میں نے قمر سبزواری کی کہانی رکھوالی پڑھی . قمر مجھے تیسری دنیا کے افسانہ نگار معلوم ہوتے ہیں.یئسری دنیا کے عام آدمی کے اس پاس سے گزرتی ان کی کہانیاں ان کے گہرے مشاہدے کا پتہ دیتی ہیں. کہانی میں رکھوالی کے نسوانی کردار کی بے کیف زندگی کی پر اثر عکاسی کی گئی ہے .یہ عورتیں اپنی بے رونق زندگی کی خود ہی رکھوالی کرتی نظر آتی ہیں...ایک ایسی زندگی جہاں آرزوئیں عیب ہیں اور ایسا کوئی دریچہ نہیں کھلتا جس سے تازہ ہواؤں کے جھونکے اندر آتے ہوں. یہ سہاگن ہوتے ہوے بھی بیوہ ہیں لیکن ایک بیوہ جب زنگی کی یکسانیت سے گھبرا کر ایک ذرا سانس لینے کی کوشش کرتی ہے تو خود اپنے ہی بیٹے کی ہاتھوں قتل ہوتی ہے .
از راہ کرم کوشش کیجئے کہ اردو زبان میں اپنی رائے کا اظہار کریں اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو کی سہولت موجود نہیں بھی ہے تو آپ کسی بھی اردو ایڈیٹر مثلاٰ www.urdueditor.com پر جاکر اردو میں ٹائپ کر کے یہاں چسپاں کر سکتے ہیں۔
میں نے قمر سبزواری کی کہانی رکھوالی پڑھی . قمر مجھے تیسری دنیا کے افسانہ نگار معلوم ہوتے ہیں.یئسری دنیا کے عام آدمی کے اس پاس سے گزرتی ان کی کہانیاں ان کے گہرے مشاہدے کا پتہ دیتی ہیں. کہانی میں رکھوالی کے نسوانی کردار کی بے کیف زندگی کی پر اثر عکاسی کی گئی ہے .یہ عورتیں اپنی بے رونق زندگی کی خود ہی رکھوالی کرتی نظر آتی ہیں...ایک ایسی زندگی جہاں آرزوئیں عیب ہیں اور ایسا کوئی دریچہ نہیں کھلتا جس سے تازہ ہواؤں کے جھونکے اندر آتے ہوں. یہ سہاگن ہوتے ہوے بھی بیوہ ہیں لیکن ایک بیوہ جب زنگی کی یکسانیت سے گھبرا کر ایک ذرا سانس لینے کی کوشش کرتی ہے تو خود اپنے ہی بیٹے کی ہاتھوں قتل ہوتی ہے .
ReplyDelete