December 30, 2011

آخری آدمی

الياسف اس قرئيے ميں آخري آدمي تھا، اس نے عہد کيا تھا کہ معبود ي سوگند ميں آدمي کي جون ميں پيدا ہوا ہوں اور میں آدمي ہي کي جون ميں مروں گا اور اس آدمي کي جون ميں رہنے کي آخر دم تک کوشش کي، اور اس قرئيے سے تين دن پہلے بندر غائب ہوگئے تھے، لوگ حيران ہوئے اور پھر خوشي منائي کہ بندر جو فصليں بربد اور باگ خراب کرتے تھے نابود ہوگے، پر اس شخص نے جوا نہيں سبت کے دن مچھليوں کے شکار سے منع کيا کرتا تھا، کہا کہ بندر تو تمہارے درميان موجود ہيں، مگر يہ کہ تم ديکھتے نہيں، لوگوں نے اس کا برامانا اور کہا کيا تم ہم سے ٹھٹھا کرتا ہہے اور اسنے کہا کہ بے شک ٹھٹھا کرنے والا ہے ، اس کے تيسرے دن يوں ہوا کہ اليدرز کي لونڈ گجر دم اليدزر کي خواب گاہ ميں داخل ہوئي اور سبھي ہوئي اليعدز کي جورو کے پاس الٹے پائوں آئي، پھر اليعدز کي جورو خواب گاہ ميں گئي اور حيران و پريشاني واپس آئي پھر يہ خبر دور دور پھيل گئي تھي اور دور دور سے لوگ العيدز کے گھر آتے اور اس کي خواب گاہ تک جا کر ٹھٹھک گئے کہ اليعذ رکي کو اب گاہ ميں اليعذر کي بجائے ايک بڑا بندر آرام کرتا تھا اور العيذر نے پچھلے سبت کے دن سب سے زيادہ مچھلياں پکڑي تھيں، پھر يوں ہوا کہ ايک دوسرے کو خبر دي، کہ اے عزيز العيذر بندر بن گيا ہے اس پر دوسرا زور سے ہنسا تو نے مجھے سے ٹھٹھا کيا اور وہ ہنستا ہي چلا گيا حتي کہ منہ اس سرخ پڑگيا، اور دانت نکل آئے اور چہرے کے ڈروخال کھيينچے چلے گئے اور وہ بندر بن گيا، تب پہلا کمال حيران ہوا منہ اس کا کھلا رہ گيا اور آنکھيں حيرت 
سے پھيلتي چلي گئيں اور پھر وہ بھي بندر بن گيا۔

  اور الياب ابن زبلون کو ديکھ کر ڈرا اور يوں بولا کہ ابے زبلون کے بيٹے تجھے کيا ہوا کہ تيرا چہرہ بگڑ گيا اب زبلون نے اس بات کا برا مانا اور غصے دسے دانت کچکچانے لگا تب الياب مزيد ڈرا اور چلا کر بولا اے زبلون تيري ماں تيرے سوگ ميں بيٹھي ضرور تھے کچھ ہوگيا ہے اس پر ابن زبلون کا منہ غصہ سے لال ہوگيا، اور دانت بھينچ کر الياب پر جھپتا تب الياب پر خوف سے لرزہ طاري ہوا اور ابن زبلون کا چہرہ غصے سے اور الياب خوف سے اپنے آپ سکڑتا اور وہ دونوں ايک مجسم غصہ اور ايک خوف کي پوتھ تھے آپس ميں گھتم گئے، انکے چہرے بگڑتے چلے گئے پھر ان کے اعضا بگڑنے پھر ان کي آوازيں بگڑيں کہ الفاط آپس ميں مد غم ہوتے چلے گئے اور پھر وہ بندر بن گئے، الياسف کہ ان سب ميں عقل مند تھا اور سے آخري آدمي بنا رہا، تشويش سےکہا کہ لوگوں مقرر ہميں کچھ ہوگيا، آئو ہم اس شخص سے رجوع کريں جو ہميں سبت کے دن مچھيلياں پکڑنے سے منع کرتا ہے، پھر الياسف لوگوں کے ہمراہ لے کر اس شخص کے گھر گيا اور حلقہ زن ہو کے دير تک پکارا کيا تب وہ وہاں مايوس پھر اور بڑي آواز سے بولا کہ اے لوگوں وہ شخص جو ہميں سبت کے دن مچھيلياں پکڑنے سے منع کرتا تھا آج۔
            ہمیں چھوڑکر چلا گيا ہے اور اگر سوچون تو اس ميں ہمارے لئے خرابي ہے،لوگوں نے سنا اور دہل گئے ايک بڑے خوف  نے انہيں آليا، دہشت سے صورتين ان کي چپڑي ہونے لگيں اور خدوخال مسخ ہوتے چلے گئے اور الياسف نے گھوم کر ديکھا اور سکتہ ہوگيا اس کے پيچھے چلنے والے بندر بن گئے تب بھي اس نے سامنے ديکھا اور بندرون کے سوا کسي کو نہ پايا، جاننا چاہئيے کہ وہ بستي ايک بستي تھي، سمندو کے کنارےاونچے پر جوں اور بڑے دروازوں والي حويلياں کي بستي بازاروں ميں کھوئے سےکھوا چھلتا تھا کٹورا بجتا تھا، پر دم کے دم ميں بازار ويران اور اونچي ڈيوڑھياں سوني ہوگئيں، اور اونچے برجوں ميں عالي شان چھتون پر بندر ہي نظر آنے لگے۔
اور الياسف نے ہر اس سے نظر دوڑائي اور سوچا ميں اکيلا آدمي ہوں اور اس خيال سے وہ ايسا  ڈرا کہ اس کا خوف جمنے لگا ليکن اسے الياب ياد آيا کہ خوف سے کس طرح اسکا چہرہ بگڑتا چلا گيا تھا، اور عزم باندھ کر معبود کي سوگند آدمي کي جون ميں پيدا ہوا اور آدمي کي جون ميں ہي مروں گا اور الياسف نے اپنے ہم جنسو سے نفرت کي اس نے ان کي لال بھبھو کا صورتوں اور بالوں سے ڈھکے ہوئے جسموں کو ديکھا اور نفرت سے چہرہ اسکا بگڑنے لگا  مگر اسے اچانک زبان کا خيال آيا کہ نفرت کي شدت سے صورت اس کي مسخ ہوگئي تھي، اس نے کہا کہ الياسف نفرت مت کرو کہ نفرت سے آدمي کي کايا بدل جاتي ہے، اور الياسف نے نفرت سے کنارہ کيا، اور کہا بے شک ميں ان ہي ميں سے تھا اور وہ دو دن ياد کئے، جب ون ان ميں سے تھا اور دل اس کا محبت کے جوش سے امنڈنے لگا اسے بنت الاخضر کي ياد آئي کے فرعون کے رتھ کي دودھيا گھوڑيوں ميں سے ايک گھوڑي کي مانند تھي، اور اسکے برے گھر کے در سروکے کڑياں سنوبر کي تھيں اس ياد کے ساتھ الياسف کو بيتے دن ياد آئے کہ وہ سرو کے دروں اور صنوبر کي کڑيوں والے مکان ميں عقب سے گيا تھا اور چھپر کھٹ کيلئے اسے ٹٹولا جس کيلئے اس کا جي چاہتا تھا اور اس نے ديکھا۔

لمبے بال اس کي رات کي بوندوں سے بھيگے ہوئے ہيں اور چھاتايا ہرن کي بچوں کے موفق تڑپتي ہے اور پيٹ اس کا گندم کي ديوڑھي کي مانند ہے اور پاس اس کے صندل کا گول پيالہ ہے اور لياسف نے بنت الاخضر کو ياد کيا اور ہرن کے بچوں اور گندم کي ڈھيري اور صندل کے گول پيالے کے تصوير ميں سرو کے دوروں اور صنوبر کي کڑيوں والے گھر تک گيا ساس نےخالي مکان کو ديکھ اور چھپر کھٹ پر اسے ٹٹولا جسکے لئيے اس کا جي چاہتا تھا اور پکارا کہ اے بنت  الاحضر تو کہا اور اسے وہ کر جس کيلئے ميرا جي چاہتا ہے ديکھ موسم کا بھاري مہنيہ گزرگيا اور پھولوں کي کيارياں ہري بھري ہوگئيم اور قمرياں اونچي شاخوں پر پتھرائي ہيں تو کہا ہے اے خضر کي بيٹي اے اونچي چھت پر بچھتے ہوئے چھپر کھٹ پر آرام کرنے والي تجھے دشت ميں دوڑتي ہوئي ہر نيوں اور چٹانو کي دراڑوں ميں چھپے ہوئے کبوتروں کي قسم تو نيچے اتر اور مجھ سے آن مل کہ تيرے لئے ميرا جيي چاہتا ہے۔
الياسف بار بار پکارتا کہ اس کا جي بھر آيا اور بنت ال خضر کو ياد کرکےرويا، مگر اچانک اسے العيذر کي رجويار آئي تو العيذر کو بندر کي جون ميں ديکھ کر روئي تھي، حالاں کہ اس کي بڑکي بندھ کي گئي اور بہت آنسو ميں اس اس کے جميل  نقش بگڑتے چلے گئے اور ہڑکي آوازوحشي ہوتي چلي گئي يہاں تک کہ اس کي جون بدل گئي تب الياسف نے خيال کيا بنت الاخضر جن ميں سے تھي ان ميں مل گئي اور بے شک جو جن ميں سے ہے، وہ ان کے ساتھ اٹھايا جائے گا اور الياسف نے اپنے تيں کہا کے اے الياسف ان سے محبت مت کرمباداتوان ميں سے ہوجائے اور الياسف نے محبت ہے کنارہ کيا اور ہم جنسوں کو ناجنس جان کر ان سے بے تعلق ہوگيا اور الياسف نے ہرن کے بچوں اور گندم کي ڈھيري اور صندل کے گول پيالي کو خاموش کرديا، الياسف نے محبت سے کنارہ کيا اور اپنے ہم جنسوں کي لال بھيکا صورتوں اور کھڑي دم کو ديکھ کر ہنسا اور لياسف کو اليعذر کي جو رويا ياد آئي کہ وہ اسے قرئيے کي حسين عورتوں ميں سے تھي، وہ تاڑ کے درخت کي مثال تھي اور چھاتياں اس کي انگور کے خوشوں کي مانند تھيں اور العيذر نے اس سے کہا تھا کہ جان لے کر ميں انگور کے خوشے توڑوں گا، اور انگور کے خوشوں والي تڑپ کو ساحل کي طرف نکل گئي العيذر راس کے پيچھے پيچھے گيا اور پھل توڑ اور تاڑ کے درخت کو اپنے گھر لے آيا۔
اور اب وہ ايک اونچے کنگرے پر العيذر کي جوئيں بن بن کر کھاتي تھي العيذر جھر جھر لے کر کھڑا ہو جاتا، اور وہ دم کھڑي کرکے اپنے لسحے پنجوں پر اٹھ بيٹھتي اس کے ہنسنے کي آواز اتني اونچي تھي کہ اسے ساري بستي گونجتي معلوم ہوئي، اور وہ اپنے اتني زور سے ہنسے پر حيران ہوا، مگر اچانک اسے اس شخص کا خيال آيا جو ہنستے ہنستے بندر گيا تھا، اے لياسف تو ان پر مت ہنس مباد تو ہنسي کي ايسي بن جائے اور الياسف نے ہنسي سے کنارہ کيا، لياسف نے ہنسي سے کنارہ کيا الياسف محبت اور نفرت سے غصہ اورہمدردي سے رونے اور ہنسنے سے ہر کيفيت سے گزرگيا اور ہم جنسوں کو ناجنس جان کر ان سے بےتعلق ہوگيا۔
ان کا درختوں پر اچکنا دانت پيس پيس کر گگکارياں آگے کبھي ہم جنسوں پر لاتا تھا، کبھي غصہ دلاتا کہ وہ ان پر لڑتے ديکھ کر اس نے غصہ کيا اور بڑي آواز سے جھڑکا، پھر خود ہي اپني آواز پر حيران ہوا، کسي کسي بندر نے اسے بے تعلقي سے ديکھا اور پھر لڑائي ميں جٹ گيا اور الياسف کے تيئيس لفطوں کي قدر جاتي رہي کہ وہ اس کے اور اس کے ہم جنسوں کے درميان رشتہ نہيں رہے ہے اور اس کا اس نے افسوس کيا الياسف نے افسوس کيا اور اپنے ہم جنسوں پر اپنے آپ اور لفظ پر افسوس ہے کہ ان بوجہ اس کے کہ وہ اس لفظ سے محروم ہوگئے۔
الياسف نے اپني تئيں آدميت کا جزيرہ جانتا تھا، گہرے پانيوں کے خلاف مدافعيت کرنے لگا، اس نے اپنے گرد پيش بناليا کہ محبت اور نفرت غصہ اور ہمدري گم اور خوشي اس پر يلغار نہ کريں، کہ جذبے کي کوئي ردا سے بہا کر نہ لئے ارلياسف اپنے جذبات سے خوف کرنے لگا، پھر جب وہ پشتہ تيار ہو چکا تو اسے يوں لگا کہ اس کے سينے کے اندر پتھري پڑگئي ہے، اس نے فکر مند ہو کر کہا کہ اے معبود کيا ميں اندر سے بدل رہا ہوں تب اس نے اپنے باہر پر نظر کي اسے گمان ہونے لگے کہ وہ پتھري پھيل کر باہر آرہي ہے، کہ اس کے اعضا خوش اس کي جلد بدرنگ اور اس کا لہو بے رس ہوتا جارہا ہے، پھر اس نے مزيد اپنے آپ پر غور کيا اور اسے مزيددسوں نے گھيرا اسے لگا کر اس بدن کو بالوں سے ڈھکا جارہا ہے، اور بال بد رنگ اور سخت ہوتے جارہے ہيں تب اسے اپنے بدن سے خوف آيا اور اس نے آنکھيں بند کرليں اور خوف سے اپنے اندر سمٹنے لگا اسے يوں معلوم ہوا کہ اس کي ٹانگين اور بازئوں مختصر اور چھوٹا ہوتا جا رہا ہے، اب اسے مزيد خوف ہوا، اور اعضا اس کے خوف سے مزيد سکڑنے لگے اور اس نے سوچا کہ کيا ميں بدل معدوم ہوجائوں گا، اور لياسف نے الياب کو ياد کيا کہ خوف سے اپنے اندر
سمٹ کر وہ بندر بن گيا تھا تب اس نے کہا کہ ميں اندر کے خوف پر اسي طرح غلبہ پائوں گا، جس طور ميں نے باہر کے خوف پر غلبہ پايا تھا، اور الياسف نے اندر کے خوف پر غلبہ پاليا اور اس کے سمٹتے ہوئے اعضا کھلنے اور پھلنے لگے۔
اسکے اعضا ڈھيلے پڑگئے اور اس کي انگلياں لمبي اور بال بڑے اور کھڑے ہونے لگے اور اس کي ہتھياں اور تلوے چپٹ اور لہے ہوگئے، اور اس کے جوڑ کھلنے لگے اور الياسف کو گمان ہوا کہ اس کے سارے اعضا بکھر جائيں گے، تب اس نے عزم کرکے اپنے دانتوں کو بھيچا اور مٹھياں کس کر باندھيں اور اپنے آپ کو اکھٹا کرنےلگا، الياسف نے اپنے بہيت اعضا کي تاب نہ لاکر آپني آنکھيں بند کرليں اور جب الياسف نے آنکھيں بند کرليں تو اسے لگا کہ اس کے اعضا کي صورت بدل رہي ہے، اس نے ڈرتے ڈرتے اپنے آپ سے پوچھا کيا ميں، ميں نہيں ہو، اس خيال سے دل اس کا ڈھپنے لگا اس نے ڈرتے ڈرتے اپني آنکھيں کھوليں اور چپکے سے اپنے اعضا پر نظر کي اسے ڈھارس ہوئي کہ اس کے سارے اعضا تو جيسے تھے ويسے ہي ہيں، اس نے دليري سے آنکھيں کھوليں اور چپکے سے اپنے اعضا پر نظر ڈالي ڈالي اور کہ اس کے سارے کے سارے اعضا جيسے تھے ويسے ہي تھي، اس نے دليري سے آنکھيں کھوليں اور اطمينان سے اپنے بدن کو ديکھا اور کہا بے شک ميں اپني جون ميں ہوں، مگر اس کے بعد آپ ہي آپ اسے بھروسہ ہوا کہ جيسے اس کے اعضا بگڑتے اور بدلتے جار رہے ہيں، اور اس نے پھر آنکھيں بند کر ليں، اور جب لياسف نے آنکھيں بند کرليں تواس کا دھيان اندر کي طرف گيا اور اس نے جانا کہ وہ کسي اندھيرے کنويں ميں دھنستا جارہا ہے، الياسف نے درد کے ساتھ کہا کہ اے ميرے معبود ميرے بارہ بھي دوزخ ہے اندھيرا کنويں ميں دھستے ہوئے ہم جنسوں کي پراني صورتوں نے اس کا تعقب کيا اور گزرہي راتين محاصرہ کرنے لگا، الياسف نے سبت کے دن ہم جنسوں کو مچھليوں کے شکار کرنے کو ياد کرنے لگا، کہ مچھليوں سے بھرے سمندر مچھليوں سے خالي ہونے لگا، اور اس کي ہوس بڑھتي گئي انہوں نے سبت کے دن بھي شکار کرديا، تب اس شخص نےجو نہيں سبت کے دن مچھليوں کے
شکار سے منع کرتا تھا اور کہا کہ رب کي سوگند جس نے سمندر کو گہرے پانيوں والا گہرے پانيوں کي مچھليوں کا مامن ٹھرايا سمندر تمہارے دست ہوس سے  پناہ مانگتا ہے اور سبت کے دن مچھليوں پر ظلم کرنے سے باز رہو کہ مباد تم اپني جانو پر ظلم کرنے والے قرار پوئو الياسف نے کہا کہ معبود کي سوگند ميں سبت کے دن مچھليوں کا شکار نہيں کروں گا، اور الياسف عقل کا پتلا تھا سمندر سے فاصلے پر ايک گڑھا کھود اور نالي کھود کر اسے سمندر سے بلايا ارسبت کے دن مچلياں سطر آب پر آجاتي ہيں تو تيرتي ہوئي نالي کي راہ گڑھے پر نکل گئيں اور سبت کے دوسرے دن الياسف نے اس گڑھے سے بہت سے مچھلياں پکڑيں وہ شخص خود بست کے دن مچھلياں پکڑنے سے منع کرتا تھا، يہ ديکھ کر بولا کہ تحقيق جس نے اللہ سے مکر کيا اللہ اس سے مکر کرےگا، اور بے شک اللہ زيادہ بڑا مکر کرنے والا ہے۔

No comments:

Post a Comment

از راہ کرم کوشش کیجئے کہ اردو زبان میں اپنی رائے کا اظہار کریں اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو کی سہولت موجود نہیں بھی ہے تو آپ کسی بھی اردو ایڈیٹر مثلاٰ
www.urdueditor.com
پر جاکر اردو میں ٹائپ کر کے یہاں چسپاں کر سکتے ہیں۔