ادب میں کچھ موضوعات آفاقی ہو کر مقامی سطع پر آ جاتے ہیں اور کچھ مقامی ہو کر افق گیر ہو جانے ہیں، بینعہ کچھ موضوعات حادثات سے جنم لیتے ہیں اور وقت کا دھارا رفتہ رفتہ انھیں بوسیدہ کر دیتا ہے لیکن جو موضوعات براہ راست کسی حادثے سے نہیں بلکہ اس حادثے کے لاشعور میں اتر جانے کے بعد اس کی باز گشت سے وجود میں آتے ہیں وہ کبھی بھی دھندلائے نہیں جا سکتے تقسیم کے موضوع پر لکھی جانے والی کہانیایوں کا بھی کچھ ایسا ہی احوال ہے جو کہانیاں اس موضوع کے بوسیدہ ہو جانے کے بعد بھی براہ راست اسی پر لکھی گئیں وہ تو اپنا تاثر کھو بیٹھیں لیکن جو تقسیم کی اذیت کی لاشعوری بازگشت سے لکھی گئیں وہ آج بھی نئی ہیں۔ ان سطور کا قطعا یہ مقصد نہیں ہے کہ شموئیل کی سنگھار دان تقسیم کے موضوع پر لکھی گئی کہانی ہے لیکن یہ کہانی پڑھ کر بے اختیار موپاساں یاد آتا ہے جس نے جنگ کے صدمے کی باز گشت سے نئے موضوعات کو جنم دیا۔۔۔۔ سنگھار دان کا ایک موضوع بالکل نیوٹن کے قوانین کے مطابق ظلم و جور اور جبر کا فطری اور داخلی رد عمل بھی ہے یہ فرد کے لاشعور کی کارستانی سے سفر کرتا ہوا اجتماعی لاشعور کی فسوں کاری تک جاتا ہے نسیم جان نظر سے اوجھل ہو کر برجموہن کے لاشعور میں داخل ہو گئی اور اس کو اس سے ہی چھین لیا۔ کہانی کا اختصار قاری کے ضمیر کو تکلیف دیتا ہے اور یہ زخم ابھی متقاضی تھا کہ اس کو مزید کریدا جائے تا کہ اس ناسور کی ساری غلاظت بہہ جائے اور برجموہن کے کردار کا نفسیاتی ارتقاء بھی ایک ہی جست میں نسیم جان کے پاؤں میں گر پڑا حالانکہ اس کش مکش میں ابھی بہت لطف آتا جو اس کے درون میں جاری رہی ہو گی۔
ab fasad ka roop badal gaya hai. pahle jaan-o- maal ke lutne ka khauf tha ab wirasat se mahroom hone ka khadsha hai. ek firqe ko uski virasat se mahroom kar dene ki saazish...... is kahani me aur bhi dimension hain. koi culture agar mazboot hai to use mita bhi nahi sakte....usko mitane ki koshish khud apne culture ko nuqsaan punhcha sakti hai...wo culture haavi ho ja sakta hai aur dono ek doosre me zam ho ja sakte hain.....
kahani ki zaban craftmanship andaz byan sab kuch qaabil -e- ghaur hai.
از راہ کرم کوشش کیجئے کہ اردو زبان میں اپنی رائے کا اظہار کریں اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو کی سہولت موجود نہیں بھی ہے تو آپ کسی بھی اردو ایڈیٹر مثلاٰ www.urdueditor.com پر جاکر اردو میں ٹائپ کر کے یہاں چسپاں کر سکتے ہیں۔
ادب میں کچھ موضوعات آفاقی ہو کر مقامی سطع پر آ جاتے ہیں اور کچھ مقامی ہو کر افق گیر ہو جانے ہیں، بینعہ کچھ موضوعات حادثات سے جنم لیتے ہیں اور وقت کا دھارا رفتہ رفتہ انھیں بوسیدہ کر دیتا ہے لیکن جو موضوعات براہ راست کسی حادثے سے نہیں بلکہ اس حادثے کے لاشعور میں اتر جانے کے بعد اس کی باز گشت سے وجود میں آتے ہیں وہ کبھی بھی دھندلائے نہیں جا سکتے تقسیم کے موضوع پر لکھی جانے والی کہانیایوں کا بھی کچھ ایسا ہی احوال ہے جو کہانیاں اس موضوع کے بوسیدہ ہو جانے کے بعد بھی براہ راست اسی پر لکھی گئیں وہ تو اپنا تاثر کھو بیٹھیں لیکن جو تقسیم کی اذیت کی لاشعوری بازگشت سے لکھی گئیں وہ آج بھی نئی ہیں۔ ان سطور کا قطعا یہ مقصد نہیں ہے کہ شموئیل کی سنگھار دان تقسیم کے موضوع پر لکھی گئی کہانی ہے لیکن یہ کہانی پڑھ کر بے اختیار موپاساں یاد آتا ہے جس نے جنگ کے صدمے کی باز گشت سے نئے موضوعات کو جنم دیا۔۔۔۔ سنگھار دان کا ایک موضوع بالکل نیوٹن کے قوانین کے مطابق ظلم و جور اور جبر کا فطری اور داخلی رد عمل بھی ہے یہ فرد کے لاشعور کی کارستانی سے سفر کرتا ہوا اجتماعی لاشعور کی فسوں کاری تک جاتا ہے نسیم جان نظر سے اوجھل ہو کر برجموہن کے لاشعور میں داخل ہو گئی اور اس کو اس سے ہی چھین لیا۔ کہانی کا اختصار قاری کے ضمیر کو تکلیف دیتا ہے اور یہ زخم ابھی متقاضی تھا کہ اس کو مزید کریدا جائے تا کہ اس ناسور کی ساری غلاظت بہہ جائے اور برجموہن کے کردار کا نفسیاتی ارتقاء بھی ایک ہی جست میں نسیم جان کے پاؤں میں گر پڑا حالانکہ اس کش مکش میں ابھی بہت لطف آتا جو اس کے درون میں جاری رہی ہو گی۔
ReplyDeleteab fasad ka roop badal gaya hai. pahle jaan-o- maal ke lutne ka khauf tha ab wirasat se mahroom hone ka khadsha hai. ek firqe ko uski virasat se mahroom kar dene ki saazish......
ReplyDeleteis kahani me aur bhi dimension hain. koi culture agar mazboot hai to use mita bhi nahi sakte....usko mitane ki koshish khud apne culture ko nuqsaan punhcha sakti hai...wo culture haavi ho ja sakta hai aur dono ek doosre me zam ho ja sakte hain.....
kahani ki zaban craftmanship andaz byan sab kuch qaabil -e- ghaur hai.