June 11, 2013

اجنبی

پندرہواں افسانہ ------------ اجنبی 
از ۔۔ عامر ابراہیم

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ سرد رات کا پہلا پہر ہے ۔کسی نے سنّا ٹا دھند میں گھول کے تمام شہر اس میں لپیٹ دیا ہے ۔ دو رویہ سڑک کے کنارے بنی فٹ پاتھ پہ ٹف ٹائلز کی قطاریں خوبصورتی اور صفائی سے جڑی ہیں ۔ میں نہ جانے کب سے فٹ پاتھ کے کنارے بنے بس سٹاپ پہ کھڑا گاڑی کے آنے کا منتظر ہوں ۔ شہر کو جدید بنانے کے جنون نے شہر کی شکل ہی بدل ڈالی ہے۔ فٹ پاتھ کے کنارے قدیم انداز کے آہنی کھمبوں پہ منقش برقی فانوس جڑے ہیں گویا سچ میں پرانی وضع کی آگ سے روشن قندیلیں ھوں۔میں فٹ پاتھ پہ پھیلے ہوئے روشنی ، دھند اور سنّاٹے کے آ میزے میں ایک ہیلوے کی طرح گڑا ہو ا کسی جاسوسی کہانی کے سرورق کا جز بنا ہوا ہوں ۔میں گہری نظروں سے دور ھوتے ھوئے منظر کو کھوجنے کی کوشش کرتا ہوں۔ روشنی اس آمیزے کا کچھ دور تک ساتھ دیتی ھے پھر اندھیرا دھند اور سنّاٹا ۔ ۔ ۔ ۔ نہ جانے کہاں تک ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہوں گے۔ یک ٹک دیکھتے رہنے سے میری آنکھوں کے سامنے گھاڑے نیلے دائرے ناچنے لگتے ہیں تو میں سڑک پہ نظریں جمادیتا ہوں۔کبھی کبا ر کوئی گاڑی زن سے گذرتی ہے تواس کی روشنیاں ثانیہ بھر لمبی روشن لکیریں بن کے فضا میں رہتی ہیں اور پھر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سڑک پہ دائروں میں چکراتے سر پٹختے زرد پتّے سناٹے سے دست و گریباں ہوتے ہیں لیکن جلد ہی تھک کے وہیں ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ بس سٹاپ کے عقب میں رہائشی مکانوں کی طویل قطار ہے۔ کسی کسی گھر کی کھڑکیوں سے اب بھی روشنی جھانک رہی ہے۔ 
مجھے نسیان کا مرض لاحق ہے لہٰذا میں اکثر بھول جاتا ہوں کہ مجھے کس کام سے کہاں جانا ہے۔ عموماً میں رکشہ یا ٹیکسی ڈرائیور کو جل دینے میں کا میاب رہتا ہوں کہ اس قدیم شہر میں کسی نہ کسی واقف حال کے ذریعے مجھے گھر کا راستہ مل ہی جاتا ہے ۔ لیکن ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔لیکن آج یہ میرے لئے مسئلہ بن گیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہت سی مغز ماری کے باوجود مجھے یاد نہیں آرہا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔کہ مجھے کہاں جانا ہے؟ شام سے اس فٹ پاتھ پہ کھڑا کتنے ہی ٹیکسی والوں سے سر پٹخ چکا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن آج ایسا کیوں ہے میں دھند میں منہ سے بھاپ چھوڑتے ہوئے سوچتاہوں۔ اسی اثنا میں ایک ٹیکسی آکے رکتی ہے اور ڈرائیور میرے بولنے سے پہلے فقرہ اچھال دیتا ھے۔ پروفیسر ۔ ۔ ۔ ۔کچھ یاد آیا ۔ ۔ ۔ کہاں جانا ہے ۔ پھر ایک قہقہہ دھند کے سنّاٹے میں زرد پتوں کی طرح گول چکر کھانے لگتا ہے ۔ جاتے جاتے ٹیکسی ڈرائیور ایک طنزیہ مسکراہٹ بکھیرتے ھوئے نصیحت کرتا ہے ، اپنا نام کسی کاغذ پہ لکھ کے جیب میں ڈال لو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا خبر آج کی رات کیسی ہو ۔ ہنہ ۔ ۔ ۔ کالے دانتوں والا گندا سگریٹ نوش۔ ۔ ۔ میں نفرت سے سوچتا ہوں۔ لیکن دھیرے دھیرے نام بھول جانے کا خوف دھند کی پراسرار روشنی میں ہیولے بن کے شکلیں بدلنے لگتا ہے۔ میں جیب سے بال پن نکال کے کسی کاغذ کے ٹکڑے کو کھوجتا ہوں۔ قریب ہی سگریٹ کی خالی ڈبیہ ایک کھمبےکی جڑ میں پڑی ھے۔ میں اس کا پنّہ نکال کے اس پہ اپنا نام لکھتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ بال پن اپنی جیب میں ڈال لیتا ہوں اور پنّہ مضبوطی سے اپنے ھاتھ میں جکڑ لیتا ہوں۔ اب میں مطمئن ہوں کہ میں تیزی سے بدلتے ہوئے شہر میں گم نہیں ہوسکتا۔ قندیل کے نیچے کھمبے سے ٹیک لگا ئے سوچتا رہتاہوں مجھے کہاں جانا تھا کہ ایک جھماکے سے مجھے یاد آتا ہے کہ مجھے اپنے گھر لوٹنا ہے۔ ۔۔ ۔۔۔۔کمال چابکدستی سے اسی وقت میرے عقب میں واقع گھر کی کھڑکی کھلتی ہے اور ایک بوڑھیا مجھے میرے نام سے پکارتی ہے ۔بیٹا رات بیت چلی ہے اب تو گھر آجاؤ۔ میں حیرانی سے اس اجنبی بوڑھیا کو دیکھتا ہوں۔ میرا خیال ہے اس نے مجھے کاغذ پہ اپنا نام لکھتے دیکھ لیا ہے۔ میں منہ پھیر کے کسی سواری کا انتظار کرنے لگتا ہوں ۔ اتنی دیر میں ایک پولیس وین میرے سامنے آن رکتی ہے۔ اہلکار مجھے مشکوک نظروں سے گھورتے ہیں۔ بوڑھیا مکان کے اندر سے چیختی ہے ۔ میاں اپنا راستہ ناپو ۔ یہ میر ا بیٹا ہے اپنے گھر کے سامنے کھڑا ہے ۔ تمہیں اس سے مطلب؟ وہ وہاں سے کھسک جاتے ہیں۔ مجھے اس ویران بس سٹاپ سے خوف آنے لگتا ہے۔ بوڑھیا کے گھر سے بچوں کے رونے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ میں کسی اور بس سٹاپ کی تلاش میں وہاں سے روانہ ہوجاتا ہوں ۔ مجھے بوڑھیا کی آواز سنائی دیتی ہے ۔ آج تو اس کے پیچھے جانا پڑے گا۔ میں تیزی سے چکراتے راستوں کو پھلانگتا دور کے ایک بس سٹاپ پہ جانکلتا ہوں۔ اسی دوران مجھ سے نام والا کاغذ کھو جاتا ہے۔ میں اردگر سے کاغذ کے کچھ ٹکڑے چن لیتا ہوں۔ میں ان پہ اپنی تمام روداد رقم کرنا شروع کردیتا ہوں۔ مجھے خوف ہے کہ اجنبی بوڑھیا کسی بھی لمحے آسکتی ہے۔ لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ کو یاد ہے میں نے اپنا کیا نام لکھا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ میں انگلی سے جلدی جلدی اپنی پیشانی کھٹکھٹاتا ہوں۔ نام ۔ ۔ ۔نام ۔۔ ۔ نام ۔ ۔ ۔ میں کچھ دیر بڑ بڑاتا ہوں۔ پھر یہ سوچ کے کہانی لکھنے لگتا ہوں کہ جونہی نام یاد آئے گا خالی جگہ پر کرلوں گا۔ مجھے دور سے بڑھیا کے کھڑاویں زمین پہ بجنے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ میں تیزی سے کہانی لکھنے لگتا ہوں۔ کہانی مکمل کرکے پھر نام سوچنے لگتا ہوں ۔ ۔ ۔نام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔نام۔۔۔۔۔۔۔کھڑک کھٹک کڑک ۔ ۔ ۔ ۔ بوڑھیا قریب آرہی ھے ۔ میں اپنی کہانی جیب میں ڈالتا ہوں اور تیزی سے ایک سمت چل پڑتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔کچھ دیر بعد بوڑھیا کے چلنے کی آوازیں مدھم ہو جاتیں ہیں۔ ۔ ۔ ۔میں چلتا رہتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔چلتا رہتا ہوں ۔ ۔ ۔لیکن میں اب یہ بھول گیا ہوں کہ میں اب کہا ں جارہاہوں ۔۔ ۔ ۔ ۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ کاش میں بڑھیا سے اپنا نام ہی پوچھ لیتا اور پھر جل دے کے وہاں سے فرار ہوجاتا ۔ ۔ ۔ ۔لیکن چلتے چلتے میں نہ جانے کہاں سے کہاں نکل آیا ہوں۔ ایک دن مجھے خیال آتا ہے ۔ کیا خبر میری کہانی میرے کسی آشنا کے ہاتھ آجائے۔ ۔ ۔ ۔کیا خبر کوئی میری تحریر سے مجھے پہچان لے۔ میں فٹ پاتھ پہ اپنی بے نام کہانی بکھیر دیتا ہوں۔

No comments:

Post a Comment

از راہ کرم کوشش کیجئے کہ اردو زبان میں اپنی رائے کا اظہار کریں اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو کی سہولت موجود نہیں بھی ہے تو آپ کسی بھی اردو ایڈیٹر مثلاٰ
www.urdueditor.com
پر جاکر اردو میں ٹائپ کر کے یہاں چسپاں کر سکتے ہیں۔