December 30, 2011

آخری گاڑی

آخری گاڑی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ منیر احمد فردوس

ڈھولک کی تھاپ گھر بھر میں  گونج رہی تھی۔کمرے میں رانو گوٹے والا سرخ دوپٹہ سر پر ڈالےمنہ چھپائے دلہن بنی بیٹھی تھی۔اور آٹھ دس لڑکیاں اسے نیم دائرے میں گھیرے  "ساڈا چڑیاں دا چنبہ وے، بابل اسی اڈ جانڑاں" گا رہی تھیں۔گاتے ہوئے وہ اتنا زور لگا رہی تھیں کہ ان کے چہرے خون کی سرخی سے لال ہو کر خوب دمک رہے تھے اور ہر چہرہ تازگی میں پھولوں کو کملا رہا تھا۔مگر باہر وسیع صحن میں فیضو اپنے سر کو دونوں ہتھیلیوں پر رکھے اور داہنی ٹانگ کو بائیں ٹانگ پر دھرے کھاٹ پر ہر چیز سے بے نیاز یوں لیٹا تھا جیسے ڈھولک اس کے گھر میں نہیں کہیں اور بج رہی ہو۔اس کا وجود کھاٹ پر پڑا تھا مگر اس کے چہرے سے صاف پتہ چلتا تھا کہ سوچ کے اڑتے پنچھی کا پیچھا کرتے ہوئے وہ کسی اور جہاں میں پہنچا ہو اتھا۔وہ شدید تذبذب کا شکارلگ رہا  تھا، یوں لگتا تھا جیسے اس کا چہرہ میدانِ جنگ بنا ہوا ہے جہاں دولمحوں کے بیچ جنگ لڑی جا رہی ہے۔ کافی دیر تک وہ اسی حالت کا قیدی رہا اور پھر اچانک اس کے چہرے پر طمانیت یوں پھیلتی چلی گئی جیسے ٹوٹی پھوٹی دیوار پر سفیدی کی دبیز چادر چڑھا دی گئی ہو۔اسے دیکھ کر لگتا تھا کہ جیسے کسی ایک لمحے کی جیت ہو گئی ہے۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھا اور اپنی ماں کوتلاشتے ہوئے  ادھر ادھر دیکھا جو اسے بھینسوں کے آگے چارہ ڈالتی ہوئی نظر آئی۔فیضو ننگے پائوں ہی اپنی ماں کی طرف بڑھ گیا۔ قریب پہنچ کر اس نے اپنی ماں سے کہا"اماں! میں بابے کو ڈھونڈنے شہر جائوں گا۔" اس کی ماں چارہ ڈالتے ڈالتے یک لخت رک گئی اور جم سی گئی۔ ڈھولک کی تھاپ اور لڑکیوں کے گانے کی آوازیں مسلسل گونج رہی تھیں۔ فیضو کی ماں چند لمحے تو ساکت و جامد کھڑی اسے دیکھتی رہی اور بالآخر وہ بھینس کو چارہ ڈالتے ہوئے تفکر سے بولی"یہ تو کیا کہہ رہا ہے پتر؟"اس کے چہرے پر فکر اپنا نقشہ بنا نے لگی تھی۔ "ہاں اماں! میں نے سوچا ہے کہ میں بابے کے واسطے شہر جائوں گا۔"فیضو نے بھینس کی دائیں آنکھ کے قریب چمٹا بڑا سا تنکا ہٹاتے ہوئے کہا "ناں فیضو ناں! میں تجھے شہر نہیں جانے دوں گی۔ میں ڈرتی ہوں کہ شہر میں جا کر کہیں تو گم نہ ہو جائے۔" اس کی ماں تشویشناک لہجے میں بولی۔ "نہیں اماں! مجھے کچھ نہیں ہو گا، تُو تو بس ایویں ہی پریشان ہو جاتی ہے، میں اتنا چھوٹا تو نہیں کہ بابے کو ڈھونڈنے شہر نہ جا سکوں؟"فیضو نے بھینس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ اچانک بکری کی " میں۔ ۔ ۔میں۔ ۔ ۔" گونج اٹھی۔فیضو نے صحن نے آخری کونے میں بندھی بکری کو دیکھا، جو اسی کی طرف دیکھے "میں۔ ۔ ۔میں۔ ۔ ۔ " کئے جا رہی تھی، جیسے وہ بھوک کی حالت میں اپنے مہربان کو دیکھ رہی ہو۔"مگر پتر! تمہارا اکیلے شہر جانا صحیح نہیں ۔ سنا ہے کہ شہر کے حالات بہت خراب ہیں" اس کی ماں نے قدموں کے زور پر بیٹھ کر بھینس کو چارہ ڈالتے ہوئے کہا۔ وہ اپنی ماں کو کوئی جواب دئیے بغیر برآمدے کی جانب چل دیا، وہاں سے ہری ہری گھاس اٹھائ اور جا کر بکری کے آگے ڈال دی۔ بکری بے چین ہو کر ممیانے لگی اور زور زور سے دم ہلانے لگی، جیسے وہ اس مہربانی پر فیضو کا شکریہ ادا کر رہی ہو اور پھر تازہ تازہ گھاس کھانے لگی، جو تھوڑی دیر پہلے ہی فیضو اس کے لئے کاٹ لایا تھا۔فیضو دوبارہ ماں کے پاس آ کربولا "اماں! تو یہ بھی تو سوچ ناں کہ بابے کو شہر کو گئے ہوئے تین دن ہو گئے ہیں اور وہ ابھی تک نہیں آیا، ہم کتنے پریشان ہیں، بس اماں! میں بابے کو ڈھونڈنے شہرضرور جائوں گا۔"فیضو نے نہایت ٹھوس لہجے میں کہا "سوہنڑاں رب خیر کرے فیضو پتر! مگر تو اپنے باپ کو کہاں ڈھونڈے گا؟شہر تو بہت بڑا ہے اور کوئی بھی نہیں جانتا کہ وہ کس سنارے سے زیور لینے گیا ہے؟" اس کی ماں نے بھینس کا تازہ تازہ گوبر اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر ساتھ رکھے بڑے سے تھال میں ڈالتے ہوئے کہا، جو کہ ایک دوسری بھینس نے چارہ کھاتے ہوئے ابھی ابھی دیا تھا۔اس کے لہجے سے پریشانی پانی کے
بوندوں کی طرح رس رہی تھی۔ " اماں! تو وہم نہ کر، میں اب شہر جا سکتا ہوں۔ میں بابے کو تلاش کر لوں گا ۔ کل رانو کی بارات آنے والی ہے اور بابے کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں ہے" فیضو نے بے چینی سے مچلتے ہوئے کہا۔ اس کی ماں نے گوبر سے بھرا ہوا تھال اسے دیا اور وہ اسے دونوں ہاتھوں سے اٹھائے وہاں رکھ آیا، جہاں اس کی ماں دیوار پر اپلے لگاتی تھی۔اور بالآخر فیضو کی ضد اس کی ماں پر حاوی ہو گئی اور اسے فیضو کو شہر جانے کی اجازت دینا ہی پڑی۔وہ فیضو کو شہر جانے پر رضا مند تو ہو گئی تھی مگر اس کے چہرے پر فکر و تردد کی کتنی ہی تہیں چڑھتی چلی گئیں۔ وہ پہلے ہی اپنے خاوند کے شہر سے واپس نہ آنے پر پریشان تھی اور اب فیضو کا یوں اکیلے شہر جانا اسے مزید پریشان کر گیا۔
اُس وقت سائے قدموں کو چومنے لگے تھے جب اٹھارہ سالہ فیضو اپنی ماں کے چہرےکی تیزی سے ماند پڑتی چمک کو ویرانی میں تبدیل کر کے شہر روانہ ہوا تھا۔وہ خود بھی پریشان تھا، بس پر بیٹھتےہی اس کی سوچوں کےکارواں اس کے باپ کو ڈھونڈنے نکل کھڑے ہوئے اور شہر پہنچنے تک وسوسوں کے گدھ اس پر جھپٹتے رہے تھے، جن سے وہ خود کو ایک پل کے لئے بھی نہیں چھڑا پایا تھا۔ اسی ذہنی کشمکش میں وہ شہر پہنچ گیا تھا۔ اپنے سامنے شہر کی بلند و بالا خوبصورت عمارتیں، وہاں کی ہنگامہ خیز اور مصروف زندگی دیکھ کر بھونچکا رہ گیا۔ ہر طرف دھوئیں کے بڑے بڑے بادل چھوڑتی گاڑیاں، فضا میں چنگھاڑتے ہارن، روبوٹ کی طرح چلتا ہوا انسانوں کا جلوس، فضا میں گونجتی ٹریفک سارجنٹ کی سیٹیاں، ٹھیلے والوں کی بلند ہوتی آوازیں اور عجیب طرح کا کان پھاڑتا ہوا شور کا ایک ریلا اچانک اس کے کانوں میں گھس گیا۔ اسے یہ سب نا مانوس لگا۔ اس کے چہرے پر ناگواری کی بارش ہونے لگی۔اپنے سامنے سڑکوں کا الجھا ہوا جال دیکھ کر اس کا دماغ چکرا رہ گیا۔ کہاں سانپ کی طرح بل کھاتی اونچی نیچی گائوں کی پگڈنڈیاں اور کہاں شہرکی بڑی بڑی پختہ سڑکیں۔اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر وہ جائے تو کس طرف؟کافی دیر گزر جانے کے باوجود بھی وہ کوئی فیصلہ نہ کر سکا کہ وہ کیا کرے؟شور کا اژدھا اسے نگل رہا تھا اور وہ بے بس اور پریشان کھڑا تھا۔ جب اسے کچھ سمجھ نہ آئی تو اس نے اپنے قریب سے گزرتے ایک سفید ریش بزرگ کو روک لیا اور اپنی الجھن بتائی۔بزرگ نے اس کی پریشانی کو بھانپتے ہوئے اسے صرافہ بازار جانے والی گاڑی پر بٹھا دیا۔ آدھے گھنٹے بعد وہ صرافہ بازار میں کھڑ اتھا۔ بازار کی گہما گہمی، لوگوں کا ہجوم اور یہاں کی الگ تھلگ دنیا دیکھ کر اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل کر کانوں کو جا لگیں۔سڑک کے دونوں جانب سناروں کی بڑی بڑی خوبصورت دکانیں موجود تھیں۔ ہر دکان چھت تک صاف شفاف شیشوں سے مزین تھی،جہاں بے حساب برقی قمقمے جلتے نظر آ رہے تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ دکانیں نہیں نور کی آبشاریں ہیں۔ فیضو جسم و جاں پر حیرت کی چادر اوڑھے ایک سنار کی دکان کی طرف بڑھ گیا۔دکان سے امنڈتا روشنی کا سیلاب اور ستاروں کی طرح چم چم کرتے دیدہ زیب زیورات دیکھ کر اس کی آنکھیں حیرت  سے حرکت کرنا بھول گئیں۔ایک ایک زیور  کو دیدے پھاڑے وہ یوں دیکھ رہا تھا جیسے زیورات کی چمک کو وہ چوری کرنا چاہتا ہو۔ابھی وہ جی بھر کر ان زیورات کو دیکھ بھی نہ پایا تھا کہ دکاندار نے اسے بری طرح سے جھڑک دیا۔ دکاندار کے اس نفرت انگیز رویے سے اس کا چہرہ اک دم سےبجھ گیا۔ اس نے دکاندار کو عجیب نظروں سے دیکھا اور پھر اپنے باپ کو تلاش کرتے ہوئے دکان پر ایک طائرانہ نگاہ دوڑائی مگر چند دوسرے لوگوں کے علاوہ اسے وہاں اپنا باپ نظر نہ آیا۔وہ مایوس آگے بڑھ گیا۔ اب وہ ایک دوسری دکان کے سامنے موجود تھا،یہاں پر بھی ہیرے، سونے، چاندی اور دوسری مختلف دھاتوں سے بنے خوبصورت زیورات روشنیوں میں یوں چمک رہے تھے جیسے زیورات کے اندر بھی روشنی دو ڑ رہی ہو۔ پہلے دکاندار کے سخت رویے نے اسے محتاط کر دیا تھا، اس لئے اس نے دوسری دکان پر زیادہ دیر رکنا مناسب نہ سمجھا۔ روشنی کا لبادہ اوڑھے اس کشادہ کان کے اندر اس نے ایک بھر پور نظر ڈالی، جب اس دکان پر بھی اسےاپنا باپ دکھائی نہیں دیا  تو اس کے قدم آگے کی طرف اٹھ گئے۔ہر دکان خوبصورتی اور سجاوٹ میں دوسری دکانوں  کو مات دے رہی تھی۔ وہ ہر ایک دکان کے اندر بغور جھانکتا ہوا آگے ہی آگے بڑھتا گیا، جیسے اسے یقین تھا کہ اس کا باپ ضرور کسی نہ کسی دکان پر ضرور بیٹھا ہو گا۔ کئی ایک دکانداروں  سے اس نے اپنے باپ کے بارے میں پوچھ گوچھ بھی کی، مگر ہر دکاندار نے عجیب سی نظروں سے گھور کر اسے چلتا کیا۔پورا بازار گھوم پھر کر اس نے دیکھ لیا مگر اسے اپنا باپ کہیں بھی نظر نہ آیا۔آخر اس نے صرافہ بازار پر ایک طویل مایوس نظر ڈالی اور بازار سے باہرنکل آیا۔ صرافہ بازار میں اسے وقت گزرنے کا احساس بھی نہیں ہوا تھا۔ روشنیوں کے سیلاب میں دن کا سا سماں تھا مگر بازار سے نکلا تو اس نے دیکھا کہ اندھیرا  شہر کو اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا۔اس نے آسمان پر نگاہ دوڑائی تو وہ اچھا خاصا سیاہ ہو چکا تھا اور ستارے بھی نمودار ہونے لگے تھے۔ رات کو وہ شہر کا منظر پہلی مرتبہ دیکھ رہا تھا، چپے چپے پر زرد روشنی پھینکتے برقی بلب روشن تھے اور گاڑیاں چاروں طرف روشنی بکھیرتی آ جا رہی تھیں۔ہر طرف  روشنی ہی روشنی سانس لے رہی تھی۔اپنے باپ کو مسلسل تلاش کرتے کرتے تھکاوٹ نے اسے  ایسا پچھاڑ ڈالا تھا کہ اب وہ اپنی کمر پر دونوں ہاتھ رکھے تھکن سے بے حال کھڑا ادھر ادھر دیکھ رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر ایک چھوٹے سے ہوٹل پر جا پڑی۔ ہوٹل پر نگاہ پڑتے ہی اس کے اندر پہلی بار اس احساس نے جنم لیا کہ وہ کافی دیر سےشدید  بھوکا ہے۔وہ بے تابانہ ہوٹل کی طرف بڑھ گیا۔وہ ایک چھوٹا سا تنگ و تاریک ہوٹل تھا، جہاں پہلے ہی سے چند لوگ بیٹھے کھانا کھانے میں مصروف تھے۔ بھوک اسے اتنا ستا رہی تھی کہ وہ اپنے باپ کی پریشانی بھول کر کھانے میں جت گیا۔ اس نے خوب سیر ہو کر کھایا اور تھوڑی دیر سستانے کے بعد جب اس نے پیسے دینے کے لئے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا تواگلے ہی لمحے اسے پیروں تلے سے زمین سرکتی محسوس ہوئی۔ اس کا ہاتھ جیب کے اندر سے نکل کر باہر کی طرف جھانک رہا تھا۔ اسے پتہ ہی نہیں چل سکا تھا کہ کب اس کی جیب کٹ گئی تھی۔ کٹی جیب دیکھ کر اس کی چہرے پر سیاہ رات چھا گئی اور وہ گنگ سا ہو کر ہوٹل کے مالک کو ہونقوں کی طرح دیکھنے لگا۔ اس کی حالت دیکھ کر ہوٹل کے مالک کو اصل بات سمجھنے میں ذرا بھی دیر نہ لگی جو کہ پٹھان تھا۔ وہ سارا معاملہ سمجھ گیااور بڑے کرخت لہجے میں چیخ کر بولا"اے  لکا، اب تم بولے گا کہ امارا جیب کٹ گیا ہے مگر خدا قسم گل خان تم جیسا بدمعاش چھوکرا کو اچی طرح جانتا ہے، گل خان کو پاگل بناتا ہے ؟ تم نے کانے کا پیسہ نہ دیا تو خدا قسم ساری رات تم کو کام کرنا پڑے گا ادھر ہوٹل پر، کیا سمجھا تم؟" گل خان کی چنگھاڑ  اور اس کی آنکھوں سے نکلتی چنگاریوں سے فیضو لرز کر رہ گیا۔ہوٹل پر کام کرنے والا واحد چھوٹی عمر کا لڑکا فیضو کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا تھا۔ اور کھانا کھاتے لوگ بھی اس کی طرف دیکھنےلگے تھے مگر فیضو کی یہ حالت تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔وہ شدید سہم گیا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے؟ اس کی جیب کٹ چکی تھی اور اب کھانے کے پیسے اس کے پاس نہیں تھے۔اس کی خاموشی کو دیکھتے ہوئے گل خان پھر چیخا "اوئے چوٹے! اس چھوکرا کو کام پر لگا اور نظر رکھ اس پر ، آجاتا ہے لوفر گل خان کے ہوٹل پر۔"اس نے فیضو کی طرف دیکھ کر دھاڑتے ہوئے کہا۔ "اچھا استاد" فیضو کے ساتھ کھڑے چھوٹے نے کہا  اور وہ فیضو کو بازو سے پکڑ کر  اس طرف لے گیا، جہاں سالن سے بھری گندی پلیٹیں پڑی تھیں اور اسے دھونے پر لگا دیا۔وہ چارونا چار کام کرنے لگا، اس کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اس پر ایسی آفت بھی آ سکتی ہے۔اسے اپنی ماں کی فکر نے گھیر لیا تھا ۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے گھر نہ پہنچنے سے  اس کی ماں مچھلی کی طرح تڑپ رہی ہو گی مگر اس کی اپنی حالت بھی تڑپتی مچھلی سے کم نہ تھی۔اس کا دل گھر کے لئے مچل رہا تھا مگر  اس کے سامنے سے اس کے گھر جانے کی تمام راہیں لپیٹ لی گئی تھیں۔ابھی اسے کام کرتے ہوئے آدھا گھنٹہ بھی نہیں ہوا تھا کہ اچانک ہوٹل پر پولیس کی ایک وین آ کر رکی اور اندر سے پولیس   کا ایک دستہ  نکلا اور آناً  فاناً پورے ہوٹل کو گھیرے میں لے کر اس کی تلاشی شروع کر دی۔ ہو ٹل کا مالک گل خان چیختا رہ گیا کہ یہ تلاشی کیوں لیا جا رہا ہے؟مگر پولیس نے اس کی ایک نہ سنی اور اپنے کام میں بدستور جتی رہی۔ پولیس نے ایسی بھر پور اور جامع تلاشی لی کہ تھوڑی ہی دیر میں ہوٹل کے اوپر بنی ایک چھوٹی سی ماڑی سے دو نو عمر دہشت گرد پکڑ لئے گئے تھے، جن کے قبضے سے خود کش جیکٹیں اور دیگر اسلحہ بھی برآمدکر لیاگیا تھا۔ اگلے ہی لمحے گل خان ہتھکڑیوں میں جکڑا جا چکا تھا  اور ساتھ ہی ہوٹل پر کام کرنے والے دونوں لڑکوں کو بھی پولیس نے پکڑ لیا تھا، جن میں غم کی شدت سے نڈھال فیضو بھی شامل تھا۔
"کرماں جلی! تو نے اسے شہر بھیجا ہی کیوں تھا؟ اسے کیا پتہ شہر کے رستوں کا؟ کبھی تو عقل سے بھی کام لیا کر۔"فیضو کے باپ نیاز نے مرغی اورا س کے چوزوں کی طرف روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ڈال کر اپنی بیوی جنتو پر ناراض ہوتے ہوئے کہا۔ دونوں میاں بیوی اس وقت صحن میں رکھی کھاٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ چوزوں کی چوں چوں حویلی کا طواف کر رہی تھی، جو دانہ چگنے میں مصروف تھے۔ اندر کمرے میں رانو دلہن کے لباس میں ملبوس اور زیورات  سے لدی بیٹھی تھی، جہاں اس کی سکھیاں اور چند دوسری عورتیں اس کے بنائو سنگھار میں مصروف تھیں۔نیاز کے چہرے پر زخموں کے نشان تھے اور دائیں پنڈلی پر میلی سی پٹی بندھی تھی،جہاں خون کے موٹے موٹے دھبے نظر آ رہے تھے۔ "میں کیا کرتی؟ وہ شہر جانے کی ضد کر بیٹھا تھا۔ میں نے اسے بہت سمجھایا مگراس نےمیری بات نہیں مانی۔ پتہ نہیں اس وقت کہاں ہو گا میرا لال؟"فیضو کی ماں جنتو نے نیاز کی ٹانگ سے مکھیاں اڑاتے ہوئے کہا، جو بار بار اس کے زخم پر بیٹھ رہی تھیں۔اس کے چہرے کا رنگ پریشانی اور ملول سے اتر چکا تھا اور آنکھوں میں وحشت چھاپے مارتے رہی تھی۔ گھر میں کافی گہما گہمی بھی تھی، مہمان آئے ہوئے تھے  مگر فیضو کے شہر سے واپس نہ آنے پر گھربھر میں کافی پریشانی تھی اور شادی کا ماحول بھی قدرے اداسی میں بدل گیا تھا۔فیضو کے پیچھے ایک دو آدمی بھی شہر روانہ کئے گئے تھے مگر وہ بھی ناکام و نامراد واپس لوٹ آئے تھے۔ "شہر سے آنے والی کتنی ہی گاڑیاں دیکھ کر آیا  ہوں مگر کسی میں بھی فیضو نہیں تھا۔ شہر سے آنے والوں سے بھی اس کے بارے میں پوچھا مگر کسی کو بھی اس کا نہیں پتہ۔"نیاز نے اپنی داڑھی کھجلاتے ہوئے ٹوٹے لہجے میں کہا۔ جنتو اچانک داہنا ہاتھ فضامیں لہرا کر "ہش۔۔۔ہش۔۔۔"  کی آ وازیں نکالنے لگی۔ نیاز نے چونک کر اس طرف دیکھا تو ایک موٹی سرمئی رنگ کی بلی دبے پائوں چوزوں کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس نے جلدی سے فیضو کا جوتا اٹھایا اور پوری قوت سے بلی کی طرف دے مارا، جو اس کے سر کے اوپر سے گزر گیا، مگر بلی دم دبا کر بھاگ گئی۔ مرغی اور اس کے چوزےے بلی کی آمد اور اس کے بھاگ جانے سے بے نیاز چوں چوں کرتے دانہ چگنے میں لگے ہوئے تھے۔"اب تو بارات بھی پہنچنے والی ہے اور فیضوکی ابھی تک کوئی خیرخبر نہیں ہے، کیسے رخصت کروں گا رانو کو اس کے بغیر؟ یہ سب کیا دھرا تمہارا ہے عقل کی دشمن۔"نیاز نے کھاٹ پر لیٹتے ہوئے کہا۔ "وہ تو تیری خاطر بہت بے صبرا ہو رہا تھا ، تم جو زیور لینے گئے  تو تین دن بعد لوٹے ہو، اس سے صبر نہیں ہو سکا اور وہ تجھے ڈھونڈنے شہر چلا گیا۔" جنتو نے سر پر دوپٹہ اوڑھتے ہوئے مردہ لہجے میں کہا۔ "اری نیک بخت! میں کہاں جا سکتا تھا؟ کہا تو ہے کہ میرے ساتھ حادثہ پیش آ گیا تھا۔ ایک موٹر نے مجھے ٹکر مار کر بہت زخمی کر دیا تھا، جس کی وجہ مجھے ایک دو دن ہسپتال میں داخل ہو نا پڑا۔ شہر بڑی خطرناک جگہ ہوتی ہے، اس طرح کے حادثے تو وہاں روز ہوتے ہیں۔ اب پتہ نہیں فیضو پتر کہاں ہو گا؟" نیاز نے افسردہ لہجے میں کہا۔ "میرا سوہنڑاں ربا! میرا فیضو جہاں بھی ہو، اسے اپنی امان میں رکھنا اور صحیح سلامت اسے گھر  پہنچا دے۔" جنتو نے دونوں ہاتھ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے روہانسے لہجے میں کہا۔ دونوں میاں بیوی  کے چہرے فکر و تردد سے ماند پڑ چکے تھے۔
دوپہر سے بارات نیاز کے آنگن میں اتری ہوئی تھی اور اب شام ہونے کو تھی مگر ابھی تک رانو کو رخصت نہیں کیا گیا تھا۔ مرد اس کی چوپال کے کھلے صحن میں موجود تھے اور عورتیں اس کے گھر کے آنگن میں بیٹھی ہوئی تھیں۔مردوں کی آپس  کی کھسر پسر سے فضا میں ارتعاش پید اہو رہا تھا ۔ نیاز نہایت فکر مندی سے باراتیوں کو بار بار دیکھ رہا تھا جن کے چہروں پر اب تازگی کی بجائے بیزاری چھلکنے لگی تھی۔ وہ سب کے سب بیچارے دوپہر سے  ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے تھے۔ نیاز خود ان کی حالت دیکھ کر اندر ہی اند ر کڑھ رہا تھا۔ اس سے ذرا بھی آرام سے بیٹھا نہیں جا رہا تھا وہ بار بار آ جا رہا تھا اور اب تو تمام باراتی اسے گھورنے لگتے تھے، جیسے وہ ان سب کا مقروض ہو۔جب وہ چبھتی ہوئی انگنت نظروں کا سامنا نہ کر سکا تو وہ ایک بار پھر اٹھا اورلنگڑاتا ہوا زنان خانے کی طرف آیا۔ اپنی بیوی جنتو کو بلوا کر کہا "مجھے اب باراتیوں کے سامنے جاتے  ہوئے شرم آتی ہے۔بیچارے دوپہر سے انتظار کر رہے ہیں۔ہر کوئی میری طرف عجیب نظروں سے دیکھتا ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ اب اپنی دھی رانو کو رخصت کر ہی دو، پتہ نہیں فیضو پتر اب آتا بھی ہے یا نہیں؟"نیاز نے  الجھے ہوئے اداس لہجے میں کہا ۔ "نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔تھوڑا اور صبر کر لو،کیا پتہ فیضو پتر آجائے۔" جنتو نے تڑپتے ہوئے کہا "اب اگر وہ نہ آئے تو اس کی سزا باراتیوں کو تو نہیں دی جا سکتی ناں؟" نیاز دائیں طرف تھوکتے ہوئےقدرے بیزار ی سے بولا"بخشو کی منت سماجت کرکے اسے تھوڑی دیر اور روک لو، میرا دل کہتا ہے کہ فیضو پتر ابھی آ جائے گا۔" جنتو نے اس  کے بازو کو پکڑ کر ہلاتے ہوئے کہا"اف۔۔۔آہستہ جنتو۔۔۔" نیاز نے اپنا بازو سہلاتے ہوئے کہا، اس کے چہرے پر تکلیف اگ آئی تھی۔اس کے بازو سے ہلکا سا درد انگڑائی لینے لگا  تھا۔ اور جنتو نے جلدی سے اس کا بازو چھوڑ دیا۔ابھی فیضو اسے کوئی جواب نہیں دے پایا تھا کہ پیچھے سے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ نیاز نے مڑکر دیکھا تو وہ دولہا کا باپ اور اس کا بڑا بھائی بخشو تھا۔"نازو بھرا!اب صبر نہیں ہوتا۔ بارات دوپہر سے آئی ہوئی ہے، اب دھی رانو کو رخصت کرو۔ تمام لوگ انتظار کرکر کے تھک گئے ہیں۔"نیاز کے بھائی بخشو نے کہا۔ اس کے لہجے سے ناگواری عیاں تھی۔ "بس بخشو بھائی! تھوڑی دیر اور صبر کر لو، شاید فیضو پتر آ جائے، رانو بھی بغیر بھائی کے رخصت ہو گی تو اداس جائے گی اور فیضو بھی خفا ہو گا کہ میرے بغیر رانو کو ڈولی میں کیوں بٹھا یاتھا؟بس تھوڑی سی مہلت اور دے دو۔شہر سے گائوں کی آخری گاڑی  بس آنے والی ہے۔"فیضو نے اپنے بھائی بخشو کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے نہایت ہی ٹوٹے لہجے میں کہا۔"اچھا نازو بھرا! میں تھوڑا سا اور انتظار کر لیتا ہوں، بس اس کے بعد ہم مزید نہیں رکیں گے۔" بخشو نے حامی بھرتے ہوئے کہا۔ " ہاں۔۔۔ہاں۔۔۔بھائی بخشو! بے شک اس کے بعد ہم اپنی رانو کو ڈولی میں بٹھا دیں گے، بس دعا کرو کہ میرا فیضو پتر آ جائے۔" جنتو نے نیاز کے بولنے سے پہلے ہی تڑپ کر کہا۔ نیاز اور بخشو دوبارہ مردانے کی طرف چلے گئے  تھےمگر جنتو کی بے چین نظریں اس راستےپر گڑھ گئیں، جہاں سے شہر کی آخری گاڑی چند لمحوں میں آنے والے تھی اور اس کے دل میں دم توڑتی ایک ہی امنگ ہچکولے کھا رہی تھی کہ "میرا فیضو پتر آتا ہی ہو گا، بس ابھی آتا ہی ہو گا۔"

No comments:

Post a Comment

از راہ کرم کوشش کیجئے کہ اردو زبان میں اپنی رائے کا اظہار کریں اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو کی سہولت موجود نہیں بھی ہے تو آپ کسی بھی اردو ایڈیٹر مثلاٰ
www.urdueditor.com
پر جاکر اردو میں ٹائپ کر کے یہاں چسپاں کر سکتے ہیں۔