June 28, 2013

TWENTIETH-CENTURY URDU LITERATURE

Published in Handbook of Twentieth-Century Literature of India,
ed. by Nalini Natarajan, Greenwood Press, Westport, CT, 1996.
TWENTIETH-CENTURY URDU LITERATURE 1

Omar Qureshi

This introductory summary, of the course of Urdu literature in the twentieth
century must continuously refer back to the nineteenth. This becomes necessary
because, depending on one’s point of view, it was Urdu’s destiny or misfortune to
gradually become identified as the lingua franca of the Muslims of India in the latter half
of the last century. Consequently, the still unresolved dilemmas of the politics of
Muslim identity in South Asia are difficult to separate from their expression in and
through the development of Urdu.
For our purposes then, the most significant consequence of the failed rebellion of
1857 was the gradual emergence of group identity among the recently politically
dispossessed and culturally disoriented Muslim elite of North India. This effort to
define Indian Muslim nationhood in the new colonial environment placed issues of
past, present and future identity at the center of elite Muslim concerns. Not only were
these concerns expressed largely in Urdu, but the literary legacy of Urdu formed the
terrain through and on which some of the more significant debates were conducted.
The Muslim leadership that emerged after 1857 looked to this pre-colonial literary
legacy as an authentic, but highly problematic repository of the Indian Muslim identity;
and the Urdu language itself as the most effective medium for the renewal and reform
of the Muslims of British India. As Muslim identity politics gathered strength in
colonial India, and Urdu was turned into the print language of the emerging nation,
discussions of an apparently purely literary nature became a veritable mirror of
ideological and sociopolitical change among India’s Muslims. For example, calls for the
reform of pre-colonial Urdu poetics mirrored analogous reform initiatives in the
religious, social, and political spheres. This relationship has continued, in different
ways, since the division of British India into India and Pakistan in 1947. It is this
ongoing dialogue between the reform of Urdu and issues of Muslim identity that I will
attempt to highlight here as the major literary trends, works and writers in Urdu in the
twentieth century are surveyed.

ٹوبہ ٹیک سنگھ

June 22, 2013

ستارہ یا بادبان (حسن عسکری)۔

اگر نظری اور عملی تنقید میں حسن عسکری کو حالی کے بعد اردو کا سب سے بڑا اہم نقاد کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ تنقید میں ان کی رائے سے اختلافات چاہے جتنے بھی ہوں لیکن وہ تنقیدی شعور اور تنقیدی بصیرت کی جن بلندیوں کو پہنچے وہ کم ناقدین کو نصیب ہے۔ اردو میں تجزیاتی تنقید ان کی بدولت آئی ورنہ تنقید کا عام طور پر طریقہ کار یہ رہا ہے کہ ہر ادیب و شاعر کی پانچ دس خصوصیات کو چن کر ان کا مقام متعین کیا جائے۔ ترقی پسند ناقدین نے سب سے پہلے اس روش سے انحراف کیا۔ ترقی پسند تحریک کے ابتدائی زمانے میں میراجی نے مشرق و مغر ب کے مختلف شعراءپر تنقیدی مضامین کا سلسلہ شروع کیا۔ اس سے اردو ادب میں نفسیاتی تنقید کی بنیاد پڑ ی ایک معاصر کی حیثیت سے عسکری بھی نفسیاتی تنقید سے متاثر ہوئے اور اس طرح اردو ادب کے قائدین کو عالمی ادب سے روشناس کرانے میں میراجی اور حسن عسکری کا حصہ سب سے زیادہ ہے بلکہ کیفیت و کمیت کے لحاظ سے عسکری ، میراجی پر بھاری ہیں۔
موضوعات کی رنگارنگی ، مطالعے کی وسعت اور گہرائی ، پاکستانی ادب کا نعرہ ، فوٹو گرافی سے لگائو، اسلامی ادب کی تحریک اور میر سے فراق تک پہنچا ہوا عشق حسن عسکری کو جاننے کے لئے افکار ہی کی یہ دولت کافی نہیں۔ بلکہ ناقدین میں ممتاز ، شیریں ، جمیل جالبی ، سلیم احمد، انتظار حسین اور مظفر علی سید تک عسکری سے متاثر ہیں۔ ان کے نظریات اور اسلوب میں چونکا دینے والی کیفیت ملتی ہے۔

 عسکری اپنی ذات میں انجمن تھے اور ایک ایسا ادارہ جس کے تمام شعبے بیک وقت اور مستقل طور پر کارکردگی کے اعلیٰ ترین نقطے پر ہوں وہ نابغہ روزگار تھے اور ان کا ذہن مزاج ، ادراک، وجدان، فہم غرض مکمل شخصیت ایسے خمیر سے تشکیل دی گئی تھی جو خالقِ حقیقی بہت کم فنکاروں کو ودیعت کرتا ہے۔
 عسکری نے اپنی عملی زندگی کاآغاز ایک معلم کی حیثیت سے کیا آپ انگریزی ادب کے طالب علم اورپھر اُستاد رہے انگلو عربک کالج دہلی ، اور اسلامیہ کالج لاہور ، اسلامیہ کالج کراچی میں تدریس کے فرائض سرانجام دیے۔ فرانسیسی زبان و ادب پر عبور تھا۔ عسکری کے بعض مضامین کے ترجمے فرانسیسی اور انگریزی زبان میں شائع ہوئے ان کو فرانسیسی اور انگریزی ادیبوں نے اس حد تک قابل ِ تو سمجھا کہ ادبی رسائل میں ان پر مباحث کا آغاز ہو گیا۔ وہ ایک ایسے استاد تھے کہ جس طالب علم نے اس کا ایک لیکچر بھی سنا وہ ان کی شاگردی پرفخر کرتا تھا عسکری، میر ، فراق ، حالی ، جرات ، جیمز جوائس، ایذرا پائونڈ، ایلیٹ اور فرائڈ سے متاثر تھے۔ اور عمر کے آخری حصے میں مولانا اشرف علی تھانوی کے  عقیدت مند ہو گئے تھے۔
 عسکری نے ہمیں بہت سے مغربی ناموں سے آشنا کرایا اور اس کانتیجہ ہے کہ آج مغربی مفکرین ذہنی رفیقوں کی طرح ہمارے ساتھ چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ حالی سے لے کر کلیم الدین احمد تک اس معاملے میں حسن عسکری کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ انھوں نے مغربی ادب اور ادیبوں سے اس طرح آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرباتیں کیں کہ وہ بالکل برابری کی سطح پر ان سے ہمکلام نظر آتے ہیں۔ حسن کے تنقیدی مجموعوں میں ”انسان اور آدمی“، ”ستارہ یا بادبان“ ”جھلکیاں “ ”وقت کی راگنی“اور اس کے علاوہ ”جدیدیت یا مغربی گمراہوں کی تاریخ“ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تخلیقی حیثیت سے افسانوں کے دو مجموعے شامل ہیں۔ موضوعات کی رنگا رنگی تو ہر کتاب میں موجود ہے لیکن ”ستارہ یا بادبان“ تنقیدی حیثیت سے اہمیت کی حامل ہے۔ اس کا نام فرانسیسی شاعر کے نظم سے نکالا گیا ہے۔ اور اس کتاب کے ذریعے عسکری نے مصوری پر بھی بات کی ہے۔ انھیں شاعری مصوری اور موسیقی پر دسترس حاصل ہے اور انھیں پورے فنون ِ لطیفہ سے دلچسپی تھی۔ ”وقت کی راگنی“ کے ذریعے موسیقی پر دسترس کا لوہا منوایا اور ان کے پہلے افسانے سے لےکر آخری مضمون تک ہر تحریر میں ایک اخلاقی سماجی اور روحانی صداقت موجود ہے۔
تنقیدی آرا:۔
 ”ستارہ یا بادبان“ کے تنقیدی مضامین کا جائزہ لیاجائے تو عسکری ایک سچے نقاد کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں وہ کسی قسم کا تعصب نہیں رکھتے سچی بات بے دھڑک کہتے ہیں شائد اس لئے وہ ہمیشہ متنازعہ نقادرہے ۔وہ کسی شاعر یا ادیب کا جائزہ مروجہ اصولوں کے تحت نہیں کرتے بلکہ وہ بت شکن ہیں ان کے نزدیک جب تک چیزوں کے بارے میں ہمارا طرز ِ احساس نہیں بدلے گا اُس وقت تک نئی صداقتیں سامنے نہیں آ سکتیں ۔ ادبی جمود کی وجوہات بیان کرتے ہوئے ناقدین کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں کہ ناقدین تخلیق کاروں کو اس گمراہی میں مبتلا کر رہے ہیں کہ ہمارا ادب خوب ترقی کر رہا ہے۔ ہمارے شاعروں نے مغربی ادب کی طرح پھولوں او ر چڑیوں پر جو کچھ لکھاوہ بالکل غلط ہے۔ مغربی ادب اپنی تہذیبی روایات اور ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ بالکل اسی طرح اردو ادب کو بھی مشرقی روایات تہذیب اور ضروریات کو مدنظررکھنا چاہیے۔
 حسن عسکری کا خیا ل ہے کہ ناقدین لکھنے والوں کی بے جا تعریفیں کرتے ہیں اور فنکار یہ سمجھتا ہے کہ وہ صحیح سمت سفر کر رہا ہے۔ اور اس کی تخلیقی کاوشیں اپنے عہد روایات اور تہذیب کی ذمہ داری پوری کر رہی ہے۔ ادبی جمود کی ایک اور وجہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے ادیبوں میں اتفاق نہیں ان میں لکھنے کی صلاحیت تو ہے مگر ہم سفری کااحساس نہیں بڑا سے بڑا شاعر بھی محض اپنے بل بوتے پر کسی زبان کو نئی زندگی نہیں دے سکتا جب تک لاشعوری طور پر اُسے دوسروں کی رفاقت حاصل نہ ہو حسن عسکری کو دلچسپ اور جاذب جملے لکھنے میں مہارت تھی اور وہ اس بات سے خوب آگاہ ہیں کہ ادب کوئی من و سلویٰ نہیں جو آسمان سے زمین پر آتا ہے بلکہ ہمارے جذبات و احساسات کا نمائندہ ہوتا ہے اور یوں ادب پر صدیوں کے ان گنت تجربات ہوتے ہیں اچھا لکھنے کے لئے اچھا پڑھنا اور دوسرے ادیبوں کی رفاقت کا احساس بھی ضروری ہے۔

ممتاز شیریں: شخصیت اور فن (خطوط کے آئینے میں)

 ڈاکٹر تنظیم الفردوس

Abstract
Mumtz Sherin is an outstanding critic of Urdu literature. Her each and every line is effective and valuable. She has written critical articles and short stories which are read with grate eager and interest. Author of this article discovers her personality and Art in her letters written to her friends and literary persons. This study highlights Sherin’s spontaneous creativity and natural style of prose.
          

اُردو ادب میں ممتاز شیرین چند نہایت عالمانہ بصیرت کی حامل مصنفوں میں شمار کی جاتی ہیں۔ وہ اُردو کے تین بہترین افسانہ نگاروں میں بے شک شامل نہ کی جائیں لیکن اس فن میں ان کی ہنرمندی، ادبی شعور، تخلیقی حساسیات اور ذہانت نے شامل ہوکر اُردو افسانے اور اس کی تنقید کو بہت کچھ دیا ہے۔ فنِ تنقید کے عمومی موضوعات کے حوالے سے بھی شیرین نے ستھرا اور اعلٰی درجے کا کام کیا اور عملی تنقید کے بہترین نمونے بھی فراہم کیے۔ ایک صحافی اور اپنے وقت کے اہم ادبی رسالے کی مدیرہ و منتظمہ کی حیثیت سے بھی انہوں نے نمایاں شناخت حاصل کی۔ اسی حیثیت میں انھوں نے عالمی افسانوی ادب کے تراجم کا سلسلہ بھی شروع کیا جو ان کی ادبی تنوع پسندی کی ایک انفرادی جہت ہے۔

اسی طرح مشاہیر، ہمعصر ادیبوں اور دوستوں کے نام اُن کے خطوط نہ صرف ان کی شخصیت کے مختلف النوع پہلووں کو اُجاگر کرتے ہیں بلکہ اپنے عصر کے حالات، ادبی تاریخ، رُجحانات، مسائل اور سرگرمیوں کا احاطہ بھی بڑی خوبی سے کرتے ہیں۔ اِن خطوط سے ممتاز شیریں کی زندگی کے اُن گوشوں کی نقاب کشائی بھی ہوتی ہے جن کی مدد سے ان کی رواداری اور متواضع شخصیت کا علم ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ان کے جتنے خط منظرِ عام پر آنے چاہئے تھے وہ نہ آسکے جب کہ وہ برسوں ایک اہم رسالے کی ادارت کرتی رہیں۔ محض اس ایک ذمہ داری کی وجہ سے اپنے عہد کے بے شمار مشاہیرکو انھوں نے خطوط تحریر کیے ہوں گے۔ اگر وہ تمام خط سامنے آسکیں تو یقیناً ادبی دُنیا کو اُن کے افکار و تصورات کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوسکیں گی۔

ہر لکھنے والے کے لیے خط تحریر کرتے ہوئے نہ کوئی محّرک ضرور ہوتا ہے اور اسی محّرک کی بنا پر مکتوب نگار اپنی حد تک مکتوب نویسی کا کوئی نہ کوئی ضابط متعین کر لیتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ مکتوب نگار کی آواز سو فیصد ذاتی ہوتی ہے۔ حالاں کہ اپنی عملی زندگی میں وہی مکتوب نگار اپنی ایک منفرد سماجی آواز بھی رکھتا ہے اور اس کی ادبی تخلیقات میں بھی اس کی ایک علیحدہ آواز گونجتی ہے۔ لیکن خطوط میں مکتوب نگار کی آواز ایک ایسے انسان کی آواز "ایک ایسے انسان دوست کی ہوتی ہے جو عظیم فنکار ہوتے ہوئے بھی ایک عام انسان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ جو خلوت کدے میں اپنے چہرے اور تہہ دار تہہ شخصیت سے تمام پردے ہٹا دیتا ہے۔"۱

بے شک ایک اچھے خط کو ایسا ہی ہونا چاہیے لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب مکاتیب کی تحریر کے وقت اس کی اشاعت کا کوئی منصوبہ ذہن میں نہ ہو۔ ہمارے مشہور مکتوب نگاروں کے مجموعہ مکاتیب کے حوالے سے یہ دونوں صورتیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ کسی بھی صورت میں اگر اسلوب میں روانی، بیان میں پختگی اور ہمعصر رجحانات پر گہری نظر مکاتیب کا خاصہ ہو تو ان کی ادبی حیثیت مسلمہ ہے۔

ممتا ز شیریں

ابن سلطان 

احبا ب ہی نہیں تو کیا زندگی حفیظ 
دنیا چلی گئی مری دنیا لیے ہوئے 

ممتا ز شیریں نے فن افسانہ نگاری ،ترجمہ نگاری اور تنقید کے شعبوں میں جو گراں قدر خدمات انجام دیں ان کا ایک عالم معترف ہے ۔ان کی تخلیقی اور تنقیدی کامرانیوں سے اردو ادب کی ثروت میں بے پناہ اضافہ ہوا ۔سچ تو یہ ہے کہ ندرت تخیل ،اسلوب کی انفرادیت ،فکر پرور اور بصیرت افروز تجزیاتی مطالعہ کو جس فن کارانہ مہارت سے انھوں نے اپنی تحریروں کو مزین کیا وہ انھیں ایک ممتاز مقام عطا کرتا ہے ۔ایک بلند پایہ نقاد کی حیثیت سے انھوں نے مقدور بھر کوشش کی کہ افکار تازہ کی اساس پر جہان تازہ کا قصر عالی شان تعمیر کیا جائے ۔وہ ایک وسیع القلب اور فراخ دل تخلیق کار اور زیرک نقاد تھیں ۔ادبی تخلیقات کے محاسن اور معائب پر ان کی گہری نظر رہتی تھی ۔گلشن ادب کو خون دل سے نکھارنے کے سلسلے میں ان کی مساعی کا عدم اعتراف احسان فراموشی کے مترادف ہے ۔انھوں نے اپنے اسلوب میں عصری آگہی کو پروان چڑھانے کے لیے سخت محنت کی ۔معاشرتی اور سماجی زندگی میں انھوں نے اس امر پر زور دیا کہ ایک تخلیق کار کو ایسی طرز فغاں اپنانی چاہیے جو علم و عمل کو مقاصد کی رفعت کے اعتبار سے ہمدوش ثریا کردے ۔ان کی تحریریں اس عالم آب و گل کے جملہ مظاہر اور معاملات کے بارے میں زندگی کی حقیقی معنویت کو سامنے لاتی ہیں ۔معاشرتی زندگی ہو یا کائنات کے غیر مختتم مسائل سب کے بارے میں ممتاز شیریں کا انداز فکر ہمہ گیر نوعیت کا رہا ۔اپنے محاکمے سے وہ اچھائی اور برائی میں موجود حد فاصل کے بارے میں قاری کو مثبت شعور و آگہی سے متمتع کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں ۔زندگی کی آفاقی اور حیات آفریں اقدار کے تحفظ ،ارتقا اور بقا کو وہ دل و جاں سے عزیز رکھتی تھیں ۔اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ان کی خدمات تاریخ ادب کا ایک اہم واقعہ ہیں ۔

ممتاز شیریں کے والد کا نام قاضی عبدالغفور تھا ۔وہ اپنے عہد کے ممتاز عالم تھے ۔عربی اور فارسی زبان پر انھیں دسترس حاصل تھی ۔ممتاز شیریں 12۔ستمبر 1924کو اپنے آبائی وطن بنگلور میں پیدا ہوئیں۔ان کے نانا ٹیپو قاسم خان نے اپنی اس نواسی کو تعلیم و تربیت کی خاطر اپنے پاس میسور بلا لیا ۔اس طرح وہ بچپن ہی میں اپنے ننھیال میں رہنے لگیں ۔ممتاز شیریں کے نانا اور نانی نے اپنی اس ہو نہار نواسی کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی ۔وہ خود بھی تعلیم یافتہ تھے اور گھر میں علمی و ادبی ماحول بھی میسر تھا ۔ممتاز شیریں ایک فطین طالبہ تھیں انھوں نے تیرہ(13)برس کی عمر میں میٹرک کا امتحان درجہ اول میں امتیازی حیثیت سے پاس کیا ۔ان کے اساتذہ ان کی قابلیت اور خداداد صلاحیتوں کے معترف تھے ۔1941میں ممتاز شیریں نے مہارانی کالج بنگلور سے بی۔اے کا امتحان پاس کیا ۔1942 میں ممتاز شیریں کی شادی صمد شاہین سے ہو گئی۔ ممتاز شیریں نے 1944میں اپنے شوہر صمد شاہین سے مل کر بنگلور سے ایک ادبی مجلے 148نیا دور 147 کی اشاعت کا آغاز کیا۔اس رجحان ساز ادبی مجلے نے جمود کا خاتمہ کیا اور مسائل ادب اور تخلیقی محرکات کے بارے میں چشم کشا صداقتیں سامنے لانے کی سعی کی گئی ۔صمد شاہین پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے ۔انھوں نے وکالت کے بعد ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد وہ حکومت پاکستان میں سرکاری ملازم ہو گئے ۔وہ ترقی کے مدارج طے کرتے ہوئے حکومت پاکستان کے بیورو آف ریفرنس اینڈ ریسرچ میں جوا ئنٹ ڈائریکٹر کے منصب پر فائز ہوئے ۔ ممتاز شیریں نے زمانہ طالب علمی ہی سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ۔ان کی سنجیدگی ،فہم و فراست ،تدبر و بصیرت اور وسیع مطالعہ نے انھیں سب کی منظور نظر بنا دیا ۔ہر جماعت میں وہ اول آتیں اور ہر مضمون میں امتحان میں وہ سر فہرست رہتیں ۔قیام پاکستان کے بعد ممتاز شیریں کا خاندان ہجرت کر کے کراچی پہنچا ۔کراچی آنے کے بعد ممتاز شیریں نے اپنے ادبی مجلے 148نیا دور 147 کی اشاعت پر توجہ دی اور کراچی سے اس کی باقاعدہ اشاعت کاآغاز ہو گیا لیکن 1952 میں ممتاز شیریں اپنے شوہر کے ہمراہ بیرون ملک چلی گئیں اور یوں یہ مجلہ اس طرح بند ہو ا کہ پھر کبھی اس کی اشاعت کی نوبت نہ آئی ۔ادبی مجلہ 148 نیادور 147ممتاز شیریں کی تنقیدی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔ پاکستان آنے کے بعد ممتاز شیریں نے جامعہ کراچی میں داخلہ لیا اور انگریزی ادبیات میں ایم ۔اے کی ڈگری حاصل کی ۔جامعہ کراچی سے ایم۔اے انگلش کرنے کے بعد ممتاز شیریں برطانیہ چلی گئیں اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں جدید انگریزی تنقید میں اختصاصی مہارت فراہم کرنے والی تدریسی کلاسز میں داخلہ لیا اور انگریزی ادب کے نابغہ روزگار نقادوں اور ادیبوں سے اکتساب فیض کیااور انگریزی ادب کا وسیع مطالعہ کیا ۔ممتاز شیریں کی دلی تمنا تھی کہ آکسفورڈ یو نیورسٹی میں ان کی تعلیم جاری رہے اور وہ اس عظیم جامعہ سے ڈاکٹریٹ (ڈی ۔فل )کریں لیکن بعض ناگزیر حالات اور خاندانی مسائل کے باعث وہ اپنا نصب العین حاصل نہ کر سکیں اور انھیں اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع کر کے پاکستان وا پس آنا پڑا ۔اس کا انھیں عمر بھر قلق رہا۔

میں لکھتا کیونکر ہوں - منٹو


June 15, 2013

گنڈاسا


گنڈاسا


اکھاڑہ جم چکا تھا۔ طرفین نے اپنی اپنی "چوکیاں" چن لی تھیں۔ "پڑکوڈی" کے کھلاڑی جسموں پر تیل مل کر بجتے ہوئے ڈھول کے گرد گھوم رہے تھے۔ انہوں نے رنگین لنگوٹیں کس کر باندھ رکھی تھیں۔ ذرا ذرا سے سفید پھینٹھۓ ان کے چپڑے ہوئے لانبے لابنے پٹوں کے نیچے سے گزر کر سر کے دونوں طرف کنول کے پھولوں کے سے طرے بنا رہے تھے۔ وسیع میدان کے چاروں طرف گپوں اور حقوں کے دور چل رہے تھے اور کھلاڑیوں کے ماضی اور مستقبل کو جانچا پرکھا جا رہا تھا۔ مشہور جوڑیاں ابھی میدان میں نہیں اتری تھیں۔ یہ نامور کھلاڑی اپنے دوستوں اور عقیدت مندوں کے گھیرے میں کھڑے اس شدت سے تیل چپڑوا رہے تھے کہ ان کے جسموں کو ڈھلتی دھوپ کی چمک نے بالکل تانبے کا سا رنگ دے دیا تھا، پھر یہ کھلاڑی بھی میدان میں آۓ، انہوں نے بجتے ہوئے ڈھولوں کے گرد چکر کاٹے اور اپنی اپنی چوکیوں کے سامنے ناچتے کودتے ہوئے بھاگنے لگے اور پھر آناً فاناً سارے میدان میں ایک سرگوشی بھنور کی طرح گھوم گئی۔ "مولا کہاں ہے؟"


مولا ہی کا کھیل دیکھنے تو یہ لوگ دور دراز کے دیہات سے کھنچے چلے آۓ تھے۔ "مولا کا جوڑی وال تاجا بھی تو نہیں!" دوسرا بھنور پیدا ہوا لوگ پوربی چوکوں کی طرف تیز تیز قدم اٹھاتے بڑھنے لگے، جما ہوا پڑ ٹوٹ گیا۔ منتظمین نے لمبے لمبے بیدوں اور لاٹھیوں کو زمین پر مار مار کر بڑھتے ہوئے ہجوم کے سامنے گرد کا طوفان اڑانے کی کوشش کی کہ پڑ کا ٹوٹنا اچھا شگون نہ تھا مگر جب یہ سرگوشی ان کے کانوں میں سیروں بارود بھرا ہوا ایک گولا ایک چکرا دینے والے دھماکے سے پھٹ پڑا۔ ہر طرف سناٹا چھا گیا۔ لوگ پڑ کی چوکور حدوں کی طرف واپس جانے لگے۔ مولا اپنے جوڑی وال تاجے کے ساتھ میدان میں آگیا۔ اس نے پھندنوں اور ڈوریوں سے سجے اور لدے ہوئے ڈھول کے گرد بڑے وقار سے تین چکر کاٹے اور پھر ڈھول کو پوروں سے چھو کر یا علیؓ کا نعرہ لگانے کے لۓ ہاتھ ہوا میں بلند کیا ہی تھا کہ ایک آواز ڈھولوں کی دھما دھم چیرتی پھاڑتی اس کے سینے پر گنڈاسا بن کر پڑی "مولے... اے مولے بیٹے۔ تیرا باپ قتل ہو گیا!"


مولا کا اٹھا ہوا ہاتھ سانپ کے پھن کی طرح لہرا گیا اور پھر ایک دم جیسے اس کے قدموں میں نہتے نکل آۓ۔ "رنگے نے تیرے باپ کو ادھیڑ ڈالا ہے گنڈاسے سے!" ان کی ماں کی آواز نے اس کا تعاقب کیا!


پڑ ٹو ٹ گیا۔ ڈھول رک گۓ۔ کھلاڑی جلدی جلدی کپڑے پہننے لگے۔ ہجوم میں افراتفری پیدا ہوئی اور پھر بھگدڑ مچ گئی۔ مولا کے جسم کا تانبا گاؤں کی گلیوں میں کونڈتے بکھیرتا اڑا جا رہا تھا۔ بہت پیچھے اس کا جوڑی وال تاجا اپنے اور مولا کے کپڑوں کی گٹھڑی سینے سے لگاۓ آ رہا تھا اور پھر اس کے پیچھے ایک خوف زدہ ہجوم تھا۔ جس گاؤں میں کسی شخص کو ننگے سر پھرنے کا حوصلہ نہ ہو سکتا تھا وہاں مولا صرف ایک گلابی لنگوٹ باندھے پہناریوں کی قطاروں، بھیڑوں، بکریوں کے ریوڑوں کو چیرتا ہوا لپکا جا رہا تھا اور جب وہ رنگے کی چوپال کے بالکل سامنے پہنچا تو سامنے ایک اور ہجوم میں سے پیر نور شاہ نکلے اور مولا کو للکار کر بولے۔ "رک جا مولے!"


مولا لپکا گیا مگر پھر ایک دم جیسے اس کے قدم جکڑ لۓ گۓ اور وہ بت کی طرح جم کر رہ گیا۔ پیر نور شاہ اس کے قریب آۓ اور اپنی پاٹ دار آواز میں بولے۔ "تو آگے نہیں جاۓ گا مولا!"


ہانپتا ہوا مولا کچھ دیر پیر نور شاہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا رہا۔ پھر بولا "آگے نہیں جاؤں گا پیر جی تو زندہ کیوں رہوں گا؟"۔


"میں کہہ رہا ہوں" پیر جی "میں" پر زور دیتے ہوئے دبدبے سے بولے۔


مولا ہانپنے کے باوجود ایک ہی سانس میں بولتا چلا گیا۔ "تو پھر میرے منہ پر کالک بھی مل ڈالۓ اور ناک بھی کاٹ ڈالۓ میری، مجھے تو اپنے باپ کے خون کا بدلہ چکانا ہے پیر جی۔ بھیڑ بکریوں کی بات ہوتی تو میں آپ کے کہنے پر یہیں سے پلٹ جاتا۔ "


مولا نے گردن کو بڑے زور سے جھٹکا دے کر رنگے کے چوپال کی طرف دیکھا۔ رنگا اور اس کے بیٹے بٹھوں سر گنڈاسے چڑھاۓ چوپاۓ پر تنے کھڑے تھے۔ رنگے کا بڑا لڑکا بولا۔


"آؤ بیٹے آؤ۔ گنڈاسے کے ایک ہی وار سے پھٹے ہوئے پیٹ میں سے انتڑیوں کا ڈھیرا نہ اگل ڈالوں تو قادا نام نہیں، میرا گنڈاسا جلد باز ہے اور کبڈی کھیلنے والے لاڈلے بیٹے باپ کے قتل کا بدلا نہیں لیتے، روتے ہیں اور کفن کا لٹھا ڈھونڈنے چلے جاتے ہیں۔ "


مولا جیسے بات ختم ہونے کے انتظار میں تھا۔ ایک ہی رفتار میں چوپال کی سیڑھیوں پر پہنچ گیا۔ مگر اب کبڈی کے میدان کا ہجوم بھی پہنچ گیا تھا اور گاؤں کا گاؤں اس کے راستے میں حائل ہو گیا تھا۔ جسم پر تیل چپڑ رکھا تھا اس لۓ وہ روکنے والوں کے ہاتھوں سے نکل نکل جاتا مگر پھر جکڑ لیا جاتا۔ ہجوم کا ایک حصہ رنگے اور اس کے تینوں بیٹوں کو بھی روک رہا تھا۔ چار گنڈاسے ڈوبتے ہوئے سورج کی روشنی میں جنوں کی طرح بار بار دانت چمکا رہے تھے کہ اچانک جیسے سارے ہجوم کو سانپ سو نگ گیا۔ پیر نور شاہ قرآن مجید کو دونوں ہاتھوں میں بلند کۓ چوپال کی سیٹرھیوں پر آۓ اور چلاۓ۔ "اس کلام اللہ کا واسطہ اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ ورنہ بدبختو گاؤں کا گاؤں کٹ مرے گا۔ جاؤ تمہیں خدا اور رسولؐ کا واسطہ، قرآن پاک کا واسطہ، جاؤ، چلے جاؤ۔ "


لوگ سر جھکا کر ادھر ادھر بکھرنے لگے۔ مولا نے جلدی سے تاۓ سے پٹکا لے کر ادب سے اپنے گھٹنوں کو چھپا لیا اور سیٹرھیوں پر سے اتر گیا۔ پیر صاحب قرآن مجید کو بغل میں لۓ اس کے پاس آۓ اور بولے۔ "اللہ تعالی تمہیں صبر دے اور آج کے اس نیک کام کا اجر دے۔ "


مولا آگے بڑھ گیا۔ تاجا اس کے ساتھ تھا اور جب وہ گلی کے موڑ پر پہنچے تو مولا نے پلٹ کر رنگے کی چوپال پر ایک نظر ڈالی۔


"تم تو رو رہے ہو مولے؟" تاجے نے بڑے دکھ سے کہا۔


اور مولا نے اپنے ننگے بازو کو آنکھوں پر رگڑ کر کہا۔ " تو کیا اب روؤں بھی نہیں؟"


"لوگ کیا کہیں گے؟" تاجے نے مشورہ دیا۔


"ہاں تاجے!" مولا نے دوسری بار بازو آنکھوں پر رگڑا۔ "میں بھی تو یہی سوچ رہا ہوں کہ لوگ کیا کہیں گے، میرے باپ کے خون پر مکھیاں اڑ رہی ہیں اور میں یہاں گلی میں ڈورے ہوئے کتے کی طرح دم دباۓ بھاگا جا رہا ہوں ماں کے گھٹنے سے لگ کر رونے کے لۓ!"


لیکن مولا ماں کے گھٹنے سے لگ کر رویا نہیں۔ وہ گھر کے دالان میں داخل ہوا تو رشتہ دار اس کے باپ کی لاش تھانے اٹھا لے جانے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ منہ پیٹتی اور بال نوچتی ماں اس کے پاس آئی اور "شرم تو نہیں آتی" کہہ کر منہ پھیر کر لاش کے پاس چلی گئی۔ مولا کے تیور اسی طرح تنے رہے۔ اس نے بڑھ کر باپ کی لاش کو کندھا دیا اور برادری کے ساتھ روانہ ہو گیا۔


اور ابھی لاش تھانے نہیں پہنچی ہو گی کہ رنگے کی چوپال پر قیامت مچ گئی۔ رنگا چوپال کی سیڑھیوں پر سے اتر کر سامنے اپنے گھر میں داخل ہونے ہی لگا تھا کہ کہیں سے ایک گنڈاسا لپکا اور انتڑیوں کا ایک ڈھیر اس کے پھٹے ہوئے پیٹ سے باہر ابل کر اس کے گھر کی دہلیز پر بھاپ چھوڑنے لگا۔ کافی دیر کو افراتفری کے بعد رنگے کے بیٹے گھوڑوں پر سوار ہو کر رپٹ کے لۓ گاؤں سے نکلے، مگر جب وہ تھانے پہنچے تو یہ دیکھ کر دم بخود رہ گۓ کہ جس شخص کے خلاف وہ رپٹ لکھوانے آۓ ہیں وہ اپنے باپ کی لاش کے پاس بیٹھا تسبیح پر قل ھو اللہ کا ورد کر رہا تھا۔ تھانے دار کے ساتھ انہوں نے بہت ہیر پھیر کی کوشش کی اور اپنے باپ کا قاتل مولا ہی کو ٹھہرایا مگر تھانیدار نے انہیں سمجھایا کہ "خواہ مخواہ اپنے باپ کے قاتل کو ضائع کر بیٹھو گے، کوئی عقل کی بات کرو۔


ادھر یہ میرے پاس اپنے باپ کے قتل کی رپٹ لکھوا رہا ہے ادھر تمہارے باپ کے پیٹ میں گنڈاسا بھی بھونک آیا ہے۔ "


آخر دونوں طرف سے چالان ہوئے، لیکن دونوں قتلوں کا کوئی چشم دید ثبوت نہ ملنے کی بناء پر طرفین بری ہو گۓ اور جس روز مولا رہا ہو کر گاؤں میں آیا تو اپنی ماں سے ماتھے پر ایک طویل بوسہ ثبت کرانے کے بعد سب سے پہلے تاجے کے ہاں گیا۔ اسے بھینچ کر گلے لگایا اور کہا۔ "اس روز تم اور تمہارا گھوڑا میرے کام نہ آتے تو آج میں پھانسی کی رسی میں توری کی طرح لٹک رہا ہوتا۔ تمہاری جان کی قسم جب میں نے رنگے کے پیٹ کو کھول کر رکاب میں پاؤں رکھا ہے، آندھی بن گیا خدا کی قسم.... اسی لۓ تو لاش ابھی تھانے بھی نہیں پہنچی تھی کہ میں ہاتھ جھاڑ کر واپس بھی آگیا۔ "


سارے گاؤں کو معلوم تھا کہ رنگے کا قاتل مولا ہی ہے، مگر مولے کے چند عزیزوں اور تاجے کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ سب کچھ ہوا کیسے پھر ایک دن گاؤں میں یہ خبر گشت کرنے لگی کہ مولا کا باپ تو رنگے کے بڑے بیٹے قادر کے گنڈاسے سے مرا تھا رنگا تو صرف ہشکار رہا تھا بیٹوں کو۔ رات کو چوپالوں اور گھروں میں یہ موضوع چلتا رہا اور صبح کو پتہ چلا کہ قادر اپنے کوٹھے کی چھت پر مردہ پایا گیا اور وہ بھی یوں کہ جب اس کے بھائیوں پھلے اور گلے نے اسے اٹھانے کی کوشش کی تو اس کا سر لڑھک کر نیچے گرا اور پرنالے تک لڑھکتا چلا گیا، رپٹ لکھوائی اور مولا پھر گرفتار ہو گیا۔ مرچوں کا دھواں پیا، تپتی دوپہروں میں لوہے کی چادر پر کھڑا رہا۔ کتنی راتیں اسے اونگھنے تک نہ دیا گیا مگر وہ اقبالی نہ ہوا اور آخر مہینوں کے بعد رہا ہو کر گاؤں میں آ نکلا اور جب اپنے آنگن میں قدم رکھا تو ماں بھاگی ہو ئی آئی۔ اس کے ماتھے پر طویل بوسہ لیا اور بولی۔ "ابھی دو اور باقی ہیں میرے لال۔ رنگے کا کوئی نام لیوا نہ رہے، تو جبھی بتیس دھاریں بخشوں گی۔ میرے دودھ میں تیرے باپ کا خون تھا۔ مولے اور تیرے خون میں میرا دودھ ہے اور تیرے گنڈاسے پر میں نے زنگ نہیں چڑھنے دیا۔ "مولا اب علاقے بھر کی ہیبت بن گیا تھا۔ اس کی مونچھوں میں دو دو بل آ گۓ تھے۔ کانوں میں سونے کی بڑی بڑی بالیاں، خوشبودار تیل اس کے لہرئیے بالوں میں آگ کی قلمیں سی جگاۓ رکھتا تھا۔ ہاتھی دانت کا ہلالی کنگھا اتر کر اس کی کنپٹی پر چمکنے لگا تھا۔ وہ گلیوں میں چلتا تو پٹھے کے تہبند کا کم سے کم آدھا گز تو اس کے عقب میں لوٹتا ہوا جاتا۔ باریک ململ کا پٹکا اس کے کندھے پر پڑا رہتا اور اکثر اس کا سرا گر کر زمین پر گھسٹنے لگتا۔ اور گھسٹتا چلا جاتا۔ مولا کے ہاتھ میں ہمیشہ اس کے قد سے بھی لمبی تلی پلی لٹھ ہوتی اور جب وہ گلی کے کسی موڑ یا کسی چوراہے پر بیٹھتا تو یہ لٹھ جس انداز سے اس کے گھٹنے سے آ لگتی اسی انداز سے لگی رہتی اور گلی میں سے گزرنے والوں کو اتنی جرأت نہ ہوتی کہ وہ مولا کی لٹھ ایک طرف سرکانے کے لۓ کہہ سکیں۔ اگر کبھی لٹھ ایک دیوار سے دوسری دیوار تک تن گئی تو لو گ آتے، مولا کی طرف دیکھتے اور پلٹ کر کسی دوسری گلی میں چلے جاتے۔ عورتوں اور بچوں نے تو وہ گلیاں ہی چھوڑ دی تھیں جہاں مولا بیٹھنے کا عادی تھا۔ مشکل یہ تھی کہ مولا کی لٹھ پر سے الانگنے کا بھی کسی میں حوصلہ نہ تھا۔ ایک بار کسی اجنبی نوجوان کا اس گلی میں سے گزر ہوا۔ مولا اس وقت ایک دیوار سے لگا لٹھ سے دوسرے دیوار کو کریدے جا رہا تھا۔ اجنبی آیا اور لٹھ پر سے الانگ گیا۔ ایکا ایکی مولا نے بپھر کر ٹینک میں سے گنڈاسا نکالا اور لٹھ پر چڑھا کر بولا۔ "ٹھہر جاؤ چھوکرے، جانتے ہو تم نے کس کی لٹھ الانگی ہے یہ مولا کی لٹھ ہے۔ مولے گنڈاسے والے کی۔ "


نوجوان مولا کا نام سنتے ہی یک لخت زرد پڑ گیا اور ہولے سے بولا۔ "مجھے پتہ نہیں تھا، مولے۔ "


مولا نے گنڈاسا اتار کر ٹینک میں اڑس لیا اور لٹھ کے ایک سرے کو نوجوان کے پیٹ پر ہلکے سے دبا کر بولا۔ "تو پھر جا کر اپنا کام کر۔ " اور پھروہ لٹھ کو یہاں سے وہاں تک پھیلا کر بیٹھ گیا۔


مولا کا لباس، اس کی چال، اس کی مونچھیں اور سب سے زیادہ اس کا لا ابالی انداز، یہ سب پہلے گاؤں کے فیشن میں داخل ہوئے اور پھر علاقے بھر کے فیشن پر اثر انداز ہوئے لیکن مولا کی جو چیز فیشن میں داخل نہ ہو سکی وہ اس کی لانبی لٹھ تھی۔ تیل پلی، پیتل کے کوکوں سے اٹی ہوئی، لوہے کی شاموں میں لپٹی ہوئی، گلیوں کے کنکروں پر بجتی اور یہاں سے وہاں تک پھیل کر آنے والوں کو پلٹا دینے والی لٹھ اور پھر وہ گنڈاسا جس کی میان مولا کی ٹینک تھی اور جس پر اس کی ماں زنگ کا ایک نقطہ تک نہیں دیکھ سکتی تھی۔


لوگ کہتے تھے کہ مولا گلیوں کے نکڑوں پر لٹھ پھیلاۓ اور گنڈاسا چھپاۓ گلے اور پھلے کی راہ تکتا ہے۔ قادرے کے قتل اور مولے کی رہائی کے بعد پھلا فوج میں بھرتی ہو کر چلا گیا تھا اور گلے نے علاقہ کے مشہور رسہ گیر چوھدری مظفر الٰہی کے ہاں پناہ لی تھی، جہاں وہ چوھدری کے دوسرے ملازموں کے ساتھ چناب اور راوی پر سے بیل اور گائیں چوری کر کے لاتا۔ چوھدری مظفر اس مال کو منڈیوں میں بیچ کر امیروں، وزیروں اور لیڈروں کی بڑی بڑی دعوتیں کرتا اور اخباروں میں نام چھپواتا اور جب چناب اور راوی کے کھوجی مویشیوں کے کھروں کے سراغ کے ساتھ ساتھ چلتے چوھدری مظفر کے قصبے کے قریب پہنچتے تو جی میں کہتے۔ "ہمارا ماتھا پہلے ہی ٹھنکا تھا! انہیں معلوم تھا کہ اگر وہ کھروں کے سراغ کے ساتھ ساتھ چلتے چودھری کے گھر تک جا پہنچے تو پھر کچھ دیر بعد لوگ مویشیوں کی بجاۓ خود کھوجیوں کا سراغ لگاتے پھریں گے اور لگا نہ پائیں گے۔ وہ چوھدری کے خوف کے مارے قصبے کے ایک طرف سے نکل کر اور تھلوں کے ریتے میں پہنچ کر یہ کہتے ہوئے واپس آ جاتے "کھروں کے نشان یہاں سے غائب ہو رہے ہیں۔ "


مولا نے چوھدری مظفر اور اس کے پھیلے ہوئے بازوؤں کے بارے میں سن رکھا تھا۔ اسے کچھ ایسا لگتا تھا کہ جیسے علاقہ بھر میں صرف یہ چوھدری ہی ہے جو اس کی لٹھ الانگ سکتا ہے لیکن فی الحال اسے رنگے کے دونوں بیٹوں کا انتظار تھا۔


تاجے نے بڑے بھائیوں کی طرح مولے کو ڈانٹا "اور کچھ نہیں تو اپنی زمینوں کی نگرانی کر لیا کر، یہ کیا بات ہوئی کہ صبح سے شام تک گلیوں میں لٹھ پھیلاۓ بیٹھے ہیں اور میراثیوں، نائیوں سے خدمتیں لی جا رہی ہیں۔ تو شاید نہیں جانتا پر جان لے تو اس میں تیرا ہی بھلا ہے کہ مائیں بچوں کو تیرا نام لے کر ڈرانے لگی ہیں، لڑکیاں تو تیرا نام سنتے ہی تھوک دیتی ہیں، کسی کو بد دعا دینی ہو تو کہتی ہیں اللہ کرے تجھے مولا بیاہ کر لے جاۓ۔ سنتے ہو مولے!"


لیکن مولا تو جس بھٹی میں گودا تھا اس میں پک کر پختہ ہو چکا تھا۔ بولا "ابے جا تاجے اپنا کام کر، گاؤں بھر کی گالیاں سمیٹ کر میرے سامنے ان کا ڈھیر لگانے آیا ہے؟ دوستی رکھنا بڑی جی داری کی بات ہے پٹھے، تیرا جی چھوٹ گیا ہے تو میری آنکھوں میں دھول کیوں جھونکتا ہے۔ جا اپنا کام کر، میرے گنڈاسے کی پیاس ابھی تک نہیں بجھی.... جا.... اس نے لاٹھی کو کنکروں پر بجایا اور گلی کے سامنے والے مکان میں میراثی کو بانگ لگائی۔ "ابے اب تک چلم تازہ نہیں کر چکا الو کے پٹھے جا کر گھر والوں کی گود میں سو گیا چلم لا۔ "


تاجا پلٹ گیا مگر گلی کے موڑ پر رک گیا اور مڑ کر مولے کو کچھ یوں دیکھا جیسے اس کی جواں مرگی پر پھوٹ پھوٹ کر رو دے گا۔


مولا کنکھیوں سے اسے دیکھ رہا تھا اٹھا اور لٹھ کو اپنے پیچھے گھسیٹتا تاجے کے پاس آ کر بولا دیکھ تاجے مجھے ایسا لگتا ہے تو مجھ پر ترس کھا رہا ہے اس لۓ کہ کسی زمانے میں تیری یاری تھی پر اب یہ یاری ٹوٹ گئی ہے تاجے تو میرا ساتھ نہیں دے سکتا تو پھر ایسی یاری کو لے کر چاٹنا ہے۔ میرے باپ کا خون اتنا سستا نہیں تھا کہ رنگے اور اس کے ایک ہی بیٹے کے خون سے حساب چک جاۓ، میرا گنڈاسا تو ابھی اس کے پوتے، پوتیوں، نواسے، نواسیوں تک پہنچے گا، اس لۓ جا اپنا کام کر۔ تیری میری یار ختم۔ اس لۓ مجھ پر ترس نہ کھایا کر، کوئی مجھ پر ترس کھاۓ تو آنچ میرے گنڈاسے پر جا پہنچتی ہے جا۔ "


واپس آ کر مولا نے میراثی سے چلم لے کر کش لگایا تو سلفہ ابھر کر بکھر گیا۔ ایک چنگاری مولا کے ہاتھ پر گری اور ایک لمحہ تک وہیں چمکتی رہی۔ میراثی نے چنگاری کو جھاڑنا چاہا تو مولا نے اس کے ہاتھ پر اس زور سے ہاتھ مارا کہ میراثی بل کھا رہ گیا اور ہاتھ کو ران اور پنڈلی میں دبا کر ایک طرف ہٹ گیا اور مولا گرجا۔ "ترس کھاتا ہے حرامزادہ۔ "


اس نے چلم اٹھا کر سامنے دیوار پر پٹخ دی اور لٹھ اٹھا کر ایک طرف چل دیا۔


لوگوں نے مولا کو ایک نئی گلی کے چوراہے پر بیٹھے دیکھا تو چونکے اور سرگوشیاں کرتے ہوئے ادھر ادھر بکھر گۓ۔ عورتیں سر پر گھڑے رکھے آئیں اور "ہائیں" کرتی واپس چلی گئیں۔ مولا کی لٹھ یہاں سے وہاں تک پھیلی ہوئی تھی۔ اور لوگوں کے خیال میں اس پر خون سوار تھا۔


مولا اس وقت دور مسجد کے مینار پر بیٹھی ہوئی چیل کو تکے جا رہا تھا۔ اچانک اسے کنکروں پر لٹھ کے بجنے کی آواز آئی۔ چونک کراس نے دیکھا کہ ایک نوجوان لڑکی نے اس کی لٹھ اٹھا کر دیوار کے ساتھ رکھ دی ہے اور ان لانبی سرخ مرچوں کو چن رہی ہے جو جھکتے ہوئے اس کے سر پر رکھی ہوئی گٹھڑی میں سے گر گئی تھیں۔ مولا سناٹے میں آگیا لٹھ کو الانگنا تو ایک طرف رہا اس نے یعنی ایک عورت ذات نے لٹھ کو گندے چیتھڑے کی طرح اٹھا کر پرے ڈال دیا ہے اور اب بڑے اطمینان سے مولا کے سامنے بیٹھی مرچیں چن رہی ہے اور جب مولا نے کڑک کر کہا۔ "جانتی ہو تم نے کس کی لاٹھی پر ہاتھ رکھا ہے جانتی ہو میں کون ہوں تو اس نے ہاتھ بلند کر کے چنی ہوئی مرچیں گٹھڑی میں ٹھونستے ہوئے کہا کوئی سڑی لگتے ہو۔ "


مولا مارے غصے کے اٹھ کھڑا ہوا۔ لڑکی بھی اٹھی اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نرمی سے بولی اسی لۓ تو میں نے تمہاری لٹھ تمہارے سر پر نہیں دے ماری ایسے لٹے لٹے سے لگتے تھے مجھے تو تم پر ترس آگیا تھا۔ "


"ترس آگیا تھا تمہیں مولا پر؟ مولا دھاڑا۔


"مولا!"لڑکی نے گٹھڑی کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا اور ذرا سی چونکی۔


"ہاں، مولا، گنڈاسے والا" مولا نے ٹھسے سے کہا اور وہ ذرا سی مسکرا کے گلی میں جانے لگی۔ مولا کچھ دیر وہاں چپ چاپ کھڑا رہا اور پھر ایک سانس لے کر دیوار سے لگ کر بیٹھ گیا۔ لٹھ کو سامنے کی دیوار تک پھیلا لیا تو پرلی طرف سے ادھیڑ عمر کی ایک عورت آتی دکھائی دی۔ مولا کو دیکھ کر ٹھٹکی۔ مولا نے لٹھ اٹھا کر ایک طرف رکھ دی اور بولا۔ "آ جاؤ ماسی، آ جاؤ میں تمہیں کھا تھوڑی جاؤں گا۔ "


حواس باختہ عورت آئی اور مولے کے پاس سے گزرتے ہوئے بولی۔ "کیسا جھوٹ بکتے ہیں لوگ، کہتے ہیں جہاں مولا بخش بیٹھا ہو وہاں سے باؤ کتا بھی دبک کر گزرتا ہے، پر تو نے میرے لۓ اپنی لٹھ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "


"کون کہتا ہے؟" مولا اٹھ کھڑا ہوا۔


"سب کہتے ہیں، سارا گاؤں کہتا ہے، ابھی ابھی کنویں پر یہی باتیں ہو رہی تھیں، پر میں نے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ مولا بخش۔ ۔ ۔ ۔ "


لیکن مولا اب تک اس گلی میں لپک کر گیا تھا جس میں ابھی ابھی نوجوان لڑکی گئی تھی۔ وہ تیز تیز چلتا گیا اور آخر دور لمبی گلی کے سرے پر وہی لڑکی جاتی نظر آئی، وہ بھاگنے لگا۔ آنگنوں میں بیٹھی ہوئی عورتیں دروازوں تک آ گئیں اور بچے چھتوں پر چڑھ گۓ۔ مولا کا گلی سے بھاگ کر نکلنا کسی حادثے کا پیش خیمہ سمجھا گیا۔ لڑکی نے بھی مولا کے قدموں کی چاپ سن لی تھی، وہ پلٹی اور پھر وہیں جم کر کھڑ ی رہ گئی۔ اس نے بس اتنا ہی کیا کہ گٹھڑی کو دونوں ہاتھوں سے تھا م لیا، چند مرچیں دہکتے ہوئے انگاروں کی طرح اس کے پاؤں پر بکھر گئیں۔


"میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا۔ " مولا پکارا۔ "کچھ نہیں کہوں گا تمہیں۔ "


لڑکی بولی۔ "میں ڈر کے نہیں رکی۔ ڈریں میرے دشمن۔ "


مولا رک گیا، پھر ہولے ہولے چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور بولا۔ "بس اتنا بتا دو تم ہو کون؟"


لڑکی ذرا سا مسکرا دی۔


عقب سے کسی بڑھیا کی آواز آئی۔ "یہ رنگے کے چھوٹے بیٹے کی منگیتر راجو ہے، مولا بخش۔ "


مولا آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر راجو کو دیکھنے لگا۔ اسے راجو کے پاس رنگا اور رنگے کا سارا خاندان کھڑا نظر آیا۔ اس کا ہاتھ ٹینک تک گیا اور پھر رسے کی طرح لٹک گیا۔ راجو پلٹ کر بڑی متوازن رفتار سے چلنے لگی۔


مولا نے لاٹھی ایک طرف پھینک دی اور بولا۔ "ٹھہرو راجو، یہ اپنی مرچیں لیتی جاؤ۔ "


راجو رک گئی۔ مولا نے جھک کر ایک ایک مرچ چن لی اور پھر اپنے ہاتھ سے انہیں راجو کی گٹھڑی میں ٹھونستے ہوئے بولا۔ "تمہیں مجھ پر ترس آیا تھا نا راجو؟"۔


لیکن راجو ایک دم سنجیدہ ہو گئی اور اپنے راستے پر ہولی۔ مولا بھی واپس جانے لگا۔ کچھ دور ہی گیا تھا کہ بڑھیا نے اسے پکارا۔ "یہ تمہاری لٹھ تو یہیں رکھی رہ گئی مولا بخش!"


مولا پلٹا اور لٹھ لیتے ہوئے بڑھیا سے پوچھا۔


"ماسی! یہ لڑکی راجو کیا یہی کی رہنے والی ہے؟ میں نے تو اسے کبھی نہیں دیکھا۔ "


"یہیں کی ہے بھی بیٹا اور نہیں بھی۔ " بڑھیا بولی۔ "اس کے باپ نے لام میں دونوں بیٹوں کے مرنے کے بعد جب دیکھا کہ وہ روز ہل اٹھا کر اتنی دور کھیتوں میں نہیں جا سکتا تو گاؤں والے گھر کی چھت اکھیڑی اور یہاں سے یوں سمجھو کہ کوئی دو ڈھائی کوس دور ایک ڈھوک بنا لی۔ وہیں راجو اپنے باپ کے ساتھ رہتی ہے، تیسرے چوتھے دن گاؤں میں سودا سلف خریدنے آ جاتی ہے اور بس۔ "


مولا جواب میں صرف "ہوں" کہہ کر واپس چلا گیا، لیکن گاؤں بھر میں یہ خبر آندھی کی طرح پھیل گئی کہ آج مولا اپنی لٹھ ایک جگہ رکھ کر بھول گیا۔ باتوں باتوں میں راجو کا ایک دو بار نام آیا مگر دب گیا۔ رنگے کے گھرانے اور مولا کے درمیان صرف گنڈاسے کا رشتہ تھا نا اور راجو رنگے ہی کے بیٹے کی منگیتر تھی اور اپنی جان کسے پیاری نہیں ہوتی۔ "


اس واقعہ کے بعد مولا گلیوں سے غائب ہو گیا۔ سارا دن گھر میں بیٹھا لاٹھی سے دالان کی مٹی کریدتا رہتا اور کبھی باہر جاتا بھی تو کھیتوں چراگاہوں میں پھرپھرا کر واپس آ جاتا۔ ماں اس کے رویے پر چونکی مگر صرف چونکنے پر اکتفا کی۔ وہ جانتی تھی کہ مولا کے سر پر بہت سے خون سوار ہیں، وہ بھی جو بہا دۓ گۓ اور وہ بھی جو بہاۓ نہ جا سکے۔


یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ نقارے پٹ پٹا کر خاموش ہو گۓ تھے۔ گھروں میں سحری کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ دہی بلونے اور توے پر روٹیوں کے پڑنے کی آواز مندروں کی گھنٹیوں کی طرح پر اسرار معلوم ہو رہی تھیں۔ مولا کی ماں بھی چولہا جلاۓ بیٹھی تھی اور مولا مکان کی چھت پر ایک چارپائی پر لیٹا آسمان کو گھورے جا رہا تھا۔ یکا یک کسی گلی میں ایک ہنگامہ مچ گیا۔ مولا نے فوراً لٹھ پر گنڈاسا چڑھایا اور چھت پر سے اتر کر گلی میں بھاگا۔ ہر طرف گھروں میں لالٹینیں نکلی آ رہی تھیں اور شور بڑھ رہا تھا۔ وہاں پہنچ کر مولا کو معلوم ہوا کہ تین مسافر جو نیزوں، برچھیوں سے لیس تھے، بہت سے بیلوں اور گاۓ بھینسوں کو گلی میں سے ہنکاۓ لۓ جا رہے تھے کہ چوکیدار نے انہیں ٹوکا اور جواب میں انہوں نے چوکیدار کو گالی دے کر کہا کہ یہ مال چوھدری مظفر الٰہی کا ہے، یہ گلی تو خیر ایک ذلیل سے گاؤں کی گلی ہے، چوھدری کا مال تو لاہور کی ٹھنڈک سڑک پر سے بھی گزرے تو کوئی اف نہ کرے۔


مولا کو کچھ ایسا محسوس ہوا جیسے چوھدری مظفر خود، بہ نفسِ نفیس گاؤں کی اس گلی میں کھڑا اس سے گنڈاسا چھیننا چاہتا ہے، کڑک کر بولا۔ " چوری کا یہ مال میرے گاؤں سے نہیں گزرے گا، چاہے یہ چوھدری مظفر کا ہو چاہے لاٹ صاحب کا۔ یہ مال چھوڑ کر چپکے سے اپنی راہ لو اور اپنی جان کے دشمن نہ بنو!" اس نے لٹھ کر جھکا کر گنڈاسے کو لالٹینوں کی روشنی میں چمکایا۔ "جاؤ۔ "


مولا گھرے ہوئے مویشیوں کو لٹھ سے ایک طرف ہنکانے لگا۔ "جا کر کہہ دو اپنے چوھدری سے کہ مولا گنڈاسے نے تمہیں سلام بھیجا ہے اور اب جاؤ اپنا کام کرو۔ "


مسافروں نے مولا کے ساتھ سارے ہجوم کے بدلے ہوئے تیور دیکھے تو چپ چاپ کھسک گۓ۔ مولا سارے مال کو اپنے گھر لے آیا اور سحری کھاتے ہوئے ماں سے کہا کہ "یہ سب بے زبان ہمارے مہمان ہیں، ان کے مالک پرسوں تک آ نکلیں گے کہیں سے اور گاؤں کی عزت میری عزت ہے ماں۔ "


مالک دوسرے ہی دن دوپہر کو پہنچ گۓ۔


یہ غریب کسان اور مزارعے کوسوں کی مسافتیں طے کر کے کھوجیوں کی ناز برداریاں کرتے یہاں تک پہنچے تھے اور یہ سوچتے آ رہے تھے کہ اگر ان کا مال چوھدری کے حلقۂ اثر تک پہنچ گیا تو پھر کیا ہو گا اور جب مولا ان کا مال ان کے حوالے کر رہا تھا تو سارا گاؤں باہر گلی میں جمع ہو گیا تھا اور اس ہجوم میں راجو بھی تھی۔ اس نے اپنے سر پر اینڈوا جما کر مٹی کا ایک برتن رکھا ہوا تھا اور منتشر ہوتے ہوئے ہجوم میں جب راجو مولا کے پاس سے گزری تو مولا نے کہا۔ "آج بہت دنوں بعد گاؤں میں آئی ہو راجو۔ "


"کیوں؟" اس نے کچھ یوں کہا جیسے "میں کسی سے ڈرتی تھوڑی ہوں" کا تاثر پیدا کرنا چاہتی ہو۔ میں تو کل آئی تھی اور پرسوں اور ترسوں بھی۔ ترسوں تھوم پیاز خریدنے آئی۔ پرسوں بابا کو حکیم کے پاس لائی، کل ویسے ہی آ گئیں اور آج یہ گھی بیچنے آئی ہوں۔ "


"کل ویسے ہی کیوں آ گئیں؟" مولا نے بڑے اشتیاق سے پوچھا۔


"ویسے ہی بس جی چاہا آ گۓ، سہیلیوں سے ملے اور چلے گۓ، کیوں؟"


"ویسے ہی...." مولا نے بجھ کر کہا، پھر ایک دم اسے ایک خیال آیا۔ "یہ گھی بیچو گی؟"


"ہاں بیچنا تو ہے، پر تیرے ہاتھ نہیں بیچوں گی۔ "


"کیوں؟"


"تیرے ہاتھوں میں میرے رشتہ داروں کا خون ہے۔ "


مولا کو ایک دم خیال آیا کہ وہ اپنی لٹھ کو دالان میں اور گنڈاسے کو بستر تلے رکھ کر بھول آیا ہے۔ اس کے ہاتھوں میں چل سی ہونے لگی۔ اس نے گلی میں ایک کنکر اٹھایا اور اسے انگلیوں میں مسلنے لگا۔


راجو جانے کے لۓ مڑی تو مولا ایک دم بولا۔ "دیکھو راجو میرے ہاتھوں پر خون ہے ہی اور ان پر ابھی جانے کتنا اور خون چڑھے گا، پر تمہیں گھی بیچنا ہے اور مجھے خریدنا ہے، میرے ہاتھ نہ بیچو، میری ماں کے ہاتھ بیچ دو۔ "


راجو کچھ سوچ کر بولی...."چلو.... آؤ...."


مولا آگے آگے چلنے لگا۔ جاتے جاتے جانے اسے وہم سا گزرا کہ راجو اس کی پیٹھ اور پٹوں کو گھورے جا رہی ہے۔ ایک دم اس نے مڑ کر دیکھا راجو گلی میں چگتے ہوئے مرغی کے چوزوں کو بڑے غور سے دیکھتی ہوئی آ رہی تھی۔ وہ فوراً بولا"یہ چوزے میرے ہیں۔ "


"ہوں گے۔ " راجو بولی۔


مولا اب آنگن میں داخل ہو چکا تھا، بولا "ماں یہ سب گھی خرید لو، میرے مہمان آنے والے ہیں تھوڑے دنوں میں۔ "


راجو نے برتن اتار کر اس کے دہانے پر سے کپڑا کھولا تاکہ بڑھیا گھی سونگھ لے، مگر وہ اندر چلی گئی تھی ترازو لینے اور مولا نے دیکھا کہ راجو کی کنپٹیوں پر سنہرے روئیں ہیں اور اس کی پلکیں یوں کمانوں کی طرح مڑی ہوئی ہیں جیسے اٹھیں گی تو اس کی بھنوؤں کو مس کر لیں گی اور ان پلکوں پر گرد کے ذرے ہیں اور اس کے ناک پر پسینے کے ننھے ننھے سوئی کے ناکے سے قطرے چمک رہے ہیں اور نتھنوں میں کچھ ایسی کیفیت ہے جیسے گھی کے بجاۓ گلاب کے پھول سونگھ رہی ہو۔ اس کے اوپر ہونٹ کی نازک محراب پر بھی پسینہ ہے اور ٹھوڑی اور نچلے ہونٹ کے درمیان ایک تل ہے جو کچھ یوں اچٹا ہوا لگ رہا ہے جیسے پھونک مارنے سے اڑ جاۓ گا۔ کانوں میں چاندی کے بندے انگور کے خوشوں کی طرح لس لس کرتے ہوئے لرز رہے ہیں اور ان بندوں میں اس کے بالوں کی ایک لٹ بے طرح الجھی ہوئی ہے۔ مولے گنڈاسے والے کا جی چاہا کہ وہ بڑی نرمی سے اس لٹ کو چھڑا کر راجو کے کانوں کے پیچھے جما دے یا چھڑا کر یونہی چھوڑ دے یا اسے اپنی ہتھیلی پر پھیلا کر ایک ایک بال کو گننے لگے یا....


ماں ترازو لے کر آئی تو راجو بولی۔ "پہلے دیکھ لے ماسی، رگڑ کے سونگھ لے۔ آج صبح ہی کو تازہ تازہ مکھن گرم کیا تھا۔ پر سونگھ لے پہلے!"


"نہ بیٹی میں تو نہ سونگھوں گی"۔ ماں نے کہا "میرا تو روزہ مکروہ ہوتا ہے!"۔


"لو" مولا نے لٹھ کی ایک طرف گرا دیا۔ پانچوں آہستہ آہستہ ا س کی طرف بڑھنے لگے۔ ہجوم جیسے دیوار سے چمٹ رہ گیا۔ بچے بہت پیچھے ہٹ کر کمہاروں کے آوے پر چڑھ گۓ تھے۔


"کیا بات ہے؟" مولا نے گلے سے پوچھا۔


گلا جواب اس کے پاس پہنچ گیا تھا بولا۔


"تم نے چوھدری مظفر کا مال روکا تھا!"


"ہاں" مولا نے بڑے اطمینان سے کہا۔ "پھر؟"


گلے نے کنکھیوں سے اپنے ساتھیوں کو دیکھا اور گلا صاف کرتے ہوئے بولا۔ چوھدری نے تمہیں اس کا انعام بھیجا ہے اور کہا ہے کہ ہم یہ انعام ان سارے گاؤں والوں کے سامنے تمہارے حوالے کر دیں۔ "


"انعام!" مولا چونکا۔ "آخر بات کیا ہے؟"


گلے نے تڑاخ سے ایک چانٹا مولا کے منہ پر مارا اور پھر بجلی کی سی تیزی سے پیچھے ہٹتے ہوئے بولا۔ "یہ بات ہے۔ "


تڑپ کر مولا نے لٹھ اٹھائی، ڈوبتے ہوئے سورج کی روشنی میں گنڈاسا شعلے کی طرح چمکا، پانچوں نووارد غیر انسانی تیزی سے واپس بھاگے، مگر گلا لاری کے پرلی طرف کنکروں پر پھسل کر گر گیا۔ لپکتا ہوا مولا رک گیا، اٹھا ہوا گنڈاسا جھکا اور جس زاویے پر جھکا تھا وہیں جھکا رہ گیا.... دم بخود ہجوم دیوار سے اچٹ اچٹ کر آگے آ رہا تھا۔ بچے آوے کی راکھ اڑاتے ہوئے اتر آۓ، نورا دکان میں سے باہر آگیا۔


گلے نے اپنی انگلیوں اور پنجوں کو زمین میں یوں گاڑ رکھا تھا۔ جیسے دھرتی کے سینہ میں اتر جانا چاہتا ہے .... اور پھر مولا، جو معلوم ہوتا تھا کچھ دیر کے لۓ سکتے میں آگیا ہے، ایک قدم آگے بڑھا، لٹھ کو دور دکان کے سامنے اپنے کھٹولے کی طرف پھینک دیا اور گلے کو بازو سے پکڑ کر بڑی نرمی سے اٹھاتے ہوئے بولا.... چوھدری کو میرا سلام دینا اور کہنا کہ انعام مل گیا ہے، رسید میں خود پہنچانے آؤ ں گا۔ "


اس نے ہولے ہولے گلے کے کپڑے جھاڑے، اس کے ٹوٹے ہوئے طرے کو سیدھا کیا اور بولا۔ "رسید تم ہی کو دے دیتا پر تمہیں تو دولہا بننا ہے ابھی.... اس لۓ جاؤ، اپنا کام کرو...."


گلا سر جھکاۓ ہولے ہولے چلتا گلی میں مڑ گیا.... مولا آہستہ آہستہ کھاٹ کی طرف بڑھا، جیسے جیسے وہ آگے بڑھ رہا تھا ویسے ویسے لوگوں کے قدم پیچھے ہٹ رہے تھے اور جب اس نے کھاٹ پر بیٹھنا چاہا تو کمہاروں کے آوے کی طرف سے اس کی ماں چیختی چلاتی بھاگتی ہوئی آئی اور مولا کے پاس آ کر نہایت وحشت سے بولنے لگی۔ " تجھے گلے نے تھپڑ مارا اور تو پی گیا چپکے سے! ارے تو تو میرا حلالی بیٹا تھا۔ تیرا گنڈاسا کیوں نہ اٹھا؟ تو نے...." وہ اپنا سر پیٹتے ہوئے اچانک رک گئی اور بہت نرم آواز میں جیسے بہت دور سے بولی۔ "تو تو رو رہا ہے مولے؟"


مولے گنڈاسے والے نے چارپائی پر بیٹھتے ہوئے اپنا ایک بازو آنکھوں پر رگڑا اور لرزتے ہوئے ہونٹوں سے بالکل معصوم بچوں کی طرح ہولے بولا "تو کیا اب روؤں بھی نہیں!"۔

یو ۔ ڈیم ۔ سا لا

افسانہ نگاری ۔۔۔۔۔۔۔ایک ادبی نشست 

اکیسواں افسانہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" یو ۔ڈیم ۔سا لا "

از................................. نعیم بیگ

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پام ڈیرہ بیچ کورنش پر شام کے سائے پھیل رھے تھے۔ نوجوان لڑکےاور لڑکیوں کا ایک ھجوم کورنش کی دیوار کے ساتھ ساتھ چہل قدمی میں مصروف تھا۔ سورج دور سمندر کے اس پار ٹھرے ھوئے پانی کے اندر آہستہ آہستہ آسمان کی وسعتوں پر نارنجی رنگ بکھیرتا ہوا غروب ھو رھا تھا۔ چھوٹے چھوٹے بادل ٹکڑیوں کی صورت میں قطار در قطار تیرتے ھوئے مشرق کی جانب سفر کر رھے تھے۔
کورنش کی تین فٹ اونچی اور کافی چوڑی دیوار پر بیٹھا ایک نوجوان اپنےسامنے اخبار کے چند صفحات پھیلائے پڑھنے میں مصروف تھا۔ پچھلے دو دن سے تو میں دیکھ رھا تھا کہ اس کا معمول تھا وہ شام ھونے سے پہلے اخبارات کا ایک پلندہ اٹھائے کورنش پر آ جاتا۔ پہلے وہ چند منٹ آہستہ آہستہ واک کرتا پھر برسک واک کرتے ھوئے کورنش کے دونوں طرف گھوم کر اپنی مخصوص جگہ پر آ کر بیٹھ جاتا اور اخبار کا مطالعہ کرتا۔
بظاھر شکل سے وہ انڈین لگتا تھا۔ 
پام ڈیرہ بیچ دبئی کے مشہور تجارتی علاقے ڈیرہ میں ھے۔ 
ایک طرف آسمان سے باتیں کرتی ھوئی بلند و بالا عمارتیں جن میں سب سے بڑی عمارت حیات ریجنسی نامی مشہور ھوٹل ھے۔ دوسری طرف سامنے نائف کا بازار اور تجارتی مرکز ۔ لہذا بیچ کورنش پر شام ھوتے ھی سینکڑوں رھائشی اور نوجوان سیاح آ جاتے۔ دوپہر کو البتہ گرمی ھونے کی وجہ سے یہ جگہ تقریباً سنسان ھی رھتی۔
آج جب میں نے اس نوجوان کو دوبارہ دیکھا تو میرے اندر تجسس نے انگڑائی لی اور میں آہستہ آہستہ چلتا ھوا اس کے قریب پہنچ گیا۔
"آپ کے پاس ماچس ھوگی۔" میں نےھچکچاتے ھوئے پوچھا۔
اس نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور انکار کرتے ھوئے سر ہلا دیا اور دوبارہ اخبار میں منہمک ھو گیا۔ میرا تجسس اور بڑھ گیا اور میں اچھل کر اس کے پاس ھی دیوار پر بیٹھ گیا۔
میں ابھی اسی سوچ میں غلطاں تھا کہ کس طرح اس سے بات کی جائے کہ واک کرتے ھوئے قدرے ادھیڑ عمر کے ایک شخص نے اسے چلتے چلتے مخاطب کیا۔
"ھیلو اشوک۔" 
نوجوان نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور جواباً ایک مسکراھٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی۔
"سی یو ٹو مارو۔" یہ کہتا ھوا وہ شخص آگے نکل گیا۔
ھوں تو میرا اندازہ ٹھیک ھی تھا۔ لڑکا انڈین نکلا میں نے دل میں سوچا-
یوں تو دبئی جیسے شہر میں ذات پات145برادری145رنگ و نسل145مذھب اور کسی بھی ملک کا شہری ھونا کوئی خاص بڑی بات نہیں ھے۔ یہاں صرف دو طبقات ھیں۔ ملکی اور غیر ملکی یعنی تارکین وطن۔ ملکی مالک و آقا ھیں اور تارکین وطن چاھے کسی بھی ملک سے ھوں ورکر ھیں۔ یہ سوچ کر اشوک مجھے کچھ اپنا اپنا سا لگا اور میں نے اپنی ھچکچاھٹ دور کرتے ھوئے خود ھی اس سے بات کرنے کی ٹھان لی۔ "اچھا تو تمارا نام اشوک ھے۔ کہاں کے رھنے والے ھو ؟ "
اشوک نے میری طرف دیکھا اور سمجھ گیا کہ میں بات کرنے کے لئے ابتدا کر رھا ھوں لہذا اس نے اخبار ایک طرف کھسکایا اور انگریزی میں بولا۔
"یس۔ آئی ایم اشوک۔ اشوک شری واستری پٹیل اینڈ آئی ایم فرام گجرات انڈیا۔"اعتماد اس کے لہجے میں نمایاں تھا۔ "آئی ایم سوری بٹ مجھ کو اردو نہیں آتا۔ "
"ڈو یو سپیک انگلش؟ اس نے مجھ سے پوچھا۔ 
سچ تو یہ ھے کہ ھمارے ھاں تھوڑی بھت انگریزی تو سبھی بول لیتے ھیں حالانکہ مجھ جیسے گرئجویٹ کو تو انگریزی فر فر آنی چاھئے لیکن ھمارے ھاں ایسا ماحول نہیں ھے۔ لہذا میں بھی ٹوٹی پھوٹی انگریزی ھی بول سکتا ھوں۔
چونکہ مجھے بات کرنی تھی لہذا میں نے اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی کا ھی سہارا لیا۔
"یس آئی سپیک انگلش بٹ ویری لٹل۔ "
اشوک میری طرف دیکھ کر مسکرایا اور بولا ۔ "نو پرابلم145 چلے گا۔ "
"تم کدھر کا ھے؟ "
"میں پاکستان سے ھوں۔ "میرا لہجہ قدرے مایوسانا سا تھا۔ 
"وچ سٹی؟ "
"کالا پل کلوز ٹو لاھور "
"اوہ۔ یو فرام پنجاب۔ آئی لو پنجاب!"
"یس۔یس " میں نے فوراً اپنا اعتماد بحال کرتے ھوئے کہا۔
یہ سنتے ھی اشوک نے اپنا داھنا ھاتھ میری طرف مصافحہ کے لئے بڑھایا اور بولا۔ ویری نائس ٹو سی مائی فرینڈ۔۔۔ " اسے میرا نام جاننے کے لئے خاموش ھونا پڑھا۔ 
"میرا نام ۔ اوہ سوری مائی نیم از منظور علی" اور میں نے اپنا دایاں ھاتھ بڑھا کر اس کا ھاتھ تھام لیا۔ میں نے اس کے مصافحہ میں گرم جوشی کا ایک طوفان سا محسوس کیا اور سچ پوچھئے تو میرے اندر بھی کچھ ایسے ھی جذبات تھے۔ میں کافی دنوں سے دبئی میں رہ رھا تھا لیکن کسی اچھے انسان کی دوستی سے محروم تھا۔
پچھلے چند دنوں سے نوکری کی تلاش نے مجھے تقریباً ادھ موا ھی کر دیا تھا لیکن میں بھی ھمت ھارنے والے انسانوں میں سے نہ تھا لہذا کوشش جاری تھی وہ الگ بات کہ نوکری کی امید اب دن بدن مدھم ھوتی جا رھی تھی۔
"تم کیا کرتا ھے۔"
اشوک کے سوال پر میں خیالوں سے نکل آیا۔ میں نے ایک سگریٹ نکالی اور ماچس کے لئے ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔
"بھائی صاحب۔ ماچس ھو گی۔" میں نے گزرتے ھوئے ایک شخص کو سگریٹ پیتے دیکھ لیا تھا۔ وہ شخص رکا اور مجھے سلگانے کے لئے اپنی سگریٹ پیش کر دی۔ میں نے اپنی سگریٹ سلگائی اسے شکریہ کہا اور دوبارہ اشوک کی طرف متوجہ ھو گیا۔ 
"ابھی تک کچھ نہیں۔ " میں نے مسکراتے ھوئے جواب دیا۔
"اوہ- ویری بیڈ بٹ نو پرابلم۔ دونوں ایک ساتھ ڈھونڈے گا۔ " تب مجھے احساس ھوا کہ وہ اخبار کا مطالعہ اتنی باقاعدگی سے کیوں کرتا ھے۔
"اپنا سٹوری بولو ؟"
لمحے بھر کے لئے مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کہہ رھا ھے پھر ایک چھماکہ سا ھوا۔ 
"میری سٹوری کچھ خاص نہیں۔ لاھور کے قریب کالا پل ھمارا گاؤں ھے ۔ ماں باپ دونوں بوڑھے ھو چکے ھیں۔ ماں بیمار رھتی ھے ایک بہن اور چھوٹا بھائی۔ میں سب سے بڑا ھوں۔ شروع میں باپ کے ساتھ
کھیتی باڑی کی پھر منڈی کا کام کیا پھر لاھور سے گریجوئشن کی اور دو سال نوکری ڈھونڈتا رھا۔ گزارہ تو چلتا تھا لیکن مستقبل نہ تھا۔ ایک دوست کے مشورے پر یہاں چلا آیا۔ باپ نے بیل کی جوڑی بیچ دی اور پیسے دئیے۔ اب سوچتا ھوں کہ اگر یہاں معاملہ نہ بنا تو آگے کیا ھو گا۔"
"بس اپنی تو یہی کہانی ھے۔ فصل کی بوائی کے دن آنے والے ھیں بیل نہ ھوئے تو ابا کھیت کیسے بوئیں گے فِل الحال تو یہی فکر ھے۔"
"سیم ڈیم سٹوری!" اشوک نے قدرے منہ بنا کر کہا۔
"تم بولو۔ تماری کیا کہانی ھے؟" میں نے مسکرا کر پوچھا۔
"سورت معلوم ھے؟"
"سورت؟" میں نے انکار میں سر ھلایا۔
"او-کے آئی ٹیل یو۔"
"گجرات میں سورت کے نام کا ایک بڑا شہر ھے احمد آباد کے قریب ھے زیادہ تر کاروباری لوگ رھتے ھیں۔ ھم لوگ بھی ادھر رھتا ھے۔"
مائی فادر ٹیلر ماسٹر ھے اینڈ آئی ہیٹ دس جاب۔"
"سو آئی ٹولڈ مائی فادر۔ آئی ول ناٹ ورک ایز ٹیلر ماسٹر۔ آئی ڈِڈ مائی ماسٹرز فرام احمدآباد۔ بٹ یو نو اِن انڈیا نو جاب اٹ آل۔پھر مدر بولا آئی گِو یو مائی جیولری یو گو ٹو دبئی۔ پھر ھم یہاں آ گیا۔ "
"یہ سیکنڈ منتھ ھے سٹل نو جاب۔ "
"تو پھر اب گزارہ کیسے کرتے ھو؟ " میں نے پوچھا۔
"ایک دوست کو بیڈ سپیس کا پیسہ دیا فار ٹو منتھ۔ ادھر رہتا ھے۔ شام کو ایک ھوٹل والے سے بات کیا ھے۔ ادھر نائٹ میں اب رات کو دس بجے جائے گا اس کے ھوٹل کا سارا برتن دھوئے گا پھر وہ رات کا کھانا دے گا اور صبح کا ناشتہ۔ بس اب تو ایسے ھی گزارہ کرتا ھے۔"
"تو سارا دن کیا کرتے ھو۔" میں نے رنجیدگی سے پوچھا۔
"بس جاب کا تلاش۔ کبھی اِدھر کبھی اُدھر ۔ شام کو کورنش پر آ جاتا ھے۔ گلف نیوز میں جاب تلاش کرتا ھے اور اپنا بھوک اور پیاس کو رات تک روک کر رکھتا ھے۔"
"بس اب ٹائیم ھونے والا ھے۔ کچھ دیر میں جائے گا کام کرے گا اور کھانا کھائے گا۔"
میں نے کچھ دیر سوچتے ھوئے اس سے کہآ۔
"کیا میں بھی تمارے ساتھ چل سکتا ھوں۔ آئی وِل شیر یور ورک۔"
اشوک نے کچھ عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھا اور بولا۔
"یو۔ڈیم سالا کل رات سے بھوکا پیاسا ھے اور بولتا نہیں ھے۔"
اور آگے بڑھ کر اس نے مجھے گلے لگا لیا۔ ھم دونوں کی آنکھوں میں آنسو تیر رھے تھے۔

June 14, 2013

ادب کا غیر اہم آدمی

از۔۔۔۔۔۔وارث علوی



ایک نظر سے دیکھیے تو ابھی بھی ہمارا معاشرہ فوک کلچر یا لوک سنسکرتی کی منزل سے آگے نہیں بڑھا۔ ادب کا مطلب ہے وہ تخلیق جو تحریر میں آئے، لیکن ابھی بھی ہمارے یہاں اَن پڑھ لوگوں کی تعداد پچاس کروڑ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اردو زبان ہندستانی زبانوں میں چوتھے نمبر پر آتی ہے اور اس کے بولنے والوں کی تعداد دو یا تین کروڑ افراد پر مشتمل ہے۔ لیکن اردو کتاب ہمارے یہاں پانچ سو سے زیادہ نہیں چھپتی اور سو سے زیادہ نہیں بکتی۔ ہمارا معاشرہ کتابیں پڑھنے والے لوگوں کا معاشرہ نہیں ہے۔ مغرب میں تعلیم سو فیصد ہو گئی ہے اور کتابیں پڑھنے والا طبقہ ۷۰ فیصد ہے۔

ایک معنی میں تو مشاعرے کی روایت Oral Literature کی روایت ہی ہے۔ لفظ جب بولا یا گایا جاتا ہے تو اس میں گرد و پیش کی پوری فضا کا رس کس شامل ہو جاتا ہے۔

مشاعرے میں شعر اچھے لگتے ہیں کیوں کہ جگمگاتی رات ہوتی ہے، پروائیاں چلتی ہیں اور شاعر کا دلکش ترنم ہر شعر میں رس گھولتا ہے۔ جن شعروں پر آپ نے رات اچھل اچھل کر داد دی ہے انھیں دوسرے روز تحریری شکل میں پڑھیے، بے جان نظر آئیں گے۔

بھجن کیرتن، کیرول، نعت اور حمد کو عموماً اسی لیے شاعری کے پیمانوں پر پرکھا نہیں جاتا کہ ان میں شاعری کے علاوہ سنگیت، عبادت خانوں کی مقدس فضا اور سامعین کی عقیدت مندی سبھی شامل ہو جاتی ہے۔

وعظ، کتھا اور تقریر کا بھی یہی عالم ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جہالت اور ضعیف الاعتقادی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ہمارے یہاں مہاتماؤں اور مولویوں کا چلن بھی اسی وجہ سے ہے کہ ہمارا معاشرہ کتابوں سے زیادہ گانوں پر بھروسا کرتا ہے۔ ایک اچھے مقرر کی تقریر میں زبان کی روانی، اندازِ بیان کی شگفتگی، خطابت کی دل نشینی، مقرر کی شخصیت کا جادو، اس کی خوب صورت آواز کی طلسمی کیفیت اور اگر جلسہ مذہبی ہوا تو لوبان اور اگربتّی کی خوشبو، شلوکوں اور آیتوں کی قرأت، نعرہ ہائے تحسین و آفرین، ہو حق کی صدائیں اور عقیدت مندانہ جذبات کی فضا بندی کے لیے بیچ بیچ میں بھجن منڈلیوں کی چھیڑی ہوئی تانیں -- یہ سب مل کر تقریر کو ایک غیر ارضی اور آسمانی تجربے میں بدل دیتے ہیں۔ سامعین وجد اور کیف کے عالم میں لفظوں کے سیلاب میں بہتے چلے جاتے ہیں۔ سننے والوں کا پورا تجربہ جذباتی، وجدانی اور جمالیاتی ہوتا ہے، لفظ کا جادو لفظ کے معنی پر غالب آتا ہے اور سننے والا فکر و فلسفہ اور عقل و شعور سے کام لینے کی بجائے آواز کے زیر و بم، لفظوں کی نغمگی اور خطابت کی لذت میں گم ہو جاتا ہے۔

تحریری لفظ تقریری لفظ کے برعکس دعوتِ فکر و نظر دیتا ہے۔ آدمی لکھے ہوئے لفظوں پر ٹھہر سکتا ہے۔ جو بات کہی گئی ہے اس پر غور و فکر کرسکتا ہے۔ لفظی اور معنوی تعلیقات کا تجزیہ کرسکتا ہے۔ اپنی فکر، اپنے شعور، اپنی عقل کو حرکت میں لاسکتا ہے۔ چناں چہ کتاب کا مطالعہ ایک با شعور ذہن کا فعال، حرکی اور جدلیاتی عمل ہے--- ایک ایسا عمل جو ذہن کی تنقیدی صلاحیت کو بروئے کار لاتا ہے۔ اس معنی میں تنقید فی الحقیقت انسانی شخصیت کا اثبات ہے۔ آدمی کہتا ہے تم میرے ذہن کو مغلوب اور مسحور نہیں کرسکتے، اسے مشتعل نہیں کرسکتے، اسے رگید نہیں سکتے۔ مختصر یہ کہ تم میرے ذہن کو غلام نہیں بناسکتے۔

بڑے ادیبوں سے رابطہ عالمی کانفرنسوں میں قائم نہیں ہوتا بلکہ تنہائی اور تخلیہ میں ان کی کتابوں کے پُرسکون مطالعے کے ذریعے ان سے شناسائی حاصل کی جاتی ہے۔ سنجیدہ مطالعے کے لیے ضروری ہے کہ ذہن کھلا ہو، غیر ابر آلود ہو، بیدار اور خلّاق ہو۔ سفید کاغذ پر تو سیاہ حروف ہی بکھرے ہوتے ہیں، لیکن پڑھنے والے کا ذہن ان حروف سے ایک پوری کائنات تخلیق کرتا ہے۔ یہ کائنات شیکسپیئر کی ہوتی ہے اور ملٹن کی، ٹالسٹائی کی اور فلابیر کی، فردوسی کی اور غالبؔ کی، پڑھنے والے کا ذہن با شعور نہ ہو، خلّاق نہ ہو، ناقدانہ نہ ہو تو غالبؔ کے اشعار کاغذ پر بے جان سطروں کی صورت بکھرے رہتے ہیں۔ پڑھنے والے کے ذہن کا لمس پاتے ہی وہ پَر لگا کر اُڑتے ہیں۔ ذہن جتنا بالا نشین ہو گا شعروں کی اُڑان بھی اتنی ہی بلند ہو گی۔

کہا جاتا ہے کہ ہمارے یہاں تخلیق پر تنقید کا غلبہ ہے۔ یہ بات صحیح بھی ہے اور غلط بھی۔ صحیح اس معنی میں کہ تنقید کے نقارخانے میں تخلیق کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ غلط اس معنی میں کہ ہمارے یہاں جتنے نقّادوں کی ضرورت ہے اتنے نظر نہیں آتے۔ انگریزی میں تو ایک شاعر یا ایک ناول نگار پر دس پندرہ کتابیں تو اس کی زندگی میں ہی نکل جاتی ہیں، ہمارے یہاں بیدی، منٹو، عصمت، کرشن چندر، راشد، فیض، سردار جعفری پر ایسی کتنی کتابیں سامنے آئی ہیں جنھیں پڑھ کر محسوس ہو کہ انھیں ان کے مرتبے کے نقّاد ملے۔ جو کتابیں سامنے آئی ہیں انھیں پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ نقّادوں نے اپنا اُلّو سیدھا کیا ہے۔ یعنی شاعر کا حق ادا کیے بغیر اپنی تنقید کا لوہا منوانے کی کوشش کی ہے۔ یہ عموماً وہ لوگ ہوتے ہیں جو ادب کے پُر شوق قاری بنے بغیر پُر مشقت نقّاد بن جاتے ہیں۔ ان کی تنقیدوں میں علم اور اکسپرٹائز بھی ہوتی ہے اور محنت اور مشقت بھی، لیکن وہ بصیرت نہیں ہوتی جو نقّاد کو ادب کے با شعور اور با ذوق مطالعے کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ ان کے مضامین غیر تخیّلی اور غیر تخلیقی ہوتے ہیں۔ عظیم تنقیدوں میں تخیل، تخلیق اور بصیرت کا ایک دھارا ہوتا ہے جس کا سرچشمہ شعر و ادب کا پُر کیف مطالعہ رہا ہے۔ تنقید کا یہی تخلیقی اور وجدانی جوہر خشک عالموں اور بے جان مدرّسوں کو اپنی طرف للچاتا ہے، لیکن یہ جوہر اس وقت تک ہاتھ نہیں آتا جب تک ادبی تجربہ نشہ بن کر حواس پر نہ چھا جائے اور اس شیریں دیوانگی کو جنم نہ دے جو قاری کو مدرسے کی گھٹن آلود فضا سے باہر نکال کر ادب کی دشت نوردی اور آوارگی کی وہ بے پایاں تمنا عطا کرے جس کی تشنگی کبھی بجھنے نہ پائے۔ ڈاکٹریٹ کے مقالوں اور مدرّسانہ مضامین میں انھی کھلی فضاؤں کی روشنی اور خوشبو نہیں ہوتی۔ از کارِ رفتہ علوم اور علمِ بیان کی بوسیدہ کتابوں کی نم آلود روہانسی باس ہوتی ہے۔

ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ نقّادوں نے اپنی اوٹ پٹانگ تنقیدوں اور نظریات کے ذریعے تخلیقی فنکاروں کو یا تو بانجھ کیا ہے یا گمراہ۔ بے شک نظریات کا اثر لکھنے والوں پر پڑتا ہے لیکن عموماً فنکار لکھنے کے گُر نقّادوں سے نہیں بلکہ دوسرے بڑے فنکاروں کے مطالعے کے ذریعے ہی سیکھتا ہے۔ اسی لیے لکھنے والے کے لیے بھی ادب کا قاری ہونا بہت ضروری ہے۔ فنکار قاری کی کوکھ سے ہی پیدا ہوتا ہے اور نقّاد قاری ہی کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ ہمارے یہاں مصیبت یہ ہوئی ہے کہ جیسے ہی لکھنے لکھانے کا کاروبار چل پڑتا ہے تو کیا فنکار اور کیا نقّاد دونوں ادب پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ نتیجہ ایسا ادب اور تنقیدیں ہیں جو ناخواندہ لوگوں کے لیے عموماً نیم خواندہ لوگ لکھتے ہیں۔ ایک با شعور نقّاد ایسی میڈیو کریٹی کے ساتھ کبھی سمجھوتہ نہیں کرتا۔ وہ ہمیشہ حسن و خوبی پر اصرار کرتا ہے۔ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کے تحت وہ خام کار لکھنے والوں کی تعریف نہیں کرتا۔ ایسا کرنے سے ادب کی پرکھ کے معیار بدل جاتے ہیں اور ادبی تصورات کی مستحکم فصیلوں میں شگاف پڑ جاتے ہیں۔ حوصلہ مند لکھنے والوں کا جثّہ اتنا بڑا ہونا چاہیے کہ وہ ان پر ایمان داری سے کی گئی تنقید کو برداشت کرسکیں۔ فنکار خود اپنے فن کا ناقد ہوتا ہے اسی لیے وہ خود نقّاد کی بات سمجھتا ہے۔ اوسط درجے کے لکھنے والوں کا تنقیدی شعور بھی اوسط درجے کا ہوتا ہے۔ اسی لیے یا تو وہ نقّاد پر جھنجھلاتے ہیں یا اس کے نظریات کی اندھی پیروی کرتے ہیں۔ کمزور ذہن ڈی مے گاگ اور آئیڈیو لوگ کی خطابت کا اثر فوراً قبول کرتا ہے۔ اسی لیے ایلیٹ نے کہا ہے کہ ہر ذہن کو ناقدانہ ہونا چاہیے کہ وہ اشتعال انگیز تصورات کے دھارے میں نہ بہہ جائے۔ عام طور پر نسل پرست، فرقہ پرست جماعتوں، سنگھوں اور سیناؤں کے پیرو وہی لوگ ہوتے ہیں جن میں خود تنقیدی کا مادّہ نہیں ہوتا۔ ان کا خمیر ہی پیری اور مریدی کی مٹّی سے بنا ہوتا ہے۔ آتش بیاں مقرر کی شعلہ افشانی ان کے تخیّل کو بھڑکاتی ہے اور ان کا لہو کھول اٹھتا ہے۔ ایک مہذب اور متمدّن آدمی کی نشانیاں کچھ اور ہیں۔ وہ بیدار مغز ہوتا ہے، صوابدید سے کام لیتا ہے۔ مغلوب ہونے کے خوف کے بغیر وہ بڑے تصورات اور نظریات سے آنکھیں چار کرتا ہے۔ فنکار کوئی گود کھلایا بچہ نہیں ہوتا کہ اسے نقّاد کے نظریات سے دور چھوئی موئی کے پودے کی طرح پروان چڑھایا جائے۔ وہ فنکار جسے اپنی تخلیقی ضرورتوں کی آگہی میسر ہے وہ اپنی راہ آپ بناتا ہے۔

کیا تنقید کا درجہ تخلیق سے کمتر ہے؟ کیا تنقید تخلیق کی نعلین بردار ہے؟ کیا نقّاد ادب کا غیر اہم آدمی ہے؟

سماجیات ہو یا نفسیات، لسانیات ہو یا علم اساطیر، علوم کے مختلف شعبوں میں جو کچھ بہترین سوچا گیا ہے، تنقید اسے اپنے اندر سموتی ہے۔ اس معنی میں تنقید جہانِ افکار ہے جس کی سیاحت ولولہ خیز ثابت ہوتی ہے۔ تنقید ادب کا تذکرہ ہے اور ذکرِ یار وصلِ یار کا لطف رکھتا ہے۔ اسی لیے تنقید شعر و ادب کے شوق کو انگیز کرتی ہے، ذوق کو نکھارتی ہے اور جذبۂ تجسس کو دھار دار بناتی ہے۔ تنقید ماضی کے ادب میں ہماری دل چسپی برقرار رکھتی ہے اور شاعروں کو قعرِ فراموش گاری میں گرنے سے محفوظ رکھتی ہے۔ قدیم شعرا میں فن اور معنی کی نئی جہات دریافت کر کے ان پر جمی ہوئی فرسودگی کی گرد دور کرتی ہے اور انھیں ایک نئی تازگی اور توانائی عطا کرتی ہے۔ ادب خلوت کا مشغلہ ہے لیکن قاری کے ذہن میں محفلیں برہم کرتا ہے۔ تنقید ادب کی بزم آرائی ہے، ان محفلوں اور ہنگاموں کا بیان جو قاری کے ذہن میں برپا ہوتے رہتے ہیں۔ تنقید وہ سرِّ دلبراں ہے جو منبر پر فاش کیا جاتا ہے، وہ وعظ ہے جو راز کی صورت راز دانوں کو سنایا جاتا ہے۔ تنقید تخیّل کی تخلیق کردہ جادو نگری کی سیر ہے، جہانِ افکار کی سیاحت ہے، ماضی کے کھنڈروں میں زندہ تجربات کی تلاش ہے، شعر کی مئے دو آتشہ کی سرشاری اور سرمستی کا بیان ہے--- لفظ کی کسوٹی زبان کی پرکھ اور معنی کا پیمانہ ہے۔ تنقید سے ادب میں گفتگو کا سلسلہ جاری رہتا ہے ورنہ ہر قاری اپنی پسند، اپنے تجربے اور اپنے مطالعے کا زندانی بن جائے۔ تنقید رابطہ ہے قاری اور قاری کے بیچ، قاری اور فنکار کے بیچ اور نقّاد اور فنکار کے درمیان۔ اپنی آخری شکل میں تنقید گفتگو ہے--- اہلِ علم کی اہلِ علم سے، اہلِ دل کی اہلِ دل سے، خوش طبعی ہے یاروں کے بیچ، بے تکلفی ہے احباب کے درمیان، بحث و تکرار ہے ہم مشربوں سے، چھینا جھپٹی ہے مخالفوں سے، پھکڑ اور ٹھٹھول ہے حریفوں سے، آپ کچھ بھی کہیے، ادب میں ہنگامہ آرائی، چہل پہل اور گرما گرمی کی پہچان تنقید کے مزاج ہی پر قائم ہے۔

حاصلِ کلام یہ کہ تنقید تخلیق کی نعلین بردار نہیں بلکہ ہم رکاب، ہم جلیس اور ہم سخن ہے۔ وہ تخلیق کی روح کی گہرائیوں میں اُترتی ہے اور اس کے نہفتہ اسرار بے نقاب کرتی ہے۔ وہ اس کی ہر دھڑکن کو سنتی ہے، لطیف سے لطیف لرزشوں کو محسوس کرتی ہے اور عظیم ترین اُڑانوں میں اس کے ساتھ محوِ پرواز ہوتی ہے۔ تنقید تخلیق کے اُڑن کھٹولے کا پایہ پکڑ کر عظیم تخیّل کے اندر لوک کی سیاحت کرتی ہے۔ اسی لیے بڑے فنکاروں کے نقّاد بھی بڑے ہوتے ہیں۔ شیکسپیئر، دستووسکی، فلابیر اور ایلیٹ کے نقّادوں کا تفکّر، علم، بصیرت اور ژرف نگاہی کا تجربہ شیکسپیئر کے ڈراموں اور ایلیٹ کی شاعری کے تجربے سے مختلف سہی، لیکن کم ہوش رُبا، فکر انگیز اور بصیرت افروز ثابت نہیں ہوتا۔ بے شک تخلیق تجربۂ حسن ہے جو تنقید نہیں ہوتی۔ تخلیق کا تجربہ جمالیاتی ہے، تنقید کا دانشورانہ۔ لیکن خیال کا بھی اپنا حسن ہوتا ہے اور اظہارِ خیال کا بھی۔ دونوں مل کر تنقید کو وہ حسن اور شگفتگی عطا کرتے ہیں جو عموماً خشک مکتبی اور مدرّسانہ کتابوں میں نہیں ہوتی۔ تنقید چوں کہ عظیم فن پاروں اور فنکاروں سے تعلق رکھتی ہے اس لیے ان کے متعلق خیال آرائی کا اپنا ایک حسن ہوتا ہے جو اپنا حسنِ بیان لے کر آتا ہے۔

بے شک نقّاد کو وہ بلند مقام حاصل نہیں ہوتا جو مثلاً غالبؔ اور اقبالؔ جیسے تخلیقی فنکاروں کو ملتا ہے۔ لیکن غالبؔ اور اقبالؔ کے مقابلے میں اُن ہزارہا شاعروں کی بھی کیا اہمیت ہے جن کے دیوان قعرِ فراموشی میں پڑے ہوئے ہیں۔ انھیں تو یہ تسکین بھی حاصل نہیں جو نقّاد کو حاصل ہوتی ہے کہ غالبؔ اور اقبالؔ کا مطالعہ کرنے والے لوگ اپنی مشکلات کو دور کرنے کے لیے یا شاعری کی تحسین و تفہیم کی خاطر یا اُن کے خیالات اور تصورات کی گہرائیوں کا شعور حاصل کرنے کے لیے ان تنقیدوں کو بھی ضرور پڑھیں گے جو تعمّق نگاہ، وسیع مطالعہ اور طویل عرصے پر پھیلی ہوئی دانشورانہ ریاضت کا ثمر ہے۔ ادب کا مطالعہ نہ تو مشاعرے کی آہ اور واہ ہے نہ ریل گاڑی میں ناول کا پڑھنا۔ مطالعہ ذہن کی اعلا ترین سرگرمی ہونے کے سبب حرکی اور جدلیاتی ہے، فکر انگیز، بصیرت افروز اور معلومات افزا ہے۔ اسی لیے مطالعہ ایک مفکرانہ اور ناقدانہ عمل ہے۔ ایک نہیں ہزارہا پہلو ہیں غالبؔ کی زندگی، شخصیت اور شاعری کے جو زندگی بھر غالبؔ کے پرستار کو رشتۂ شوق میں باندھے رکھتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ آپ نے دیوانِ غالب کو دو چار بار پڑھ لیا تو چھٹی ہو گئی، اسے تو آدمی زندگی بھر پڑھتا رہتا ہے اور ان مضامین اور کتابوں کو بھی جو لگاتار اس پر لکھی جاتی ہیں کیوں کہ ہر نسل اور ہر ذہن اپنے میلانِ طبع کے مطابق غالبؔ کی نئی جہات اور نئی پہنائیوں کا انکشاف کرتا ہے۔ دیوانِ غالب وہ سورج ہے جس کے اِرد گرد غالبیات کے تابناک سیّارے محوِ گردش ہیں اور یہ پورا سورج منڈل غالبؔ کے پرستار کی ذہنی فضاؤں میں مدام محوِ سفر رہتا ہے۔ لگ بھگ یہی عالم تمام بڑے فنکاروں کا ہے۔ فنکار آتا تو ہے تنہا درویش کی مانند اور دل کے کواڑ پر دستک دیتا ہے، لیکن خانۂ دل میں براجمان ہوتے ہی ورودِ درویشانہ جلوسِ شاہانہ میں بدل جاتا ہے۔ تخیّلات کے جھاڑ فانوس روشن ہو جاتے ہیں اور جلیسوں کی افکار و آرا سے سقف و بام گونج اُٹھتے ہیں۔ اعلا تنقیدی کارناموں کی چمک تو ہمیشہ قائم رہتی ہے لیکن وہ تنقیدیں جو فرسودہ اور از کارِ رفتہ ہو جاتی ہیں وہ بھی بجھے ہوئے ستاروں کی مانند اپنی Orbit میں حرکت کرتی رہتی ہیں اور غالبؔ کی شعری کائنات کا سیّاح اس پر بھی ایک نگاہِ شوق ڈال لیتا ہے کہ اس بجھے ستارے پر بھی ایک بڑے فنکار کے تخیّل کی روشنی کی چھوٹ پڑتی تھی۔

وہ جو بزعمِ خود خود کو تخلیقی فنکار سمجھتے ہیں انھیں جاننا چاہیے کہ معمولی اشعار اور افسانے ان ذرّات کی مانند ہیں جو خلا میں روشن ہوئے بغیر ہی معدوم ہو جاتے ہیں۔ مالک رام نے غالبؔ کے کتنے شاگردوں اور ان کے کلام کا کھوج لگایا ہے۔ وہ لوگ تو غالبؔ کے سورج منڈل کا اتنا بھی حصہ نہیں جتنے کہ خود مالک رام ہیں۔ کون ہے جس نے ان شاعروں کے کلام کا سرسری مطالعہ بھی کیا ہو، جب کہ مالک رام نے جو لفظ بھی غالبؔ کے متعلق لکھا وہ غالبؔ کے چاہنے والوں کی آنکھ کا سرمہ بنا۔

تخلیق معجزہ ہوتی ہے، تنقید نہیں ہوتی۔ لیکن آرٹ کے معجزے جاٹوں کو نہیں دکھائے جاتے کہ انھیں تو شعبدوں سے بھی خیرہ کیا جاسکتا ہے۔ ادب اسی معنی میں فوک لٹریچر سے زیادہ سوفسطائی ہوتا ہے۔ وہ اپنے مقابل ایک ذہین، درّاک، نستعلیق اور سوچتا ہوا ذہن چاہتا ہے۔ یہ ذہن اس قاری کا ہوتا ہے جو پیشہ ور نقّاد نہ ہونے کے با وصف نقد و نظر کی صلاحیت سے متّصف ہوتا ہے۔ دوسروں کے لیے مقبولِ عام لٹریچر کا نشہ کافی ہے۔ تنقید معجزہ نہیں ہوتی لیکن معجزوں کی شاہد اور رمز شناس ہوتی ہے۔ تخلیق تنقید کی حاجت مند نہیں ہوتی لیکن وہ سخن ناشناسوں کی جنت کی بجائے سخن شناسوں کے عذابِ دانش کی فضا میں جینا پسند کرتی ہے۔

تنقید تخلیق کے حضور منکسر اور حلیم ہوتی ہے کیوں کہ وہ آرٹ کے جادو کو پہچانتی ہے۔ تخلیق فطری طور پر تنقید کی حرف گیری کو پسند نہیں کرتی۔ تخلیقی فنکار کے نزدیک نقّاد وہ آدمی ہے جو بطور فنکار کے ناکام ہوا ہے اور اس لیے پیشۂ نقد اختیار کیا ہے۔ نقّاد شاہی حرم کا وہ خواجہ سرا ہے جو اختلاط کے سب گُر جانتا ہے لیکن خود کچھ کر نہیں سکتا۔ دراصل تنقید اس وقت تک دل آزاری سے بچ نہیں سکتی جب تک وہ مدح و تحسین کو اپنا شعار نہ بنائے لیکن اس صورت میں نقّاد نیلام کرنے والا بن جاتا ہے جو ہر چیز کی تعریف کرتا ہے اور فنکاروں کو بھی وہ نقّاد پسند نہیں آتا جو سب کے لیے ایک سی باتیں ایک سی زبان میں کرتا ہے اور گھوڑوں اور گدھوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتا ہے۔ جوہر شناسی نہ ہو تو تنقید دو کوڑی کی ہے اور جوہر شناسی فطری طور پر مذاقِ سخن کی شائستگی، بلند جبینی، انتخابیت، عمدگی اور سوفسطائیت کو جنم دیتی ہے جو نقّاد کی شخصیت کو مقبولِ عام فنکاروں کے مقابلے میں نسبتاً کم دل پسند بناتی ہے۔ صرف خلوص اور اپنی ذات سے ایمانداری ہی نقّاد کو نخوت، دل آزاری، احساسِ برتری، عالمانہ پندار، حقارت، چڑچڑے پن اور اکڑفوں سے بچا سکتی ہے---- اور اپنی ذات سے ایمان داری کا مطلب ہے اپنے اندر اس قاری کو زندہ رکھنا جو آرٹ کی جادو نگری کا تماشا بچّے کی حیرت زدہ آنکھ سے کرتا ہے۔ مختصر یہ کہ ہر نوع کے پوز سے احتراز کرتا---- پوز چاہے علمیت کا ہو یا اکسپرٹائز کا۔ 

تنقید کے برعکس شعر و ادب کی دنیا میں معمولی تخلیق بھی اعلا تخلیق کے سامنے پُر نخوت ہوتی ہے کیوں کہ وہ اپنے شعبدے کو بھی آرٹ کا معجزہ سمجھتی ہے۔ ادب کی سرزمین میں ہر بونا باون گزا ہونے کے فریب میں مبتلا ہے اور مشاعروں اور فلموں کی مقبولیت اس کی خود فریبی میں اضافہ کرتی ہے۔ تنقید جب یہ فریب کھانے سے انکار کرتی ہے تو وہ جھلّاتا ہے اور کہتا ہے کہ بہرصورت تخلیق تنقید سے افضل ہے۔ بے شک ہے، لیکن اس سے یہ کہاں لازم آتا ہے کہ ایک معمولی نظم، ناول یا افسانہ ایک غیر معمولی تنقیدی تحریر پر فضیلت رکھتا ہو۔ ان ہزارہا شاعروں کے دیوان کہاں ہیں جن کے نام ہم تذکروں میں پڑھتے ہیں۔ اور ایک 146مقدمۂ شعر و شاعری145 ہے جس نے ہزاروں ذہنوں کو جلا بخشی۔ تنقید ہو یا تخلیق اس میں دیکھا تو یہی جاتا ہے کہ کون سے ذہن کی کارفرمائی ہے۔ فنّی تخلیق غیر معمولی تخیّلی قوت کی متقاضی ہوتی ہے جو میسر نہ آئے تو افسانہ ہو یا نظم اس ہوائی جہاز کی مانند ہے جو رَن وے پر دوڑتا ہے لیکن اُڑ نہیں پاتا۔ اُڑان نہ بھرے تو ہوائی جہاز اور بیل گاڑی میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔ بہت سے ناول اور افسانے ہیں جن میں پلاٹ، کردار، واقعہ نگاری، زبان کی چاشنی اور بہت سا مرچ مسالہ ہوتا ہے، لیکن ناکام رہتے ہیں کیوں کہ دوڑتے ہیں لیکن ٹیک آف نہیں کرتے۔ اگر اُڑان بھرتے بھی ہیں تو ٹوٹ کر پاش پاش ہو جاتے ہیں کیوں کہ ہوائی جہاز معمولی سا تکنیکی سقم بھی برداشت نہیں کر پاتا۔

تنقید اس معاملے میں بیل گاڑی ہی کی مانند سخت جان ہے۔ اول تو اسے ہوائی جہاز ہونے کا دعویٰ نہیں۔ وہ اپنی ہچرمچر چال چلتی رہتی ہے۔ دیکھا کہ فکر کے گڑھے میں پہیا پھنس گیا ہے تو دو چار فلسفیوں کو بلا لیا کہ لگاؤ دھکّا۔ نظریے کی لاش بھاری ہو گئی ہے تو دو چار نقّادوں کو کندھا دینے کے لیے آواز دے دی۔ پانچ دس اشعار کو غل غپاڑہ مچانے والے چھوکروں کی طرح جمع کر لیا اور ان کے شور شرابے میں شاعر کا جلوسِ بیل گاڑانہ آگے بڑھ گیا۔

تخلیق چوں کہ ایک اکائی ہوتی ہے، ہیئتی وحدت کی متقاضی اور فنکارانہ تکمیل کی جویا، اس لیے ایطائے خفی اور ایطائے جلی جیسی چھوٹی موٹی بیماریاں بھی اس کے لیے مہلک ثابت ہوتی ہیں۔ تنقید اس معاملے میں کافی مضبوط کاٹھی کی ہے۔ بڑی بڑی بیماریوں کو جھیل جاتی ہے۔ اس کی طبعی بیماری ضیق النفسی ہے جس میں لکھنے اور پڑھنے والوں کا سانس پھولتا رہتا ہے، لیکن ضیق النفسی میں آدمی جیتا بہت ہے۔ نقّاد اگر اپنی کتاب میں مر جاتا ہے تو دوسرے نقّادوں کی کتاب میں زندہ رہتا ہے کیوں کہ اس کا ذکر نقّادوں کو بہ بدی منظور ہوتا ہے۔ پھر اختلافِ رائے نہ ہو تو تنقید ایک ایسا اکھاڑا ہے جس میں ورزش سب کرتے ہیں کشتی کوئی نہیں لڑتا اور کشتی نہ ہو تو طاقت کا اندازہ نہیں ہوتا۔ طاقتور نقّاد نقّادوں سے لڑتا ہے، کمزور نقّاد کمزور شاعروں پر برستا ہے۔ طاقتور نقّاد کمزور شاعروں کا ذکر رواداری سے کرتا ہے۔ ان پر اس کی کتاب کتبہ ثابت ہوتی ہے۔ وہ ادب میں مر جاتے ہیں لیکن اُن کتابوں میں زندہ رہتے ہیں جو انھیں حیاتِ جاوداں بخشنے کے کام میں خود جاں بحق ہو گئیں۔

تخلیق کی دنیا میں معمولی صلاحیت کے لوگ معمولی رہتے ہیں۔ فنکاری محض الہام و وجدان نہیں بلکہ جگر کاوی اور عرق ریزی بھی ہے، لیکن تخلیقی صلاحیت نہ ہو تو عرق ریزی رائیگاں ہے۔ تنقید میں الہام و وجدان جیسی کوئی چیز ہے تو وہ بصیرت ہے جو بجلی کے کوندے کی طرح نقّاد پر فن پارے کی معنویت اور فنی رموز منکشف کر دیتی ہے، لیکن بصیرت کا یہ کوندا انھیں گھنگھور گھٹاؤں میں لپکتا ہے جو جگر کاوی میں ڈوبے ہوئے نقّاد کے خونِ گرم سے اُٹھتی ہیں۔ بصیرت کے بغیر تنقید بھی رائیگاں ہے لیکن کوندا لپکے یا نہ لپکے، گھنگھور گھٹاؤں کا اپنا ایک لطف ہے۔ خصوصاً جب بدلیوں سے علم کی پھوار برسنے لگے تو ذہن سیراب ہوتا ہے۔ فنکار زندگی کے مشاہدے کو تخیّل کے ذریعے ایک فنکارانہ تجربے میں بدل دیتا ہے اور اس تجربے میں زندگی کی حقیقت بھی ہوتی ہے، فنکار کی بصیرت بھی اور آرٹ کا حسن بھی۔ نقّاد ادب کے مطالعے کو اپنے علم و دانش کے ذریعے ایک ناقدانہ تجربے میں بدلتا ہے اور اس تجربے میں نقّاد کا علم، بصیرت اور ذہانت فن پارے کی معنویت اور حسن کاری کی کسوٹی بنتی ہے۔ فنکار کے لیے زندگی کا مشاہدہ ضروری ہے اور وہ آنکھ بھی جو ہر رنگ میں وا ہو جاتی ہے لیکن فنکار مشاہدے اور تجربے کی کمی کو اپنے تخیّل کی طاقت سے پورا کرسکتا ہے۔ جتنے تجربات اور مشاہدات شیکسپیئر کے ڈراموں، ٹالسٹائی کے ناولوں اور چیخوف اور موپاساں کے افسانوں میں بیان ہوئے ہیں انھیں حقیقی زندگی میں حاصل کرنے کے لیے فنکار کو سات جنم لینے پڑیں گے۔ نقّاد کے پاس تخلیقی تخیّل کی یہ قوت نہیں ہوتی اور اگر ہو بھی تو اس کے کام نہیں لگتی کیوں کہ وہ فن پارے کے فریم ورک میں قیدم ہوتا ہے۔ اسے وہی دیکھنا اور سمجھنا ہوتا ہے جو فن پارے میں موجود ہوتا ہے۔ اگر اسے کرداروں کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے تو وہ دوسرے ڈراموں اور ناولوں کے کرداروں کے ساتھ کرتا ہے، جس کے لیے ضروری ہے کہ اس کا ادب کا مطالعہ وسیع اور ژرف بیں ہو۔

فنکاری تخیّل کی سحر آفرینی ہے۔ شعر و ادب کی دنیا میں جادو وہی جو سر پر چڑھ کر بولے، ورنہ شعبدہ ہے، کرتب ہے، ہاتھ کی چالاکی ہے۔ تنقید تخیّلی کرشمہ سازی کی دعویدار نہیں تو تخلیق کے ساتھ اس کا مقابلہ بے معنی ہے، تخلیق کے ساتھ اس کا رشتہ دیکھنا چاہیے اور یہ رشتہ تحسین، تفہیم، پرکھ اور دریافت کا ہے۔ تخلیق خام یا ناکام ہوتی ہے تو دریا برد ہوتی ہے اور بچنے کے لیے نقّادوں کی طرف ہاتھ پاؤں پارتی ہے۔ نقّاد--- ادب کا وہ تپسّوی جو علم کی لنگوٹی پہنے نظریے کی ایک ٹانگ پر کھڑا اس تیسری آنکھ کے کھلنے کا منتظر ہے جو خاشاک کے تودے میں دماوند دیکھتی ہے، ایک تنکا اس کی طرف پھینک دیتا ہے۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا اسے مزید ڈبوتا ہے۔ تخلیق جب ڈوبتی ہے تو تنقید کو بھی اپنے ساتھ لے ڈوبتی ہے، جو دنیائے ادب کو خس و خاشاک سے پاک رکھنے کا قدرت کا اپنا طریقہ ہے۔

تنقید پر بڑی ذمہ داری آ پڑتی ہے جب اسے باصلاحیت، کم صلاحیت اور بے صلاحیت لکھنے والوں کے درمیان تمیز کرنی پڑتی ہے۔ اس میں وہ ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتی کیوں کہ مذاقِ سلیم کا معاملہ بھینس اور بھاگوت کے بیچ فرق کرنے کا نہیں بلکہ نفیس ترین انگوری شراب کو نوکِ زبان سے چکھ کر اس کی کشید اور کیفیت متعین کرنے اور اسے دوسری دو آتشہ اور سہ آتشہ سے ممیز کرنے کا ہے۔ تنقید ٹھرّا نوشی سے پرہیز کرتی ہے کیوں کہ اس سے زبان کا احساس کند ہوتا ہے۔ لیکن ادب کے انگور کی کاشت ہی میں خرابی آ گئی ہے، پتا نہیں شاید اس کھاد کے سبب جو علامات اور اساطیر کے ملغوبوں سے تیّار ہوئی ہے۔ وہ جرعاتِ ادب جو سامنے آرہے ہیں اور جنھیں نوکِ زبان سے چھوئے بغیر ناک بند کیے براہِ راست گلے میں انڈیلنا پڑتا ہے وہ سرور کم اور دردِ سر زیادہ دیتے ہیں۔ ان پر نقّاد کی تنقیدیں پڑھ کر دردِ سر تو دور ہو جاتا ہے لیکن دنیا سے دل اچاٹ ہو جاتا ہے۔ کیا فائدہ اس دنیا میں رہنے کا جس میں آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے زبان اسے جھٹلاتی ہے۔

کیا تنقید مسیحا نفسی کی دعویدار ہے؟ کیا اس کی شرح و تعبیر، معنی آفرینی، تحسین و تعریف سے مردہ شعر جی اٹھتے ہیں ؟ اگر تنقید کے پاس یہ طاقت ہے تو کلیاتِ میر جو ادھر اُدھر نخلستانوں کے ساتھ لق و دق صحرا کا منظر پیش کرتا ہے، پھولوں سے مہکتی سرسبز و شاداب وادی بن جائے۔ پھر تو وہ ہزاروں اردو شعرا جو تذکروں کے چھوٹے بڑے قبرستانوں میں خوابِ ابد کی نیند سو رہے ہیں، جاگ اُٹھیں اور ان کے ہاتھ میں ان کا کتبہ ایسی کتاب بن جائے جس کی ہر غزل کا ہر شعر کرشمہ دامنِ دل می کشد کہ جا اینجا ست کا منظر پیش کرے۔ آج کل جس دھڑا دھڑ انداز میں افسانوں کے تجزیے ہو رہے ہیں وہ بھی نقّاد کی مسیحا نفسی کے بھرم کی شہادت دیتے ہیں۔ نقّاد افسانے کے منہ سے منہ بھڑائے ہانپتے ہوئے اس میں سانس بھر رہا ہے، اس کے سینے پر گھونسے مار رہا ہے تاکہ افسانے کا قلب جو پیدا ہوتے ہی بند ہو گیا تھا نقّاد کی نفسا نفسی سے پھر سے حرکت میں آ جائے۔ مسیحائی کے روپ میں بھی نقّاد کو احتیاط لازم ہے کہ اکثر جانِ ناتواں دمِ عیسیٰ بھی برداشت نہیں کرپاتی۔

لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ نقّاد صرف مقتدر لوگوں پر لکھا کرے۔ مقتدر لوگوں کو اس کی تنقید کی ضرورت نہیں کہ وہ تو اپنا لوہا منوا چکے۔ وہ اُبھرتے ہوئے فنکار جن کا صیقلِ آئینۂ فن یک الف بیش نہیں اس کی توجہ کے زیادہ مستحق ہیں کہ عام بے توجہی کا شکار ہونے سے انھیں ہمدردانہ تنقید بچا سکتی ہے۔ لیکن یہاں بھی تنقید کو تنقید ہی رہنا چاہیے جو بے جا تعریف اور بونے کو باون گزا ثابت کرنے سے مختلف مزاج کی حامل ہوتی ہے۔ نااہلوں پر لکھنا تنقید نہیں کیوں کہ تنقید کا پہلا کام تو اہلیت اور صلاحیت کی شناخت ہی ہے۔ شناخت کے بعد اس کی نگہداشت اور پرورش ہے جو پھر ایک ناقدانہ عمل ہے جس میں سرپرستی اور سرزنش باہم پیوست ہوتے ہیں۔

سرزنش کا مطلب معائب بیان کرنا نہیں ہے۔ دراصل ہماری شاعری نے زبان و بیان کی اغلاط اور معائب کی گرفت کرنے والی تنقید کی جو روایت قائم کی ہے اس نے سرزنش کو عیب جوئی کے مترادف بنادیا ہے، حالاں کہ سرزنش کا مطلب ہے فنکار کو وسیع تر معنی میں آدابِ فن کی طرف متوجہ کرنا۔ اس کے تخلیقی تخیّل کے لیے لامحدود جولانگاہوں کی نشاندہی کرنا، اسے یہ جتلانا کہ اندرین حالات اس کے فن کو موضوع اور ہیئت کی تنگ دامنی، سہل انگاری اور گھٹن کے کون سے خدشات درپیش ہیں اور کیوں ؟

ہمدردانہ طور پر کوتاہیوں اور کمزوریوں کا بیان حوصلہ شکنی نہیں ہے۔ حوصلہ افزائی کے اعتذار کے تحت کمزوریوں اور کوتاہیوں سے چشم پوشی تنقید کے فرائضِ منصبی کی ادائیگی سے گریز کے ہم معنی ہے۔ زبان کی اغلاط کے بیان میں نقّاد کی زبان دانی کی نمائش فنکار کی قیمت پر ہوتی ہے۔ یہ تنقید ان نقّادوں کا من بھاتا کھاجا ہے جو فنکار کی قیمت پر اپنی قدر منوانا چاہتے ہیں۔ وہ بتانا یہ نہیں چاہتے کہ بڑے سے بڑے شاعر کے یہاں بھی زبان و بیان کی غلطیاں ہوتی ہیں بلکہ یہ بتاتے ہیں کہ ان کا زبان کا علم ان شعرا سے زیادہ مستحکم ہے۔ اور جب یہ شاعر انھیں طبعاً پسند نہ ہوں مثلاً جوشؔ ان کے نزدیک لفّاظ، فراقؔ روایت سے بیگانہ اور فیضؔ سیاسی دائرے کا اسیر ہو تو، انھیں خاک بسر کر کے خود کو سرفراز کرنے کا تنقید ایک ناگوار ہتھکنڈا بن جاتی ہے۔ اسی لیے بت پرستی اور بت شکنی تنقید کو راس نہیں آتے۔ دونوں میں نقّاد اپنی ہی شخصیت کا زندانی ہے، آرتی اُتارتے وقت اور گرز چلاتے وقت توجہ اپنی ہی طرف کھینچتا ہے جب کہ تنقید میں نقّاد اپنی شخصیت کو فنکار میں فنا کرتا ہے کیوں کہ نقّاد اس خس کی مانند ہے جو گلخن میں فنا ہو کر ہی اپنی روشنی پاتا ہے۔

تنقید چاہتی ہے کہ اسے فن پارے کے حسن کا راز معلوم ہو جائے لیکن حسن چوں کہ اپنی فطرت ہی میں پُراسرار ہے اس لیے راز راز ہی رہتا ہے۔ دنیا کی ہر زبان میں فنِ شعر کے اصول اور قواعد پر مشتمل علوم کی ایک تاریخ ہوتی ہے، لیکن ان علوم کے ماہرین نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ شعر کے حسن کا راز آہنگ میں ہے یا معنی میں، یا ردیف و قافیہ یا صنائع لفظی یا معنوی میں ہے۔ ان اجزا کا حسین استعمال محاسنِ شعری کا سبب ہوسکتا ہے اور کوئی ایک خوبی حسنِ شعر کا سبب بھی ہوسکتی ہے لیکن کلّی حیثیت سے شعر کا حسن اس کے تمام اوصاف کا مجموعہ بھی ہو گا اور ہمیشہ ان اوصاف سے کچھ نہ کچھ زیادہ ہو گا۔ یہ کچھ نہ کچھ زیادہ ہی وہ طلسمی کیفیت ہے جو ماورائے سخن رہتی ہے۔ جو کچھ سخن میں ہے وہ بیان کیا جاسکتا ہے لیکن جو ماورائے سخن ہے اسے محسوس کیا جاسکتا ہے لیکن بیان نہیں کیا جاسکتا۔ یہ وہ عجز ہے جو تنقید کو فن پارے کے حسن کے حضور شوخ چشمی اور گستاخانہ داروگیر کی بجائے نظاّرگی کے آداب سکھاتا ہے۔ جدید تنقید کا یہ دعویٰ کہ اسے حسنِ شعر کا راز لفظ کے آہنگ یا اس کے جدلیاتی استعمال میں مل گیا ہے نقّاد کو دانائے راز کا امیج دینے کی ایسی دلیرانہ کوشش ہے جس کی تنقید کبھی دعویدار نہیں رہی۔

سمجھ دار نقّاد وہ ہے کہ اگر اسے کسی علم میں مہارت ہے تو وہ اس مہارت کا استعمال تنقید کو وسعت اور گہرائی عطا کرنے میں کرے گا، نہ کہ اپنی اس مہارت کو واحد یا حتمی یا مطلق طریقۂ کار کے طور پر پیش کرے گا۔ لسانیاتی اور صوتیاتی تنقید کے خلاف جو ہمارے یہاں بعض حلقوں میں شدید ردِّ عمل پیدا ہوا وہ اسی سبب سے تھا کہ اس تنقید نے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ دورِ جدید میں شعریات کی بوطیقا اسی کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق متعین ہو گی اور اسی کے طریقۂ کار کے ذریعے شاعری کے جوہر تک رسائی ممکن ہو گی اور صرف اسی کا نظامِ تنقید صائب ہے باقی جو کچھ ہے نری صحافت اور لفاظی ہے۔ اس مقصد کے لیے جدید تنقید نے معنی، موضوع، خیال اور شعری مظروف کو پایۂ اعتبار سے خارج کیا اور الفاظ اور اصوات اور لفظی انسلاکات کا ایسا جھمیلا کھڑا کیا گویا لفظ کی نباضی روحِ شاعری کا پہلا اور آخری زینہ ہے۔ ناول اور افسانہ کی تنقید میں بھی زبان اور اسلوب، استعارہ اور اسطور پر اتنا زور دیا گیا کہ کہانی کردار، پلاٹ، واقعہ نگاری، نفسیات، سماجیات، اخلاقیات اور نقطۂ نظر کو موضوعِ بحث بنانے والا نقّاد خود کو دقیانوس کے زمانے کا سمجھنے لگا۔ ان لوگوں کا طنطنہ ایسا تھا کہ ہزاروں سال سے تنقید شاعری کے جس راز کو پانے میں کوشاں تھی، گویا وہ اب ان کے ہاتھ لگ گیا ہے۔ چناں چہ ان کے بعد کوئی یہ سوال نہیں پوچھے گا کہ شاعری اپنا جادو کیسے پیدا کرتی ہے۔ اس کا جواب ہے الفاظ کے ذریعے، اصوات کے ذریعے، لفظوں کے انسلاکات کے ذریعے۔ کاش ایسا ہوتا، لیکن جیساکہ گیان چند نے اپنے نہایت ہی بصیرت افروز مضامین میں مسعود حسین خاں سے اختلاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شاعری میں جن حروف سے سخت اور کھردرا آہنگ پیدا کیا جاتا ہے، انھی سے نرم اور سبک آہنگ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔ لہٰذا اصوات کی بنا پر ایسے کوئی اٹل اصول نہیں بنائے جاسکتے جن کی بنا پر حسنِ شعر کا حتمی حکم لگایا جاسکے۔ اگر صوتیاتی تنقید اپنا دائرہ آہنگِ شعر کے مطالعے تک محدود رکھتی تو کوئی مضائقہ نہیں تھا، لیکن جب وہ اپنے طریقۂ کار کے متعلق یہ دعوے کرنے لگی کہ اس کے ذریعے اور صرف اسی کے ذریعے حسنِ شعر کے سربستہ راز کو کھولا جاسکتا ہے تو اس سے رنجش اس سبب سے پیدا ہوئی کہ بے شک آہنگِ شعر کی سحر آفرینی کے ہم قائل تھے لیکن ساتھ ہی یہ بھی محسوس کرتے تھے کہ فن پارہ آوازوں کا التزام نہیں ہے بلکہ معنوی حسن بھی رکھتا ہے، کسی پہلو دار خیال کا اظہار بھی ہے، کسی پیچیدہ تجربے کا بیان بھی ہے، استعاروں کی نقش گری، علامتوں کی ڈیزائن اور تصویروں کا نگارخانہ بھی ہے۔ چناں چہ صوتیاتی تنقید کے چارٹ وہ اسم اعظم نہ بن سکے جو شعری طلسمات کا راز پاسکیں۔

حقیقت یہ ہے کہ فنِ شاعری میں جو چیز سائنس کے قریب تھی وہ اس کا عروضی نظام تھا۔ لفظ چوں کہ محض آواز نہیں بلکہ معنیاتی تعلیقات کا حامل بھی ہے اس لیے الفاظ کی صوتیات کی بنا پر شعر کے آہنگ کا مطالعہ سائنسی قطعیت کے ساتھ ممکن نہیں۔ معنی کی غیر قطعیت نے جو ساختیات میں دال اور مدلول کے تصورات کی صورت میں سامنے آئے، تنقید میں کسی چیز کا ثابت کرنا ممکن نہیں۔ تحسین و تفہیم کا پورا تعلق ذوقِ لطیف سے ہے۔ تنقید کے پاس ایسی کوئی کسوٹی نہیں جس پر کھرے کھوٹے کی پرکھ ہو جائے۔ اسی لیے تنقید رائے دے سکتی ہے، اس پر اصرار نہیں کرسکتی اور نہ ہی اسے حتمی فیصلے میں بدل سکتی ہے۔ تنقید کی سائنسی قطعیت پانے کی تمام کوششیں لاحاصل ثابت ہوئی ہیں۔ آرٹ اگر اعجاز ہے تو معجزے کا میکنیزم نہیں ہوتا۔ آرٹ کی صنعت گری کے تجزیے کے ذریعے اس کا حسن پانے کی کوشش بالآخر تھکا دینے والی ثابت ہوتی ہے کیوں کہ کاریگری کے ٹیکنکل بیان میں دل چسپی کا وہ عنصر نہیں ہوتا جو ادب میں منعکس زندگی، انسان اور کائنات کی بصیرت اُجاگر کرنے والی فلسفیانہ، نفسیاتی اور تہذیبی تنقید میں ہوتا ہے۔ ظاہر ہے افسانہ، ناول اور ڈرامائی تنقید شاعری کی طرح زبان و بیان کی نزاکتوں تک محدود نہیں ہوسکتی بلکہ اس کے دائرے میں بے شمار ایسے مسائل آتے ہیں جن کی تفہیم کے لیے تاریخ، فلسفہ، نفسیات اور سماجیات کا علم بھی ضروری ہے۔ مشرقی تنقید کی پوری روایت زبان و بیان کی غلطیوں اور نزاکتوں تک محدود رہی جب کہ مغربی تنقید میں زبان کی گرفت یا اس کی تحسین کبھی تنقید کا غالب رجحان نہیں رہی۔ مغرب کے اثرات کے سبب ہندستان کی علاقائی زبانوں میں تنقید کا دامن زبان و بیان تک محدود نہیں رہا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ تنقید نے جو وسعت حالیؔ اور حالیؔ کے بعد ترقی پسند تحریک، احتشام حسین، آلِ احمد سرور، عسکری اور سلیم احمد کے ذریعے پائی تھی وہ جدیدیت کے علمبردار نقّادوں کے ہاتھوں سمٹ سمٹا کر زبان کے دائرے تک محدود ہو گئی۔ جدیدیت کا پورا میلان ہیئتی تنقید کی طرف تھا، جو نظم اور افسانے کے فارم کے جزرس مطالعے کے ذریعے معنی تک پہنچنے کا تھا۔ ظاہر ہے فارم اپنے دامن میں زبان، اسلوب اور آہنگ کو بھی لیے ہوتا ہے۔ متن کا مطالعہ اس مواد کا مطالعہ بھی ہے جو نظم اور افسانے کے پیچیدہ اسٹرکچر کے ذریعے ایک صورت اختیار کرتا ہے۔ تکنیک کا مطالعہ اس طریقۂ کار کا مطالعہ ہے جس کے ذریعے مواد نظم یا افسانے کے فارم میں ڈھلتا ہے۔

ہیئتی تنقید اس معنی میں فن کے تمام لوازمات کو دسترس میں لے کر موضوع، مواد اور خیال کی فلسفیانہ نفسیاتی اور سماجی معنویت تک پہنچتی ہے۔ اگر افسانہ، ناول یا ڈرامے کا فارم ہی ٹھیک نہیں، اگر فنکار اِن اصناف کے وضعی رشتوں کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا، اگر وہ کردار کے نقوش اُبھار نہیں سکتا، واقعہ نگاری میں ممکنات کا خیال نہیں رکھتا، پلاٹ میں حادثات کو ضرورت سے زیادہ راہ دیتا ہے، اظہارِ بیان میں جذباتیت، رقّت انگیزی اور رومانیت کا شکار ہو جاتا ہے تو ظاہر ہے موضوع کی سماجی افادیت اور معنویت دونوں کو گزند پہنچے گی۔ لہٰذا ہیئتی تنقید کے متعلق پھیلائی گئی یہ غلط فہمی کہ اس کا سروکار صرف ہیئت سے ہوتا ہے لاعلمی پر مبنی ہے۔ ہاں اس تنقید کا سماجی ڈسکورس قائم نہیں ہوتا جو زبان و بیان کی غلطیوں یا محض اسلوبیات یا صوتیات سے تعلق رکھتی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ان اسالیبِ نقد کے دلدادہ وہی لوگ رہے ہیں جو ہیئتی تنقید کو آج ہدفِ ملامت بنائے ہوئے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ لوگ خود اپنی ہی اکسپرٹائز کی حدود سے واقف ہوچکے ہیں۔ وہ جان چکے ہیں کہ زبان اور بیان اور اسلوب کا مطالعہ اور عروض و اصوات کے مطالعے ہی کی مانند اپنی حدود، اپنی تھکن اور اپنی اُکتاہٹ رکھتا ہے۔ یہ تنقید ماہرانہ اور کارآمد ہونے کے با وصف اس تنقید کی بصیرت اور عظمت اور کشادگی کو نہیں پہنچ سکتی جو فن پارے کا کلّی حیثیت سے مطالعہ کرتی ہے، آپ کسی بھی کتب خانے میں چلے جائیے، جین آسٹن کے اسلوب پر پانچ دس کتابیں تو آسانی سے مل جائیں گی کیوں کہ وہ بڑی صاحبِ اسلوب ناول نگار ہے، لیکن ان کتابوں کا پڑھنا ایک عذاب مول لینا ہے۔ وہی اسلوب جو ناول میں جادو جگاتا ہے یہاں اقتباسات کے قتلوں میں قصاب کے بغدے تلے لہولہان پڑا ہے۔ اس کے برعکس ایک معمولی سا مضمون جو یہ بتاتا ہے کہ جین آسٹن کے کردار جو بظاہر سیدھی سادی گھریلو لڑکیاں ہیں کس قدر پیچیدہ اور منفرد شخصیت کی حامل ہیں، ہمارے لیے بصیرت کا ایک کوندا ثابت ہوتا ہے۔ خاطر نشان رہے کہ ایسے مضامین کردار نگاری میں جین آسٹن کی زبان، لفظوں کے انتخاب اور اسلوب کی چوکسائی کو حساب میں رکھتے ہیں۔ تنقید میں اسلوبیاتی طریقۂ کار ثمر آور اسی وقت بنتا ہے جب وہ معنی، موضوع اور مواد کے حوالے سے بات کرتا ہے کیوں کہ اسلوب معنی سے جڑا ہوتا ہے اور خیال، احساس اور صورتِ حال اپنا اسلوب پیدا کرتی ہے۔

لیکن اکسپرٹائز جہاں تنقید کو ایک علمی وقار بخشتی ہے وہیں ٹکنوکریسی کی آمریت اور جبروت بھی قائم کرتی ہے۔ وہی چند لوگ ادب کے پارکھ بنتے ہیں اور انھی کی ڈکٹیٹر شپ قائم ہوتی ہے جو شعر کے ہجے کرنا جانتے ہیں۔ شعر پھر مدرسے میں داخل ہوتا ہے اور تنقید مدرّسانہ بنتی ہے۔ ایسی گھٹن آلود فضا سے گھبرا کر آدمی پھر آرٹ کی جادو نگری میں پہنچنا چاہتا ہے جہاں وہ چشمِ حیرت سے ایک بچّے کی مانند تخیل کی نیرنگیوں کا مشاہدہ کرسکے۔ لیکن اسلوبیات کا اگلا قدم جو ساختیات میں پڑتا ہے وہاں تو عام قاری، عقلِ عامہ اور معصوم قاری کا کوئی وجود ہی نہیں۔ وہاں تو ادب کا قاری وہی ٹکنوکریٹ ہے جس نے تعبیر و تفسیرِ معانی کے جملہ حقوق اپنے نام لکھوا لیے ہیں۔

چناں چہ آج تنقید اپنی اس کوشش میں کامیاب ہے کہ وہ ادب کا ایک طاقت ور ادارہ بن جائے۔ آج کے نقّاد کے کروفر کے سامنے تو شاعر اور افسانہ نگار بے غسلوں کا ٹولا لگتے ہیں۔ غیر اہم کی کیا بات نقّاد تو آج ادب کا سب سے اہم آدمی ہے۔ یہ پھر اکادمی کی آرٹ پر، علم کی تخئیل پر، آئیڈیو لوجی کی تخلیق پر اور اسٹیبلشمنٹ کی کلچر پر فتح ہے۔ اور دل چسپ بات یہ ہے کہ اس فتح کا سہرا ان نقّادوں کے سر ہے جنھوں نے آئیڈیو لوجی اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بغاوت کی بنیاد رکھنے والی جدیدیت کی تحریک کی علمبرداری کی تھی۔ یہ بالکل عیدِ قرباں والا معاملہ ہے کہ وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب اُلٹا۔