December 30, 2011

بڈھا

جب منڈيروں پر  پھد کتي ہوئي چڑياں ايک دم بھرر سے فضا ميں ابھرا جاتيں اور کھرليوں کے قريب گٹھڑياں بنے ہوئے بچھڑۓ اپنے لمبے لمبے کانوں کے آخري سرے ملا کر محرابيں سي بناليتے تو جھکي ہوئي ديواروں کے سائے ميں بيٹھے ہوئے کسان مسکراتے اور خشک تمباکو کو ہتھيليوں سے ملتے ہوئے ياکھيس کے دھاگوں ميں بل ڈالتے ہوئے کہتے، بابا عمرو کھانسا ہے۔

بابا عمرو کي کھانسي بہت گونجيلي تھي، يوں معلوم ہوتا تھا جيسے تانبے سے بنے ہوئے کنوئيں ميں يکبار چند پتھر گر پڑے ہيں۔۔۔۔۔وہ اپنے جھونپڑے کي چوکھٹ پر بيٹھا بکريوں کے بال بٹتا رہتا اور جب کھانستا تو پسليوں کو دنوں ہاتھوں سے جکڑ ليتا، اس زور سے تھوکتا کہ اس کي مونچھوں کے جيھکے ہوئے بال لوہے کے تنے ہوئے تار بن جاتے، خربوزے کے مرجھائے ہوئے چھلکوں کے گالوں پر چھريوں کا جال سا تنا جاتا، اور جھکي ہوئي بھوسلي بھووں کے نيچے سے ندي کنارے کے گول کنکروں کي سي آنکھوں پرپاني کي پتلي سي لہر تير جاتي، پڑوسن کے بچے تالياں بجاتے اور چلاتے، بابا عمرو کھانسا ہے۔۔۔۔۔۔بابا عمرو کے کانوں ميں ان چيخوں کي بھنک پڑجاتي تو بکريوں کے گولے پر بے تابانہ انگلياں پھيرتا، رسي ميں اتنے بل ڈالتا کہ وہ تن کہ ٹيڑھي ہوجاتي اور پھر پاس ہي بيٹھي ہوئي بلي کو گردن سے پکڑ کر اپني جھولي ميں بٹھا ليتا اور کہتا بابا عمرو کيا کھانسا، مداري نے پٹارے سے ڈھکنا ہٹا ديا، چھچھوندر کہيں کے ديکھوں گا ميري عمر کو پہنچ کر کيسے نہيں کھانستے، ميں بھي تو جب جواني ميں کھانستا تھا تو ايسا لگتا تھا جيسا کوئي طبلہ بجا رہا ہے۔

اچانک پڑوس کي ايک لڑکي لپک کر گھر سے نکلتي اور جب بابا عمرو کو اپنے آپ سے سرگوشياں کرتے ديکھتي  تو آگے بڑھ کر کہتي، بابا عمرو ميں آگئي۔
بابا عمرو چونک اٹھتا اور پھر اس کے لبوں پر ايسي جناتي مسکراہٹ نمودار ہونے لگتي جيسے ٹوٹے پھوٹے قبرستان ميں چاندني، کہتا ميں جانتا تھا ميري وليتو آئے گي، تو اتني دير تک کيا کرتي رہي وليتو بيٹا؟
ہمارے گھر چاول پکے ہيں، نھني وليتو تالي بجا کر کہتي، ميٹھے چاول ۔۔۔۔۔۔۔لے آئوں تمہارے لئے بابا عمرو؟ہيں بابا عمرو؟
چاول قابض ہوتے ہيں، وہ ہونٹ سيکٹر کر کہتا اور جب لڑکي کے صاف چہرے پر انکار کے صدمے کا احساس شفق کي پھوار سي چھڑک ديتا تو وہ انداز گفتگو بدل کر کہتا، پر وليتو تيري خاطر مٹھي بھر کہا لوں گا ميں بھي، وليتو بچي کا جي برا کروں، تو کہا جائو ميں بڈھا کھوسٹ؟
نھني وليتو اچھلتي کودتي اپنے گھر ميں گھس جاتي، گھڑۓ کے ڈھکنے پر مونگ کي گھنگھنياں ڈالے پلٹتي اور بابا عمرو کے سامنے گھٹنوں پر ٹھوڑي رکھے بانہوں کو پنڈليوں پر لپيٹے بيٹھ جاتي، بابا عمرو چاولوں کے تصور کو منگ ميں بدلتے ديکھ کر يوں ہنستا جيسے نيا نيا رہٹ رک رک کر چل رہا ہو اور پھر اس کے قہقہے گونجيل کھانسي ميں تبديل ہوجاتے، پسليوں کو دونوں ہاتھوں سے جکڑ کر سامنے پڑوسي کي ديوار پر چٹاخ سے تھوک کر کہتا، يہ چاول کہاں سے آئے نھنو؟
کرپالو کي دکان سے، ويستو پلکيں جھپکا کر مسکراتي۔
اور بابا عمرو کہتا ميں سمجھا وليتو نے ولايت سے چاول منگائے ہيں۔۔۔۔۔


گائوں بھر ميں مشہور تھا کہ بابا عمرو کا دل بھٹيارن کے توے کي طرح کالا ہے، اس بڈھے نے کسي سے محبت نہيں کي، يہ دوزخي ہے دوزخي !
بابا عمرو نے محنت مزدوري کرکے جواني گزاري ، ادھيڑ عمر ميں شادي کي، چار مہنيوں کے بعد بيوي دق ميں مبتلا ہوگئي اور جب مري تو بابا عمرو کو خدا کا شکر ادا کرتے سنا گيا کہتے ہيں بيوي کو دفنا کر جب وہ گائوں ميں آيا تو سيدھا مسجد ميں جا گھسا اور شکرانے کے نفل ادا کئے اور ہاتھ اٹھا کر بلند آواز ميں دعا کي، ميرے اللہ تو بڑا پروردگار ہے اس لئيے شکايت فضول ہے، تو جو کرتا ہے، اچھا کرتا ہے، تيري مرضي يہي تھي، تو ميں کون ہوتا ہوں ناک بھوں چڑھانے والا، شکر ہے تيرا، شکر ہے، شکر ہے!!!
مولوي جي نے نماز جنازہ کے رپوں کو جيب ميں ٹٹول کر کہا اسے کہتے ہيں توکل !!!
اور کسان جو توکل کا مطلب نہيں جانتے تھے بولئے، "دل ہي کوئلہ ہوگيا کم بخت کا، کچھ آنچ ہوتي اس ميں تو جواني ميں بياہ کر ليتا، اب ت بچے جوان ہوتے، وہ کماتے يہ کھاتا اور اللہ کا نام جپتا، بے وقوف ہے، سودائي ہے، سڑي ہے، بھوت کا سايہ ہے بے چارے پر!"
بابا عمرو نے زندگي بھر ميں تين چيزوں سے محبت کي، خدا سے، نھني وليتو سے اور بوڑھي بلي شکري سے، جواني ميں ايک لڑکي سے انس پيدا ہواتھا، کہ وہ پرديس بياہ دي گئي اور محبت کي نوميدہ کلي بابا عمرو کے دل ميں گھٹ کر مرجھائي اور خاکستر بن کر رہ گئي۔

کبھي کبھي مسجد کي ديواريں ليپ آتا، گليوں سے کنکر ہٹاتا رہتا، مسافروں کيلئے گھر گھر سے روٹي مانگتا، گائوں کي معاشرتي زندگي ميں اس کا صرف يہي دخل تھا کہ کوئي مرے تو جنازے کو کاندھا دے دے، کوئي بياہاجائے تو دعائے خير ميں شريک ہو کر مٹھي بھر تل اور شکر لے نھنے بچوں ميں بانٹ دے، گائوں کا کنواں صاف کيا جائےتو جگت پر آکر بيٹھ جائے،رسي بٹتا رہے اور گنگناتا رہے، لا الہ اللہ۔ لا الہ اللہ۔ اسے نہ سرما کي راتوں ميں چوپال کي محفليں لبھاسکتي تھيں، نہ ساون کے دنوں ميں کھليانوں کي سنگيت سبھائيں، اس کي کھانسي گائوں والوں کو اس کے وجود سے منکر نہ ہونے ديتي تھي ورنہ وہ گائوں ميں رہ کر بھي گائوں ميں نہ تھا۔
جب رات کا اندھيرا اپنے پوربي آنچل کو پوکے چشمے ميں بگھوليتا اور کائنات کي نيندوں ميں انگڑائياں کنمنانے لگتيں، تو بابا عمرو آنکھيں کھولتا اور ديمک خوردہ دروازے کے رخنوں ميں دھندلے اجالوں کو مسکراتا ديکھتا تو آدھے گنجے سر پر ہاتھ پھير کے کلمہ پڑھتا، خرخراتي شکري کو بغل سے نکال کر پائنتي پر بٹھا ديتا، کونے ميں ايک گھڑے سے کوزہ بھرتا، وضو کرتا اور نماز پڑھتا، وہ کہا کرتا تھا، صبح کي نماز پڑھي تو سمجھو اللہ کي نگري ميں داخل ميں داخل ہوگئے، دوسري نمازوں کي توفيق ہوتو پڑھو، پر ہميں تو اللہ کي نگري کا ايک کونہ چاہئے، جيسے يہاں رہے ويسے وہاں بھي کہيں سمٹے پڑے رہيں گے بس صبح کي نماز قضا نہ ہو۔


No comments:

Post a Comment

از راہ کرم کوشش کیجئے کہ اردو زبان میں اپنی رائے کا اظہار کریں اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو کی سہولت موجود نہیں بھی ہے تو آپ کسی بھی اردو ایڈیٹر مثلاٰ
www.urdueditor.com
پر جاکر اردو میں ٹائپ کر کے یہاں چسپاں کر سکتے ہیں۔