افسانے پہ ایک نشست ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھٹا افسانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غیر حاضر دماغی ۔۔
از ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عزیز فیصل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک سکہ بند بدحواس اور غیرحاضر دماغ شخص تھا، یار لوگ اسے اسی فن کی بدولت پروفیسر کہہ کر چھیڑ تے تھے۔ محلہ بھر اس کی اس کمزوری کا عینی شاہد ہی نہیں ،متاثرہ بھی تھا۔ ابھی پینتیس کے پیٹے میں تھا اور محض دو معصوم بچوں کا باپ تھا۔ ایک سرکاری دفتر میں یو ڈی سی تھا اور ایک درمیانے درجے کا زمیندار بھی تھا۔عمر ایسی تھی نہ عائلی زندگی کی ذمہ داریوں کا بوجھ،، نہ جانے کس حادثے کے سبب اس کی دماغی صورتحال ابنارمل سی ہو گئی تھی۔ اسے خود بھی اپنی خامی کا ادراک تھا کیونکہ غیر حاضر دماغی کے سبب کئی مرتبہ وہ عجیب وغریب صورت حال کا سامنا کر چکا تھا۔ ایک دفعہ تو انتہا ہوگئی کہ جب وہ رات دیر گئے گھر واپس پہنچا تو اپنے گھر کی بیل چھوڑ کر ہمسایے کی بیل بجا دی۔ اس کی پڑوسن کا شوہر بھی ابھی گھر واپس نہیں لوٹا تھا، سو اس پڑوسن نے اپنا شوہر سمجھ کر دروازہ وا کیا اور یہ صاحب اپنا گھر سمجھ کر پر اعتماد طریقے سے اکیلی پڑوسن کے گھر میں گھس گئے۔ گھر کا اندرونی ماحول اجنبی لگا اور پڑوسن کی گھبرائی ہوئی صورت پر نطر پڑی تو فوراً اپنی حماقت پر شرمندہ ہوئے اور معذرت کرتے ہوئے وہاں سے باہر دوڑ پڑے۔ خدا کا شکر ہے کہ پڑوسن نے اس کی غیر حاضر دماغی کے قصے اس کی بیگم کی زبانی سن رکھے تھے، سوکوئی سماجی یا اخلاقی مسئلہ پیدا نہ ہوا۔ بیگم اس کے اس بھلکڑ پن پر نالاں ہی نہیں پریشان بھی تھی۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ وہ سبزی لینے بازار گیا تو واپسی پر گوشت لے کر آ گیا، بیگم کی فرمائش پر سموسے لینے گیا تو سگریٹ کی ڈبیا لے کر واپس آ گیا، نمک کی بجائے مرچ، انڈوں کی بجائے بسکٹ، صابن کی بجائے ٹوتھ پیسٹ، آلووں کی بجائے پیاز، کون مہندی کی بجائے سرف کا جہازی پیکٹ اور کراکری کی بجائے ہوزری خرید لانے کے متعدد واقعات اس کی غیرحاضر دماغ شخصیت کے ساتھ لازم و ملزوم بن چکے تھے۔ پڑھی لکھی بیگم کا شوہر ہونے کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ مذکورہ بالا صورت حال میں تحریری حکم نامہ بھی ہاتھ میں تھما دیتی ہے، لیکن اس کی کاغذ خوری کی عادت کے سبب یہ نسخہ بھی مجرب ثابت نہ ہو سکا۔ ایک مرتبہ تو شلوار قمیض پہنے ٹائی لگا کر دفتر کو نکل ہی رہے تھے کہ بیگم کی نظر پڑ گئی اور یوں وہ شرمندگی سے بچ گیا۔
اس کے دفتری ساتھی بھی اس کی غیرحاضر دماغی سے لطف اندوز ہوتے رہتے تھے۔ جب بھی کسی ساتھی اہلکار کی کوئی فائل، اہم سرکاری دستاویزات، سٹیشنری یا ڈاک مخصوص جگہ سے غائب ملتی تو وہ ہمیشہ موصوف کی ٹیبل یا الماری سے ہی برآمد ہوتی۔ وہ طبعاً چور نہ تھا لہٰذا اس کے تمام ساتھی اس کی نیت پر ذرا سا بھی شک نہ کرتے بلکہ اس مضحکہ خیز صورت حال کو ہنسی مذاق میں اڑا دیتے۔ ایک مرتبہ تو وہ اپنے باس کی عینک پہنے اس سے کسی فائل پر دستخط کرانے چلا گیا۔ اس کا باس اپنے دفتر کےمختلف کونوں کھدروں کی تلاشی لینےمیں مصروف تھا۔ باس کو اس کی آمد کا پتہ ہی نہ چلا۔وہ دس پندرہ منٹ بے حس و حرکت اس انتظارمیں بیٹھا رہا کہ باس فارغ ہو تو اس سے فائل پر دستخط کرائے۔ اس کا باس ہلکان ہو کر جونہی اپنی سیٹ کی جانب بڑھا تو اس پر نظرپڑ گئی۔ باس کے منہ سے فوراً ایک قہقہہ نکل گیا ۔ وہ کہنے لگا کہ بھائی میری گمشدہ چیز تو اس وقت تمھاری ناک پر موجود ہے۔ وہ بری طرح جھینب گیا اور عینک باس کے حوالے کر دی۔ وہ طبعاً بھولپن ، سادہ دلی اورشرافت کا ایک مناسب سا امتزاج تھا۔ کسی کی غیبت اس لیئے نہ کر سکتا تھا کہ وہ کسی کے بارے میں اتنا ڈیٹا اپنی یاداشت میں ، بوجوہ، ذخیرہ کر نے سے قاصرتھا۔ زود گو تو وہ تھا ہی نہیں بلکہ بیشتر وقت دفتری ساتھیوں کی گپ شپ سے محظوظ ہی ہوتا رہتا تھا۔ چالبازی اور چرب زبانی سے اس کا دور دور سے بھی کوئی تعلق نہ تھا۔ اس کے کئی جاننے والے اس کی معصومیت کے درپے بھی رہتے تھے اور اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے میں کامیاب بھی ہو جاتے تھے لیکن اللہ نے اس بے ضرر شخص کو کمزور یاداشت کی نعمت سے نوازا تھا، سو اس کے دماغ میں کسی بھی شخص کے بارے میں کوئی سازش پل ہی نہیں سکتی تھی۔ نہ تو وہ کسی کے خلاف منصوبہ بندی کے آداب سے آگاہ تھا اور نہ ہی اسے ریشہ دوانیوں کے فنی و فکری لوازمات کا علم تھا۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ وہ اپنے دفتر میں اپنی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا اور کچھ سرکاری فائلوں میں تانک جھانک کر رہا تھا، ابھی اسے دفتر آئے ہوئے تقریبا ً ایک گھنٹہ ہی ہوا تھا۔ اس کے موبائیل کی گھنٹی بجی تو اس نے فون پر اپنے ایک بزرگ پڑوسی کو یہ کہتے ہوئے سنا، "پتر، جلدی جلدی گھر آ جا، تیری بیگم فوت ہو گئی ہے "۔ اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ اسے اب یاد آیا کہ آج عین دفتر جانے سے قبل اس کی بیگم کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا اور وہ تو کلینک سے ڈاکٹر کو بلانے کے لیے گھر سے نکلا تھا۔
No comments:
Post a Comment
از راہ کرم کوشش کیجئے کہ اردو زبان میں اپنی رائے کا اظہار کریں اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو کی سہولت موجود نہیں بھی ہے تو آپ کسی بھی اردو ایڈیٹر مثلاٰ
www.urdueditor.com
پر جاکر اردو میں ٹائپ کر کے یہاں چسپاں کر سکتے ہیں۔