June 12, 2013

ڈکا




افسانہ نگاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک ادبی نشست 

سولہواں افسانہ ------------ ڈکا 

از ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الطاف فیروز
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پھر یوں ہوا کہ آسمان کے سارے سوتے یکدم پھوٹ پڑے، پانی ندی نالوں میں چڑھنے لگا صحرا سمندر بن گے اور یوں اس سال اسقدر مینہ برسا کہ گھروں میں پڑی ساری ماچسوں نے نمی پکڑ لی، جونہی کوئی آگ جلا نے کے لیے مسا لے پر تیلی کا سرا رگڑتا، تیلی کھانسی کی کوشش کرنے والے عمر رسیدہ ناتواں شخض کی طرح بھوس کی آواز کے ساتھ سلگنے سے پہلے چپُ سادھ لیتی ،بارش کے زور سے پکے کوٹھے اور ماڑیاں تک ٹپکنے لگی تھیں تو کچے مکانوں اور سروٹ سے بنے چھو نپڑوں کا کیا بنتا، وہ جگہ جگہ سے ٹپکتے چھت تلے بیٹھا کُچھ سوچتے ہوئے بھی کُچھ نہیں سوچ رہا تھا، وہ دو لمحوں میں بٹا ہوا آدمی ہمیشہ کی طرح آج بھی فیصلے کے اگلے اور پچھلے لمحے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے ہوئے ہچکچا رہا تھا، کمرے کے دوسرے کونے سے ہلکی ہلکی سسکیوں کی آواز سے محسوس ہوتا تھا کہ رونے والا آواز کو دبانے کی حتّی الوسع کوشش کر رہا ہے،لالٹین کی ملگجی روشنی کے زیرِاثر کمرہ موت کی طرح سرد،بوجھل اور کربناک احساس سے بھر گیا تھا، سسکیوں کی آواز کے ذرا بلند ہوتے ہی اُس نے کسی ماہر سوار کی طرح فیصلے کے اگلے لمحے پر ارادے کی زین کَس لی ، اگرچہ لمحے نے پچھلے سمّوں پر سیدھا کھڑے ہو کر بے شمار وسوسے ہنہنائے مگر وہ کسی جونک کی طر ح لمحے سے چمٹا رہا۔سسکیوں کی آواز ذرا بڑھی اور ہچکیوں کی شکل اختیار کرتی چلی گئی،تب یکدم وہ چارپائی سے اُترا اور زمین پر قدم رکھتے ہی یہ محسوس کر کے چونک اُٹھا کے کمرے میں ٹخنوں ٹخنوں پانی کھڑا تھا۔
رجّو ، او، ۔۔ رجّو ۔۔۔چل بس کر اور دیکھ نالی میں کہیں ڈکا لگا ہے وہ نکال دے کہ پانی اندر سے نکلے، اُس نے ، کمرے کے نیم تاریک کونے کی طرف مُنہ کر کے کہااور سوچنے لگا کہ نجانے کیوں اندر کا پانی ساری زندگی باہر کے ڈکّوں کی وجہ سے ہی رُکا رہتا ہے،باہر ڈکے نہ ہوں تو شاید اندر ایک بوند نہ ٹھہرے،سسکیوں کی آوازیوں گم ہو گئی جیسے کسی نے ٹیپ کا بٹن آف کر دیا ہو،نیم تاریکی سے ایک ہیولا اُٹھا اور روشنی کے نزدیک پہنچ کر ایک جواں سالہ عورت کا روپ دھار گیا،سوکھے مُنہ کی سسکیوں نے آنکھ کا کاجل تک نہ بھگویا تھا، عورت نے بارش سے بچنے کے لیے چادر کا پلّو پھیرکر سر پر لیا ،چوڑیاں کھنکیں اور وہ ایک چھپاکے سے باہر نکل گئی۔
وہ قدم بڑھا کر چارپائی کے سرہانے جا کھڑا ہوا،چارپائی پر ایک عمر رسیدہ شخص کی میّت پڑی تھی، اُس نے مرنے والے کے چہرے پر ایک نظر ڈالی اور ہاتھ بڑھا کرچادر کا سرا میت کے مُنہ پر ڈال دیا، " چھیمے نالی تو صاف ہے کہیں ڈکا نہیں لگا ہوا ،گلی والی نالی میں کہیں لگا ہو گا،ساری گلی میں گوڈے،گوڈے پانی کھڑا ہے" رضیہ صحن ہی سے اُونچی آواز میں بولتی ، گیلی چادر کو جھاڑتی کمرے میں داخل ہوئی اورسلیم کو چارپائی کے سرھانے کھڑا دیکھ کر چپ ہوگئی،پھر چند لمحے چُپ چاپ کھڑا رہنے کے بعد بولی" چھیمے جاکرمامےِ جیرے کو اَبّےِ کی فوتگی کی خبر دے، پر دیکھ پہلے ساتھ والی ماسی جینبِ کو میرے پاس بٹھاتے جانا مُجھے اکیلے میں ڈر آتا ہے"۔
"او ، او۔۔۔عقل کی" دُسمن" چپ کر جا کیوں"عجّت" کے درپے ہوئی ہے، پہلے یہ تو سوچ کے ابّا "کھپّن دفن "کا خرچہ کہاں سے آوئے گا"، اُس نے بیوی کی بات سُن کر سوچ سے حقیقت کی دنیا میں یوں قدم رکھا جیسے کوئی بچّہ نا چا ہتے ہوئے،ڈرتے ڈرتے کڑوی دوائی نگلنے کی کوشش کرتا ہے،
" لے کوئی نئی میت ہوئی ہے کیا ؟ تُجھے پتہ تو ہے " کھپّن دفن" کا " انتجام" ہمیشہ ہی کمیٹی والے خود کریں ہیں" رضیہ نے سادگی سے کہا
وہ تو ٹھیک ہے پر ابّا کی بڑی " کھاہس " تھی کہ اُسے کمیٹی کا دیا ہو "کھپّن "نہ پڑے جبھی تو ہر وقت "کھیسے " میں "ہزار کھنڈ" رکھتا تھا بیچارہ، وہ تو آخیرلی بار اُسکی دوا آگئی ورنہ " کھپّن " تو ہر دم ساتھ لیے گھمے تھامرحوم" 
"بات تو تیری ٹھیک ہے مگر ا ب تووہی ہوناہے جو بستی کے دُوجے لوگوں کے ساتھ ہوتا آیاہے"
"نہیں رجو تُو سمجھتی کیوں نہیں ابّاآخیر سرکاری "ملا جم " تھا،ساری" جندگی "کماتا رہا اور پھر اُسے " پیِلسن" بھی ملتی تھی ،اگر تو وہ بھی بستی کے دوجے مردوں کی طرح "ویلا "ہوتا تو بات "دوجی" تھی مگر اب جو " کھپّن بھی کمیٹی والوں نے ڈالا تو لوگ کیا کہیں گے"۔
"اچھا تو پھر تُو ہی بتا کیا کریں، اب تو ہمیں اُدھاربھی کوئی نہیں دیتا "رجو نے آخری ممکنہ حل کو بھی ردّ کرتے ہوئے کہا۔
وہ دونوں میت کے سرہانے ٹخنوں،ٹخنوں پانی میں کھڑے اس مسلے کا حل سوچنے میں یوں مگن تھے کہ اُنھیں قریب پڑی میت کا احساس تک نہ تھا ،یوں جیسے باپ کی موت سے زیادہ دُکھ اور فکر اُنھیں کفن میسر نہ ہو سکنے کی ہے،اور باپ کی میت پر رویا جا سکتا ہے مگر کفن کا مسلہ حل کرنے کے بعد۔
"اس مسلے کا ایک ہی حل ہے اور وہ میں سوچ لیا ہے ،بس تُو چپ چاپ چارپائی کے پاس بیٹھی رہ " کھپّن" کا " انتجام " میں کر لوں گا"سلیم نے یوں اطمینان سے جواب دیا جیسے نہ صرف یہ کے کفن آچکا ہو بلکہ تیار کیا جا رہا ہو۔
"پر یہ تو بتا کیسے؟"رجّوحیرانگی سے بولی
"دیکھ صبحِ " دوجے "مہینے کی " دسویں تریخ "ہے اور ابّاکو" پیِلسن " ملنی ہے ہم صبحِ تک چپ چاپ بیٹھے رہتے ہیں اور کسی کو ابّا کی فوتگی کی خبر نہیں کرتے،میں صبح سویرے ابّا کی " پیِلسن " کی کاپی اور ڈاکٹر کا پرانا "سرٹی پھٹیک "بھی ساتھ لیتا جاوں گا "کیسیر باؤ " ،اباّ کا دوست ہے وہ جانے ہے ابا بیمار اے،بس" کھپّن " کا مسلہ حل سمجھو"سلیم نے دبے دبے جوش کے ساتھ رضیہ کو ساری بات سمجھائی اور رضیہ جس کے دماغ میں لفظ یوں اکھٹے گھسنے کی کوشش کر رہے تھے جیسے چھٹی ہونے پر کمرے کے واحد دروازے سے بچے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، خاموش بیٹھی حیرانگی کے عالم میں خلاء کو گھور رہی تھی۔اگرچہ وہ اُس کی ساری بات سمجھ تو نہ پائی تھی مگر اُسکی ذہانت کی دل سے قائل ہو گئی تھی، پھر وہ دیر تک صبح کے انتظار میں بیٹھے رہے اور اندر کا پانی باہر کے ڈکے کی وجہ سے رُکا رہا، چلو اچھا ہوا اب صبح تک آرام سے بیٹھ تو سکوں گی ورنہ چھیمے کی وجہ سے یونہی جھوٹی سسکیاں بھرنی پڑ رہی تھیں،رضیہ نے سوچااور دیوار کے ساتھ لگ گئی۔
زور زور سے چھنچھوڑے جانے پر وہ یکدم اُٹھ بیٹھی، "رجّو۔۔ او ۔۔رجّو۔۔ اُٹھ اَبّےِ کی " پیِلسن "کی کاپی نکال"آنکھ کھلتے ہی چھیمے کی آواز اُسکے کانوں سے ٹکرائی، رتجگا رضیہ کے جسم میں درد بن کر دوڑ رہا تھا،طبعیت پر عجیب کسل مندی چھائی ہوئی تھی، وہ آنکھیں ملتی ہوئی نیچے اُتری ،کمرے میں کھڑے ٹھنڈے پانی میں پاوّں پڑتے ہی یکدم اُسکی ساری نیند اُڑ گئی، وہ آہستہ آہستہ چلتی چار اینٹوں کی بنی چوکی پر پڑے صندوقوں کی طرف بڑھی اُوپر کے دو صندوق اُٹھا کر اُس نے چارپائی پر رکھے سب سے نیچے ابّا کا صندوق رکھا تھا جو تقریباً آدھا پانی میں ڈوبا ہوا تھا، اُس نے لوہے کے صندوق کا ڈھکنا اُٹھایا تو سکتے میں آگئی صندوق میں پڑی ابّا کی دوسری اشیا کے ساتھ پینشن کی کاپی بھی پانی میں لت پت ہو گئی تھی، پانی زنگ آلودہ صندوق کے پیندے سے اُوپر چڑھ آیا تھا، سلیم نے جو یہ حال دیکھا تو یکدم رضیہ پر ٹوٹ پڑاچیخنے اور رونے کی آوازیں سن کر محلے کے لوگ دوڑے چلے آئے، لوگوں نے بلکتے ہوئے سلیم کوگلے لگایا اور تسلی دینے لگے، مارے دُکھ کے سلیم کے گلے سے آواز نہیں نکلتی تھی وہ آنے والوں کو اپنا دُکھ بتانے کے لیے روتے ہوئے نیم مردہ انداز میں ہاتھ اُٹھا کر صندوق کی طرف اشارہ کرتا اور دیکھنے والوں کی نگاہیں چارپائی پر پڑی میت پر جا کر رُک جاتیں اور پھر کوئی نا کوئی اُسے تسلی دینے کو گلے لگا لیتا، مگر جونہی سلیم کا ہاتھ فضا میں اُٹھتا اور نظر چارپائی کی دوسری جانب پڑے صندوق پر پڑتی وہ پھر بلک پڑتا۔

No comments:

Post a Comment

از راہ کرم کوشش کیجئے کہ اردو زبان میں اپنی رائے کا اظہار کریں اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو کی سہولت موجود نہیں بھی ہے تو آپ کسی بھی اردو ایڈیٹر مثلاٰ
www.urdueditor.com
پر جاکر اردو میں ٹائپ کر کے یہاں چسپاں کر سکتے ہیں۔