افسانہ نگاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک ادبی نشست ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیئسواں افسانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زندگی ، اس پل
از ۔۔۔۔۔۔۔اقبال حسن آزاد
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بارش یک لخت رک گئی تھی ۔
سڑک کے دونوں کناروں پر دوکانوں کے شیڈ کے نیچے پناہ لئے ہوئے لو گ بھرّا مار کر سڑک پر نکل آئے او رجو سڑک تھوڑی دیر پہلے تک سنسان لگ ر ہی تھی ، لوگوں سے بھر گئی ۔ بھیڑ کے ساتھ وہ بھی سڑک پر نکل آیا ۔
جون کا مہینہ چل رہا تھا ۔ شام کے ساڑھے پانچ بج رہے ہوں گے ۔ دن بھر سخت گرمی اور حبس نے اسے بے چین کر رکھا تھا ۔ آفس سے چھوٹنے کے بعد سب سے پہلے اس نے قریب کی مسجد میں عصر کی نماز پڑھی تھی ۔ کنویں کے ٹھنڈے پانی سے وضو کرتے ہوئے اسے بڑی فرحت محسوس ہوئی تھی ۔ مسجد سے نکلنے کے بعد وہ تھوڑی ہی دور گیا ہوگا کہ اچانک زور کی بارش آگئی اور پھر جس طرح بارش اچانک شروع ہوئی تھی اسی طرح اچانک رک بھی گئی ۔
سڑک پر ٹھیلے والوں کا جمگھٹا تھا ۔ زیادہ ٹھیلوں پر آم سجے تھے ۔ مالدہ ، بمبئی ، شُگُل ، کشن بھو گ اور نہ جانے کون کون سے آم ..... ٹھیلے والوں کی پکار فضا میں گونج رہی تھی ۔ اسے خیال آیا ، بچوں کے لئے آم خریدلے ۔ دفتروں میں کام کرنے والے کلرک ، کچہریوں کے پیش کار اور اسی قماش کے لوگ ٹھیلوں کے گرد بھیڑ لگائے کھڑے تھے ۔ کئی کئی کلو آ م تولے جا رہے تھے ۔ اس نے جیب ٹٹولی ۔ اس کی انگلیاں جیب میں پڑے ہوئے خط سے ٹکر ا گئیں ۔ چند ثانیوں تک وہ کھڑا کچھ سوچتا رہا ۔ پھر واپسی کے لئے مڑ گیا ۔ آم خریدنے کاارادہ وہ ترک کر چکا تھا ۔
اسے یاد آیا ، آصف اسپتال میں داخل ہے ۔ اسے معلوم تھا کہ آصف کی بیماری کیا ہے ۔ پیسے کی فراوانی اور اس کے نتیجے میں بسیار خوری اور آرام طلبی ۔ اسے ہارٹ اٹیک ہوا تھا ۔گھر سے نکلتے وقت اس کی بیوی نے تاکید کی تھی کہ آج وہ آفس سے لوٹتے ہوئے آصف کو دیکھنے ضرور جائے ۔ کئی دن ہو چکے تھے ۔ آصف اور دیگر لوگ کیا سوچ رہے ہوں گے ۔ وہ اسپتال جانے والے راستے پر مڑ گیا ۔ اسے معلوم تھا کہ مریضوں سے ملنے کے لئے شام پانچ بجے تک کا وقت مقرر ہے ۔ ہسپتال پہنچ کر وہ ICUکے پاس پہنچا ہی تھا کہ پیچھے سے ایک کار آئی۔ کار سے آصف صاحب ، ان کی اہلیہ اور دونوں لڑکیاں اتریں ۔ اس نے آصف صاحب اور ان کی اہلیہ کو سلام کیا ۔ آصف صاحب نے ایک تر چھی نظر اس پر ڈالی ۔
’’کہاں آئے ہیں ؟‘‘
ٓٓ ’’آصف کو دیکھنے ۔ ‘‘
’’پانچ دن ہو گئے ۔ آپ کو آج فرصت ملی ۔ ‘‘
’’جی ، مجھے خبر نہیں تھی ۔ ‘‘
’’ساری دنیا کو خبر ہو ئی ۔ ایک آپ ہی کو خبر نہیں تھی ۔ ‘‘اس کا جی چاہا لوٹ پڑے مگر پھر دل پر پتھر رکھ کر ان کے ساتھ ہو لیا ۔ آصف صاحب کی لڑکیوں نے اسے سلام تک نہیں کیا ۔
ICU بہت صاف ستھرا تھا ۔ عام اسپتالوں سے قدرے مختلف ۔ فرش چمک رہا تھا ۔ دور دیوارپر روغن تھا ۔ آصف ایک صاف ستھرے بیڈ پر نیم دراز تھا ۔ اس کا بھاری اور تھلتھلا جسم بیڈ پر پڑا یسا لگ رہا تھا جیسے روئی بھری ہوئی کوئی بوری ہو ۔ اسے دیکھ کر آصف کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔
’’آج یاد آئی اپنے دوست کی ؟‘‘آصف اس کا ہم عمر تھا اور اسکو ل میں دونوں ہم جماعت بھی تھے ۔
’’اب طبیعت کیسی ہے ؟‘‘
’’ٹھیک ہوں ، ڈاکٹر نے کہا کہ ایک ہفتہ بعد اسپتال سے چھٹی ملے گی ۔ ‘‘پھر آصف اپنے والدین اور بہنوں کے درمیان گھر گیا اور اسے اپنا وجود گھر کے کونے میں پڑی کسی بیکار شے کی طرح لگنے لگا ۔ اس کی طرف کوئی متوجہ نہیں تھا ۔
’’اچھا اب چلوں گا ۔‘‘
’’ٹھیک ہے پھر آنا ۔ ‘‘وہ تیزی سے اسپتال کے احاطے سے باہر نکل آیا ۔ اب وہ پھر بھری سڑک پر چل رہا تھا ۔ باد ل چھٹ چکے تھے اور سورج کسی بڑے نارنجی گیند کی طرح مغرب کی سمت جھکنے لگا تھا ۔ دھو پ آس پاس کی دیواروں پر اُٹھ چلی تھی ۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے سورج غروب ہو گیا ۔ دور کسی مسجد سے اذان کی آواز آئی تو وہ آواز کی سمت مڑ گیا ۔ مسجد ایک تنگ سی گلی کے اندر تھی ۔ بمشکل آٹھ دس نمازی رہے ہوں گے ۔ اس نے نل کے پاس بیٹھ کر وضو کیا اور جماعت میں شریک ہو گیا ۔ مغرب کی نماز پڑھ کر نکلا تو شہر کی روشنیاں جگمگا اٹھی تھیں۔ اسے ہلکی ہلکی بھوک کا احساس ہو ا۔
’’گھر چلا جائے ۔ ‘‘اس نے جیسے خود سے کہا ۔ پھر اسے جیب میں رکھا خط یاد آ گیا ۔ شاہد سے مل لینا بہتر ہے ۔ اباّ نے لکھا تھا ، صفیہ کی شادی طے ہو گئی ہے ۔ یوں تو لڑکے والوں کی کوئی ڈیمانڈ نہیں ہے مگر آج کل بارات کلانے میں ہی کافی خرچ ہو جاتا ہے ۔ اگر ہو سکے تو کہیں سے کچھ انتظام کر و ۔ اس نے اسی دن اس پرائیویٹ فرم میں ، جہاں وہ کام کرتا تھا LOANکی درخواست دے دی تھی ۔ مگر LOAN ملنے کی کوئی امید نہیں تھی ۔ اس کی درخواست دیکھ کر منیجنگ ڈائرکٹر نے کہا تھا کہ کمپنی گھاٹے میں چل رہی ہے اس لئے LOAN ملنا مشکل ہے ۔ LOAN ملے یا نہ ملے مگر اسے ایم ۔ ڈی کا لہجہ خراب لگا تھا ۔ اس کی طبیعت مکدر ہو گئی تھی اور پھر وہ دن بھر اس تکدر کو ڈھوتا رہا تھا ۔ ایم ڈی کے کیبن سے نکلتے ہوئے اسے لگا جیسے زندگی کوئی باسی اور سوکھی روٹی ہے ، جسے چبانا بہت مشکل ہے ، مگر چبانا پڑتا ہے ۔ اس نے کبھی کسی سے تقدیر کا شکوہ نہیں کیا تھا کہ شکوہ کرنے سے خدا ناراض ، دشمن خوش اور دوست غم زدہ ہو جاتا ہے ۔ ویسے اس کے دوستوں کا حلقہ بہت زیادہ وسیع نہیں تھا ۔ البتہ شاہد اس کے قریبی دوستوں میں سے تھا ۔ مقابلہ جاتی امتحان پاس کر کے وہ ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہو گیا تھا ۔ اسکی شادی بڑے امیر گھرانے میں ہوئی تھی اور اس کی بیوی بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھی ۔ چند سال قبل اس نے شہر کی ایک پوش کالونی میں نیا مکان بنوایا تھا ۔ اگر شاہد کے سامنے وہ اپنا مسئلہ پیش کرے تو شاید .....
اس کی قدم چوک کی جانب مڑ گئے جہاں سے ایک راستہ شاہد کی کالونی کی طرف جاتا تھا ۔ آ گے واصف صاحب کی کپڑوں کی بڑی سی دکان تھی ۔
واصف صاحب اس کے حقیقی خالو تھے ۔
خالو کی دکان کا خیال آتے ہی اسے یاد آیا کہ اس نے گزشتہ گئی برسوں سے کوئی نیا کپڑا نہیں بنوایا ہے ۔ بس عید کے موقعے پر ایک جوڑی کر تا پا جامہ ۔ البتہ بیوی بچوں کے اس نے ہمیشہ نئے کپڑے بنوائے ۔ اس نے راستہ بدل دیا اور ایک گلی سے ہو کر شاہد کی کالونی کی طرف نکل گیا کالونی نئی نئی بسی تھی ۔ بہت سارے پلاٹ خالی پڑے تھے ۔ کالونی کی اندر جانے والی سڑک ابھی کچی تھی ۔ الکٹرک پول سے نکلتی ہوئی روشنی سڑک پر پھیلی ہوئی تھی ۔ وہ شاہد کے مکان کے پاس جا کر رک گیا ۔ مکان میں لوہے کا گیٹ لگا ہوا تھا ۔ اندر لان میں پھولوں کی کیاریاں تھیں ۔ برآمدے میں ٹیوب لائٹ روشن تھی ۔ اس نے گیٹ کھولنے کے لئے ہاتھ بڑھایا ۔ اسی لمحے کوئی تیز آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی ۔ وہ ٹھٹھک کر رک گیا ۔
وہ آواز پھر سنائی دی ۔۔اس بار آواز زیادہ صاف اور واضح تھی ۔ یہ شاہد کی بیوی تھی ۔ پھر گھر کے اندر سے بے لباس جملے کھڑکیوں کو الانگتے پھلانگتے باہر نکلنے لگے ۔ اچانک ایک زور کی آواز اُبھری جیسے کسی کے گال پر طمانچہ پڑا ہو ، ساتھ ہی ساتھ شاہد کی بیوی کی ہلکی کی چیخ ۔
وہ واپسی کے لئے مڑ گیا ۔
گھر کی نیم تاریک گلی میں داخل ہوتے وقت عشا کی اذان سنائی دی ۔ پہلے وہ نماز کا کوئی ایسا پابند نہ تھا مگر ادھر چند مہینوں سے اس نے باقاعد گی کے ساتھ نماز پڑھنا شروع کر دیا تھا ۔ پھر بھی اکثر ظہر کی نماز قضا ہو جایا کرتی تھی ۔ لنچ ٹائم میں اتنا وقت ہی نہیں ملتا تھا لیکن ایک دن اس نے مسجد کی دیوار پر آویزاں ایک کاغذ لکھا دیکھا ۔
’’اور جس نے ظہر کی نماز ترک کی اس کی روزی سے برکت ختم ہو جاتی ہے ۔ ‘‘اس کے بعد سے اس نے ظہر بھی پابندی سے ادا کرنا شروع کر دیا تھا ۔ اپنے آفس کے قریب والی چھوٹی سی مسجد میں ۔
گھر پہنچا تو بچے اسکول کا ہوم ورک کرنے میں مشغول تھے ۔بیوی کچن میں تھی اور کچن سے اشتہا انگیز خوشبو آ رہی تھی ۔ اس کی بھوک چمک اٹھی ۔ دونوں چھوٹے بچے ’’پاپا ، پاپا‘‘ کہہ کر اس سے لپٹنے کو بڑھے تو بیوی کچن سے باہر نکل آئی ۔
’’پاپا کو تنگ مت کرو ۔ ابھی ابھی تو باہر سے آ رہے ہیں ۔‘‘
مگر اس نے دونوں کو بانہوں میں بھر کر پیار کیا اور پھر پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے بولا ۔
’’جاؤ پڑھو جا کر ۔ ‘‘بچے پڑھنے میں مشغول ہو گئے ۔ اس کی بیوی نے ساری کے پلو سے ہاتھ پونچھتے ہوئے کہا ۔
’’کھا نا تیار ہے ، لگا دوں ؟‘
’’ابھی نہیں ، نماز پڑھ کر کھاؤں گا ۔ ‘‘
’’نماز میں ابھی آدھے گھنٹے کی دیر ہے ۔ گرم گرم کھا لیجئے ۔ ‘‘
’’اچھا نکالو، جب تک میں کپڑے بدل کر وضو کر لوں ۔ ‘‘وضو کرنے کے بعد وہ آنگن میں بچھی چوکی پر بیٹھ گیا ۔ اس کا بڑا بیٹا ایک کمرے سے ٹیبل فین اٹھا لیا اور آنگن کے کنا رے رکھے ٹیبل پر رکھ کر اسے آن کر دیا ۔ بیوی نے دستر خوان بچھایا اور کھانا لگا دیا ۔ کھانے میں بھنا ہوا مرغ اور کترنی چاول کا پلاؤ تھا ۔ ساتھ میں سلاد اور آم کا اچار ۔ اس نے حیرت بھری نظر وں سے بیوی کی جانب دیکھا ۔
’’آج گیارہویں شریف تھی ۔ ‘‘
’’پیسے ؟‘‘
’’تھے میرے پاس ۔ ‘‘
اس کی بیوی کھانا بہت مزیدا را بناتی تھی ۔ تیل ، مسالہ ، نمک ، ہر شے مناسب RATIO کے ساتھ ۔ کھانا بناتے وقت اس کا انہماک دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے وہ کھانا نہیں بنا رہی ہو ، عبادت کر رہی ہو ۔ اس نے خوب سیر ہو کر کھایا ۔ پھر وہ ایک پلیٹ میں آ م کا قاشیں لے آئی ۔
’’آم ؟‘‘
’’شوکت بھائی نے بھجوائے ہیں ۔ ان کے باغ کے ہیں ۔ ‘‘ڈیگھا‘‘ کادودھیا مالدہ تھا ، پال کا پکا ہوا ، اس کاچھِلکا مہین اور گھُٹلی چھوٹی ہوتی ہے اور جس میں ایک روح پرور خوشبو ہوتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ دودھیا مالدہ کے باغات کو کبھی دودھ سے سینچا جاتا تھا ۔ قاش اٹھاتے اٹھاتے وہ رک گیا ۔
’’بچوں نے کھایا ؟‘‘
’’ان کے لئے الگ سے رکھ دیا ہے ۔ ‘‘
’’اور تم ؟‘‘
’’میں بھی کھا لوں گی ، آ پ کھائیے ۔‘‘ اس نے آم کی قاش منہ میں رکھی ۔ اس کی بیوی قریب ہی بیٹھ گئی ۔
’’آصف بھائی کو دیکھنے گئے تھے ؟‘‘
’’ہاں! ‘‘
’’اب کیسے ہیں ؟‘‘
’’ٹھیک ہے ۔ ‘‘
’’میں بھی کسی دن جاؤں گی ۔ ‘‘
’’چلی جانا ۔ ‘‘
کھانا کھانے کے بعد اس نے گھڑے کا ٹھنڈا پانی پیا ، خدا کا شکر ادا کیا اور مسجد کی جانب روانہ ہو گیا ۔ مسجد کے دونوں اطراف چائے خانوں اور پان کی دکانوں پر لوگوں کی بھیڑ تھی ۔ گلی کے کچھ لڑکے کیرم بورڈ کھیل رہے تھے ۔ چند اور لوگ ان کا کھیل دیکھنے میں مشغول تھے ۔ ایک سیلون سے فلمی نغمہ نشر ہو رہا تھا ۔ اس نے زور سے لاحول پڑھی اور ’’اللھم افتح لی ابوابِ رحمتک‘‘َ پڑھتے ہوئے مسجد میں داخل ہو گیا ۔
نماز پڑھ کر لوٹا تو بجلی جا چکی تھی ۔ ہوا پھر بند ہو گئی تھی ۔ اس کے کپڑے بدن سے چپک گئے تھے ۔ اس نے کرتا اُتار کر کھونٹی پر ٹانگا اور چھت پر چلا گیا ۔ اس کی بیوی بچوں کو کھانا کھلا رہی تھی ۔ چھت پر پہنچ کر اس نے دو چار گہری سانسیں لیں ۔ آسمان بالکل صاف تھا ۔ جا بجا بکھرے ہوئے ستاروں کے درمیان آسمان کی مانگ پر کہکشاں پھیلی ہوئی تھی ۔ چاند روشن تھا ۔ دور کہیں روشنیاں جھلملا رہی تھیں ۔ اچانک پورب کی جانب سے ہلکی ہلکی ہوا آئی اس کے جسم کو پیار سے سہلانے لگی ۔ اس نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر زور سے انگڑا ئی لی ۔ پھر اپنے بازؤں پر ہاتھ پھیرا ۔ اس کے بازو اورشانے اب بھی کسے کسے اور گھٹیلے تھے ۔ اسے کبھی کوئی خاص بیماری نہیں ہوئی ، کبھی کبھی ہلکا سا بخار آ گیا ۔ بس ۔
ہو ا کچھ اور تیز ہو گئی تھی اور جب تیز تیز چلتی ہوئی ہوا اس کے کپڑوں کے اندر سر سرانے لگی تو اس گد گدی سی محسوس ہونے لگی ۔ اسی لمحے سیڑھی پر کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی ۔ اس کی بیوی تکیہ ، دری اور چادر لیکر اوپر آ رہی تھی ۔ دری بچھانے کے بعد ا س نے اس کے اوپر چادر بچھائی ، اس کی شکنیں درست کیں اور پھر پچھم کی جانب تکیہ رکھتے ہوئے بولی ۔
’’تھک گئے کیا ؟ لائیے سر دبا دوں ۔ ‘‘ وہ بستر پر آ کر بیٹھ گیا ۔
’’LOAN ملا ؟‘‘
’’مل جائے گا انشاء اللہ ۔‘‘
’’شاہد بھائی کے پاس گئے تھے ؟‘‘
’’نہیں ۔ ‘‘
’’اچھا ، اب لیٹ جائیے ۔ ‘‘
وہ بستر پر لیٹ گیا ۔ اس کی بیوی نے پہلے اس کے بالوں میں دھیرے دھیرے انگلیاں پھیریں ۔ اسے بڑا اچھا لگا ۔ پھر وہ نرم و نازک انگلیاں اس کی پیشانی پر اس طرح چلنے لگیں جیسے سطح آ ب پر ہلکی ہلکی ہوا بہتی ہے ۔ اسے دن بھر کی کثافت دھلتی ہوئی محسوس ہوئی ۔ ایک پُر سکون خاموشی دھیرے دھیرے ا سکی روح میں سرایت کرنے لگی ۔ اس کی آنکھیں خمار آلود ہونے لگیں ۔ وہ سب کچھ بھولتا چلا گیا ۔
ایم ۔ ڈی کا چیں بہ جبیں ہونا .....
خالو کا خشمگیں چہرہ .....
خالہ زاد بہنوں کی بے رخی .....
شاہد کے گھر سے نکلتی ہوئی گندی آوازوں کی تلخی ..... سب کچھ۔
اس کی بیوی کا چہرہ اس پر جھکا ہوا تھا ۔ اس نے دونوں ہاتھ بڑھائے اور اس قیمتی شے کو اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا ۔
آسمان روشن تھا ، ستارے جھلملا رہے تھے ، ہلکی ہلکی ہوا بہہ رہی تھی اور ہولے ہولے بہتی ہوا میں گلاب اور شہد کی ملی جلی خوشبو پھیلنے لگی ۔
ایک تھکے ہوئے دن کا انت اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے ۔
No comments:
Post a Comment
از راہ کرم کوشش کیجئے کہ اردو زبان میں اپنی رائے کا اظہار کریں اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو کی سہولت موجود نہیں بھی ہے تو آپ کسی بھی اردو ایڈیٹر مثلاٰ
www.urdueditor.com
پر جاکر اردو میں ٹائپ کر کے یہاں چسپاں کر سکتے ہیں۔