June 11, 2013

مسافر

ستر ہواں افسانہ -----------------------_مسافر !

از --- عا کف محمو د 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

میں Stratfordسے Ilfodکی طرف جانے کے لئے Bus میں سوار ہوا ۔ڈبل ڈیکر کے اوپر والے ڈیک میں سیڑھی چڑھ کر سامنے والی سیٹ پر بیٹھ گیا ۔مجھ سے اگلی والی سیٹ پر رشین عورتوں کا ایک جوڑا بیٹھا تھا ۔ایک فربہ اندام ادھیڑ عمر، اور دوسری عورت کہہ لیں لڑکی کہہ لیں خوبصورت سڈول جسم۔میں بیٹھتے ہی اپنی سوچوں میں گم ہو گیا کہ ہم آج بھی غلام سوچ کے حامل کیوں ہیں ?خوبصورتی کو ہی لے لیں ۔جو قوم کبھی ہم پر غالب آئی ہم نے اسی کی خصوصیات کو خوب صورتی بنا لیا ۔عرب آئے تو ستواں ناک ، غزالی آنکھیں ،خوبصورتی کے تصور میں شامل سمجھی گئیں ۔رشینز آئے تو نازک نقوش افغانی آئے تو سرخ رنگ ، انگریز آئے تو گورا رنگ نیلی آنکھیں ساتھ لائے اب جس کو خوب صورت دیکھئیے جانیں اچھے گھر کا ہے ۔
وہ دونوں آپس میں باتیں کر رہی تھیں جوان خاتون کا رخ ادھیڑ کی طرف قدرے زیادہ تھا ۔جس کی وجہ سے میری نظریں بار بار اس کی طرف اٹھ جا تی تھیں ۔اس کے دلکش یاقوتی ہونٹوں کی حرکت اور مسکراہٹ بہت دلآویز تھی۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چہرہ کا رخ کچھ اور زیادہ پیچھے کی طرف ہو گیا ۔شاید اس نے سوچتی آنکھوں سے میرا دیکھنا محسوس کر لیا تھا ۔مسکراہٹ کچھ زیادہ تواتر سے اور زیادہ دلکش معلوم ہو نے لگی ۔ ایک تو یہ رشینز اور ایسٹرن یوروپین مسکراتی بہت ہیں ۔ان کے گھر جائیں مارکیٹنگ کے لئیے ۔دروازہ کھلے گا آپ کو ویلکم کہا جائے گا آپ اپنی بات شروع کریں یس ،یس کی گردان ہو گی۔مسکرا مسکرا کر آپ کی بات سنی جائیگی۔جھک جھک کر آپ پر التفات ہو گا ۔اس دوران چاہیں تو آپ ان کے جلوئے آنکھون میں بھر لیں ۔آخر پتا چلے گا کہ آپکی بات سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ جانے یہ خوبصورت لوگ ایسے کیوں ہوتے ہیں ?بیباک مسکراہٹ اور کھلے ڈلے لباس انہیں اتنی نمائش کی ضرورت کیوں ہوتی ہے ہم ایشئین لوگ تو ایک ترچھی نظر سے گھائل ہو جاتے ہیں ۔
اسی دوران نا گاہ میری نگاہ نیچے کو دوڑ گئی ایک کار سے تین لوگ اترے بوڑھے میان بیوی اور ایک ان کی بیٹی جو انہیں چھوڑنے آئی تھی جاتے جاتے باپ نے بیٹی کا بوسہ لیا ۔ان کے پلٹتے ہی بیٹی نے بوسہ یوں الٹے ہاتھ سے صاف کیا جیسے کسی حبشی کا بوسہ ہو۔خٰیر تھوڑی دیر میں منزل آ گئی وہ مجھ سے ایک سٹاپ پہلے اتر گئی اور میں اگلو سٹاپ پر اتر کر اپنی منزل کو روانہ ہو گیا۔۔مگر ٹہرئے !!
یہ ہماری آخری ملاقات نہ تھی!
کچھ دنوں بعد نارتھ میں جانا ہوا۔ایک جاب کے سلسلہ میں بہت سے لوگوں میں اگلے مرحلہ کے لئیے سلیکٹ ہو گیا جس کے لیئے اگلے روز جانا تھا ۔جہاں خاتون بھی موجود تھیں ۔اور ایک مرحلہ سلیکشن کا اور منتظر تھا ۔جسمیں ہمارے بیک گراونڈ بارے پوچھا گیا میں نے بتایا کاروبار کیا ہے اور بڑی ٹیمز کو مینیج کرنے کا تجربہ ہے ۔خاتون نے بتایا کہ اٹلی میں سیلز آفیسر تھیں ۔ ہم دونوں ہی سلیکٹ ہو گئے ۔اگلا مرحلہ عملی تربئیت کا تھا ۔ جس میں ہمیں فیلڈ میں جا نا تھا ۔ویک اینڈ کے بعد ہمیں بلا لیا گیا اپنی اپنی ٹیمز سے متعارف کروایا گیا۔اتفاقن مجھے جو مینٹر دی گئی تھی وہ فرم کی ٹاپ پرفارمر تھی اور اس کو اسی وجہ سے ہم دولوگ دئیے گئے ٹریننگ کے لئیے ایک میں اور دوسری وہی خاتون یہ اس رشین لڑکی سے چوتھی مڈ بھیڑ تھی اور پہلی قریبی۔
ٹرینینگ شروع ہوئی ہمیں فیلڈ میں بھیجا گیا مئی کے آخری دن تھے موسم خوشگوار تھا ۔ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ۔سبزہ و گل پر ابتدائے بہار کے دن ۔اور دن پر کیف تھا ۔نارتھ لندن میں باغ پھلواری کی بہتات ہے ۔ہر طرف رنگ تھے ۔ہم نے مینٹر کے پیچھے پیچھے چلنا شروع کر دیا ۔تا کہ سمجھا جا سکے کہ ٹاپ پرفارمر کیوں کر بنا جا سکتا ہے۔
تھوڑی دیر میں مینٹر نے تفصیلی سوال جواب شروع کر دئیے اس سے پوچھا کہ وہ کیا کرتی رہی ہے اس نے جواب دیا کہ میں نے سٹڈ یز یہاں لنڈن سے کیں اور پانچ سال قبل شادی کر کے سائپرس چلی گئی ۔خاوند کے ساتھ جس سے میری دو سال کی بچی ہے اور اب طلاق کی کاروائی چل رہی ہے ۔فرنچ مینٹر نے پوچھا کہ بچی کا باپ کون ہے اس نے جواب دیا کہ ایک بلیک فرنچ مینٹر ایکسائیٹڈہو کر بولی پھر تو بچی بہت خوبصورت ہو گی ۔اور میں پھر سوچ میں ڈوب گیا ۔
صبح کی ٹھنڈی ہوا قدرے کم ہو گئی تھی اس نے اپنا کالا لیدر کا کوٹ اتار دیا سہانی دھوپ نکل آئی تھی اور ہلکی ہلکی ہوا سے شاخیں مست ہو کر جھوم رہی تھیں ۔پھولونں کا جلوہ کچھ اور سوا ہو چلا تھا ۔اسے پاووں مین پہنا ہائی ہیل کا کوٹ شو تنگ کر رہا تھا ۔اور وہ چلنے سے پاووں مین درد کی شکایت کر رہی تھی ۔میں نے اسے بتایا کہ چلنے کے لئیے سوفٹ جوتے ہیل کے بغیر اچھے رہیں گے۔تھوڑی دیر میں ہم دونوں میں مکالمہ شروع ہو گیا ہم دونوں کام کی مشکلات اور امکانات پر گفتگو کر رہے تھے۔اسے یہ کام مشکل لگ رہا تھا اور میرا خیال تھا کہ کام کے امکانات کافی ہیں اور مشکلات پر ٹرینینگ اور پریکٹس سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ اب مینٹر اور ہم دونوں میں فاصلہ کچھ زیادہ ہو گیا تھا ۔ ہم دونوں آپس میں گپ شپ لگا رہے تھے ۔موسم کا لطف لے رہے تھے اس دوران اس نے چلنے سے ہوے والی تکلیف کا دوبارہ ذکر کیا ۔مٰیں نے اسے تسلی دیاور یاد دلایا کہ یہ جوتے چلنے کے لئیے مناسب نہیں ہم دونوں اب بے تکلفی سے باتین کر رہے تھے۔اور وہ بار بار کچھ بے تکلفی سےاور زیادہ پاووں کی تکلیف کے سبب مجھ پر گرتی تھی یا میرا سہارا لیتی تھی۔اس بات کو ہماری مینٹر نے بھی محسوس کیا اور اسے ناگواری سے گھورا ۔لیکن مجھے اس کا سبک بوجھ ناگوار نہیں لگ رہا تھا ۔
خیر ایک راونڈ مکمل ہو گیا اور ہمیں گھرون کو جانے کی اجازت مل گئی۔ہم دونوں پارک کے قریب سے ہوتے ہوئے نو شگفتن پھولوں اور رنگون پر تبصرہ کرتے بازار سے ہوتے سٹیشن پہنچ گئے اور ایک ہی ٹرین میں سوار ہو گئے ہم ساتھ ساتھ بیٹھے تھے ۔اس نے سر میرے کندھے پر رکھ دیا ۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کہاں رہ رہی ہو ?اس نے بتایا ایک بوائے فرینڈ کے ساتھ رہ رہی ہون مگر دل بھر گیا ہے اب جگہ چینج کر لوں گی اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم کہاں رہ رہے ہو ?? میں نے بتایا کہ ایسٹ لنڈن ۔
وہ کہنے لگی کہ تم بہت خوبصورت اور سوبر ہو !۔ اس کی یہ بات سن کر میں نے اسے غور سے دیکھا ۔ اس کا چہرہ مجھ سے 4 انچ کے فاصلہ پر تھا اس کی آنکھیں میری آنکھوں میں جھانک رہی تھیں ۔ اس کے ابروون پر ماتھے کے بیچ غور و فکر کی موٹٰی سلوٹیں تھیں ۔اس کی آنکھوں کے گرد لکیرونں کا ایک جال بن رہا تھا ۔اس کے گورے چہرے پر سنہری روواں بہت بھلا لگ رہا تھا اس کے رنگ پر اردو شاعری کی ایک پوری کتاب جمع کی جا سکتی تھی ۔ اس کے خوبصورت ہونٹوں کے گرد لکیریں چل پڑی تھیں ۔ اس نے پرائمرک سے لیا چائینا کا بنا ایک سستا لباس پہن رکھا تھا ۔۔۔۔
میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایک بھوکے نے دوسرے بھوکے سے یاری لگائی اور بیچ سفر دونوں ہی لہرا کر گر پڑے !!!!!!!!! 

No comments:

Post a Comment

از راہ کرم کوشش کیجئے کہ اردو زبان میں اپنی رائے کا اظہار کریں اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو کی سہولت موجود نہیں بھی ہے تو آپ کسی بھی اردو ایڈیٹر مثلاٰ
www.urdueditor.com
پر جاکر اردو میں ٹائپ کر کے یہاں چسپاں کر سکتے ہیں۔