتولوں کی زیادتی کے سبب سید کے لشکر میں پسپائی کے آثار نمایاں ہونے لگے۔مگر محفوظ دستوں سے کمک پہنچ گئی ۔اور تھکے ہوئے اور زخمیوں کو ایک طرف ہٹاتے اُن کی جگہ لیتے سکھی فوج کے روبرو ہوگئے ۔ اور تصادم کے شروع ہوتے ہی قلب بھی اس گھمسان جنگ میں بے خوف و خطر ٹوٹ پڑا ۔مجاہدوں اورسکھ فوج کی توپوں کی گرج سے زیریں محلے سے بالا پہاڑیاں مٹی ریت اور دھویں سے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں چُھپ گئیں اور رایفلوں سے چلتی گولیوں ، تلواروں ،برچھیوں سے بالا کوٹ کی زمین بھر گئی ۔دونوں جانب سے لشکری انتہائی سرفروشی اور جاں نثاری سے لڑے کہ سورج غروب ہوتے ہی جنگ نے دونوں فوجوں کے درمیان ایک سیاہی کا پردہ حائل کر ڈالا ۔اوردوجا روز بھی اسی سرشاری سے غروب آفتاب تک چلا مگر ایک بڑی تعداد مجاہدوں کی رات کی سیاہی میں نکل بھاگی تیجے روزسے ابھی سورج نصف النھار پر بھی نہیں پہنچا تھا کہ سیدبادشاہ اور دیگرمقابرین کے ختم ہوتے بچے کھچے مجاہد اپنی جانیں بچاتے مختلف علاقوں میں فرار ہوگئے ۔اور ستھانہ ،سوات بنیر کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں ان گنت غاربیشتر کی پناہ گاہ بن گئے اور بیشترکے لےے تیراہ کی وادی اُن کی رہائش گاہ بنی ۔اور سید بادشاہ کے بعد قیادت مولانا ولایت علی کے ہاتھ آئی اور پھر۔۔؟
اُس کے بعد مولاناعنایت کی امیر ی پر بیت ہوئی ،مولانا منگل تھانہ سے ستھانہ اکٹھے ہوئے ۔اور ۳ دسمبر ۲۵۸۱ءمیں علاقہ¿ امب میں شب خون مارا اور عشرہ اورکوٹلہ پر قبضہ کر لیا لیکن نواب کے حلیف نواب کی مدد کو آپہنچے اور زبر دست جنگ کے بعد مجاہدین کو عشرہ اور کوٹلہ لُوٹ کے مال سمیت خالی کرنے پڑے مگر جنگ میں مجاہدوںکا انفرادی نقصان بہت زیادہ ہونے کی بدولت پھر فرار ہوگئے ۔اُس میں سے کافی لوگ ستھانہ سوات اور بُنیر کی نشیب و فراز کی دشوار گذار پہاڑی پناہ گاہوں میں جاچھپے۔ اور وہ قندھاری دُرانی، پدرِ بزرگ کا لاڈلا پوتا ،معرکہ¿ بالا کوٹ کے بعد مجاہدین کی کسی پناہ گاہ کی طرف نہیں لپکا۔وہ تو قندھار کے نواحی گاﺅں کی جانب پلٹ گیا ۔
لیکن سوات میں اخند مُلّا کی مرضی کے بغیر کوئی قدم نہیں اُٹھاسکتے تھے جو وہابی العقدہ ہونے کے ساتھ ساتھ انتہا درجے کا متشدد بھی تھا اور انگریزوں کے بنائے قوانین کو اپنی مذہبی انتہا پسندی کے لےے لازمی جُز قرار دیتا۔ پہلے تو درگذر کی پالیسی اُس کی جانب بڑھائی اور پھر اُسے اُس علمداری میں اپنا بنایا ہوا نظام لگانے کی اجازت دیے دی لیکن وہ اپنے دائرہ اثر و رسوخ میں مکمل آزاد قرار دیے جانے کی بدولت وہ معتدل وصلح پسند مجاہدین کے مقابل آکھڑا ہوا اور اسی صورتِ تصادم میں فرنگی کی بھلائی تھی مگر اس کا اثر اُس وقت تک رہا جب تک مالی معاونت چلتی رہی اور جو فرنگی صاحب بہادرکی منڈی خرید و فروخت کی چادر تلے پنہاں انگلیوں کی حرکتِ لسان نے اُسے فرمانِ الامر بنادیا گیا ۔مگر جب مفادات ختم ہوئے تو مال بھی بند تو متشددانتہا پسند پھر سے بپھر پڑے۔مگر اب ابتلائی ظلم ٹوٹا مظلوم آبادیوں پر۔ فرنگی سے دوبدو ہونے کی صورت تو لُکن میٹی میں کھیلتی ،دوچار کا اپنوں میں سے خون دیتے اور دوچار فرنگیوں کا خون پیتے،فرار کی راہ سے دشوار گزار پہاڑوں میں جا چُھپتے ۔ اورپھر اس کے بعدکے ادوارمیںیہی عمل، تیغ کی زُبان فتووں کے سلاسل میں جکڑتی اور اُسی کی دھار ن سہتی آبادیوں کی گردنوں پر پھرتی رہی ۔حاکمیت تو پھر بھی فرنگی کی ہی رہی۔جو سجدے کی محراب میں انگریز کے روبرو دوزانوں ہوا۔اُسے اپنے مطالیب کی مساجد بنانے اور خطبے دینے اور چندے اکٹھے کرنے کی مکمل آزادی ،مگر اُس ممبر سے کبھی بھی فرنگی کے خلاف بغاوت پر نہیں اُکسایا گیا ۔۔!
کیا عجب تھے ناصیہ سائی کے محرم ۔!کِس انتہا پسندی کے بِرتے پر شرفِ وقار کو اپنایا ،کہ جس میں دوسرے کا احترام ملیا میٹ کرتے ،اپنے آپ کو حق پر موجزن قرار دیتے ایسے بے رحم طریقے اپنائے ۔اِسی طور پر اپنا قہر منوانے فرنگی کی قانونی حیثیت کو سلام کرتے،فرنگی کی ہی مفتوح دِلّی میںایک روز میںدس ہزار کامُسلح اجتماع اکھٹا ہو گیا تھا ۔!کچھ وقت تو ضرور لگا ہوگا ۔ان کی ضروریاتِ زندگی کے لوازمات بھی ضرور لائے گئے ہوں گے ۔مگر ان کی سمجھ بوجھ میں یہ بات آج تک نہیں آئی کہ فرنگی نے اتنی بڑی تعداد کیسے برداشت کی ۔اگر وہ فرنگیوں کے پروردہ نہیں تھے تو نکلے کیسے دِلّی چاندنی چوک کی مسجد سے مسلح دس ہزار سپاہ کے ساتھ ،اورپھرجا نکلے قندھار باراستہ ملتان وچمن کہ تمام تر زمین مقبوضہ تھی فرنگی کی ،جس کی شفقت کافلک الآفلاک اُن کے سر پر تنا ہوا اور ہر نوع محبت بشمولِ دامِ درمے شاملِ حال تھی ۔یعنی اُن کے خون میں رچی مرا¿ت یافتگی کی اُتاری گئی خالص مکھن دودھ اور گھی کی چکناہٹ میں پلی چاپلُوسی نے غیریت کی ہر رمق کو مِٹاڈالا تھا ۔اور۔۔؟
اور اُن کی نظر میں وہ توسیع پسند ظالم نہیںتھا کہ جس نے ،بنگال و بہار لوٹا ،پورا یوپی روند ڈالتے ہی اپنی امارت اور عملداری کی دہشت پھیلاتا فوجوں کی چھاونیاںنیٹو کی لاشوں پر استوار کر ڈالیں۔اور فرنگی سوداگروں نے ان ہی مقامات سے سونے چاندی کے انبار اپنی لوٹ کھسوٹ سے اپنے خزانوں کو پُر کر ڈالا۔ظالم فرنگی نہیں بلکہ ظالم تھا رنجیت سنگھ ۔؟کیا عجب فیصلہ ہے مذہبی دھار سے گردن کاٹنے کا ۔!جس نے چالیس سال امن قائم رکھا ۔ اور لوٹ مار کرتے خوانین کو خراج کی راسیں ڈال دیں تھیں۔جس کی انگریز مورخین اور مقابرین فوج اور ویسرائے تک معترف رہے ۔لیکن سازشی سیندھ لگانے سے وہ خودکبھی بھی موقعہ محل کو اپنے چَلِتّر فریب کوٹالے نہیں ٹلے۔اور مجاہدین کا منفجر کرتا بارود گھر اُن ہی کے اشارے پر بنتا چلا گیا ۔جو اپنی لُوٹ اور خونخواری کا پیٹ بھرنے کے لےے اب تک دوجے فرقوں کی معتقدین سے بھری عبادت گاہوں ،عمارتوں او ر لوگوں کے اجتماع کو چُھپتے چُھپاتے ،بھیس بدلے ،منفجر کرتا پھرتا موجود ہے ۔ اور فرنگی تو اپنے خوف کو چھپانے اور اپنی حفاظت کے لےے مقامی جوانوں کی وافر تعداد سے جا بجا چھاونیاں بناتے ،اُس کے پڑاﺅ کو مضبوط کرتے،بھرتے چلے گئے ۔جن کی شاہ رگ ناردرن کمانڈ چھاونی میں کمک کے سرے پر جمی حفاظتی تمغہ سجائے بیٹھی تھی ۔۔