June 12, 2013

امید

آٹھواں افسانہ ۔۔۔امید ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ از معراج رسول 

رات کے تین بجے کا وقت تھا- شبانہ بالکل خاموش، گُم صُم، آنکھوں میں ایک خاموش دعا کیساتھ ایک تحت پوش کے اوپر بچھی جائے نماز پر بیٹھی تھی جو کہ ایک چھوٹے سے مکان کے صحن کے ایک کونے میں پڑا ہوا تھا- وہ اِس مکان میں اکیلی رہتی تھی-

یک دم دروازے پہ دستک ہوئی- شبانہ نے ایک نظر دروازے پر ڈالی، لیکن پھر اپنا چہرہ موڑ لیا جیسے کہ یہ اُس کا وہم ہو- بھلا اتنی رات کو کون دستک دے گا، اور وہ بھی اُس کے گھر، جہاں کوئی بھی آتا جاتا نہیں تھا، لیکن ایک بار پھر کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا - وہ اٹھی اور دروازے تک پہنچی- دستک مسلسل جاری تھی۔
"شبو"، ایک جانی پہچانی مردانہ آواز نے اُس کی روح کھینچ لی۔ اُس کے قدم رُک گئے، دل کی دھڑکن قابُو سے باہر ہو رہی تھی،

"شبو، دروازہ کھول، میں ہوں، زاہد"، اُس نے دروازہ کھولا تو آگے زاہد کھڑا تھا- لمبا تڑنگا، ڈاڑھی بڑھی ہوئی، سر ڈھانپنے والا رومال لپیٹے ہوئے، آنکھیں گہری اور اندر کو دھنسی ہوئی، جیسے برسوں سے نیند نہ نصیب ہوئی ہو۔ پیروں میں جُوتی نہیں تھی۔ دھوپ جلا چہرہ جیسے سورج کی تپش نے اُس کا رنگ ماند کر دیا ہو- 

"مجھے اندر آنے کیلئے نہیں کہو گی؟"، شبانہ، جو دروازے کے درمیان کھڑی تھی، ایک طرف کو کھِسک گئی اور زاہد اندر داخل ہوا۔ شبو نے اپنی چادر کا پلُو اپنے ہونٹوں تلے دبا لیا۔
"تم یہاں رہتی ہو؟ اِس کھنڈر میں ؟" زاہد صحن کے وسط میں آکر کھڑا ہو گیا۔ اُس نے مکان کا سرسری سا جائزہ لیا- ایک صحن، جس کے تین طرف دیوار اور ایک طرف دو کمرے تھے- پُرانا بوسیدہ سا مکان تھا-

شبانہ کو تو جیسے سانپ سُونگھ گیا تھا، چُپ چاپ بُت بنی کھڑی تھی، لیکن اُس کی نظریں زاہد پہ جمی ہوئی تھیں- اُس کی آنکھیں حیرت سے پھیلی ہوئی تھیں- 
"ایسے کیا دیکھ رہی ہے مجھے؟ کبھی دیکھا نہیں کیا پہلے؟"، وہ ٹس سے مس نہ ہوئی،
"اب مجھے دیکھتی ہی رہے گی تُو؟ پیاس لگی ہے مجھے، جا، پانی لے کے آ،" زاہد کے لہجے میں سختی تھی- وہ اپنی جگہ کھڑی رہی-

"جــا۔۔۔"، زاہد چلایا- وہ بالکل نہ سہمی- آہستہ آہستہ چلتے ہوئے باورچی خانے میں گئی، لیکن اُس کی نظریں اب بھی زاہد پر ٹِکی ہوئی تھیں- باہر نکلی تو اُس کے ہاتھ میں ایک پرانا پِیتل کا پانی سے بھرا ہوا گلاس تھا- زاہد نے آدھا گلاس پیا، 

"یہ گلاس ہی ملا تھا تجھے؟"، اُس نے چِلا کر باقی پانی شبانہ کے منہ پر پھینک دیا، اور گلاس زمین پر دے مارا، اُس کے چہرے پر اب بھی کوئی تاثر نہ اترا، اُس نے فرش سے گلاس اٹھایا اور ایک طرف رکھ دیا، زاہد اپنے ہی قدموں میں گِر گیا، شبانہ اُسے دیکھتی رہی، کچھ دیر بعد زاہد اُٹھا، شبانہ کے پاس پہنچا اور اپنے رومال سے اُس کے چہرے کو پونچھنے لگا، 
"آؤ، بیٹھو،" زاہد نے شبانہ کا ہاتھ پکڑا اور وہ دونوں تحت پر بیٹھ گئے، اب زاہد کا لہجہ دھیما تھا،
"تمہیں امید تھی ناں کہ میں آؤں گا، لو میں آ گیا، تمہارے سامنے، تمہارا زاہد،" وہ اُس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے تھی،

"میری حالت پہ حیران ہو؟ چلو ہنس لو، تم بھی ہنس لو باقی لوگوں کی طرح، لیکن اِس کی ذمہ دار تم ہو،" زاہد کی اِس بات پر شبانہ کے چہرے پر حیرانی کے آثار تھے،
"ہاں تم، تم نے مجھے ایک پل بھی چین سے جینے نہیں دیا، بہت تڑپایا ہے مجھے تم نے، میری زندگی سے سُکھ ختم ہو گیا، پتہ نہیں کتنی بد دعائیں دی ہوں گی تم نے جب میں نے تمہیں ٹھکرا دیا، تم نے میرے لئے ساری دنیا سے جنگ کی اور میں نے تمہاری محبت کو قبول نہ کیا،" شبانہ کی زبان سے اِس دوران ایک حرف بھی نہ نکلا،

"چُپ کیوں ہو؟ بولتی کیوں نہیں؟" زاہد کو اُس کی خاموشی چُبھ رہی تھی، اُس نے اُسے اپنے دونوں ہاتھوں سے مضبوطی سے پکڑا اور جھنجھوڑا،
"گونگی کیوں ہو گئی؟ بولو--- میں کہتا ہوں کچھ پھُوٹو منہ سے۔۔۔"، زاہد دھاڑا اور شبانہ کو ایک طرف پٹخ دیا، شبانہ کا سر تحت کے پائے سے جا لگا، اُس کے ماتھے سے خون بہنے لگا، کچھ دیر کے بعد زاہد اُٹھا اور اپنے رومال کا سِرا اُس کی چوٹ پر رکھ دیا، زاہد کے چہرے پر ندامت یا ہمدردی کے آثار بالکل نہیں تھے، لیکن اُس کے لہجے کی سختی جاتی رہی،
"تم بہت بدل گئی ہو، پہلے تم بہت حساس تھی، بات بات پہ رو پڑتی تھیں، اب بہت مضبوط ہو گئی ہو تم، لیکن بہت بے جان ، شاید تمہاری جگہ میں ہوتا تو میری بھی یہی حالت ہوتی، لیکن اب میں آ گیا ہوں شبو، میں، تمہارا زاہد، تمہارے سامنے موجود ہوں، چھوؤ مجھے، محسوس کرو، بجھا لو اپنی زندگی بھر کی تشنگی، نکال لو اپنے دل کی بھڑاس، مجھ سے شکایت کرو، مجھے کوسو، مارو ، لیکن یوں خاموش نہ رہو،" زاہد آبدیدہ ہو گیا،
"تم یہی چاہتی تھی ناں کہ میں تمہارے سامنے سر تسلیم خم کر دوں، اپنی انا توڑ دوں، اپنے آپ کو تمہاری محبت کے آگے جُھکا دوں؟" وہ شبانہ کے قدموں میں گِر گیا، "یہ لو شبانہ، میں تمہارے قدموں میں ہوں، مجھے معاف کردو، اور خدا کیلئے میرا ہاتھ تھام لو،" شبو اُس کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے اُس کے کان برسوں سے یہی ایک بات سننے کو ترس رہے تھے،
"شبو کچھ بولو، خدا کیلئے کچھ بولو، دیکھو، تم مجھے کہتی تھی کہ میں تمہاری کسی بات کا جواب نہیں دیتا، تم سے بات نہیں کرتا، آج میں بول رہا ہوں تو تم کیوں چُپ ہو؟"، زاہد نے اُس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنی آنکھوں کیساتھ لگا لئے،

"میں وہی ہوں شبو، کیا ہوا کہ آج میرے چہرے پر وہ رعنائی باقی نہیں رہی، کیا ہوا کہ جو لوگ مجھے اُٹھائے ہوئے پھرتے تھے اور میں کسی کو بھی خاطر میں نہ لاتا تھا آج میرا نام تک نہیں جانتے، کیا ہوا کہ جِس نے کبھی ایک جوُتا ایک مہینے سے ذیادہ نہیں پہنا تھا، آج ننگے پیر تمہارے سامنے ہے، وہ جو دوستوں اور لڑکیوں کی جان ہوا کرتا تھا، وہ بے یار و مددگار مارا مارا پھر رہا ہے، آج ایک بے سروسامان زاہد تمہارے سامنے کھڑا ہے، لیکن تم تو وہی ہو ناں شبو،" زاہد اُس کے سامنے ایسا بے بس لگ رہا تھا جیسے شبانہ کوئی مسیحا ہو اور وہ کوئی کوڑھ کا مریض،

"میں ٹوٹ گیا ہوں شبو، میری زندگی ختم ہو رہی ہے، میں اب کچھ بھی نہیں رہا، شادی ہوئی تو بیوی چھوڑ کر چلی گئی، بچہ ہوا تو وہ اللہ نے واپس لے لیا، میری نوکری چلی گئی، اگر کچھ نہ ہوتا تو کب کا اپنے آپ کو ختم کر دیا ہوتا، لیکن ایک کسک باقی تھی کہ تم سے ملوں، تمہارے سامنے ہاتھ جوڑوں، تمہارے سامنے گھٹنے ٹیک دوں۔ مجھے قبول کرو شبو، میری حالت پر رحم کرو، میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں، مجھے وہی محبت لوٹا دو جو تم نے مجھ سے کی، میری رہی سہی زندگی اُسی محبت کے سہارے بڑے سکون سے گزر جائے گی،" لیکن شبانہ نے تو جیسے سکتے میں رہنے کی قسم کھائی ہوئی تھی- اُسے ابھی تک یقین نہیں تھا جو اُس کے ارد گرد ہو رہا تھا- زاہد پُھوٹ پُھوٹ کر رونے لگا،
"شبو، میری شبو، مجھے مت ٹھکراؤ، مجھے مرنے پر مجبور مت کرو، میں بہت امیدیں لے کر تمہارے پاس آیا ہوں، مجھے خالی ہاتھ واپس مت بھیجو، مجھے فقیر سمجھ کر بخشش ہی دے دو،" زاہد نے اُس کے دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرا چھپا لیا- آنسوؤں کا ایک سمندر اُس کی آنکھوں سے رواں تھا، شبانہ نے اپنے ہاتھ کھینچ لئے،
"نہیں شبو نہیں، خدا کا واسطہ تمہیں، میں جانتا ہوں کہ تم نے بھی مجھے بہت قسمیں واسطے دئیے لیکن میں نے تمہاری ایک نہ سنی، تم بدلہ لینے کی قوت رکھتی ہو، لیکن آج میں ایک مفلوج شخص ہوں، ایسی بے رخی مت دکھاؤ، نہیں۔۔۔ شبو۔۔۔"
یہ کہتے ہوئے زاہد اُٹھ کھڑا ہوا اور الٹے قدموں دروازے کی طرف جانے لگا، لیکن اُس کا چہرہ شبانہ کی طرف ہی تھا،

"مجھے بچا لو شبو، خدا کیلئے مجھے بچا لو، مجھے۔۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔"
اور دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی زاہد غائب ہو گیا- شبانہ، جو کہ اُس وقت سے ایک بُت بن کر کھڑی تھی، بے چینی سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔ اُسے زاہد کہیں بھی دکھائی نہ دیا- وہ اُٹھی اور پاگلوں کی طرح اِدھر اُدھر بھاگنے لگی- بھاگتے بھاگتے اُس کے سر سے چادر اتُر گئی- ایک ایک کھڑکی کھول کر باہر جھانک کر دیکھا، باورچی خانے میں دیکھا، لیکن زاہد کا کہیں نام و نشان نہیں تھا، وہاں تو بس دیواریں اُس کا منہ چڑا رہی تھیں- فرش پر کوئی پانی کا گلاس بھی موجود نہیں تھا، وہ صحن کے بیچ میں آئی اور گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی- اپنے بازو کو کاٹنے لگی، اُسے درد محسوس ہوا، "کیا یہ خواب تھا؟ کیا میں پاگل ہو گئی ہوں؟"، وہ ایک دم اُٹھی اور آئینے کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی- ماتھے میں نہ تو چوٹ کا کوئی نشان تھا نہ کوئی خون کا دھبہ، بال بھی بالکل سُوکھے تھے- بکھرے بالوں، روئی ہوئی آنکھوں، بجھے ہوئے چہرے کے ساتھ وہ عجیب بد صورت سی لگ رہی تھی- وہ پاگلوں کی طرح زور زور سے ہنسنے لگی اور اُس کی آنکھوں سے آنسو بھی جاری تھے- اسی دوران مسجدوں سے فجر کی اذانیں گونجنیں لگیں- شبانہ نے آسمان کی طرف دیکھا، جیسے خدا سے کہہ رہی ہو، "تُو نے میری امید تو پوری نہیں کی، مجھے کم از کم نیند تو عطاء کر، تاکہ میں یہ کہہ سکوں کہ الصلوۃ خیر من النوم میرے لئے کہا جا رہا ہے،"

No comments:

Post a Comment

از راہ کرم کوشش کیجئے کہ اردو زبان میں اپنی رائے کا اظہار کریں اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو کی سہولت موجود نہیں بھی ہے تو آپ کسی بھی اردو ایڈیٹر مثلاٰ
www.urdueditor.com
پر جاکر اردو میں ٹائپ کر کے یہاں چسپاں کر سکتے ہیں۔