December 11, 2011

مصری کی ڈلی


3 comments:

  1. ایک لاجواب تخلیقی بیانیہ۔۔۔جس میں بیانیہ کی درشتی اور حقیقت نگاری بھی ہے اور شعر کی حدوں کو چھوتی ہوئی لطیف نثر بھی، روز مرہ کے محاورے میں استعمال ہونے والے معمول کے ساختیوں سے ایک دلفریب اور تاثر بھری صوتی کیفیت کامیابی سے پیدا کی گئی، نام نہاد ، لایعنی علامت نگاری و تجرید نگاری کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کے لئے ایک نمونہ ہے -" کہاں بھیجا۔۔۔۔۔؟۔۔۔۔کھل کھل کھل کھل۔۔۔۔۔۔۔۔اور راشدہ اس طرح ہنستی تھی۔۔۔۔" اس ایک ٹکڑے پر بہت سے ۔افسانے قربان کئے جا سکتے ہیں۔۔۔۔۔
    قمر سبزواری۔

    ReplyDelete
  2. اس بلاگ سے میرا پہلی بار گزر ہوا .خوشی ہوئی کہ اردو کی بہترین تخلیقات یہاں اکٹھی ہو رہی ہیں اور ان میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے فرانسیسی ادب بھی دیکھ کر خوشی ہوئی گر چہ یہ انگریزی اسکرپٹ میں ہے لیکن اس سے بلاگر کے جذبہ صادق کا پتہ چلتا ہے. وہ مختلف زبانوں کی بیترین نثری تخلیقات کو اردو بلاگ میں منتقل کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح اردو کی گراں قدر خدمت انجام دینا چاہتے ہیں.حیرت ہے کہ یہ سب ایک شخص کی کاوشوں کا نتیجہ ہے . مجھے یقین ہو گیا ہے کہ جب تک قمر سبزہ واری جیسے جیالے اردو معاشرے میں موجود ہیں اردو تہذیب مر نہیں سکتی .

    ReplyDelete
  3. اچھی کہانی ہے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ReplyDelete

از راہ کرم کوشش کیجئے کہ اردو زبان میں اپنی رائے کا اظہار کریں اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو کی سہولت موجود نہیں بھی ہے تو آپ کسی بھی اردو ایڈیٹر مثلاٰ
www.urdueditor.com
پر جاکر اردو میں ٹائپ کر کے یہاں چسپاں کر سکتے ہیں۔