اقبال حسن آزاد ایک منجھے ہوئے نثر نگار ہیں انہیں افسانے اور انشائیے پر یکساں گرفت اور عبور حاصل ہے۔ سماجی فضامیں جہاں بھی بے حسی، گھٹن، افراط و تفریط اور نفسا نفسی ، اقدار کی پائمالیی یا مادیت پرستی کی بنا پر اوزون کی تہہ میں پڑے شگاف کی طرح کوئی شگاف یا خلا نمودار ہوتا ہے تو ان کی عقابی نظر سے بچ نہیں پاتا ان کے درون کا درد مند فنکار اس کی نشاندہی کرتا ہے اور اتنے بھر پور انداز میں کرتا ہے کہ قاری کووہ شگاف اپنے گھر کی چھت میں پڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن یہ قاری کو اس حال میں چھوڑ کر چلتے نہیں بنتے بلکہ اپنی عام زندگی میں باد نسیم بن کر اس خلا میں داخل ہو جاتے ہیں اور چاروں طرف سے اس کو پٗر کر کے سماج کے مکان کو ایک بار پھر رہنے کے قابل بنا دیتے ہیں۔ ان کی دھیمی اور نرم خو شخسیت کی طرح ان کی نثر بھی اندھیرے کا واویلا مچانے کی بجائے اپنے حصے کا ایک چراغ جلا دینے کی روش پر قائم نظر آتی ہے۔ گو تقسیم ہند کوئی نیا بلکہ یہ کہنا بھی بجا ہو گا کہ زندہ موضوع نہیں ہے لیکن یہ اقبال حسن آزاد کی مہارت ہے کہ افسانہ قاری کو اختتامی لفظ تک اپنے سحر سے آزاد نہیں ہونے دیتا۔
از راہ کرم کوشش کیجئے کہ اردو زبان میں اپنی رائے کا اظہار کریں اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو کی سہولت موجود نہیں بھی ہے تو آپ کسی بھی اردو ایڈیٹر مثلاٰ www.urdueditor.com پر جاکر اردو میں ٹائپ کر کے یہاں چسپاں کر سکتے ہیں۔
اقبال حسن آزاد ایک منجھے ہوئے نثر نگار ہیں انہیں افسانے اور انشائیے پر یکساں گرفت اور عبور حاصل ہے۔ سماجی فضامیں جہاں بھی بے حسی، گھٹن، افراط و تفریط اور نفسا نفسی ، اقدار کی پائمالیی یا مادیت پرستی کی بنا پر اوزون کی تہہ میں پڑے شگاف کی طرح کوئی شگاف یا خلا نمودار ہوتا ہے تو ان کی عقابی نظر سے بچ نہیں پاتا ان کے درون کا درد مند فنکار اس کی نشاندہی کرتا ہے اور اتنے بھر پور انداز میں کرتا ہے کہ قاری کووہ شگاف اپنے گھر کی چھت میں پڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن یہ قاری کو اس حال میں چھوڑ کر چلتے نہیں بنتے بلکہ اپنی عام زندگی میں باد نسیم بن کر اس خلا میں داخل ہو جاتے ہیں اور چاروں طرف سے اس کو پٗر کر کے سماج کے مکان کو ایک بار پھر رہنے کے قابل بنا دیتے ہیں۔ ان کی دھیمی اور نرم خو شخسیت کی طرح ان کی نثر بھی اندھیرے کا واویلا مچانے کی بجائے اپنے حصے کا ایک چراغ جلا دینے کی روش پر قائم نظر آتی ہے۔ گو تقسیم ہند کوئی نیا بلکہ یہ کہنا بھی بجا ہو گا کہ زندہ موضوع نہیں ہے لیکن یہ اقبال حسن آزاد کی مہارت ہے کہ افسانہ قاری کو اختتامی لفظ تک اپنے سحر سے آزاد نہیں ہونے دیتا۔
ReplyDelete