بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایک اچھے نقاد کو اچھا فنکار بھی ہونا چاہیئے، شاید اسی لیے کہتے ہیں کہ نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی۔
میرے ناقص خیال میں فن میں "ہونا چاہئے" جیسے کسی ارادے، حسرت یا امکان کا کوئی گزر نہیں ہوتا، فنکار یا تو بس ہوتا ہے یا نہیں ہوتا،فنکار بنا نہیں جا سکتا۔ نقاد کسی پودے یا کسی خود رو جھاڑی کی کانٹ چھانٹ کر کے اس کی تراش خراش کر کے اپنے تئین اس کی ہیئت میں تبدیلی یا بہتری لاتے کی کوشش کرتا ہے لیکن در اصل ایسا بھی نہیں ہوتا شاید نقاد بس اس جنگلی گلاب کی خوشبو اپنے ہاتھوں میں بھر کے اسے قریب کے دیہات کے گلی کوچوں میں پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔
لیکن بھلا خوشبو بھی کبھی اپنے پھیلنے کے لئے کسی کی محتاج ہوا کرتی ہے، نقاد فنکار ہو بھی کیسے سکتا ہے وہ زرد پتوں کو چن کے دور ہٹا سکتا ہے نرم و نازک ٹہنیوں کے رخ اپنی تاویلوں سے باندھ کر تھوڑے بہت موڑ سکتا ہے لیکن ذرا ایک کونپل تو خلق کر کے دکھائے تخلیق تو خالق کا ہی کام ہے اور اسی کو زیب دیتا ہے۔
ویسے آج کا تنقیدی نظریہ تو یہ بھی کہتا ہے کہ پھول اور خوشبو کا باہمی تعلق کچھ بھی معنی نہین رکھتا، لکھنے والے کو تو اپنے فن پارے پر بولنے کا کوئی اختیار بلکہ حق ہی نہیں ہے، عجب بے تکی بات ہے۔
لیکن میں یہ بات لکھ کیوں رہا ہوں ، ہاں یاد آیا نسیم سید، خدا بھلا کرے نسیم سید کا جو مجھے لکھنے لکھانے، پڑھنے پڑھانے سے قریب قریب ایک برس کی قطع تعلقی سے مشابہ دوری کے بعد دوبارہ کھیچ کر اس دیار میں وآپس لے آئی ہیں۔ مجھے کچھ معلوم نہیں کہ میں اچانک اس بلاگ سے، لکھنے سے حتیٰ کہ مطالعے سے بھی اتنا دور کیوں ہو گیا تھا ہاں اتنا احساس ہے کہ اچانک دل اچاٹ ہو گیا تھا، بہت اداس، بہت رنجیدہ، کچھ تو فیس بک پر لکھنے والے کرم فرماؤں نے اپنا حصہ ڈالا اور رہتی کمی فیس بک پر ہی عجیب و غریب آراء دینے والوں نے پوری کر دی،
بحر حال میں نہ تو نقاد ہوں نہ ہی خالق بس دریا کے کنارے بیٹھا پانی میں پاؤں ڈبوئے ریت ملی مٹی میں ہاتھ منہ لتھڑنے والا بچہ ہوں۔
ہاں بات ہو رہی تھی نقاد کی اور وہ یوں چلی کہ مندرجہ بالا افسانے کی تخلیق تک پہنچنے کے لئے نسیم سید کس راہ سے گزری ہوں گی۔
ان کا افسانہ چغلی کھاتا ہے کہ وہ تحریر اور لہجے کی پختگی اور اظہار کی جرات کو پانے کے لئے ضرور دحیمی آنچ پر کسی بھٹی میں پکی ہوں گی،سانسوں کے چرخے پر کاتے گئے زندگی کے سوت سے بنے ہوئے غم جاں اور غم جہاں کے تانے بانے سےانہوں نے ضرور شعور و آگاہی کی ایک چادر بن لی ہو گی جبھی تو ان کی کہانی ان کا ذاتی تجربہ ہونے یا قاری کے خارج کا ایک وقوعہ ہونے کے دائرے سے نکل کر وقت کی باہوں میں اٹھائی ہوئی ایک زندہ مگر تلخ اور مجروح حقیقت بن گئی ہے۔ اجتماعی لاشعور میں اتر جانے والی ایک ایسی خلش بن گئی ہے جو سامنے نہ ہو کر بھی اپنا اثر دکھاتی رہتی ہے۔
ایسا ہوا کہ میں شا ید حمید شا ہد صاحب کی وال کے گرد کسی اچھی کہانی کی تلا ش میں منڈلا رہی تھی کہ اس بلا گ پر کلک کر دیا ۔۔۔ اور گو یا کھل جا سم سم والا واقعہ ظہور پزیر ہو گیا ۔۔مجھے بھی امرتا پریتم کی طرح ہر بے جان شے مخاطب کر تی ، کہا نیاں سنا تی کبھی گلے سے لگا تی کبھی طعنے سے دیتی سید ھے لفظوں میں سا نس لیتی دکھا ءی دیتی ہے ۔ سو اس بلا گ نے یوں گلے سے لگا یا کہ عجب رشتہ بن گیا اس سے اب روزا نہ خوبصورت سوچوں اور لفظوں کی تلا ش میرا ہا تھ کے یہاں لے آ تی ہے ۔۔ قمر سبز واری عجب ہیں کہ اتنا کچھ چپ چا پ کر تے رہتے ہیں کو ءی ہنگا مہ نہیں کو ءی شور نہیں کوءی اپنے با رے میں اہتمام نہیں انکی اس سا دگی نے اتنا ہی حیران اور شادمان کیا جتنا اس بلوگ نے کیا تھا ۔یہ عجب خو شی تھی اسی خو شی نے اکسا یا اور یہ افسانہ ہمت کر کے اپنے اس بلا گ کی نظر کر ڈا لا ۔۔ کو ءی ایواڈ بھی شا ید وہ خو شی نہ دیتا جو قمر سبز واری صا حب کے چند حروف نے دی جس کے لءے شکریہ کا ہر لفظ چھو ٹا ہے ۔
از راہ کرم کوشش کیجئے کہ اردو زبان میں اپنی رائے کا اظہار کریں اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو کی سہولت موجود نہیں بھی ہے تو آپ کسی بھی اردو ایڈیٹر مثلاٰ www.urdueditor.com پر جاکر اردو میں ٹائپ کر کے یہاں چسپاں کر سکتے ہیں۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایک اچھے نقاد کو اچھا فنکار بھی ہونا چاہیئے، شاید اسی لیے کہتے ہیں کہ نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی۔
ReplyDeleteمیرے ناقص خیال میں فن میں "ہونا چاہئے" جیسے کسی ارادے، حسرت یا امکان کا کوئی گزر نہیں ہوتا، فنکار یا تو بس ہوتا ہے یا نہیں ہوتا،فنکار بنا نہیں جا سکتا۔ نقاد کسی پودے یا کسی خود رو جھاڑی کی کانٹ چھانٹ کر کے اس کی تراش خراش کر کے اپنے تئین اس کی ہیئت میں تبدیلی یا بہتری لاتے کی کوشش کرتا ہے لیکن در اصل ایسا بھی نہیں ہوتا شاید نقاد بس اس جنگلی گلاب کی خوشبو اپنے ہاتھوں میں بھر کے اسے قریب کے دیہات کے گلی کوچوں میں پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔
لیکن بھلا خوشبو بھی کبھی اپنے پھیلنے کے لئے کسی کی محتاج ہوا کرتی ہے، نقاد فنکار ہو بھی کیسے سکتا ہے وہ زرد پتوں کو چن کے دور ہٹا سکتا ہے نرم و نازک ٹہنیوں کے رخ اپنی تاویلوں سے باندھ کر تھوڑے بہت موڑ سکتا ہے لیکن ذرا ایک کونپل تو خلق کر کے دکھائے تخلیق تو خالق کا ہی کام ہے اور اسی کو زیب دیتا ہے۔
ویسے آج کا تنقیدی نظریہ تو یہ بھی کہتا ہے کہ پھول اور خوشبو کا باہمی تعلق کچھ بھی معنی نہین رکھتا، لکھنے والے کو تو اپنے فن پارے پر بولنے کا کوئی اختیار بلکہ حق ہی نہیں ہے، عجب بے تکی بات ہے۔
لیکن میں یہ بات لکھ کیوں رہا ہوں ، ہاں یاد آیا نسیم سید، خدا بھلا کرے نسیم سید کا جو مجھے لکھنے لکھانے، پڑھنے پڑھانے سے قریب قریب ایک برس کی قطع تعلقی سے مشابہ دوری کے بعد دوبارہ کھیچ کر اس دیار میں وآپس لے آئی ہیں۔ مجھے کچھ معلوم نہیں کہ میں اچانک اس بلاگ سے، لکھنے سے حتیٰ کہ مطالعے سے بھی اتنا دور کیوں ہو گیا تھا ہاں اتنا احساس ہے کہ اچانک دل اچاٹ ہو گیا تھا، بہت اداس، بہت رنجیدہ، کچھ تو فیس بک پر لکھنے والے کرم فرماؤں نے اپنا حصہ ڈالا اور رہتی کمی فیس بک پر ہی عجیب و غریب آراء دینے والوں نے پوری کر دی،
بحر حال میں نہ تو نقاد ہوں نہ ہی خالق بس دریا کے کنارے بیٹھا پانی میں پاؤں ڈبوئے ریت ملی مٹی میں ہاتھ منہ لتھڑنے والا بچہ ہوں۔
ہاں بات ہو رہی تھی نقاد کی اور وہ یوں چلی کہ مندرجہ بالا افسانے کی تخلیق تک پہنچنے کے لئے نسیم سید کس راہ سے گزری ہوں گی۔
ان کا افسانہ چغلی کھاتا ہے کہ وہ تحریر اور لہجے کی پختگی اور اظہار کی جرات کو پانے کے لئے ضرور دحیمی آنچ پر کسی بھٹی میں پکی ہوں گی،سانسوں کے چرخے پر کاتے گئے زندگی کے سوت سے بنے ہوئے غم جاں اور غم جہاں کے تانے بانے سےانہوں نے ضرور شعور و آگاہی کی ایک چادر بن لی ہو گی جبھی تو ان کی کہانی ان کا ذاتی تجربہ ہونے یا قاری کے خارج کا ایک وقوعہ ہونے کے دائرے سے نکل کر وقت کی باہوں میں اٹھائی ہوئی ایک زندہ مگر تلخ اور مجروح حقیقت بن گئی ہے۔ اجتماعی لاشعور میں اتر جانے والی ایک ایسی خلش بن گئی ہے جو سامنے نہ ہو کر بھی اپنا اثر دکھاتی رہتی ہے۔
ایسا ہوا کہ میں شا ید حمید شا ہد صاحب کی وال کے گرد کسی اچھی کہانی کی تلا ش میں منڈلا رہی تھی کہ اس بلا گ پر کلک کر دیا ۔۔۔ اور گو یا کھل جا سم سم والا واقعہ ظہور پزیر ہو گیا ۔۔مجھے بھی امرتا پریتم کی طرح ہر بے جان شے مخاطب کر تی ، کہا نیاں سنا تی کبھی گلے سے لگا تی کبھی طعنے سے دیتی سید ھے لفظوں میں سا نس لیتی دکھا ءی دیتی ہے ۔ سو اس بلا گ نے یوں گلے سے لگا یا کہ عجب رشتہ بن گیا اس سے اب روزا نہ خوبصورت سوچوں اور لفظوں کی تلا ش میرا ہا تھ کے یہاں لے آ تی ہے ۔۔ قمر سبز واری عجب ہیں کہ اتنا کچھ چپ چا پ کر تے رہتے ہیں کو ءی ہنگا مہ نہیں کو ءی شور نہیں کوءی اپنے با رے میں اہتمام نہیں انکی اس سا دگی نے اتنا ہی حیران اور شادمان کیا جتنا اس بلوگ نے کیا تھا ۔یہ عجب خو شی تھی اسی خو شی نے اکسا یا اور یہ افسانہ ہمت کر کے اپنے اس بلا گ کی نظر کر ڈا لا ۔۔ کو ءی ایواڈ بھی شا ید وہ خو شی نہ دیتا جو قمر سبز واری صا حب کے چند حروف نے دی جس کے لءے شکریہ کا ہر لفظ
ReplyDeleteچھو ٹا ہے ۔