عابد سیال
کل مدت کے بعد پیدل چل کر قریبی مارکیٹ تک کچھ سودا سلف لینے گیا تو محسوس ہوا کہ اب عادتیں اتنی بدل چکی ہیں کہ اس کام کی حیثیت بھی ایک منفرد تجربے کی سی ہو گئی ہے۔ گاڑی یا موٹر سائیکل دست بستہ غلاموں کی طرح ہمراہی اور باربرداری کے لیے موجود ہوتے ہیں۔کہیں بھی جانا ہو انھیں ساتھ لے جائیں۔ سفر کے لیے گاڑی یا موٹر سائیکل کا ساتھ باتونی عورت کی ہمراہی کی طرح ہوتا ہے( اس جملے سے یہ تاثر ملنا کہ عورتیں غیرباتونی بھی ہوتی ہیں، عجزِ بیان ہے)۔ باتونی عورت سفر کی تنہائی کو دور تو کرتی ہے لیکن اپنے علاوہ کسی طرف متوجہ بھی نہیں ہونے دیتی۔
گاڑی چلاتے ہوئے بھی آپ سٹیئرنگ وہیل یعنی گاڑی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے، اگر گاڑی نئی ہے تو ٹیپ ریکارڈر یا سی ڈی پلیئر کی اور اگر پرانی ہے تو گاڑی کے کَل پرزوں کی آوازیں سنتے، انجن ٹھیک ہے تو اپنی مرضی کی اور اگر میری گاڑی کی طرح کا ہے تو گاڑی کی مرضی کی رفتار سے چلتے، دفتر، بازار، بچوں کے سکول یا دیگر منزلوں کی طرف کشاں کشاں جاتے ہیں۔ اگرچہ گاڑی کی ہمراہی کا ایک اضافی فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ ساتھی عورت کی طرح اپنے حصے کا وزن مسکرا کرآپ کو اٹھانے پرمائل اور قائل کرنے کی بجائے آپ کے حصے کا بوجھ بھی اٹھاتی ہے۔ اگر گاڑی بڑی نہ ہو اور ڈِگی کی صورت میں زیادہ وسیع الظرفی کا مظاہرہ نہ بھی کر سکے تو بھی آپ کو بوجھ اٹھانے پر مجبور نہیں کرتی۔ لیکن ان تمام سہولتوں کے باوجود اس کے جذبۂ ملکیت (posession)کی گرفت بہت سخت ہے۔ آپ لمحہ بھر کو بھی اپنی توجہ اِدھر اُدھر نہیں کر سکتے، راستے سے نظریں نہیں ہٹا سکتے، آزادی سے فون نہیں سن سکتے، اپنے کسی دوسرے ہم سفر کی طرف متوجہ ہو کر بات نہیں کر سکتے۔ گاڑی کے ساتھ ہونے کا احساس ہمہ وقت آپ کواٹن شن رکھتا ہے۔ آپ کے اعصاب کا تنائو کم نہیں ہوتا (آہ، پھر عورت کی ہمراہی یاد آئی)۔ کسی خیالِ غیر کو پاس پھٹکنے کی اجازت دینے کا مطلب تصادم کے امکان کو دعوت دینا ہے۔
گاڑی کے ساتھ مسلسل سفر کر کر کے ہم یہ سوچنا ہی بھول جاتے ہیں کہ سودا سلف کی خریداری کو جاتے ہوئے پیدل چلنے میں آزادی بلکہ آزادہ روی کے کس قدر امکانات پوشیدہ ہیں۔ آپ کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا احساس ہوتا ہے اور اس احساس کی قدر یا تو وہ بچہ جانتا ہے جس نے پہلی بار اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا تجربہ کیا ہو یا ایسا شخص جو طویل بیماری کی وجہ سے صاحب فراش رہنے کے بعد صحت یاب ہو اور اپنے پیروں کو اپنا وزن اٹھانے کا اہل جان کر بادِ مسرّت کے جھونکے سے سرشار ہوا ہو۔ مزید یہ کہ آپ کے دونوں پائوں مسافت طے کرنے میں برابر کے مددگار ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ دایاں پائوں ایکسلریٹر اور بریک کے درمیان یوںمسلسل آمدورفت رکھے جیسے شادی کے ابتدائی دنوں میں عورتیں میکے اور سسرال کے درمیان رکھتی ہیں اور بایاں پائوں اطمینان کے طویل وقفوں کے بعد ذرا دیر کو کلچ پیڈل کو یوں چھوئے جیسے مجذوب و مجہول فقیر نیم غنودگی میں کبھی کبھار آنکھ کھول کر مکھی اُڑاتا ہے۔ سودے سلف کے شاپنگ بیگ اٹھانے سے آپ کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے وزن کے علاوہ بھی کچھ بوجھ اٹھانے کے اہل ہیں اور اُن 146146آپ ہم145145 میں شامل نہیں ہیں جنھیں ناصر کاظمی نے زمین کا بوجھ قرار دیا تھا۔ ناصر کاظمی کے فکری پیش رو میرؔ نے تو انسان کی فضیلت ہی بوجھ اٹھانے کا عمل گردانا ہے کہ سب پہ جس بار نے گرانی کی، اس کو یہ ناتواں اٹھا لایا۔ یہ الگ بات کہ کائنات کا بوجھ اٹھانے والے اسی ناتواں کو میر ہی کے بقول عشق کا بھاری پتھر اٹھانے میں مسائل کا سامنا رہا ہے۔
اس پیدل سفر میں میرا تین سالہ بیٹا بھی میرے ساتھ تھا جو اس تجربے کی ایک اور خوش کن جہت ہے۔ گاڑی میں وہ جب بھی میرے ساتھ بیٹھتا ہے کبھی شور مچا کر، کبھی دروازے کے شیشے اوپر نیچے کر کے، کبھی اگلی اور پچھلی سیٹ کے درمیان اچھل کود کر کے اور کبھی میرا بازو ہِلا کر اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتا اور جھڑکیں کھاتا رہتا ہے۔ اب اس نے میری انگلی پکڑی ہوئی تھی جسے کبھی کبھار چھوڑ کر وہ ذرا اِدھر اُدھر ہو کر، کبھی میرے آگے اور کبھی پیچھے چل کر، کبھی دائیں ہاتھ اور کبھی بائیں ہاتھ کی طرف آ کر میری قربت، توجہ اور ہمقدمی سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ اور میں بھی جو گاڑی چلاتے ہوئے ایسی حرکتوں پر اسے جھڑکتا رہتا تھا، گاڑی چلانے کے لیے درکار مسلسل توجہ کی پابندی نہ ہونے کے باعث اس کے اس کھیل سے محظوظ بھی ہو رہا تھا اور اس کا ساتھ بھی دے رہا تھا۔ اس کے علاوہ اس کا وہ پسندیدہ کھیل بھی پورا ہو رہا تھا جس میں وہ مجھے صحن میں بلاتا اور میری انگلی پکڑ کر آگے بھاگتا اور توقع رکھتا کہ میں اسے پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے بھاگوں اور یہ کھیل کھیلنے کے لیے مجھے خاص طور پر کام چھوڑ کر وقت نکالنا پڑتا تھا۔
گھر سے مارکیٹ تک کے مختصر راستے میں کتنی چیزوں نے اپنا ر نگ ڈھنگ ، طور اطوار، ہیئت و صورت بدل لی ہے، اس کا اندازہ بھی ایک مدت کے بعد ہوا۔ جن دروازوں کے رنگ کبھی جاذب نظر تھے، خزاں رسیدہ درختوں کی طرح ہو چکے تھے۔ جن کھڑکیوں کے پردے ساون کے رس یا پھاگن کے روپ کا استعارہ تھے، جیٹھ کی خشکی یا پوس کی ٹھٹھرن، سکڑن کا نشان بن چکے تھے۔ دوسری طرف بعض مکان جن کی بناوٹ میں مٹتی ہوئی ثقافت کے کچھ آثار باقی تھے، تعمیرِ نو کے بعد اپنی تروتازہ جبینیں اٹھائے اپنے مکینوں کی معاشی خوشحالی کی خبر دے رہے تھے۔ چند فرلانگ کے راستے میں اتنا تغیرو تبدل اور میں روز ادھر سے گزرتے ہوئے بھی اس سے بے خبر اور لاپروا۔ برِاعظموں کی خبریں میری ہتھیلی پر لیکن میں اپنے ماحول اور اپنی دنیا سے دور۔ پتا نہیں خبر کیا ہے اور بے خبری کیا ! گاڑی چلاتے ہوئے سامنے اور دائیں، بائیں گزرتے جن چہروں کو نظربھر کر دیکھنے کی تمنا ایک سلگن بن کر ہمیشہ دل ہی میں رہی، پیدل چلنے کے معمولی سے عمل نے تعیّنات کے یہ پردے بھی اٹھا دیے۔ نیت بھر دیکھنا تو اس عمرِ مختصر میں ممکن نہیں ،نظر بھر دیکھنے کے مواقع وسیع ہو گئے۔ اگر رفتار کی تیزی اس جہان سے سرسری گزرنے کا خدشہ پید اکرے تو رفتار آہستہ بھی کی جا سکتی ہے۔ مزید ضرورت ہو تو رک کر اپنے بیٹے کو سنبھل کر چلنے کی تلقین بھی کی جا سکتی ہے۔ ذہنی فراغت اور آزادی ٔ نگاہ کا ایک اور شاخسانہ بھی نمودار ہوا۔ کچھ خوابیدہ لفظوں نے انگڑائی لی اور ذہن کی ایک رَو اُن کو ترتیب میں لا کر اور ان کی چُولیں بٹھا کر مصرع سیدھا کرنے میں لگ گئی۔
اور آپ میں سے جو شاعر ہیں جانتے ہیں ذہن میں پہلا مصرع سیدھا ہونے کی کیفیت وہی ہے جو کچی زمین پر بارش کی پہلی بوندیں پڑنے کی ہے۔ تسکین، سرشاری، تازگی، مہک۔ بنا تو کچھ نہیں لیکن بن جانے کے آثار بھی غنیمت محسوس ہوئے۔ کاش مارکیٹ تھوڑا دور ہوتی یا ٹھہر ٹھہر کر بیٹے کو سنبھلنے کی تلقین بار بار کی ہوتی۔ کل کے بعد اب تک تین چار بار مارکیٹ گیا ہوں____ لیکن پیدل نہیں۔ پیدل چلنے کے فوائد بے شمارہیں لیکن گاڑی کی ہمراہی کو میں باتونی عورت کی ہمراہی سے تشبیہ دے چکا ہوں اور باتونی عورت کی ہمراہی کے مسائل اپنی جگہ لیکن عورت عورت ہے، باتونی ہونے کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوتی ہے۔
کل مدت کے بعد پیدل چل کر قریبی مارکیٹ تک کچھ سودا سلف لینے گیا تو محسوس ہوا کہ اب عادتیں اتنی بدل چکی ہیں کہ اس کام کی حیثیت بھی ایک منفرد تجربے کی سی ہو گئی ہے۔ گاڑی یا موٹر سائیکل دست بستہ غلاموں کی طرح ہمراہی اور باربرداری کے لیے موجود ہوتے ہیں۔کہیں بھی جانا ہو انھیں ساتھ لے جائیں۔ سفر کے لیے گاڑی یا موٹر سائیکل کا ساتھ باتونی عورت کی ہمراہی کی طرح ہوتا ہے( اس جملے سے یہ تاثر ملنا کہ عورتیں غیرباتونی بھی ہوتی ہیں، عجزِ بیان ہے)۔ باتونی عورت سفر کی تنہائی کو دور تو کرتی ہے لیکن اپنے علاوہ کسی طرف متوجہ بھی نہیں ہونے دیتی۔
گاڑی چلاتے ہوئے بھی آپ سٹیئرنگ وہیل یعنی گاڑی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے، اگر گاڑی نئی ہے تو ٹیپ ریکارڈر یا سی ڈی پلیئر کی اور اگر پرانی ہے تو گاڑی کے کَل پرزوں کی آوازیں سنتے، انجن ٹھیک ہے تو اپنی مرضی کی اور اگر میری گاڑی کی طرح کا ہے تو گاڑی کی مرضی کی رفتار سے چلتے، دفتر، بازار، بچوں کے سکول یا دیگر منزلوں کی طرف کشاں کشاں جاتے ہیں۔ اگرچہ گاڑی کی ہمراہی کا ایک اضافی فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ ساتھی عورت کی طرح اپنے حصے کا وزن مسکرا کرآپ کو اٹھانے پرمائل اور قائل کرنے کی بجائے آپ کے حصے کا بوجھ بھی اٹھاتی ہے۔ اگر گاڑی بڑی نہ ہو اور ڈِگی کی صورت میں زیادہ وسیع الظرفی کا مظاہرہ نہ بھی کر سکے تو بھی آپ کو بوجھ اٹھانے پر مجبور نہیں کرتی۔ لیکن ان تمام سہولتوں کے باوجود اس کے جذبۂ ملکیت (posession)کی گرفت بہت سخت ہے۔ آپ لمحہ بھر کو بھی اپنی توجہ اِدھر اُدھر نہیں کر سکتے، راستے سے نظریں نہیں ہٹا سکتے، آزادی سے فون نہیں سن سکتے، اپنے کسی دوسرے ہم سفر کی طرف متوجہ ہو کر بات نہیں کر سکتے۔ گاڑی کے ساتھ ہونے کا احساس ہمہ وقت آپ کواٹن شن رکھتا ہے۔ آپ کے اعصاب کا تنائو کم نہیں ہوتا (آہ، پھر عورت کی ہمراہی یاد آئی)۔ کسی خیالِ غیر کو پاس پھٹکنے کی اجازت دینے کا مطلب تصادم کے امکان کو دعوت دینا ہے۔
گاڑی کے ساتھ مسلسل سفر کر کر کے ہم یہ سوچنا ہی بھول جاتے ہیں کہ سودا سلف کی خریداری کو جاتے ہوئے پیدل چلنے میں آزادی بلکہ آزادہ روی کے کس قدر امکانات پوشیدہ ہیں۔ آپ کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا احساس ہوتا ہے اور اس احساس کی قدر یا تو وہ بچہ جانتا ہے جس نے پہلی بار اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا تجربہ کیا ہو یا ایسا شخص جو طویل بیماری کی وجہ سے صاحب فراش رہنے کے بعد صحت یاب ہو اور اپنے پیروں کو اپنا وزن اٹھانے کا اہل جان کر بادِ مسرّت کے جھونکے سے سرشار ہوا ہو۔ مزید یہ کہ آپ کے دونوں پائوں مسافت طے کرنے میں برابر کے مددگار ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ دایاں پائوں ایکسلریٹر اور بریک کے درمیان یوںمسلسل آمدورفت رکھے جیسے شادی کے ابتدائی دنوں میں عورتیں میکے اور سسرال کے درمیان رکھتی ہیں اور بایاں پائوں اطمینان کے طویل وقفوں کے بعد ذرا دیر کو کلچ پیڈل کو یوں چھوئے جیسے مجذوب و مجہول فقیر نیم غنودگی میں کبھی کبھار آنکھ کھول کر مکھی اُڑاتا ہے۔ سودے سلف کے شاپنگ بیگ اٹھانے سے آپ کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے وزن کے علاوہ بھی کچھ بوجھ اٹھانے کے اہل ہیں اور اُن 146146آپ ہم145145 میں شامل نہیں ہیں جنھیں ناصر کاظمی نے زمین کا بوجھ قرار دیا تھا۔ ناصر کاظمی کے فکری پیش رو میرؔ نے تو انسان کی فضیلت ہی بوجھ اٹھانے کا عمل گردانا ہے کہ سب پہ جس بار نے گرانی کی، اس کو یہ ناتواں اٹھا لایا۔ یہ الگ بات کہ کائنات کا بوجھ اٹھانے والے اسی ناتواں کو میر ہی کے بقول عشق کا بھاری پتھر اٹھانے میں مسائل کا سامنا رہا ہے۔
اس پیدل سفر میں میرا تین سالہ بیٹا بھی میرے ساتھ تھا جو اس تجربے کی ایک اور خوش کن جہت ہے۔ گاڑی میں وہ جب بھی میرے ساتھ بیٹھتا ہے کبھی شور مچا کر، کبھی دروازے کے شیشے اوپر نیچے کر کے، کبھی اگلی اور پچھلی سیٹ کے درمیان اچھل کود کر کے اور کبھی میرا بازو ہِلا کر اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتا اور جھڑکیں کھاتا رہتا ہے۔ اب اس نے میری انگلی پکڑی ہوئی تھی جسے کبھی کبھار چھوڑ کر وہ ذرا اِدھر اُدھر ہو کر، کبھی میرے آگے اور کبھی پیچھے چل کر، کبھی دائیں ہاتھ اور کبھی بائیں ہاتھ کی طرف آ کر میری قربت، توجہ اور ہمقدمی سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ اور میں بھی جو گاڑی چلاتے ہوئے ایسی حرکتوں پر اسے جھڑکتا رہتا تھا، گاڑی چلانے کے لیے درکار مسلسل توجہ کی پابندی نہ ہونے کے باعث اس کے اس کھیل سے محظوظ بھی ہو رہا تھا اور اس کا ساتھ بھی دے رہا تھا۔ اس کے علاوہ اس کا وہ پسندیدہ کھیل بھی پورا ہو رہا تھا جس میں وہ مجھے صحن میں بلاتا اور میری انگلی پکڑ کر آگے بھاگتا اور توقع رکھتا کہ میں اسے پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے بھاگوں اور یہ کھیل کھیلنے کے لیے مجھے خاص طور پر کام چھوڑ کر وقت نکالنا پڑتا تھا۔
گھر سے مارکیٹ تک کے مختصر راستے میں کتنی چیزوں نے اپنا ر نگ ڈھنگ ، طور اطوار، ہیئت و صورت بدل لی ہے، اس کا اندازہ بھی ایک مدت کے بعد ہوا۔ جن دروازوں کے رنگ کبھی جاذب نظر تھے، خزاں رسیدہ درختوں کی طرح ہو چکے تھے۔ جن کھڑکیوں کے پردے ساون کے رس یا پھاگن کے روپ کا استعارہ تھے، جیٹھ کی خشکی یا پوس کی ٹھٹھرن، سکڑن کا نشان بن چکے تھے۔ دوسری طرف بعض مکان جن کی بناوٹ میں مٹتی ہوئی ثقافت کے کچھ آثار باقی تھے، تعمیرِ نو کے بعد اپنی تروتازہ جبینیں اٹھائے اپنے مکینوں کی معاشی خوشحالی کی خبر دے رہے تھے۔ چند فرلانگ کے راستے میں اتنا تغیرو تبدل اور میں روز ادھر سے گزرتے ہوئے بھی اس سے بے خبر اور لاپروا۔ برِاعظموں کی خبریں میری ہتھیلی پر لیکن میں اپنے ماحول اور اپنی دنیا سے دور۔ پتا نہیں خبر کیا ہے اور بے خبری کیا ! گاڑی چلاتے ہوئے سامنے اور دائیں، بائیں گزرتے جن چہروں کو نظربھر کر دیکھنے کی تمنا ایک سلگن بن کر ہمیشہ دل ہی میں رہی، پیدل چلنے کے معمولی سے عمل نے تعیّنات کے یہ پردے بھی اٹھا دیے۔ نیت بھر دیکھنا تو اس عمرِ مختصر میں ممکن نہیں ،نظر بھر دیکھنے کے مواقع وسیع ہو گئے۔ اگر رفتار کی تیزی اس جہان سے سرسری گزرنے کا خدشہ پید اکرے تو رفتار آہستہ بھی کی جا سکتی ہے۔ مزید ضرورت ہو تو رک کر اپنے بیٹے کو سنبھل کر چلنے کی تلقین بھی کی جا سکتی ہے۔ ذہنی فراغت اور آزادی ٔ نگاہ کا ایک اور شاخسانہ بھی نمودار ہوا۔ کچھ خوابیدہ لفظوں نے انگڑائی لی اور ذہن کی ایک رَو اُن کو ترتیب میں لا کر اور ان کی چُولیں بٹھا کر مصرع سیدھا کرنے میں لگ گئی۔
اور آپ میں سے جو شاعر ہیں جانتے ہیں ذہن میں پہلا مصرع سیدھا ہونے کی کیفیت وہی ہے جو کچی زمین پر بارش کی پہلی بوندیں پڑنے کی ہے۔ تسکین، سرشاری، تازگی، مہک۔ بنا تو کچھ نہیں لیکن بن جانے کے آثار بھی غنیمت محسوس ہوئے۔ کاش مارکیٹ تھوڑا دور ہوتی یا ٹھہر ٹھہر کر بیٹے کو سنبھلنے کی تلقین بار بار کی ہوتی۔ کل کے بعد اب تک تین چار بار مارکیٹ گیا ہوں____ لیکن پیدل نہیں۔ پیدل چلنے کے فوائد بے شمارہیں لیکن گاڑی کی ہمراہی کو میں باتونی عورت کی ہمراہی سے تشبیہ دے چکا ہوں اور باتونی عورت کی ہمراہی کے مسائل اپنی جگہ لیکن عورت عورت ہے، باتونی ہونے کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوتی ہے۔
No comments:
Post a Comment
از راہ کرم کوشش کیجئے کہ اردو زبان میں اپنی رائے کا اظہار کریں اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو کی سہولت موجود نہیں بھی ہے تو آپ کسی بھی اردو ایڈیٹر مثلاٰ
www.urdueditor.com
پر جاکر اردو میں ٹائپ کر کے یہاں چسپاں کر سکتے ہیں۔