افسانہ نگاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک ادبی نشست ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چو تھا افسانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔از اقبال حسن آزاد
افسانہ بعنوان: بے خواب
رات بھر بجلی غائب رہی تھی اور صبح سات بجے اسے اپنا سارا جسم ٹوٹتا محسوس ہوا تھا۔موسم برسات کی اُمس بھری گرمی نے اسے بے حال کر رکھا تھا۔اس نے ٹکرے ٹکرے ہوتے جسم کو بڑی مشکلوں سے یکجا کیا اور اُٹھ کر بیٹھ رہا۔بستر پر اُکڑوں بیٹھے بیٹھے اس نے یاد کرنے کی کوشش کی کہ گذشتہ شب اس نے کون سا خواب دیکھا تھا ۔مگر ذہن پر کافی زور دینے کے باوجود اسے کچھ یاد نہ آیا۔ایسا پچھلے کئی دنوں سے ہو رہا تھا ۔یعنی اس نے کئی دنوں سے کوئی خواب ہی نہیں دیکھا تھا۔مگر ان میں خوابوں کا کیا قصور ؟ نیند آئے تو خواب آئیں اور اب وہ سنجیدگی سے اس بات پر غور کر رہا تھا کہ نیند کی گولیاں لینی شروع کر دے کہ خوابوں کے بغیر زندگی بے معنی ہے ۔وہ تو بچپن ہی سے خوابوں کی دنیا میں رہتا آیا تھا ۔جن دنوں وہ اسکول میں پڑھا کرتا تھا اسے ایک پرانی تقویم ہاتھ لگ گئی تھی جس میں مختلف قسم کے خواب اور ان کی تعبیریں لکھی ہوئی تھیں مثلاً اگر کوئی اپنے آپ کو بلندی پر چڑھتا دیکھے تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس کی عزت و توقیر میں اضافہ ہونے والا ہے اور اگر اپنے آپ کو کنویں میں پائے تو یہ ذلت و خواری کی نشانی ہے۔اگر خواب میں آئینہ دکھائی دے یااپنے آپ کو پان کھاتا پائے تو کوئی معشوق پہلو میں آئے۔اگر شراب پئے تو دولت حاصل ہو ۔ہاتھی یا بھینس دیکھے تو مبتلائے مصیبت ہواور اگر پانی کا جہاز دیکھے تو حج کی سعادت نصیب ہو۔
بچپن کے خواب تو اسے یاد نہیں رہے مگر جوانی کے دنوں میں اسے بڑے خوش بدن خواب آتے تھے ۔پھر جب اس کی شادی ہوئی اور بچے پیدا ہوئے ان خوابوں کی نوعیت بھی بدل گئی ۔گو یہ خواب روکھے پھیکے تھے پھر بھی یہ بات قابل اطمینان تھی کہ اسے خواب آتے تھے ۔مگر خوابوں کا بالکل نہ آنا تو تشویش کی بات تھی۔
کھڑکی کھلی تھی مگر ہوا بند تھی۔اس کا جی چاہا کہ ٹھنڈے پانی کی چار پانچ بالٹیاں اپنے اوپر انڈیل لے ۔ مگرکئی دنوں سے نل نہیں کھلا تھا۔اس نے ہینڈ پمپ سے پانی نکالا اور کافی دیر تک نہاتارہا ۔تازہ دم ہو کر اس نے ڈبل روٹی اور مکھن کاناشتہ کیا تھااور پھر خود سے چائے بنا کر پی تھی کہ بچوں کے اسکول میں گرمی کی چھٹیاں تھیں اور ا س کی بیوی بچوں کو لے کر میکے گئی ہوئی تھی۔ناشتے سے فارغ ہو کر وہ اخبار لے کر بیٹھ رہا تھا ۔پڑھتے پڑھتے اسے اپنی انگلیوں میں خون کی چپچپاہٹ محسوس ہوئی اور جب یہ خون اس کی انگلیوں سے نکل کر کہنیوں تک بہنے لگا تو اس نے صفحہ پلٹ دیا۔دوسرے صفحہ پر شادی کا بازار کھلا تھا ۔الگ الگ ذات اور مذہب کے لڑکے لڑکیاں اپنے گلے میں تختیاں لٹکائے کھڑے تھے۔ان تختیوں پر ان کی عمر،جسمانی ساخت،تعلیمی لیاقت اور پوسٹ بکس نمبر یا کنٹیکٹ نمبردرج تھے۔اداریہ پڑھتے وقت کسی شے کے جلنے کی تیز بو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی ۔اداریے کے نیچے خطوط کا کالم تھا۔مکتوب نگار اپنے ہاتھوں میں بلّم،برچھیاں اور بھالے لئے غضب ناک تیوروں کے ساتھ ایک دوسرے پر حملہ آور تھے۔اس کے اگلے صفحے پر ایک نیم عریاں ماڈل کی تصویردیکھ کر اس کی آنکھوں میں ایک چمک سی لہرائی تھی ۔تھوڑی دیر تک وہ تصویر پر نظریں جمائے رہا تھا اور پھر بے دلی کے ساتھ اخبار پھینک کر اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔
یہ شہراس کے لئے نیا تھااور ابھی وہ اس کی گلی کوچوں سے اچھی طرح واقف نہیں ہو پایا تھا۔چند ماہ قبل اس کا ٹرانسفر ہوا تھا اوراپنے کلیگ رفیق حسین کی مدد سے وہ بڑی مشکلوں سے شہر کے آخری سرے پر بسی ہوئی نئی کالونی میں ایک فلیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکا تھا۔رفیق ہی نے اسے بتایا تھا کہ فلاں محلے کی فلاں گلی میں ایک ہوٹل ہے.....دلنواز ہوٹل۔وہاں کا Preparation بہت اچھا ہوتا ہے۔ہوٹل سے ذرا پہلے کتابوں کی ایک دکان ہوا کرتی تھی ۔وہ دکان اب بند ہو چکی ہے ۔مگراس کاسائن بورڈ اب بھی وہاں موجود ہے ۔کتابوں کی اس پرانی دکان کے بعدچار دکانیں چھوڑ کر وہ ہوٹل ہے ۔میں بھی جب کبھی اکیلا ہوتا ہوں تو وہیں جا کر کھاتا پیتاہوں۔ایسا کہا تھا رفیق نے ۔ادھر کئی دنوں سے وہ دن کھانا آفس کینٹین میں کھاتا آرہا تھا اور رات کا کھانا راستے میں پڑنے والے ایک مارواڑی ہوٹل میں جہاں گھی کی چپڑی روٹی اور مزیدار بھاجی کے ساتھ اسے زہر آلودجملوں کے گھونٹ بھی پینے پڑتے تھے۔وہ سر جھکائے لوگوں کی گفتگو سنتا رہتا۔کسی کو یہ شک بھی نہ ہوا تھا کہ وہ مسلمان ہے ۔مگر اب اس میں قوت برداشت نہ رہی تھی ۔گو کہ رفیق کا بتایا ہوا محلہ دور تھامگر وہاں کم از کم یہ جملے تو نہ سننے پڑیں گے۔
سنیچر کادن تھا۔آفس میں آدھے دن کی چھٹی تھی۔دو بجے کے قریب وہ آفس سے نکلا تو آسمان بادلوں سے ڈھکا تھا اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔راستے میں ایک سنیما ہال کے پاس بڑی بھیڑ تھی ۔چند نوجوان ہاتھوں میں احتجاجی پوسٹر لئے زور زور سے نعرے لگا رہے تھے۔سڑک کے کنارے پولس کی جیپ کھڑی تھی اور پولس والے ہاتھوں میں رائفل تھامے گویا بالکل تیار کھڑے تھے۔وہ بھیڑ سے بچتے بچاتے رفیق کی بتائی ہوئی گلی تک جا پہنچا تھا۔پوری گلی کیچڑ سے بھری تھی۔نالے کا بدبودار پانی Ovverflowکر رہا تھا۔گلی میں مختلف قسم کی دکانیں تھیں۔جوتے چپل کی دکانیں،ریڈی میڈ کپڑوں اور کچے گوشت کی دکانیں ۔لوگ خرید و فروخت میں مصروف تھے ۔بیچ بیچ میں ہوٹل ۔ہوٹلوں میں بڑی بھیڑ بھاڑ تھی۔وہ اپنے مطلوبہ ہوٹل کی تلاش میں گلی کے درمیان رکھی اینٹوں پر پیر جماتے ہوئے اُچک اُچک کر آگے بڑھتا جا رہا تھا کہ ایک بوسیدہ عمارت کے صدر دروازے پر ایک بہت پرانا ٹوٹا پھوٹا سائن بورڈدکھائی دیا جس پر مٹے مٹے حروف میں لکھا تھا:
فردوسیہ بک ڈپو۔قائم شدہ ۱۹۳۶ ء
علمی و ادبی کتابوں کے لئے تشریف لائیں۔یہاں مذہبی کتابیں بھی ملتی ہیں۔
نوٹ:یہاں منشی نول کشور پریس کی سبھی کتابیں دستیاب ہیں۔
وہ بورڈ پڑھنے میں منہمک تھا کہ اچانک بارش شروع ہو گئی ۔وہ بر آمدے پر چڑھ گیا ۔اسے محسوس ہوا کہ مکان کے بیرونی حصے مں کچھ رد و بدل کیا گیا ہے ۔غالباً پہلے دکان کی شکل رہی ہو گی ۔مگر اب اسے گھیر کر ایک کمرے کی شکل دے دی گئی تھی اور درمیان میں ایک دروازہ لگادیا گیا تھا۔دروازہ کھلا تھا مگر اندر کا منظر صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا کہ کمرے میں نیم تاریکی تھی۔اس نے آنکھیں جما کر دیکھنے کی کوشش کی تو اسے ہتھے والی کرسی پر ایک بہت بوڑھا شخص جس کے پتلے چہرے پر سفیدداڑھی بھری ہوئی تھی موٹے فریم کی عینک لگائے اخبار پر جھکا دکھائی دیا ۔پانی کا جھونکا جب اس کے قدموں تک آنے لگا تو وہ دروازے کے کچھ اورقریب ہو گیا ۔بوڑھے نے آہٹ پا کر نگاہیں اُٹھائیں اور اسے بارش میں بھیگتا پا کر بولا۔
’’اندر آجاؤ۔‘‘وہ اندر داخل ہوا تو تو بوڑھے نے اس کے سراپے کا بغور جائزہ لیتے ہوئے اسے چوکی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔چوکی پر جائے نماز ،تسبیح اور ٹوپی رکھی تھی۔اس نے چوکی پر بیٹھ کر کمرے کا جائزہ لیا ۔دیواروں پر چند فریم شدہ تصویریں تھیں۔ان تصویروں کے شیشے اتنے دھندلا چکے تھے او ان پر اس قدر گرد جم چکی تھی کہ ان کے خد و خال واضح طور پر دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ان تصویروں کے درمیان ایک چابی والی گھڑی ٹنگی تھی جو بند پڑی تھی۔گھڑی کی دونوں سوئیاں بارہ کے ہندسے پر ساکت کھڑی تھیں۔ پتہ نہیں یہ دن کے بارہ بجے تھے یا رات کے ۔کمرے میں کئی پرانی چوبی الماریاں تھیں ۔سب کے پٹ بند تھے مگر کسی میں تالا نہ تھا۔کمرے کی دوسری جانب ایک بڑی سی میز تھی جس پر ڈھیر ساری کتابیں ،رسائل اور اخبارات بے ترتیبی سے پڑے تھے ۔کمرے کا فرش جا بجا ٹوٹا ہوا تھا۔
بوڑھا پھر اخبار میں گم ہو چکا تھاور اسے یکسر فراموش کر بیٹھا تھا۔بیکار بیٹھے بیٹھے اسے اکتاہٹ محسوس ہونے لگی تو اس نے بے چینی کے ساتھ پہلو بدلا ۔بارش تھی کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔اچانک بوڑھے نے اخبار پر سے نظریں اُٹھائیں اور کمرے میں اس کی لرزیدہ آواز گونجی۔
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
پھر بوڑھا اس سے مخاطب ہوا تھا۔
’’اخبار پڑھتے ہو؟‘‘
’’جی،جی ہاں۔‘‘
’’کیوں پڑھتے ہو؟ کیا اخبار پڑھنے سے تمہیں تکلیف نہیں ہوتی؟‘‘وہ بوڑھے کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے خود ہی پوچھ بیٹھا۔
’’کیا یہاں کتابیں فروخت ہوتی تھیں؟‘‘بوڑھا اس کا سوال سن کر بھڑک اُٹھا۔
’’نہیں۔یہاں کتابیں نہیں خواب فروخت ہوتے تھے۔‘‘
’’مگر میں نے توسنا ہے کہ کتابیں.....‘‘
’’نہیں،وہ کتابیں نہیں تھیں،خواب تھے۔مگر تمہیں معلوم ہے کہ سارے خواب جھوٹے ہوتے ہیں اور جانتے ہو جب خواب ٹوٹنے لگتے ہیں یا ان کی تعبیر اُلٹی پڑنے لگتی ہے تو کس قدر تکلیف ہوتی ہے۔ان الماریوں کو دیکھ رہے ہو۔ان میں بہت سارے خواب بند ہیں ۔گذرتے وقت نے ان سب کو بے وقعت کر دیاہے۔بے وقعت اور بے دام ۔ردّی کے بھاؤ بکنے والے ۔اب میں ان الماریوں کو بند ہی رکھتا ہوں۔ ‘‘
بوڑھے کی باتیں سن کر اسے اس کی دماغی صحت پر شبہہ ہونے لگا مگر وہ دل پر جبر کئے بیٹھا رہا ۔آخر اسے ہوٹل تک تو جانا ہی تھا۔
مگر بارش تھی کہ بند ہونے کانا م ہی نہیں لے رہی تھی اورپوری گلی ایک بڑے نالے کی شکل اختیار کر گئی تھی ۔اگر باہر تیز بارش نہ ہورہی ہوتی توشایدوہ کب کایہاں سے نکل گیا ہوتا۔مگر بارش نے اس کے قدم روک رکھے تھے اور وہ بوڑھے کی بے تکی باتوں کو سننے کے لئے اپنے آپ کو مجبورپا رہاتھا ۔اس نے رفیق کو ایک گندی سی گالی دی جس کے کہنے پر وہ یہاں تک آ گیاتھا اور اس مخبو ط الحواس بوڑھے کے چنگل میں پھنس گیا تھا۔اسے تواسی وقت لوٹ جانا چاہئے تھاجس وقت وہ گلی کے مہانے پر پہنچا تھا۔بوڑھا مسلسل بولے جارہاتھا۔
’’مجھے یاد ہے! اچھی طرح یادہے۔جس دن لاہور،دلی یا لکھنؤ سے خوابوں کی بلٹی آتی تھی ،میری دکان پر نوٹس لگ جاتی تھی کہ خوابوں کی بلٹی آ گئی ہے اور خوابوں کے شوقین دوڑ پڑتے تھے۔‘‘
بارش بدستور جاری تھی ۔اس نے سوچا بور ہونے کے بجائے بوڑھے کی باتوں میں دلچسپی لی جائے تو شاید وقت آسانی سے کٹ جائے ۔اس نے بوڑھے سے پوچھا۔
’’یہاں کس قسم کے خواب فروخت ہوتے تھے؟‘‘
بوڑھے نے جواب دیا۔
’’یہاں ہر قسم کے خواب فروخت ہوتے تھے......انقلابی، نیم انقلابی،رومانی،نیم رومانی وغیرہ وغیرہ۔کچھ لوگ صرف انقلابی خواب خریدتے تھے ۔چند ایک رومانی خواب کے شوقین تھے ۔کچھ ایسے بھی تھے جو بیک وقت انقلابی اور رومانی دونوں قسم کے خواب خریدتے تھے ۔‘‘
’’کیا ان خوابوں کی تعبیر بھی ملتی تھی؟‘‘
’’کبھی ملتی تھی اور کبھی نہیں۔ مگر اتنا ضرور ہے کہ لوگوں کی نیت صاف تھی ۔سودا سچا اور کھرا تھا اور پھر ان کی قیمتیں بھی مناسب تھیں۔‘‘
’’کیا خوابوں کی تجارت اب نہیں ہوتی؟‘‘
’’ہوتی ہے ۔مگر یہ دھندا اب وہ لوگ کر رہے ہیں جن کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا اور جیتے جی زیادہ سے زیادہ دولت جمع کر لینا ہے ۔انہوں نے Multinationalکمپنیوں کو اس کا ٹھیکہ دے رکھا ہے ۔یہ خواب بڑی اونچی قیمتوں پر فروخت ہوتے ہیں۔ٹی وی اور انٹرنیٹ پر ان خوابوں کے اشتہار دکھائے جاتے ہیں اور لوگ اپنی خون پسینے کی کمائی کا ایک بڑا حصہ ان خوابوں کو خریدنے میں صرف کر دیتے ہیں ۔مگر ان میں ان بیوپاریوں کا کوئی قصور نہیں ۔بازار میں وہ وہی مال دیتے ہیں جس کی Demandہوتی ہے ۔‘‘
وہ چپ چاپ بوڑھے کی باتیں سنتا رہا۔
بارش بدستور جاری تھی۔
پھر بوڑھا رازدارانہ انداز میں کہنے لگا۔
’’سنا ہے کہ اپنے علاقے کے ایم۔ایل۔اے اور ایم۔پی جو پہلے جھونپڑی نما مکانوں میں رہتے تھے ،اب کڑوڑ پتی ہو گئے ہیں۔‘‘ وہ بوڑھے کی باتوں کو دھیان سے سن رہا تھا۔پھر وہ پوچھ بیٹھا۔
’’ کیا اب آپ خواب فروخت نہیں کرتے؟‘‘
’’نہیں، اب میں ان خوابوں کی تعبیریں جمع کر رہا ہوں۔تعبیریں جو تاریخوں کی شکل میں ہیں۔۱۵؍اگست،۶؍ دسمبر،۲۸؍ فروری۔اور یاد رکھو ،ایسی بہت سی تعبیریں مستقبل کے پردے میں پوشیدہ ہیں کہ تاریخ کو توڑ مڑوڑ کر ایک مخصوص رنگ میں رنگنے کا عمل مسلسل جای ہے۔‘‘
بارش تھم چکی تھی ۔وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔اسے اُٹھتا دیکھ کر بوڑھے نے انگشت شہادت اس کی آنکھوں کے سامنے کرتے ہوئے کہا۔
’’جاتے جاتے ایک بات اور سنتے جاؤ۔ہمارا المیہ یہی ہے کہ ہم خوابوں سرابوں کے پیچھے بھاگتے جاتے ہیں بھاگتے جاتے ہیں اور اس بھاگ دوڑ میں حقیقتوں کا دامن ہمارے ہاتھوں سے چھوٹا جاتا ہے۔سچائی سے آنکھیں ملاؤ،سچائی سے۔‘‘
اور اس پورے عرصے میں اس نے پہلی بار بوڑھے کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا۔اسے ان بوڑھی آنکھوں میں خوابوں کی پرچھائیاں دکھائی دے رہی تھیں۔
افسانہ بعنوان: بے خواب
رات بھر بجلی غائب رہی تھی اور صبح سات بجے اسے اپنا سارا جسم ٹوٹتا محسوس ہوا تھا۔موسم برسات کی اُمس بھری گرمی نے اسے بے حال کر رکھا تھا۔اس نے ٹکرے ٹکرے ہوتے جسم کو بڑی مشکلوں سے یکجا کیا اور اُٹھ کر بیٹھ رہا۔بستر پر اُکڑوں بیٹھے بیٹھے اس نے یاد کرنے کی کوشش کی کہ گذشتہ شب اس نے کون سا خواب دیکھا تھا ۔مگر ذہن پر کافی زور دینے کے باوجود اسے کچھ یاد نہ آیا۔ایسا پچھلے کئی دنوں سے ہو رہا تھا ۔یعنی اس نے کئی دنوں سے کوئی خواب ہی نہیں دیکھا تھا۔مگر ان میں خوابوں کا کیا قصور ؟ نیند آئے تو خواب آئیں اور اب وہ سنجیدگی سے اس بات پر غور کر رہا تھا کہ نیند کی گولیاں لینی شروع کر دے کہ خوابوں کے بغیر زندگی بے معنی ہے ۔وہ تو بچپن ہی سے خوابوں کی دنیا میں رہتا آیا تھا ۔جن دنوں وہ اسکول میں پڑھا کرتا تھا اسے ایک پرانی تقویم ہاتھ لگ گئی تھی جس میں مختلف قسم کے خواب اور ان کی تعبیریں لکھی ہوئی تھیں مثلاً اگر کوئی اپنے آپ کو بلندی پر چڑھتا دیکھے تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس کی عزت و توقیر میں اضافہ ہونے والا ہے اور اگر اپنے آپ کو کنویں میں پائے تو یہ ذلت و خواری کی نشانی ہے۔اگر خواب میں آئینہ دکھائی دے یااپنے آپ کو پان کھاتا پائے تو کوئی معشوق پہلو میں آئے۔اگر شراب پئے تو دولت حاصل ہو ۔ہاتھی یا بھینس دیکھے تو مبتلائے مصیبت ہواور اگر پانی کا جہاز دیکھے تو حج کی سعادت نصیب ہو۔
بچپن کے خواب تو اسے یاد نہیں رہے مگر جوانی کے دنوں میں اسے بڑے خوش بدن خواب آتے تھے ۔پھر جب اس کی شادی ہوئی اور بچے پیدا ہوئے ان خوابوں کی نوعیت بھی بدل گئی ۔گو یہ خواب روکھے پھیکے تھے پھر بھی یہ بات قابل اطمینان تھی کہ اسے خواب آتے تھے ۔مگر خوابوں کا بالکل نہ آنا تو تشویش کی بات تھی۔
کھڑکی کھلی تھی مگر ہوا بند تھی۔اس کا جی چاہا کہ ٹھنڈے پانی کی چار پانچ بالٹیاں اپنے اوپر انڈیل لے ۔ مگرکئی دنوں سے نل نہیں کھلا تھا۔اس نے ہینڈ پمپ سے پانی نکالا اور کافی دیر تک نہاتارہا ۔تازہ دم ہو کر اس نے ڈبل روٹی اور مکھن کاناشتہ کیا تھااور پھر خود سے چائے بنا کر پی تھی کہ بچوں کے اسکول میں گرمی کی چھٹیاں تھیں اور ا س کی بیوی بچوں کو لے کر میکے گئی ہوئی تھی۔ناشتے سے فارغ ہو کر وہ اخبار لے کر بیٹھ رہا تھا ۔پڑھتے پڑھتے اسے اپنی انگلیوں میں خون کی چپچپاہٹ محسوس ہوئی اور جب یہ خون اس کی انگلیوں سے نکل کر کہنیوں تک بہنے لگا تو اس نے صفحہ پلٹ دیا۔دوسرے صفحہ پر شادی کا بازار کھلا تھا ۔الگ الگ ذات اور مذہب کے لڑکے لڑکیاں اپنے گلے میں تختیاں لٹکائے کھڑے تھے۔ان تختیوں پر ان کی عمر،جسمانی ساخت،تعلیمی لیاقت اور پوسٹ بکس نمبر یا کنٹیکٹ نمبردرج تھے۔اداریہ پڑھتے وقت کسی شے کے جلنے کی تیز بو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی ۔اداریے کے نیچے خطوط کا کالم تھا۔مکتوب نگار اپنے ہاتھوں میں بلّم،برچھیاں اور بھالے لئے غضب ناک تیوروں کے ساتھ ایک دوسرے پر حملہ آور تھے۔اس کے اگلے صفحے پر ایک نیم عریاں ماڈل کی تصویردیکھ کر اس کی آنکھوں میں ایک چمک سی لہرائی تھی ۔تھوڑی دیر تک وہ تصویر پر نظریں جمائے رہا تھا اور پھر بے دلی کے ساتھ اخبار پھینک کر اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔
یہ شہراس کے لئے نیا تھااور ابھی وہ اس کی گلی کوچوں سے اچھی طرح واقف نہیں ہو پایا تھا۔چند ماہ قبل اس کا ٹرانسفر ہوا تھا اوراپنے کلیگ رفیق حسین کی مدد سے وہ بڑی مشکلوں سے شہر کے آخری سرے پر بسی ہوئی نئی کالونی میں ایک فلیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکا تھا۔رفیق ہی نے اسے بتایا تھا کہ فلاں محلے کی فلاں گلی میں ایک ہوٹل ہے.....دلنواز ہوٹل۔وہاں کا Preparation بہت اچھا ہوتا ہے۔ہوٹل سے ذرا پہلے کتابوں کی ایک دکان ہوا کرتی تھی ۔وہ دکان اب بند ہو چکی ہے ۔مگراس کاسائن بورڈ اب بھی وہاں موجود ہے ۔کتابوں کی اس پرانی دکان کے بعدچار دکانیں چھوڑ کر وہ ہوٹل ہے ۔میں بھی جب کبھی اکیلا ہوتا ہوں تو وہیں جا کر کھاتا پیتاہوں۔ایسا کہا تھا رفیق نے ۔ادھر کئی دنوں سے وہ دن کھانا آفس کینٹین میں کھاتا آرہا تھا اور رات کا کھانا راستے میں پڑنے والے ایک مارواڑی ہوٹل میں جہاں گھی کی چپڑی روٹی اور مزیدار بھاجی کے ساتھ اسے زہر آلودجملوں کے گھونٹ بھی پینے پڑتے تھے۔وہ سر جھکائے لوگوں کی گفتگو سنتا رہتا۔کسی کو یہ شک بھی نہ ہوا تھا کہ وہ مسلمان ہے ۔مگر اب اس میں قوت برداشت نہ رہی تھی ۔گو کہ رفیق کا بتایا ہوا محلہ دور تھامگر وہاں کم از کم یہ جملے تو نہ سننے پڑیں گے۔
سنیچر کادن تھا۔آفس میں آدھے دن کی چھٹی تھی۔دو بجے کے قریب وہ آفس سے نکلا تو آسمان بادلوں سے ڈھکا تھا اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔راستے میں ایک سنیما ہال کے پاس بڑی بھیڑ تھی ۔چند نوجوان ہاتھوں میں احتجاجی پوسٹر لئے زور زور سے نعرے لگا رہے تھے۔سڑک کے کنارے پولس کی جیپ کھڑی تھی اور پولس والے ہاتھوں میں رائفل تھامے گویا بالکل تیار کھڑے تھے۔وہ بھیڑ سے بچتے بچاتے رفیق کی بتائی ہوئی گلی تک جا پہنچا تھا۔پوری گلی کیچڑ سے بھری تھی۔نالے کا بدبودار پانی Ovverflowکر رہا تھا۔گلی میں مختلف قسم کی دکانیں تھیں۔جوتے چپل کی دکانیں،ریڈی میڈ کپڑوں اور کچے گوشت کی دکانیں ۔لوگ خرید و فروخت میں مصروف تھے ۔بیچ بیچ میں ہوٹل ۔ہوٹلوں میں بڑی بھیڑ بھاڑ تھی۔وہ اپنے مطلوبہ ہوٹل کی تلاش میں گلی کے درمیان رکھی اینٹوں پر پیر جماتے ہوئے اُچک اُچک کر آگے بڑھتا جا رہا تھا کہ ایک بوسیدہ عمارت کے صدر دروازے پر ایک بہت پرانا ٹوٹا پھوٹا سائن بورڈدکھائی دیا جس پر مٹے مٹے حروف میں لکھا تھا:
فردوسیہ بک ڈپو۔قائم شدہ ۱۹۳۶ ء
علمی و ادبی کتابوں کے لئے تشریف لائیں۔یہاں مذہبی کتابیں بھی ملتی ہیں۔
نوٹ:یہاں منشی نول کشور پریس کی سبھی کتابیں دستیاب ہیں۔
وہ بورڈ پڑھنے میں منہمک تھا کہ اچانک بارش شروع ہو گئی ۔وہ بر آمدے پر چڑھ گیا ۔اسے محسوس ہوا کہ مکان کے بیرونی حصے مں کچھ رد و بدل کیا گیا ہے ۔غالباً پہلے دکان کی شکل رہی ہو گی ۔مگر اب اسے گھیر کر ایک کمرے کی شکل دے دی گئی تھی اور درمیان میں ایک دروازہ لگادیا گیا تھا۔دروازہ کھلا تھا مگر اندر کا منظر صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا کہ کمرے میں نیم تاریکی تھی۔اس نے آنکھیں جما کر دیکھنے کی کوشش کی تو اسے ہتھے والی کرسی پر ایک بہت بوڑھا شخص جس کے پتلے چہرے پر سفیدداڑھی بھری ہوئی تھی موٹے فریم کی عینک لگائے اخبار پر جھکا دکھائی دیا ۔پانی کا جھونکا جب اس کے قدموں تک آنے لگا تو وہ دروازے کے کچھ اورقریب ہو گیا ۔بوڑھے نے آہٹ پا کر نگاہیں اُٹھائیں اور اسے بارش میں بھیگتا پا کر بولا۔
’’اندر آجاؤ۔‘‘وہ اندر داخل ہوا تو تو بوڑھے نے اس کے سراپے کا بغور جائزہ لیتے ہوئے اسے چوکی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔چوکی پر جائے نماز ،تسبیح اور ٹوپی رکھی تھی۔اس نے چوکی پر بیٹھ کر کمرے کا جائزہ لیا ۔دیواروں پر چند فریم شدہ تصویریں تھیں۔ان تصویروں کے شیشے اتنے دھندلا چکے تھے او ان پر اس قدر گرد جم چکی تھی کہ ان کے خد و خال واضح طور پر دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ان تصویروں کے درمیان ایک چابی والی گھڑی ٹنگی تھی جو بند پڑی تھی۔گھڑی کی دونوں سوئیاں بارہ کے ہندسے پر ساکت کھڑی تھیں۔ پتہ نہیں یہ دن کے بارہ بجے تھے یا رات کے ۔کمرے میں کئی پرانی چوبی الماریاں تھیں ۔سب کے پٹ بند تھے مگر کسی میں تالا نہ تھا۔کمرے کی دوسری جانب ایک بڑی سی میز تھی جس پر ڈھیر ساری کتابیں ،رسائل اور اخبارات بے ترتیبی سے پڑے تھے ۔کمرے کا فرش جا بجا ٹوٹا ہوا تھا۔
بوڑھا پھر اخبار میں گم ہو چکا تھاور اسے یکسر فراموش کر بیٹھا تھا۔بیکار بیٹھے بیٹھے اسے اکتاہٹ محسوس ہونے لگی تو اس نے بے چینی کے ساتھ پہلو بدلا ۔بارش تھی کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔اچانک بوڑھے نے اخبار پر سے نظریں اُٹھائیں اور کمرے میں اس کی لرزیدہ آواز گونجی۔
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
پھر بوڑھا اس سے مخاطب ہوا تھا۔
’’اخبار پڑھتے ہو؟‘‘
’’جی،جی ہاں۔‘‘
’’کیوں پڑھتے ہو؟ کیا اخبار پڑھنے سے تمہیں تکلیف نہیں ہوتی؟‘‘وہ بوڑھے کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے خود ہی پوچھ بیٹھا۔
’’کیا یہاں کتابیں فروخت ہوتی تھیں؟‘‘بوڑھا اس کا سوال سن کر بھڑک اُٹھا۔
’’نہیں۔یہاں کتابیں نہیں خواب فروخت ہوتے تھے۔‘‘
’’مگر میں نے توسنا ہے کہ کتابیں.....‘‘
’’نہیں،وہ کتابیں نہیں تھیں،خواب تھے۔مگر تمہیں معلوم ہے کہ سارے خواب جھوٹے ہوتے ہیں اور جانتے ہو جب خواب ٹوٹنے لگتے ہیں یا ان کی تعبیر اُلٹی پڑنے لگتی ہے تو کس قدر تکلیف ہوتی ہے۔ان الماریوں کو دیکھ رہے ہو۔ان میں بہت سارے خواب بند ہیں ۔گذرتے وقت نے ان سب کو بے وقعت کر دیاہے۔بے وقعت اور بے دام ۔ردّی کے بھاؤ بکنے والے ۔اب میں ان الماریوں کو بند ہی رکھتا ہوں۔ ‘‘
بوڑھے کی باتیں سن کر اسے اس کی دماغی صحت پر شبہہ ہونے لگا مگر وہ دل پر جبر کئے بیٹھا رہا ۔آخر اسے ہوٹل تک تو جانا ہی تھا۔
مگر بارش تھی کہ بند ہونے کانا م ہی نہیں لے رہی تھی اورپوری گلی ایک بڑے نالے کی شکل اختیار کر گئی تھی ۔اگر باہر تیز بارش نہ ہورہی ہوتی توشایدوہ کب کایہاں سے نکل گیا ہوتا۔مگر بارش نے اس کے قدم روک رکھے تھے اور وہ بوڑھے کی بے تکی باتوں کو سننے کے لئے اپنے آپ کو مجبورپا رہاتھا ۔اس نے رفیق کو ایک گندی سی گالی دی جس کے کہنے پر وہ یہاں تک آ گیاتھا اور اس مخبو ط الحواس بوڑھے کے چنگل میں پھنس گیا تھا۔اسے تواسی وقت لوٹ جانا چاہئے تھاجس وقت وہ گلی کے مہانے پر پہنچا تھا۔بوڑھا مسلسل بولے جارہاتھا۔
’’مجھے یاد ہے! اچھی طرح یادہے۔جس دن لاہور،دلی یا لکھنؤ سے خوابوں کی بلٹی آتی تھی ،میری دکان پر نوٹس لگ جاتی تھی کہ خوابوں کی بلٹی آ گئی ہے اور خوابوں کے شوقین دوڑ پڑتے تھے۔‘‘
بارش بدستور جاری تھی ۔اس نے سوچا بور ہونے کے بجائے بوڑھے کی باتوں میں دلچسپی لی جائے تو شاید وقت آسانی سے کٹ جائے ۔اس نے بوڑھے سے پوچھا۔
’’یہاں کس قسم کے خواب فروخت ہوتے تھے؟‘‘
بوڑھے نے جواب دیا۔
’’یہاں ہر قسم کے خواب فروخت ہوتے تھے......انقلابی، نیم انقلابی،رومانی،نیم رومانی وغیرہ وغیرہ۔کچھ لوگ صرف انقلابی خواب خریدتے تھے ۔چند ایک رومانی خواب کے شوقین تھے ۔کچھ ایسے بھی تھے جو بیک وقت انقلابی اور رومانی دونوں قسم کے خواب خریدتے تھے ۔‘‘
’’کیا ان خوابوں کی تعبیر بھی ملتی تھی؟‘‘
’’کبھی ملتی تھی اور کبھی نہیں۔ مگر اتنا ضرور ہے کہ لوگوں کی نیت صاف تھی ۔سودا سچا اور کھرا تھا اور پھر ان کی قیمتیں بھی مناسب تھیں۔‘‘
’’کیا خوابوں کی تجارت اب نہیں ہوتی؟‘‘
’’ہوتی ہے ۔مگر یہ دھندا اب وہ لوگ کر رہے ہیں جن کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا اور جیتے جی زیادہ سے زیادہ دولت جمع کر لینا ہے ۔انہوں نے Multinationalکمپنیوں کو اس کا ٹھیکہ دے رکھا ہے ۔یہ خواب بڑی اونچی قیمتوں پر فروخت ہوتے ہیں۔ٹی وی اور انٹرنیٹ پر ان خوابوں کے اشتہار دکھائے جاتے ہیں اور لوگ اپنی خون پسینے کی کمائی کا ایک بڑا حصہ ان خوابوں کو خریدنے میں صرف کر دیتے ہیں ۔مگر ان میں ان بیوپاریوں کا کوئی قصور نہیں ۔بازار میں وہ وہی مال دیتے ہیں جس کی Demandہوتی ہے ۔‘‘
وہ چپ چاپ بوڑھے کی باتیں سنتا رہا۔
بارش بدستور جاری تھی۔
پھر بوڑھا رازدارانہ انداز میں کہنے لگا۔
’’سنا ہے کہ اپنے علاقے کے ایم۔ایل۔اے اور ایم۔پی جو پہلے جھونپڑی نما مکانوں میں رہتے تھے ،اب کڑوڑ پتی ہو گئے ہیں۔‘‘ وہ بوڑھے کی باتوں کو دھیان سے سن رہا تھا۔پھر وہ پوچھ بیٹھا۔
’’ کیا اب آپ خواب فروخت نہیں کرتے؟‘‘
’’نہیں، اب میں ان خوابوں کی تعبیریں جمع کر رہا ہوں۔تعبیریں جو تاریخوں کی شکل میں ہیں۔۱۵؍اگست،۶؍ دسمبر،۲۸؍ فروری۔اور یاد رکھو ،ایسی بہت سی تعبیریں مستقبل کے پردے میں پوشیدہ ہیں کہ تاریخ کو توڑ مڑوڑ کر ایک مخصوص رنگ میں رنگنے کا عمل مسلسل جای ہے۔‘‘
بارش تھم چکی تھی ۔وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔اسے اُٹھتا دیکھ کر بوڑھے نے انگشت شہادت اس کی آنکھوں کے سامنے کرتے ہوئے کہا۔
’’جاتے جاتے ایک بات اور سنتے جاؤ۔ہمارا المیہ یہی ہے کہ ہم خوابوں سرابوں کے پیچھے بھاگتے جاتے ہیں بھاگتے جاتے ہیں اور اس بھاگ دوڑ میں حقیقتوں کا دامن ہمارے ہاتھوں سے چھوٹا جاتا ہے۔سچائی سے آنکھیں ملاؤ،سچائی سے۔‘‘
اور اس پورے عرصے میں اس نے پہلی بار بوڑھے کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا۔اسے ان بوڑھی آنکھوں میں خوابوں کی پرچھائیاں دکھائی دے رہی تھیں۔
No comments:
Post a Comment
از راہ کرم کوشش کیجئے کہ اردو زبان میں اپنی رائے کا اظہار کریں اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو کی سہولت موجود نہیں بھی ہے تو آپ کسی بھی اردو ایڈیٹر مثلاٰ
www.urdueditor.com
پر جاکر اردو میں ٹائپ کر کے یہاں چسپاں کر سکتے ہیں۔