June 12, 2013

چسکا



افسانہ نگاری پہ ایک نشست ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چوبیسواں افسانہ 

چسکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ از ڈاکٹر عزیز فیصل 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،

شہر کے مرکزی بازار کے ایک انتہائی پررونق حصے میں جمی نامی باتونی شخص کا ایک چلتا ہوا ڈیپارٹمینٹل سٹور تھا۔
اپنے نام کی مناسبت سے اس نے سٹور کا نام "جمی ڈیپارٹمینٹل ستور" رکھا ہوا تھا۔ وہ ایک درمیانے قد کا موٹا سا روشن خیال شخص تھا جس کی رنگت گندمی کم اور سیہ مائل زیادہ نظرآتی تھی۔
اس کے تینوں بیٹے شہر کے مہنگے سکولوں میں مختلف کلاسوں میں زیر تعلیم تھے جبکہ اس کی اکلوتی حسین و جمیل بیٹی ایک پرائیویٹ یونیورسٹی میں بی ایس کی طالبہ تھی۔

قدرت نے جمی کو خوشحالی اور اولاد کی دولت سے نواز رکھا تھا اور وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ایک پر مسرت اور پر آسائش زندگی گزار رہا تھا۔ وہ اپنے چارملازمیں کے ساتھ تقریباً دن کے گیارہ بجے بازار پہنچتا اور اپنی دکان کھولتا اوررات بارہ بجے تک کاروباری معاملات جاری رکھتا۔ اس کا سٹور ورائٹی اور مناسب دام کی شہرت رکھتا تھا اور اسی بنا پر مردو خواتین میں یکساں مقبول بھی تھا۔

جمی ایک کامیاب دکاندار اورمالدار تاجر تھا جو روزانہ ہزاروں روپے کماتا تھا، طبعاً ہنس مکھ تھا اور کاروباری معاملات میں دوست داری کے تقاضے نبھانے کا ظرف بھی رکھتا تھا، اس کا وسیع حلقہ احباب اس خوبی کا معترف بھی تھا۔بنیادی طور پر ایک دل پھینک سا آدمی تھا اور دکان پر آنے والی خواتین کو دزدیدہ نگاہوں سے بہت کچھ کہہ جاتا تھا۔ دکان کے سارے ملازم اس کی حرکات و سکنات سے کما حقہ آگاہ ہی نہیں تھے ، محض اس کی خوشنودی کی خاطر، کھلے بندوں اسے سراہتے بھی تھے۔

وہ دکان پر آنے والی اکثر خواتین کو "جنموں میلی" نظر سے ہی دیکھتا تھا اور ان کے بارے میں صحتمند رائے قائم کرنے سے اجتناب کرتا تھا۔ کئی خواتین اس کے ڈیل ڈول کے سبب اسے خاطرخواہ لفٹ کرانے سے قصداً گریز کرتی تھیں اور لب و لہجہ کے تناؤ اور چہرے کے ناگوار تاثرات سے اس کی شیطانی نیت کالعدم کرنے کا اہتمام بھی کرتی تھیں۔

جمی عورت کی طرف سے ایسے سرد رویہ پر دل ہی دل میں مزید جذباتی ہوجاتا اور اپنے اپنے دل کے پھپھولے جلانے کے لیئے جلے کٹے تبصروں کا سہارا لیتا۔ جمی کا المیہ یہ تھا کہ وہ بازارمیں آنے والی تقریبا ًہر عورت کو بازاری عورت سمجھتا اوراپنی دکان میں داخل والی خواتین سے بھی اسی تناطر میں گپ شپ لگاتا۔ جونہی کوئی خاتون گاہک سودا سلف خرید کر دکان سے باہر نکلتی تو جمی اپنی افتاد طبع کے سبب موقع محل دیکھ کر اس عورت کے بارےمیں نازیبا تبصرہ کرتا اور ملازمین کی داد کا طالب ہوتا۔ وہ خواتین کے لباس، چال ڈھال، انداز گفتگو اور خدو خال کا ایسا ننگا سانمونہ باندھتا کہ بے چارے ملازمین دل ہی دل میں شرمندہ ہونے کے باوجود اس کے سامنے قہقہے لگاتے رہتے۔

جمی کے یہ ملازمین پچھلے پانچ برسوں سے اس کے سٹور پر کام کر رہے تھے اور انھیں تنخواہ اور مالک کے برتاؤ سے کوئی شکایت بھی نہیں تھی لہٰذا وہ بھی جمی کی خوشنودی حاصل کرنے کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ ملازمین کی گزشتہ پانچ سالہ داد مسلسل نے جمی کو یہ باور کرا دیا تھا کہ وہ ایک مزاحیہ آدمی ہے جو گپ شپ میں ایسی دلچسپی ڈالنے پر قادر ہے کہ جو سننے والے کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر سکتی ہے۔

اس کے تینوں بیٹے اور اکلوتی بیٹی مختلف تیوٹرز کے پاس پڑھتے تھے جو انھیں گھر پر ہی پڑھانے آتے تھے ۔ جمی کے بجائے اس کی بیگم بچوں کے تعلیمی و غیر تعلیمی معاملات کی نگرانی کرتی تھی۔ جمی نے بیگم کو واضح طور پر بتا رکھا تھا کہ وہ اپنے کاروباری معاملات مییں الجھے رہنے کے سبب بچوں پر توجہ دینے سے قاصر ہے۔ جمی کی بیگم بھی اس معاملے کی نزاکت کو سمجھتی تھی اور اپنے تئیں بچوں کی نگرانی کرتی رہتی اور ان کی دیگر ضروریات پورا کرتی۔ وہ گھریلو شاپنگ کے لیئے بیٹی کی بھی مدد لیتی جو کئی مرتبہ بازار سے روزمرہ کی اشیا خرید کرلے آتی۔عہد جدید کے سارے لوازمات جمی کے بچوں کو فراوانی کے ساتھ میسر تھے بلکہ بیٹی تو اپنی گاڑی پر ہی یونیورسٹی جایا کرتی تھی۔

اس کے ستور سے چند ہی قدموں کی مسافت پر کپڑوں کا ایک مشہور و معروف جدید ستور "ضیغم ڈریسز" کے نام سے تھا جس کا مالک ضیغم ، جمی کا بے تکلف دوست تھا۔ ان دونوں کے خواتین کے بارے میں خیالات تقریباً یکساں تھے اور شاید یہی نکتہ ان کے باہمی قرب کا بھی موجب تھا۔ 

جب بھی یہ دونوں تقریبا ً ہم عمر دوست اپنی اپنی دکانوں سے فراغت محسوس کرتے، تو گپ شپ کے لیئے ایک دوسرے کی دکانوں کا رخ کرتے۔ ان کی زیادہ تر گفتگو خواتین کے بارے میں ہی ہوتی۔ دونوں بالخصوص ان نوخیز اور خوبصورت لڑکیوں کے بارے میں چسکے لے لے کر گپیں لگاتے جو ان کی دکانوں پر بطور گاہک آتیں۔ ان کا "نظریاتی قرب" دو چار مہینوں پر ہی مشتمل تھا اور وہ دونوں ایک دوسرے کےبارے میں نجی اور دیگر بنیادی آگاہی محض سرسری سی رکھتے تھے۔

کاروباری معاملات کے سبب وہ ابھی تک ایک دوسرے کے گھر تک بھی نہیں جا سکے تھے۔ شاید اس کا مناسب سا موقع ابھی آیا بھی نہیں تھا۔کتنے بچے ہیں؟ کہاں رہتے ہیں؟ بچے کیا کر رہے ہیں؟ شہر میں دیگر رشتے دار کون کون سے ہیں؟ کھانے پینے اور لباس میں کیا کیا پسند کرتے ہیں؟ کاروباری معاملات کیسے چلائے جاتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ جیسے ضمنی سوالات بھی ان کی گفتگو میں کبھی کبھار در آتے تھے لیکن پھر پھرا کر وہ اپنی گپ شپ کو اپنے پسندیدہ موضوع پر منتقل کر ہی دیتے تھے۔

ایک دوسرے کے بارے میں گہری شناسائی کا جذبہ بوجوہ دونوں میں پیدا نہیں ہو سکا تھا شاید انھیں اس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ نسوانی موضوع پر چٹخارے دار تبصروں اور نوخیز لڑکیوں کے سراپوں کی لذت بیانیوں نے انھیں اس قابل چھوڑا ہی کہاں تھا کہ وہ ایک دوسرے کے بارے میں تفصیلی طور پر بھی جاننے کا اہتمام کرتے۔ ایک دن ضیغم اس کی دکان پر آیا اورتنہائی پاتے ہی جمی سے کہنے لگا،،،یار آج جو نوخیز حسینہ میں نے اپنی دکان میں دیکھی ہے، اس کی کیا ہی بات ہے! جمی نے بھی اس میں غیرمعمولی دلچسپی لیتے ہوئے اسے مزید کریدنا شروع کر دیا۔

ضیغم نے بتایا کہ اس کی دکان پر فرانس کی نومور ڈیزائنر "سٹیفی" کے موسم گرما کے ملبوسات آئے ہوئے ہیں جن میں سفید اور سیاہ رنگ دیدہ زیب انداز میں نمایاں کیئے گئے ہیں۔ ضیغم کے بقول ابھی سٹیفی کے یہ ملبوسات پورے شہر میں کہیں بھی دستیاب نہیں ہیں اور شہر بھر کی فیشن زدہ خواتین ان ملبوسات میں گہری دلچسپی لے رہی ہیں لیکن ،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جمی نے بات کا رخ دوبارہ اسی نوخیز حسینہ کی طرف کامیابی سے موڑدیا جس پر پر ضیغم نے اسے چسکارے دار انداز میں بتایا کہ کس خدو خال کی ایک نوخیز لڑکی آج اس کی دکان پر آئی، کس طرح اس نے سٹیفی کا وہ مہنگا لباس خریدا، ٹرائی روم میں وہ اپنے کیسے سراپے کے ساتھ چل کر گئی، اس کے انگ انگ میں چلتے ہوئے کیسا ارتعاش پیدا ہوا، اور ،،،،،،،،،،،،، کیسے اس نے ٹرائی روم کے خفیہ خانےسے لڑکی کو لباس تبدیل کرتے ہوئے براہ راست دیکھا۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، جمی نے کرید کرید کر ضیغم سے اس لڑکی کے بارے میں واہیات ترین سوالات پوچھے اور ضیغم نے واہیات تر انداز میں جوابات دیئے۔ 

دونوں کی شیطانی مسکراہٹیں سارے ملازمین کو بھی سارا فسانہ خود ہی کہتی دکھائی دے رہی تھین۔ ضیغم نے مزید بتایا کہ وہ لڑکی اپنا پرس دکان پر ہی بھول گئی ہے۔ وہ کسی بھی وقت اپنا پرس اٹھانے کے لیئے دکان پر آ سکتی ہے۔ جمی نے اسے بہ اصرار کہا کہ جب وہ اپنا پرس اٹھانے کے لیئے تمھاری دکان پر آئے تو مجھے کال کر کے بلا لینا، میں اس نازک اندام حسینہ کو ایک نطر دیکھنا چاہتا ہوں۔ ضیغم نے اس سے وعدہ کیا اور تیزی سے اپنی دکان کی طرف چل پڑا۔ 

کوئی دو گھنتوں بعد جب ضیغم کا نام اس کےموبائیل سکرین پر نمودار ہوا تو جمی اپنی دکان چھوڑ کر وارفتگی کے عالم میں ضیغم کی دکان کی طرف تقریبا ًدوڑ پڑا۔ ایک پرانے گاہک سے علیک سلیک ہونے کی وجہ سےاسے ایک آدھ منٹ راستے میں رکنا بھی پڑگیا۔ جونہی وہ ضیغم ڈریسز کے مرکزی دروازے کے پاس پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران ہو گیا کہ اس کی بیٹی اس دکان سے باہر نکل رہی تھی۔ وہ وہیں رک گیا اور استفہامیہ نظروں سے اپنی بیٹی کو دیکھنے لگا۔ بیٹی بولی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابو جان میں نےآج دو گھنٹے پہلے سٹیفی ڈیزائنر کا ایک ڈریس یہاں سے خریدا تھااور اپنا پرس یہاں ہی بھول،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، جمی اپنی بیٹی کےمنہ سے مزید کچھ نہ سن سکا۔

No comments:

Post a Comment

از راہ کرم کوشش کیجئے کہ اردو زبان میں اپنی رائے کا اظہار کریں اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو کی سہولت موجود نہیں بھی ہے تو آپ کسی بھی اردو ایڈیٹر مثلاٰ
www.urdueditor.com
پر جاکر اردو میں ٹائپ کر کے یہاں چسپاں کر سکتے ہیں۔