افسانہ نگاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک ادبی نشست
تیرہواں افسانہ ---چیل -----------------------از --- حمید نیا زی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میں بچپن میں بڑے بڑے خواب دیکھا کرتا تھا- بچپن کی معصومیت میں گندھے ہوئے خواب----کبھی بادشاہ بننے کے، کبھی کرکٹ کا مشہور کھلاڑی اور کبھی مشہورِ زمانہ شاعر بننے کے خواب------جب بڑا ہوا تو پتہ چلا کہ خواب اور حقیقت کے بیچ ایک لمبی مسافت ہے جس کو پاٹنا میرے بس میں نہیں- میرے اردگرد بہت سے لوگ انہی راہوں پر چل رہے تھے مگر میرے پیروں کے نیچے میرے خوابوں کی کرچیاں تھیں ، اس لیے شروع میں بہت تکلیف ہوئی-
آج جب میں کام سے واپس آ رہا تھا تو میرے کپڑوں پر چکناہٹ کی کئی تہیں تھیں- یادش بخیر کبھی میں برف کے گالوں کی طرح سفید کپڑے پہنا کرتا تھا- اب مجھے کپڑوں پر پڑنے والے داغوں کی پروا بھی نہیں تھی- افق کے پار دیکھنے والی ان آنکھوں میں اگر کوئی خواہش تھی تو یہ کہ میرے بچے مجھ سے بہتر زندگی گزار سکیں 150
گھر کے قریب پہنچا تو جازی نظر آیا- یہ خاندان محلے میں نیا نیا آیا تھا- یہ لڑکا پہلے ہی دن سے مجھے بھایا نہ تھا - رنگدار بھڑکیلے کپڑے پہنے ، کالر پر پھول کاڑھے، ہاتھ میں رومال لیے، پاؤڈر کریم مَلے سیٹیاں بجاتا گلی سے گزرتا تھا- اِس وقت تو مجھے بالکل زہر لگا- وہ میرے گھر کے دروازے کی طرف گھور گھور کر دیکھ رہا تھا- گھر میں قدم رکھنے سے پہلے میں نے اسے مڑ کر دیکھا تو وہ مسکرا رہا تھا- اس کی یہ مسکراہٹ مجھے شیطانی لگی-
میرا کنبہ چولھے کے گرد بیٹھا تھا- ان عورتوں کے بھی جانے کون سے دکھ سانجھے ہوتے ہیں کہ انہیں ہمراز بننا پڑتا ہے- آپس میں لڑیں گی، چیخیں چلائیں گی، مگر ذرا دیر بعد وہی رازونیازاور وہی دبی دبی ہنسی-
میری بچیاں اٹھیں، سلام کیا- میں ان کے سر پر ہاتھ پھیرا کرتا تھا مگر آج میری آنکھوں کے آگے وہ شیطانی مسکراہٹ ناچ رہی تھی- اس لڑکے کو پہلی بار دیکھ کر ہی میرا ماتھا ٹھنکا تھآ کہ یہ لڑکا محلے کی بہو بیٹیوں کو خراب کرے گا- اس کا پہلا نشانہ میرا گھر بھی ہو سکتا تھا- نہیں، مجھے اپنے گھر کی حفاظت کرنی تھی- اس مرغی کی طرح جو چیل کو دیکھ کر اپنے چوزے پروں میں چھپا لیتی ہے- شاید اس عزم نے میرے چہرے میں سختی پیدا کر دی- مسکراہٹ میرے ہونٹوں سے غائب پا کر بچیاں پھر باورچی خانے میں جا دبکیں 150 ان کی ماں باہر نکلی- اس وقت تک میں کسی کونے میں پڑی ہوئی کدال نکال چکا تھا-
میں دیوار کے ساتھ بنی مرغیوں کی کوٹھیوں کو گرانے لگا- میرے خیال میں ان پر سے باہر گلی میں جھانکا جا سکتا تھا- بیوی حیرت سے میری طرف دیکھنے لگی 150میرے چہرے کے تاثرات میں ایسا کچھ تھا کہ بول بھی نہ پائی- میں نے کدال رکھ کر کہا " اب گھر کا دروازہ کھلا نہیں چھوڑنا ، اور آج کے بعد کوئی لڑکی گھر سے باہر قدم نہیں رکھے گی"
"کیوں ، کیا ہوا---خیریت ہے نا؟"
"ایک چیل ارد گرد منڈلا رہی ہے" میں نے کہا اور جا کر بستر پر گر گیا-
پہلے ہم باورچی خانے کے فرش پر مل کر کھانا کھایا کرتے تھے مگرآج میری بھوک اڑی ہوئی تھی-
میں اپنے خاندان کے بارے میں سوچنے لگا- کتنا فخر ہوتا تھآ مجھے اپنے خاندان پر جب ہم چولہے کے گرد بیٹھا کرتے تھے- اپنی بچیوں اور بیوی کو اپنے اردگرد سمٹا دیکھ کر مجھے نشہ سا چڑھ جاتا تھا- اس چاردیواری کے اندر یہ میری چھوٹی سی سلطنت تھی- بچپن میں دیکھے گئے بادشاہ بننے کے خواب تو تعبیر سے محروم رہے تھے مگر عرصہ ہوا اس بادشاہت کو میں اپنے گھر میں پا چکا تھا- یہاں مجھے کام کے دوران مالکوں سے کھائی ہوئی جھڑکیاں بھول جاتی تھیں 150 باورچی خانے میں اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھا ہوتا تو وہ پیڑھی بھی مجھے تختِ طاؤس سے کم نہ تھی-
سوچوں نے ایک تلخ حقیقت دکھائی- دنیا کا رواج تھا اور فطرت کا قانون- کچھ دنوں میں ایک فوج نے آنا تھا ، تلواروں اور ڈھالوں کی بجائے شہنائی اور ڈھولوں کے ساتھ----اور یہ وہ جنگ ہے جس میں بہادر سے بہادر مرد کو بھی ہتھیار ڈالنے پڑتے ہیں ----دنیا کے جنگجو میری سلطنت آپس میں بانٹ لیں گےاور میرا تو کوئی ولی عہد بھی نہ تھا-
رات گئے جب میں نیند کی وادی میں اترنے والا تھا تو میری آنکھوں کے آگے وہی شیطانی مسکراہٹ تھی اور دل میں یہ ارادہ تھا کہ میں اپنے کنبے کی حفاظت کروں گا جیسے کوئی مرغی چیل کو دیکھ کر اپنے چوزوں کی------
رات دیر سے سونے کے باوجود صبح آنکھ جلدی کھل گئی- سب سوئے ہوئے تھے- آنتیں بھوک سے قل ہواللہ پڑھ رہی تھیں 150 بیوی کو جگایا- اس نے چولھا جلایا اور ناشتہ تیار کرنے لگی- میں باورچی خانے میں اس کے پاس بیٹھ گیا- اپنی سوچوں اور خدشات میں اسے شریک کیا اور سخت احتیاط برتنے کو کہا-
میں اس روز کام پر نہیں گیا اور اگلے کئی روز بھی- میں اپنا گھر خطرے کی زد میں چھوڑ کر جانے کے لیے تیار نہیں تھا- کچھ دن بعد ہی گھر میں بھوک کے سائے نظر آنے لگے تو میں شش و پنج میں پڑ گیا- ابھی اسی سولی پر لٹکا ہوا تھا کہ میری بڑی بیٹی کا رشتہ آ گیا-یہاں نئے ہونے کے باوجود اس گھر کے بزرگ محلے بھر کا اعتماد حاصل کر چکے تھے- بیٹی کی عمر بھی بیس سال سے اوپر ہو گئی تھی- لوگوں کی باتیں دل جلاتی تھیں کہ بیٹیوں کو گھر میں ہی بٹھائے رکھو گے؟ مرنے سے پہلے ان کا ٹھکانہ بناؤ گے کہ نہیں-
لڑکا ذاتی طور پر ناپسند ہونے کے باوجود مجھے یہ رشتہ قبول کرنا پڑا اور یوں اعجاز احمد عرف جازی میرا داماد بن گیا-
دیگیں کیسے پکیں اور شامیانے کتنے لگے- بارات کب آئی اور شادیانے کیسے بجے- مجھے کچھ یاد نہیں- ہاں یہ یاد ہے کہ میں نے بیٹی کو رخصت کیا تو دولھے کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی-
چیل ایک چوزے کو لے کر اڑ گئی- مرغی باقی چوزوں کو پروں میں چھپا کر بیٹھ گئی- کسی مناسب چیل کے آنے تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرہواں افسانہ ---چیل -----------------------از --- حمید نیا زی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میں بچپن میں بڑے بڑے خواب دیکھا کرتا تھا- بچپن کی معصومیت میں گندھے ہوئے خواب----کبھی بادشاہ بننے کے، کبھی کرکٹ کا مشہور کھلاڑی اور کبھی مشہورِ زمانہ شاعر بننے کے خواب------جب بڑا ہوا تو پتہ چلا کہ خواب اور حقیقت کے بیچ ایک لمبی مسافت ہے جس کو پاٹنا میرے بس میں نہیں- میرے اردگرد بہت سے لوگ انہی راہوں پر چل رہے تھے مگر میرے پیروں کے نیچے میرے خوابوں کی کرچیاں تھیں ، اس لیے شروع میں بہت تکلیف ہوئی-
آج جب میں کام سے واپس آ رہا تھا تو میرے کپڑوں پر چکناہٹ کی کئی تہیں تھیں- یادش بخیر کبھی میں برف کے گالوں کی طرح سفید کپڑے پہنا کرتا تھا- اب مجھے کپڑوں پر پڑنے والے داغوں کی پروا بھی نہیں تھی- افق کے پار دیکھنے والی ان آنکھوں میں اگر کوئی خواہش تھی تو یہ کہ میرے بچے مجھ سے بہتر زندگی گزار سکیں 150
گھر کے قریب پہنچا تو جازی نظر آیا- یہ خاندان محلے میں نیا نیا آیا تھا- یہ لڑکا پہلے ہی دن سے مجھے بھایا نہ تھا - رنگدار بھڑکیلے کپڑے پہنے ، کالر پر پھول کاڑھے، ہاتھ میں رومال لیے، پاؤڈر کریم مَلے سیٹیاں بجاتا گلی سے گزرتا تھا- اِس وقت تو مجھے بالکل زہر لگا- وہ میرے گھر کے دروازے کی طرف گھور گھور کر دیکھ رہا تھا- گھر میں قدم رکھنے سے پہلے میں نے اسے مڑ کر دیکھا تو وہ مسکرا رہا تھا- اس کی یہ مسکراہٹ مجھے شیطانی لگی-
میرا کنبہ چولھے کے گرد بیٹھا تھا- ان عورتوں کے بھی جانے کون سے دکھ سانجھے ہوتے ہیں کہ انہیں ہمراز بننا پڑتا ہے- آپس میں لڑیں گی، چیخیں چلائیں گی، مگر ذرا دیر بعد وہی رازونیازاور وہی دبی دبی ہنسی-
میری بچیاں اٹھیں، سلام کیا- میں ان کے سر پر ہاتھ پھیرا کرتا تھا مگر آج میری آنکھوں کے آگے وہ شیطانی مسکراہٹ ناچ رہی تھی- اس لڑکے کو پہلی بار دیکھ کر ہی میرا ماتھا ٹھنکا تھآ کہ یہ لڑکا محلے کی بہو بیٹیوں کو خراب کرے گا- اس کا پہلا نشانہ میرا گھر بھی ہو سکتا تھا- نہیں، مجھے اپنے گھر کی حفاظت کرنی تھی- اس مرغی کی طرح جو چیل کو دیکھ کر اپنے چوزے پروں میں چھپا لیتی ہے- شاید اس عزم نے میرے چہرے میں سختی پیدا کر دی- مسکراہٹ میرے ہونٹوں سے غائب پا کر بچیاں پھر باورچی خانے میں جا دبکیں 150 ان کی ماں باہر نکلی- اس وقت تک میں کسی کونے میں پڑی ہوئی کدال نکال چکا تھا-
میں دیوار کے ساتھ بنی مرغیوں کی کوٹھیوں کو گرانے لگا- میرے خیال میں ان پر سے باہر گلی میں جھانکا جا سکتا تھا- بیوی حیرت سے میری طرف دیکھنے لگی 150میرے چہرے کے تاثرات میں ایسا کچھ تھا کہ بول بھی نہ پائی- میں نے کدال رکھ کر کہا " اب گھر کا دروازہ کھلا نہیں چھوڑنا ، اور آج کے بعد کوئی لڑکی گھر سے باہر قدم نہیں رکھے گی"
"کیوں ، کیا ہوا---خیریت ہے نا؟"
"ایک چیل ارد گرد منڈلا رہی ہے" میں نے کہا اور جا کر بستر پر گر گیا-
پہلے ہم باورچی خانے کے فرش پر مل کر کھانا کھایا کرتے تھے مگرآج میری بھوک اڑی ہوئی تھی-
میں اپنے خاندان کے بارے میں سوچنے لگا- کتنا فخر ہوتا تھآ مجھے اپنے خاندان پر جب ہم چولہے کے گرد بیٹھا کرتے تھے- اپنی بچیوں اور بیوی کو اپنے اردگرد سمٹا دیکھ کر مجھے نشہ سا چڑھ جاتا تھا- اس چاردیواری کے اندر یہ میری چھوٹی سی سلطنت تھی- بچپن میں دیکھے گئے بادشاہ بننے کے خواب تو تعبیر سے محروم رہے تھے مگر عرصہ ہوا اس بادشاہت کو میں اپنے گھر میں پا چکا تھا- یہاں مجھے کام کے دوران مالکوں سے کھائی ہوئی جھڑکیاں بھول جاتی تھیں 150 باورچی خانے میں اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھا ہوتا تو وہ پیڑھی بھی مجھے تختِ طاؤس سے کم نہ تھی-
سوچوں نے ایک تلخ حقیقت دکھائی- دنیا کا رواج تھا اور فطرت کا قانون- کچھ دنوں میں ایک فوج نے آنا تھا ، تلواروں اور ڈھالوں کی بجائے شہنائی اور ڈھولوں کے ساتھ----اور یہ وہ جنگ ہے جس میں بہادر سے بہادر مرد کو بھی ہتھیار ڈالنے پڑتے ہیں ----دنیا کے جنگجو میری سلطنت آپس میں بانٹ لیں گےاور میرا تو کوئی ولی عہد بھی نہ تھا-
رات گئے جب میں نیند کی وادی میں اترنے والا تھا تو میری آنکھوں کے آگے وہی شیطانی مسکراہٹ تھی اور دل میں یہ ارادہ تھا کہ میں اپنے کنبے کی حفاظت کروں گا جیسے کوئی مرغی چیل کو دیکھ کر اپنے چوزوں کی------
رات دیر سے سونے کے باوجود صبح آنکھ جلدی کھل گئی- سب سوئے ہوئے تھے- آنتیں بھوک سے قل ہواللہ پڑھ رہی تھیں 150 بیوی کو جگایا- اس نے چولھا جلایا اور ناشتہ تیار کرنے لگی- میں باورچی خانے میں اس کے پاس بیٹھ گیا- اپنی سوچوں اور خدشات میں اسے شریک کیا اور سخت احتیاط برتنے کو کہا-
میں اس روز کام پر نہیں گیا اور اگلے کئی روز بھی- میں اپنا گھر خطرے کی زد میں چھوڑ کر جانے کے لیے تیار نہیں تھا- کچھ دن بعد ہی گھر میں بھوک کے سائے نظر آنے لگے تو میں شش و پنج میں پڑ گیا- ابھی اسی سولی پر لٹکا ہوا تھا کہ میری بڑی بیٹی کا رشتہ آ گیا-یہاں نئے ہونے کے باوجود اس گھر کے بزرگ محلے بھر کا اعتماد حاصل کر چکے تھے- بیٹی کی عمر بھی بیس سال سے اوپر ہو گئی تھی- لوگوں کی باتیں دل جلاتی تھیں کہ بیٹیوں کو گھر میں ہی بٹھائے رکھو گے؟ مرنے سے پہلے ان کا ٹھکانہ بناؤ گے کہ نہیں-
لڑکا ذاتی طور پر ناپسند ہونے کے باوجود مجھے یہ رشتہ قبول کرنا پڑا اور یوں اعجاز احمد عرف جازی میرا داماد بن گیا-
دیگیں کیسے پکیں اور شامیانے کتنے لگے- بارات کب آئی اور شادیانے کیسے بجے- مجھے کچھ یاد نہیں- ہاں یہ یاد ہے کہ میں نے بیٹی کو رخصت کیا تو دولھے کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی-
چیل ایک چوزے کو لے کر اڑ گئی- مرغی باقی چوزوں کو پروں میں چھپا کر بیٹھ گئی- کسی مناسب چیل کے آنے تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment
از راہ کرم کوشش کیجئے کہ اردو زبان میں اپنی رائے کا اظہار کریں اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو کی سہولت موجود نہیں بھی ہے تو آپ کسی بھی اردو ایڈیٹر مثلاٰ
www.urdueditor.com
پر جاکر اردو میں ٹائپ کر کے یہاں چسپاں کر سکتے ہیں۔