دوسرا افسانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سناٹے
از منیر احمد فردوس
از منیر احمد فردوس
********************************************************
شریف کے ماں باپ کے لڑنے جھگڑنے کی تیز و تند آوازیں عقاب بن کر شریف پر جھپٹیں، جو نیند کا لحاف اوڑھے سو رہا تھا۔اس نے ایک جھٹکے سے آنکھیں کھولیں اور فورًا اٹھ بیٹھا۔ شاید وہ دیر تک ہی سویا رہتا اگر دیگچی کے گرنے اور اور اس کے لڑھکنے کے بے ہنگم شور کا خنجر اس کی نیند کی چادر کو تار تار نہ کر ڈالتا۔ اس اچانک افتاد پر وہ ہڑبڑا کر اٹھا اور جلدی جلدی آنکھیں ملتا ہوا ننگے پاﺅں ہی کمرے سے باہر نکل گیا۔ اسے صحن کے وسط میں چائے کی دیگچی اوندھی پڑی نظر آئی اور ساتھ ہی دمدار ستارے کی طرح ایک بڑا سا لمباگیلا دھبہ دکھائی دیا، جو یقینًا چا ئے کا تھا، جسے صحن کے کچے فرش نے اپنے سینے میں اتار لیا تھااور اس میں سے ہلکی ہلکی بھاپ ابھی تک اٹھ رہی تھی۔ اس کی چھوٹی بہن برآمدے میں چارپائی پر بیٹھی کلام اللہ پڑھ رہی تھی اور اس کے ماں باپ چولہے پر بیٹھے حسبِ عادت لڑ رہے تھے۔ اس کا باپ چولہے کے قریب چوکی پر قہر بنا بیٹھا تھا اور کاٹ دار لفظوں کے زہریلے تیر اس کی ماں کی روح میں اتار رہا تھا۔ "میں نے تم سے زیادہ نکھٹو اور نکمی عورت نہیں دیکھی۔ تم نے تو کام چوری کی بھی انتہا کر دی ہے۔ تم سے ٹھیک طرح سے چائے بھی نہیں بنائی جا سکتی۔ اسے تم چائے کہتی ہو؟ نِرا پانی گرم کر کے منہ پر دے مارا ہے۔ نہ رنگ، نہ روپ، نہ ذائقہ۔ صبح ہی صبح دماغ خراب کر کے رکھ دیا ہے۔ تمہاری کام چوری کی وجہ سے آج پھر مجھے خالی پیٹ ہی کام پر جانا پڑے گا۔ تم نے ہمیشہ میرے ساتھ یہی سلوک کیا ہے۔ کام سے لوٹوں یا جاﺅں،کبھی تم نے کوئی ڈھنگ کا کھانا نہیں دیا۔ جانوروں کی طرح کماتا ہوں، مگر تمہیں ذرا بھی احساس نہیں۔ تم عورت نہیں، جلاد ہو جلاد۔ مجا ل ہے جو رتی بھر خاوند کی فکر ہو۔"
"اگر جانوروں کی طرح کما کر لاتے ہو تو میری تلی پر تو نہیں رکھتے نا، سب کچھ جوئے میں ہی اڑا دیتے ہو۔ کبھی روپے آدھ کی کوئی چیز لائے ہو تو بتاﺅ۔ ایک تو خرچے کے پیسے نہیں دیتے ہو اور اوپر سے پکی پکائی میں سے کیڑے نکالتے ہو۔ اگر گھر کا کھانا پینا اتنا ہی زہر لگتا ہے تو ہوٹل کے کھانے چاٹ کر آیا کرو، یہاں میرا مغز مت چاٹا کرو۔اگرمیں کشیدہ کاری سے ہاتھ کھینچ کر آرام سے بیٹھ جاﺅں تو دیکھتی ہوں کہ تمہیں کیسے پکی پکائی ملتی ہے؟ ایک تو محنت مزدوری کر کے گھر کو سنبھال رکھا ہے اور اوپر سے تمہاری کڑوی کٹیلی باتیں سن سن کر دماغ پکنے لگتا ہے۔ نہ بیوی کی کوئی قدر، نہ حق حقوق کی باتیں، نہ اولاد کی کوئی پرواہ، نہ گھر کی کوئی خیر خبر کہ کیسے دن گزر رہے ہیں؟ خرچہ کیسے پورا ہوتا ہے؟گھر میں کیا پکاہے؟ کس نے کیا کھایا ہے؟ بس آ جاتے ہو پکی پکائی پر مشٹنڈوں کی طرح، جواری کہیں کا۔147 اس کی ماں نے حلق کے زور پر چنگھاڑتے ہوئے کئی پٹاخے ایک ساتھ چھوڑ دئیے۔ وہ ماتھے پر کپڑا باندھے چولہے پر بیٹھی تھی اور دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کوتھام رکھا تھا۔ اس کے سامنے رکھے کشکول میں آٹے کے تین چار پیڑے گندھے پڑے تھے۔ چولہے پر خالی توا رکھا ہوا تھا اور اس کے چاروں طرف سے آگ کی لپٹیں لمحہ بھر کے لئے باہر جھانک کر دوبارہ اندر منہ چھپا لیتی تھیں۔ " خبر دار، جو تم نے پھر مجھے جواری کہا، ورنہ چٹیا سے پکڑ کر گھر بھر میں گھسیٹوں گا۔ اپنی زبان مٹھی میں دبا کے رکھو، بد معاش خاندان کی بدمعاش رن۔147 اس کے باپ نے بھی غصے سے پھنکار کر دائیں ہاتھ کی انگلی اس کی ناک کے قریب لے جاتے ہوئے کہا۔ اس کا غصہ اور اس کی منتشر حالت دیکھ کر لگتا تھا جیسے وہ ابھی اپنی بیوی کو چیر پھاڑ کے رکھ دے گا۔ 148 خبردار، جو میرے خاندان پر کوئی بات کی تو۔ پہلے تم اپنے خاندان کی خبر لو۔ ہفتہ بھر سے تمہار ا بڑا بھائی جیل میں بند پڑا اپنے خاندان کا جو ناک ناموس اونچا کر رہا ہے، وہ سب جانتے ہیں۔خاندان کا ہر فرد ایک سے بڑھ کر ایک لوفر لفنگا اور ہر وقت مرنے مارنے پر تیار۔ پتہ نہیں میرے باپ نے کیا چیز دیکھ کر مجھے تمہارے پلے باندھ دیا تھا۔ میری تو قسمت ہی پھوٹ گئی تھی۔ نہ شکل و صورت، نہ سیرت ، نہ اخلاق، نہ تعلیم ، نہ خاندان۔ میری جگہ کوئی اور ہوتی تو ایک دن سے زیادہ نہ ٹک پاتی، کب کی یہاں سے دفع ہو چکی ہوتی۔" اس کی ماں نے کپکپاتے ہوئے لہجے میں کہا۔ اس کی آواز اب رندھ گئی تھی اور آنکھوں میں نمی اترنے لگی تھی۔ " ہا ں ہاں، اب بھی وقت ہے دفع ہو جاﺅ۔ روکا کس نے ہے تمہیں۔ جب سے اس گھر میں تمہارے منحوس قدم پڑے ہیں، گھر جہنم میں تبدیل ہو گیا ہے۔ ایسے گھر سے تو کسی فٹ پاتھ کا کونا پکڑ لوں، تو کم از کم چین کی نیند تو نصیب ہو گی۔" اس کے باپ نے چیختے ہوئے کہا۔ تھوک اس کے ہونٹوں کے کناروں پر جھاگ بن کر نکل آیا تھا اور غصے کا پرندہ اس کے سر پر پھڑ پھڑا رہا تھا۔ وہ دونوں شریف سے بالکل بے خبر لفظوں کے تھپڑ پوری قوت سے ایک دوسرے کی روح پر جڑ رہے تھے۔ شریف جانتا تھا کہ ان کی یہ بےگانگی حسبِ معمول تھی۔ جب وہ لڑنے پر آتے تھے تو انہیں کسی کی بھی پرواہ نہیں ہوتی تھی۔ جھگڑ تو وہ رہے تھے مگر اذیت کا بچھو شریف کوڈنگ مار رہا تھا۔ وہ کربناک حالت میں غصے کے پسینے میں شرابو ر انہیں گھورے جا رہا تھا، جو اس سے بے نیاز لڑائی کی دلدل میں دھنسے ہوئے تھے۔" کسی دن یہاں سے دفع ہو کر تمہارا یہ ارمان بھی پورا کر دوں گی۔ تم جیسے بے قدرے سے اس کے علاوہ اور امید بھی کیا رکھی جا سکتی ہے؟ ایک تو ساری عمر تمہارے ساتھ غربت کی جھلسا دینے والی دھوپ تاپی۔ جس حال میں بھی تم نے رکھا، اف تک نہ کیا۔ نہ کبھی کوئی فرمائش کی، نہ تنگدستی کی شکایت کی۔ تمہارا ہاتھ بٹانے کے لئے راتیں آنکھوں میں کاٹیں اور کشیدہ کاری کر کے گھر کی ڈنواں ڈول گاڑی کو کھینچا۔ اور نتیجہ یہ کہ اوپر سے کوئی نام نیکی نہیں۔ ساری عمر سوائے مار پیٹ ، گالم گلوچ اور ذلالت کے تم نے مجھے کیا دیاہے؟147 اس کی ماں نے روہانسی اور لرزتی آوازمیں کہا اور ساتھ ہی اس کی درد بھری سسکیاں گھر بھر میں گونجنے لگیں۔ وہ آنسو بھی بہا رہی تھی اور بار بار چنی کے پلو سے اپنی ناک بھی پونچھ رہی تھی۔
شریف جانتا تھا کہ ان کی لڑائی کا اختتام ہمیشہ اس کی ماں کے رونے پر ہوتا تھا۔ حقیقت میں اس کی ماں کا رونااس کے باپ کی شکست کا ڈنکا ہوتا تھا،اور ایسے موقع پر وہ چپ چاپ گھر سے نکل جاتا تھا۔ اس وقت بھی ایسا ہی ہوا۔ اس کا باپ ایک جھٹکے سے اٹھا اورصحن میں اوندھے منہ گری دیگچی کو ایک زوردار ٹھوکر مارتے ہوئے گھر سے چلا گیا۔ شریف نے اپنی بہن کی طرف دیکھا جو قرآن مجید بند کئے، اپنے چہرے کو ہتھیلیوں پررکھے گم سم بیٹھی تھی۔ یقینًا اسے بھی صبح صبح کی لڑائی نے رنجیدگی کے دشت میں لا کھڑا کیا تھا۔ شریف چند لمحے آنسو بہاتی اپنی ماں کو بے بسی سے دیکھتا رہا اور پھر ہاتھ منہ دھو کر بِنا ناشتہ کئے چپ چاپ اپنے کام پر چلا گیا۔
شریف نے اپنی پیدائش سے ہی اسی ابتر اور ناگوار ماحول کی آلودہ آب وہوا اپنی سانسوں میں اتاری تھی۔ اسے جب سے شعور نے گود لےا تھا، اس نے اپنے والدین کو لڑائی جھگڑے کے کیچڑ میں لت پت دیکھا تھا۔ ان کی آپس میں کبھی نہیں بن سکی تھی۔ اس کا باپ بلا کا جواری تھا،جو کچھ کماتا جوئے میں ضائع کر دیتا تھا ۔ کبھی کبھار گھر سے بھی پیسے چوری کرتا تھا، جو اس کی ماں کی کشیدہ کاری کی اجرت ہوتی تھی۔
شریف کو اس بات کا ادراک تھا کہ ساری عمر غربت کا کڑوا اور بدبو دار پانی پیتے پیتے ان کے والدین کے حوصلوں کی آ ہنی دیوار زنگ آلود ہو گئی تھی اور غربت چڑ چڑے پن کا روپ دھار کر ان دونوں کے اندر حلول کر گئی تھی ۔اب وہ اس حال کو آپہنچے تھے کہ لمحہ بھر کے لئے بھی ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ شریف اکثر سوچتا تھا کہ گھر کا فطری حسن پیار محبت، یگانگت، گھروں میں گونجتے قہقہے، مٹھاس بھرے لہجوں کی مہکار، ایک دوسرے پر صدقےقربان جانے کی ادائیں، پتہ نہیں یہ سب خوبصورتیاں اس کے گھر میں داخل ہونے سے کیوں ڈرتی تھیں؟ شاید اس لئے کہ لڑائی کا سانپ کنڈلی مارے ہروقت ان کے گھر کی دہلیز پر بیٹھا رہتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ گھر کی فضا ہمیشہ مکدر اور بوجھل رہتی تھی اور ہر لمحہ پورے گھر میں ایک عجیب سی خاموشی بولتی رہتی تھی۔ جہاں چپ نے ہر فرد کے ہونٹ سی رکھے تھے اور یاسیت نے ہر کسی کی آنکھوں سے روشنناں نچوڑ کر ان میں مہیب اندھیرے بھر دئیے تھے۔ وہ خود والدین کی محبت و شفقت کی بارش تلے نہیں نہا سکا تھا ۔ شاید اس لئے اسکی روح ہمیشہ سے بنجر اور پیاسی رہی تھی۔ اسے پڑھنے کا بہت شوق تھا مگر وہ آٹھویں سے آگے نہیں پڑھ سکا تھا۔ گھر کے بے رحم حالات نے اس کے ہاتھ سے کتابیں چھین کر اسے ایک چھاپے خانے پر لا کھڑا کیا تھا، جہاں وہ دوسرے لڑکوں کے ساتھ کام کرتے کرتے اب بائیس سال کی عمر کو آ پہنچا تھا۔ باپ کی سخت اور جھگڑالو طبیعت کی وجہ سے اسے کبھی بھی اپنے باپ سے محبت نہیں ہو سکی تھی۔البتہ کبھی کبھار اپنی ماں کو وہ گھر کے ابتر حالات اورسوگوار ماحول کا آئینہ ضرور دکھاتا رہتا تھا۔مگر جب اس کی ماں اس کے باپ کے ہتک آمیز رویے اور اس کے ساتھ گزری ماضی کی زندگی کی تصویریں اس کے سامنے رکھتی تو وہ اپنی تمام تر ہمدردیاں اپنی ماں کے قدموں میں ڈھیر کر دیتا تھا۔ لیکن دونوں کی لڑائی میں اس نے کبھی کسی کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ ایک بار اس نے اپنی ماں کی ہمدردی میں اپنے باپ سے آنکھیں نکال کر بات کی تھی تو ماں نے الٹا اسے ہی ایک زناٹے دار تھپڑ جڑ دیا تھا۔ جس کی گونج آج بھی اس کے کانوں میں قید تھی۔ تب سے آج تک پھر اس نے کبھی ان کی لڑائی اپنے اوپر طاری نہیں کی تھی۔ گھر کے منتشر ما حول نے اسے شروع دن سے ہی احساسِ کمتری کا لبا س پہنا ڈالا تھا۔ وہ ہر وقت اپنے اوپر چپ کی چھتری تانے رکھتا تھا۔ اس کے چہرےپر پر یشانیاں جال بنتی رہتی تھیں۔ وہ صبح سویرے کام پر روانہ ہوتا اور رات گئے واپس آتا تھا۔یہی اس کی زندگی تھی۔
شاید رات کے گیارہ بجے کا عمل تھا جب دروازے پر دستک ہوئی۔ شریف اپنے کمرے میں رضائی اوڑھے سو رہا تھا۔ اس کی ماں اور بہن دوسرے کمرے میں ایک ہی چارپائی پر سو رہے تھے۔ اس کی ماں تھوڑی دیر پہلے ہی کشیدہ کاری سے فارغ ہو کر لیٹی تھی، مگر ابھی تک پوری طرح سوئی نہیں تھی۔ دو تین بار کی دستک کے بعد وہ ناگواری سے اٹھی اور بغیر کسی پوچھ پریت کے جا کر دروازہ کھول دیا۔ وہ جانتی تھی کہ دروازے پر اس کا خاوند ہی ہو گا۔ اس کے خاوند نے اندر داخل ہوتے ہی اس سے بگڑے ہوئے لہجے میں کہا 148 مجھے دو سو روپے کی سخت ضرورت ہے۔ تم مجھے جلدی سے پیسے دے دو، ایک دو دنوں میں تمہیں لوٹا دوں گا۔147 سردی بھاپ بن کر اس کے منہ سے نکل رہی تھی۔ 148 میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ 147 وہ کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔ 148 تمہیں کہہ رہا ہوں نا کہ ایک دو دنوں میں واپس کر دوں گا۔ 147 اس کے خاوند نے غصے میں کہا، جس کے لفظ لفظ میں تلخی گردش کر رہی تھی۔ 148 میں نے کہہ جو دیا ہے کہ ایک روپیہ بھی نہیں ہے میرے پاس، تو پھر کہاں سے لاﺅں؟147 اس نے اسی طرح بے رخی سے کہا اور دوبارہ لحاف میں دبک گئی۔ 148 دن رات کماتی ہو، آخر جا تا کہاں ہے تمہارا پیسہ؟147 اس کے خاوند نے غصے سے چیختے ہوئے کہا۔148 دن رات اگر محنت کرتی ہوں تو تم لوگوں کے پیٹ کا ہی جہنم بھرتی ہوں۔ اب اس کا یہ مطلب نہیں کہ کما کما کر تمہارے ہاتھ پر رکھتی رہوں اور تم جوئے میں اڑاتے رہو۔147 اس نے خاوند کو غصے سے گھورتے ہوئے کہا۔ 148 میں تمہارامرد ہوں، مگر ٹکے کی بھی حیثیت نہیں ہے میری اس گھر میں۔ تمہیں میری کوئی پرواہ نہیں ہے۔ آخر میرے بھی کچھ حقوق ہیں تمہارے اوپر ، کبھی خیال آیا ہے تمہیں؟147 اس کے خاوند نے دھاڑتے ہوئے کہا۔ اس شوروغل میں ان کی بیٹی کی آنکھ کھل گئی ۔ معاملہ بھانپتے ہی وہ اٹھ بیٹھی اور سہمی سہمی اپنے باپ کو دیکھنے لگی تھی۔ 148 میں نے ہمیشہ تمہارا خیال رکھا ہے اور شروع دن سے ہی تمہاری ضرورتیں پوری کرتی آ رہی ہوں، مگر جواب میں تم نے مجھے کیا دیا؟ مار پیٹ، بے عزتی، گالیاں، ذلالت۔ کیا ایک بیوی کے یہی حق حقوق ہوتے ہیں؟147اس نے اپنے خاوند کو خشمگیں نظروں سے گھورتے ہوتے جواب دیا، جو غیض وغضب کی تصویر بنااس کے سر پر کھڑا تھا۔ 148 میں یہاں تمہاری بکواس سننے نہیں آیا۔ سیدھی طرح سے پیسے نکال کر میرے ہاتھ پر رکھ دو۔147 اس نے بدستور غصیلے لہجے میں پھنکارتے ہوئے کہا۔غصے کی شدت سے وہ لال انگارہ بنا ہوا تھا۔ اس کے بگڑے تیور دیکھتے ہوئے اس کی بیٹی سہم کر اپنی ماں کے پہلو میں دبک گئی تھی۔ 148 میں نے پہلے بھی کہا ہے اور اب بھی کہہ رہی ہوں کہ تمہیں دینے کے لئے میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔147 اس نے بے نیازی سے دایاں ہاتھ جھٹکتے ہوئے مختصر سا جواب دیا۔ 148 تم اس طرح سے نہیں مانو گی۔ اٹھو اور سیدھی شرافت سے مجھے پیسے دو۔ 147 اس نے پوری قوت سے چلاتے ہوئے کہا، اوراپنی بیوی کے بازو سے پکڑ کر ایک جھٹکے سے اسے رضائی سے باہر گھسیٹ ڈالا۔ 148 چھوڑو میرا ہاتھ۔ کوئی حرام کی کمائی نہیں ہے میری جو تمہیں اٹھا کے دے دوں،جاﺅ دفع ہو جاﺅ۔147 اس نے جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا اور اپنے آپ کو سنبھا لا دیا، جو چارپائی سے نیچےتک لٹک گئی تھی۔ 148 میں آخری بار تم سے کہہ رہا ہوں، مجھے پیسے دے دو ،ورنہ بہت برا ہو گا تمہارے لئے۔ 147 اس نے حلق کے زور پر دھاڑتے ہوئے کہا۔ وہ اس کے سر پر جلاد بن کر کھڑا تھا۔ 148تم چاہے جو بھی کر لو۔ میں تمہیں پھوٹی کوڑی بھی نہیں دوں گی۔ 147 اس نے بڑے مضبوط لہجے میں کہا۔ اس کے اس رویے نے اس کے خاوند پر جلتی پر تیل کا کام کیا اور وہ آپے سے باہر ہو گیا۔ اگلے ہی لمحے کمرے میں ایک بھونچا ل سا آگیا۔ اس نے غصے میں پاگل ہو کر اپنی بیوی کو چٹیا سے پکڑ کر چارپائی سے گھسیٹتے ہوئے نیچے زمین پر پٹخ دیا تھا اور اس پر تھپڑوں لاتوں کی بارش کر دی تھی۔ اس کی بیٹی اپنی ماں کو اتنی بے دردی سے پٹتے دیکھ کر تڑپ کر اٹھی اور چیخین مارتے ہوئے اپنی ماں سے لپٹ گئی۔ کمرے میں ایک واویلا سا مچ گیا۔ اس کی اپنی چیخ و پکار، خاوند کا غیض و غضب اور اسکی بیٹی کی درد انگیز آہ و بکا نے کمرے کو ماتم کدہ بنا ڈالاتھا۔ شاید وہ دیر تک پٹتی رہتی، اگر شریف دوڑتا ہوا آ کر اپنے باپ کو دھکا نہ دے دیتا۔ اس کا باپ گرتے گرتے بچا۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو سامنے غصے کی شدت سے ہانپتا ہوا شریف کھڑا تھا۔ 148الو کا پٹھا، باپ پر ہاتھ اٹھا تا ہے۔147 اس نے غصے سے دھاڑتے ہوئے کہا اورشریف کو زوردار دو مکے جڑ دئیے اور سرکے بالوں سے پکڑ کر چارپائی پر پٹخ دیا۔ پھر غصے سے پھنکتا اور گالیاں بکتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔ ماں نے خوف سے کانپتی اپنی بیٹی کو سینے سے لگا تے ہوئے شریف کو دیکھا، جو ہانپتے ہوئے اب چارپائی سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ غصے کی شدت سے اس کا چہرہ یوں لال بھبوکا ہو رہا تھا، جیسے اس کے جسم کا سارا خون نچڑ کر اس کے چہرے پر جمع ہو گیا ہو۔ اس کی ماں نے اسے اپنے کمرے میں جانے کو کہا، وہ بے بسی سے آنسو بہاتی اپنی ماں کو رحم بھری نظروں سے دیکھتا ہوا چپ چاپ اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اس کی ماں اپنی کانپتی بیٹی کو سینے سے لگا کر لحاف میں دبک گئی۔ اس کی بیٹی کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ لگتا تھا ابھی اچھل کر حلق کے راستے باہر آ گرے گا۔
اس کی چھوٹی چھوٹی سسکیاں کمرے میں ابھی تک گونج رہی تھیں۔ وہ آنسوبہاتے ہوئے اپنی بیٹی کو شفقت سے سہلانے لگی۔مگر اس کے دل و دماغ میں کہرام مچا ہوا تھا۔ اسے اپنے خاوند پر بے پناہ غصہ آ رہا تھا، جس نے اسے کپاس کی طرح دھن ڈالا تھا۔ کتنی ہی دیر تک وہ اپنے خاوند کے ایسے سنگدلانہ رویے کے گرداب میں پھنسی رہی اور دل ہی دل میں اسے خوب کوسنے دیتی رہی۔ آنسوﺅں نے مسلسل اس کی آنکھوں کو مسکن بنا یا ہوا تھا، اور سوچوں نے اس کے دل و دماغ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔سوچتے سوچتے اچانک وہ ماضی کے حصار میں داخل ہوگئی۔ ماضی کے سالہا سال پھلانگتے پھلانگتے اس کی نظروں میں اس کے ماں باپ کے چہرے ابھر آئے۔ وہ بھی تو ہر وقت لڑتے رہتے تھے۔ اس کا باپ نشہ کرتا تھا، اس کی یہی عادت اس کی ماں کو پسند نہیں تھی اور دونوں کے درمیان ہر وقت ایک جنگ چھڑی رہتی تھی۔ جب وہ خود بیاہ کے آئی تو یہاں کے حالات بھی اس کے اپنے گھر جیسے ہی تھے۔ صرف کردار اور نقشہ تبدیل ہوا تھا، باقی ماحول ویسے کا ویسا ہی تھا۔ اپنے خاوند کے ساتھ گزرے دنوں کی تمام تلخیاں اس کی آنکھوں میں اتری ہوئی تھیں۔ زندگی کی محرومیاں تپتی سلاخیں بن کر اس کے جسم میں پیوست ہو گئیں۔اپنے ماں باپ کی لڑائی، پیار محبت کی محرومی، احساسِ کمتری، خاوند کا جابرانہ رویہ، اس کی گالم گلوچ اور مار پیٹ اس کے ذہن پر سوار ہو گئی۔وہ سالہا سال سے ایسی زندگی جیتے جیتے اکتا گئی تھی۔ ایسی ذلت بھری زندگی آخر کب تک؟اس کے ذہن کے دریچے میں سوال نے جھانکا ، مگر اس کا جواب کسی بھی گوشے سے نہ ابھر سکا۔ اس نے مستقبل کا دروازہ کھولا مگراسے دور دور تک گھنگور اندھیرے اپنی طرف لپکتے نظر آئے۔ کہیں بھی کوئی امید کی کرن نہیں تھی۔بس ہر طرف وحشت خیز اندھیرے دیکھ کر وہ ڈر گئی او ر اس کا دم گھٹنے لگا۔ سینے میں حبس بھر گیا اور دھڑکن رکنے لگی۔ اسے ایسے پرہول مستقبل سے خوف آنے لگا۔وہ بے حال ہو گئی، اس کے اندر سے بے چینی کی بے شمار چیونٹیاں نکل کر اس کے جسم پر پھیل گئیں اور اسے جگہ جگہ سے کاٹنے لگیں، اسے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے جسم میں ڈھیروں سوئیاں ایک ساتھ چبھو دی ہوں۔ وہ اذیت سے تڑپ اٹھی۔ اس نے مستقبل کے دروازے سے جھانک کر چاروں طرف دیکھا، دور دور تک اسے نہ کوئی ہمدرد نظر آیا اور نہ ہی بچاﺅ کا کوئی راستہ دکھائی دیا۔ بے چینی کے اس عذاب کو جھیلتے جھیلتے وہ اندر سے کہیں ٹوٹ گئی۔ ایسی زندگی سے فرار کے تمام راستے مسدود تھے۔ اچانک اس کے دل میں ایک چھوٹے سے خیال نے ننھی سی چٹکی لی اور لمحہ بھر میں اس خیال نے دھوئیں کی طرح پھیل کر اس کے دل و دماغ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ وہ ایک عجیب سی راحت محسوس کر نے لگی۔خود کشی کے خیال نے اس کے انگ انگ میں سکون کی انگنت لہریں دوڑا دیں۔ اس نے دیکھا کہ ایک طرف پریشان زندگی کی لامحدود ٹیڑھی میڑھی الجھی ہوئی پگڈنڈیاں بچھ رہی تھیں اور دوسری طرف ان ہولناک پگڈنڈیوں سے چھٹکارے کا چھوٹا سا خود کشی کا راستہ اپنی بانہیں کھولے اسے بلا رہا تھا۔ اس نے پریشانیوں کی بچھتی پگڈنڈیوں کو دیکھا، جو ہر لمحہ الجھتی جا رہی تھیں اور جن پر ببول کے بڑے بڑے نوکیلے کانٹے سر نکالے کھڑے تھے،وہ یہ سب دیکھ کر کانپ اٹھی۔اس نے خودکشی کا راستہ دیکھا۔ انتہائی مختصر اور بالکل صاف۔ اسے اس راستے پر چلنا بہت آسان لگا۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اسی مختصر راستے پر چلے گی۔ وہ اس کے لئے فورًاہی تیار ہو گئی۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس وقت رات کا کون سا پہر بیت رہا تھا۔ اس کے خاوند کی چارپائی ابھی تک خالی پڑی تھی۔ اس کی بیٹی بھی پتہ نہیں، کب کی سو چکی تھے۔ وہ جانے سے پہلے کتنی ہی دیر تک اپنی بیٹی کو مغموم نظروں سے دیکھتی رہی، جس کے چہرے پر معصومیت پر پھیلائے سو رہی تھی۔ اپنی بیٹی کے ساتھ یہ اس کے آخری لمحات تھے۔ اس نے اسے خوب پیار کیا۔ پیار کرتے کرتے اس کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔ اس نے اسے درجنوں بوسے دے ڈالے۔ آخری نشانی کے طور پر اس نے اپنی بیٹی کے گالوں پر اپنے گرم گرم آنسوﺅں کے موتی پرو دئیےتھے۔ اس نے دل ہی دل میں کہا کہ بیٹی اپنی بزدل ماں کو معاف کر دینا۔اور پھر ایک تاسف بھری نظر اس کے چہرے پر ڈالی اور اپنی آنکھیں پونچھتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔ اب اس کے اور خودکشی کے راستے کے درمیان کوئی بھی حائل نہیں تھا۔ وہ بڑے اطمینان سے اس راستے کی طرف بڑھنے لگی، جو اس کی تمام پریشانیوں کی بدلے اسے ابدی سکون دینے والا تھا۔ آگے بڑھتے بڑھتے پتہ نہیں کہاں سےاپنے بیٹے شریف کو آخری بار دیکھنے کی خواہش اس کے دل میں بیدار ہوئی، وہ رک گئی۔ واپس مڑی اور دھیرے دھیرے شریف کے کمرے کی طرف بڑھنے لگی۔ وہ بند کواڑوں کے سامنے جا کر ایک پل کے لئے رکی۔ اسے ڈر تھا کہ ذرا سا کھٹکا اس کے اور خود کشی کے راستے میں دیوار کھڑی نہ کر دے۔ کوئی آواز کئے بغیر اس نے نہایت ہی آہستگی سے درواز ہ کھولا۔ مگرجونہی وہ اندر داخل ہوئی، اچانک دہشت کا ایک بہت بڑا عفریت پوری قوت سے اس کے اوپر جھپٹا اور وہ لڑکھڑا کر گر پڑی۔ شریف پنکھے کے ساتھ بندھی رسی سے کمرے کے ببچوں بیچ لٹکا ہوا تھا۔
No comments:
Post a Comment
از راہ کرم کوشش کیجئے کہ اردو زبان میں اپنی رائے کا اظہار کریں اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو کی سہولت موجود نہیں بھی ہے تو آپ کسی بھی اردو ایڈیٹر مثلاٰ
www.urdueditor.com
پر جاکر اردو میں ٹائپ کر کے یہاں چسپاں کر سکتے ہیں۔