اقبال حسن آزاد
وہ دن ہواہوئے کہ سیاست حب وطن، خدمت خلق اور ایثار و قربانی سے عبارت ہوا کرتی تھی ۔ زمانے کی ہوا ایسی بدلی کہ ہواؤں میں اُڑنے والوں کی ہوا نکل گئی اورجو کل تک ننگ وطن اور قانون شکن کی حیثیت سے جیل کی ہوا کھاتے تھے وہ ہوا پانی بدلنے کے لئے ہواؤں میں اڑتے ہوئے کسی ہوادار مقام پر چلے جاتے ہیں۔
بہر کیف ! آج کی نیتاؤں کی بلند پروازی ،سماجی حیثیت اور کشادگی ٔ رزق دیکھ کر ہمارے دل میں بیک وقت حسد اور رشک جڑواں بھائی کی طرح پیدا ہوئے اور ہم بھی لیلائے سیاست کی تسخیر کے طریقوں پر غور کر نے لگے مگر چونکہ زمانے سے ہمارے دل کے پاس پاسبان عقل کی جگہ خالی ہے اس لئے ہمارے ذہن میںکوئی ترکیب نہ آسکی ۔ آخرش ہم نے اپنے دیرینہ دوست سے رجوع کر نے کا فیصلہ کیا جو مشورے دینے میںماہرہیں۔ موصوف کا مطالعہ وسیع ، مشاہدہ عمیق اورفکر ونظر غیر معمولی ہے ۔ میری عرض سن کر پہلے تو انہوں نے میری جانب بنظر استعجاب دیکھا اور پھر بولے ۔
! یہ آپ کس کا فر ادا کے چکر میں پڑگئے ۔ آپ شریف آدمی ہیں۔ کیوں مفت میں بدنام ہونے کی سوچ لی ہے ۔ یہ آپ کے بس کی چیز نہیں۔انہی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد۔
موصوف کی بات سن کر ہم سمجھ گئے کہ وہ ہمیں Demoralise کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ہم نے ایک آہ سر د کھینچی اور کہا۔
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا
ہمارے دوست پر غالب کے اس شعر کا کچھ بھی اثر نہ ہوا ۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
جناب ! آپ لیلائے سیاست کی فتنہ سامانیوں سے واقف نہیں۔ لیلائے سیاست کا مجنوں بھی قیس کی مانند کبھی سنگسار ہوتاہے تو کبھی پا بہ زنجیر ، کبھی صحرانوردی پر مجبور ہوتاہے تو کبھی جلاوطن قرار دیا جاتاہے مگر لیلیٰ لیلیٰ پکارنے سے باز نہیں آتا اور ایک عاشق صادق کی مانند اپنے معشوق کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے ہمہ وقت اور ہمہ تن حاضر رہتاہے ۔ لیلا ئے سیاست کبھی پکے نمازیوں کی نماز چھڑ دادیتی ہے تو کبھی بے نمازیوں سے نماز پڑھوادیتی ہے۔ کسی کے سر سے ٹوپی اتار دیتی ہے تو کسی کے سر پر ٹوپی پہنادیتی ہے ۔ یہ اپنے عاشق کو کبھی مزارات پر سجدہ ریز کر دیتی ہے تو کبھی یگیہ میں شامل ہونے کے لئے مجبور بنادیتی ہے ۔ کبھی بائیں بازووالے اشتراکیوں کو عبادت گاہوں میںپہنچادیتی ہے تو کبھی دائیں بازوالے کٹر پنتھیوں کو افطار پارٹی کروادینے پر مجبور کر دیتی ہے ۔ یہ دشمن کو دوست اور دوست کو دشمن یوں بناتی ہے جیسے کبھی کچھ ہواہی نہیں ۔ ویسے بھی سیاست میں نہ مستقل دوستی ہوتی ہے نہ مستقل دشمنی ۔ اور یوں بھی آج کل سمیکرن کا زمانہ ہے۔ کب کون نیتا کس پارٹی میں شامل ہوجائے اور کب کون سی پارٹی کس پارٹی سے تال میل بٹھا لے کہا نہیں جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ذاتی اور نظریاتی یاسیاسی اختلافات کے باوجود مختلف پارٹیوں کے نیتا جب کسی محفل میں یکجا ہوتے ہیں تو ساتھ ساتھ دکھائی دیتے ہیں ۔ایک ہی ٹیبل پر کھانا کھاتے ہیں اورایک ہی گاڑی میںوہاں سے روانہ ہوتے ہیں
۔
ہم موصوف کی تقریر دل پذیر سن کر حیرت کے سمندر میں غوطے کھانے لگے ۔ سچ پوچھئے تو محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً ہماری بولتی بندہوگئی ۔ موصوف کہتے رہے ۔
لیلائے سیاست کے در تک رسائی حاصل کرنے کے لئے عشاق طرح طرح کی حرکتیں کرتے ہیں ۔مشاعرے سے لے کر مذاکرے تک اور میلاد سے لے کر اکھاڑے تک ہر قسم کی تقریبوں میں شریک ہوتے ہیں اور اپنی موجودگی درج کر واتے ہیں تاکہ ان کی عوامی شبیہ برقرار رہے ۔ وہ قبرستان اورشمشان سے یکساں طورپر دلچسپی لیتے ہیں تاکہ ان کی مذہبی رواداری ، وسیع المشربی اور کشادگیٔ قلب مترشح ہو۔ وہ اپنے علاقے کے ایم ایل اے اور ایم پی کے پیچھے حقہ بر دار بن کر گھومتے ہیں۔ وہ اخبار نویسوں سے سانٹھ گانٹھ کر کے تصویر کھینچواتے ہیں اور اخبار میںاپنا نام شائع کر واتے ہیں ۔ دیکھنے والے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں ۔
عشق لیلائے سیاست نے تو اس مجنون کو
اتنا دوڑایا لنگوٹی کردیا پتلون کو
اور وہ بے چارے اس امید پر جیتے ہیں کہ ایم ایل اے کی کرسی نہ سہی کسی کھادی گرام ادیوگ ، کسی سنی وقف بورڈ یا کسی اکادمی کی چیر مینی یا کم از کم ممبری ہی مل جائے۔
ہم نے کہا۔
حضور ! آپ صحیح فرمارہے ہیں ۔ ہم نے خود اپنی گناہگار آنکھوں سے ایسے کئی نظارے دیکھے ہیں۔ لیکن یہ سمجھ پانے سے قاصر ہیں کہ وہ کیوں کر ایسا کر پاتے ہیں ۔ یقیناً ان کے اندر غیر معمولی صلاحیتیں ہوتی ہوں گی ۔
موصوف نے ہماری پیٹھ ٹھونکتے ہوئے کہا۔
بے شک ! آپ کا اندازہ درست ہے ۔ سیاست داں بننے کے لئے چند اوصاف حمیدہ و خصلت پسندیدہ کا ہونا ضروری ہے ۔
ہم نے پوچھا ۔
مثلا؟
کہنے لگے ۔
ایک کامیاب سیاست داں کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ اس کا جسم تو گرم و خشک رہتاہو مگر دماغ سرد و تر ۔ سیاست ایک ایسامذہب ہے جس میں غصہ حرام ہے ۔ آپ کو برسر عام گالیاں دی جارہی ہیں اور آپ ہیں کہ مسکرائے جارہے ہیں۔ لوگ آپ کے خلاف نعرے لگارہے ہیں اورآپ دونوں ہاتھ جوڑ کر ان کا شکریہ ادا کر رہے ہیں ۔ اگرکوئی آپ کے ایک گال پر چانٹا مارتا ہے تو آپ جھٹ دوسرا گال پیش کر دیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں آج تک گاندھی جی سے بڑاpoliticain پیدا نہیں ہوا۔
ہم نے کہا۔
واہ ! واہ! آپ کے مشاہدے کا جواب نہیں ۔ موصوف نے خوش ہوکر سر خم کیا اور پھر کہنے لگے۔
سیاست داں کا دوسرا بڑا وصف یہ ہے کہ وہ کپڑے اتروانے میں کبھی شرم محسوس نہیں کرتا خواہ وہ شموئل احمد کے افسانے ایڈز کی مسزکمدچگانی کا بیڈ روم ہو یا امریکہ کا کینڈی ایئر پورٹ ۔
اس بار مسکرانے کی باری ہماری تھی۔ ہماری مسکراہٹ شاید انہیں پسند نہ آئی جھنجھلا کر بولے۔
آگے سنئے ، سیاست داں کی تیسری بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ Talentedہو اور اس نے جیل کی ہوا ضرور کھائی ہو۔ کسی نیتا کے لئے یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ وہ کبھی جیل نہ گیا ہو۔ کیس جتنا زیادہ سنگین ہو گا نیتا اتنا ہی قد آور سمجھاجائے گا ۔ حوالہ ،گھوٹا لا، مردڑ ، ریپ وغیرہ تو تھرڈ گریڈ کے نیتاؤں کا مشغلہ ہے ۔اگر کسی نیتا پر فساد کروانے اور عبادت گاہوں کو ڈھانے جیسے الزامات ہوںتو کیا کہنے اور اگر اس پر ملک دشمنی کا الزام ہو تو سونے پہ سہاگہ ۔
ہم اپنے مشیر بے نظیر کی باتیں سن کر کچھ بداحوس تو ضرور ہوئے مگر ہمت یکجا کر کے یوںگویا ہوئے۔
آپ تو یہ سب درجہ اول کے نیتاؤں کی خوبیاںبیان کر رہے ہیں۔5
صف اولین تو ہے خاص صف وہاں پاؤں جائے کہاں شرف
صف آخریںسے بھی دور تک جو نظارا ہو تو وہی سہی
ہم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
دیکھئے ! نام تو ہمارااقبال ہے مگر اقبال مندی تما م تر نیتاؤں اوران کے چمچوں کی حصے میں چلی گئی ہے۔ اس ناچیز کو کوئی ایسا تیر بہدف نسخہ مرحمت فرمائیے کہ لیلائے سیاست ہمارے پہلو میں آجائے اورہم گو ہر مراد حاصل کر کے شاد کام ہوجائیں ۔
موصوف کسی وزیر با تدبیر کی طرح آنکھیں بند کر کے مراقبے میں چلے گئے ۔ چند ساعتوں بعد انہوں نے آنکھیں کھولیں ۔ اٹھے ۔ اندر گئے اورڈاکٹر ہمایوں اشرف کی مرتب کر دہ تصنیف رضانقوی واہی ۔ آئینہ در آئینہ لا کر ہمارے سامنے رکھ دی۔ پھر انہوں نے اس ضخیم کتاب کے صفحے پلٹے اور ایک نظم ہماری آنکھوں کے سامنے کردی۔ عنوان تھا لیڈری کا نسخہ۔ نظم پڑھ کر ہمارے چودہ طبق روشن ہو گئے ۔ اللہ اللہ ! شاعر بھی کیا خوب مخلوق ہے ۔ کسی اہل دانش نے سچ فرمایا ہے کہ شاعری جزو پیغمبری است رفاع عام کیلئے نظم پیش خدمت ہے ۔امید کہ لیڈر بننے کے خوہش مند افراد اس نسخے سے استفادہ فرمائیں گے اورہمیں دعائیں دیںگے اور واہیؔ صاحب کے لئے دعا ئے مغفرت کریں گے ۔ ملاحظہ فرمائیے ۔
وہ لوگ آج کل جنہیں فکر معا ش ہے
آسودگی زیست کی جن کو تلاش ہے
اس کے عوض کہ جا کے کہیں نوکری کریں
واہی کا مشورہ ہے کہ وہ لیڈری کریں
معجو ن لیڈری کا بڑا کامیاب ہے
نسخہ یہ کسب زر کے لئے لا جواب ہے
انمول ہے یہ جنس تجارت کے واسطے
ترکیب لکھ رہاہوں سہولت کے واسطے
ایمان اور ضمیر کو پہلے کھرل کریں
ور اس کے بعد خون حمیت میں حل کر یں
تخم ریا کو عقل کے کانٹے پہ تول لیں
سازش کا زہر شہد فصاحت میںگھول لیں
بادام خلق و پستہ تہذیب پیس لیں
دونوں کو خوب سل پہ شقاوت کے پیس لیں
سچ میں سفید جھوٹ کا پانی ملائیں پھر
حرص وہوس کی آنچ پہ سب کو پکائیں پھر
جو شاندہ جب ابال پہ آئے اتارلیں
اور اس کو پھر دماغ کی بوتل میںگارلیں
قند سیاہ فرقہ پرستی ملائیں پھر
اور کوشش ضعیف کو اپنی کھلائیں پھر
بیمار کو غذائے مقوی بھی چاہئے
مرغ ہوس کی تھوڑی سی یخنی بھی چاہئے
انڈے بھی کچھ حسد کے ہوں لحم خودی کے ساتھ
دونوں کو کھائیں بغض و عداوت کے گھی کے ساتھ
دیکھیں دوا کا معجزہ فضل خدا سے پھر
بیمار نا امید نہ ہوگا شفا سے پھر
ہمت کا خوں رگوں میں اچھلنے لگے گا پھر
عزم ضعیف اٹھ کے ٹہلنے لگے گا پھر
ٹھو کر ے اپنی فتنہ ء محشر جگائے گا
او رملک پر عذاب خدا بن کر چھائے گا
تخم ہوس سماج کو کھیتی میںبوئے گا
طوفان بن کے قوم کا بیڑا ڈبوئے گا
پھر تو قدم کو چومے گا اقبال باربار
قربان اس پہ ہوں گے مہ و سال بار بار
دولت کنیز بن کے خواصی میں آئے گی
لچھمی خود اس کے ماتھے پہ چندن لگائے گی
نظم پڑھ کر ہم نے اپنی سانس کی آمد ورفت کو محسوس کیا اور شکر ادا کیا کہ ابھی در توبہ بند نہیں ہوا ہے۔ ہم نے تو لیلائے سیاست کے کوچے میں قدم رکھنے سے تو بہ کر لی مگر ہماری دلی خواہش ہے کہ ہمارے حلقے کا کوئی جواں مرد اس محشر ساماں اورفتنہ دوراںکو زیر دام کر لے اور فاتحین میں اس کا شمار ہو،تا کہ ہم بھی جناب رضوان احمد کی طرح قومی تنظیم میں ایک کالم لکھ اس سے اپنی قربت کا اعلان کر تے ہوئے اس کی مدح سرائی کر یں او رہوسکتاہے کہ وہ خوش ہو کر کسی ادارے سے میرے مسودے کی اشاعت کے لئے مالی امداد دلوانے کی سبیل پیدا کر دے اورپھر میں اپنی مطبوعہ کتاب کے پیش لفظ میں اس کا شکریہ ادا کروں۔ وہ مزید خوش ہو کر اس کتاب کی سو پچاس کا پیاں سرکاری اداروں میں فروخت کر وادے اورمیںحاصل شدہ رقم سے دوسری کتاب چھپوانے کی سوچ لوں اور یہ سلسلہ یوںہی چلتا رہے لیکن ۔ع
اے بسا آرزو کہ خا ک شدہ
٭٭٭
وہ دن ہواہوئے کہ سیاست حب وطن، خدمت خلق اور ایثار و قربانی سے عبارت ہوا کرتی تھی ۔ زمانے کی ہوا ایسی بدلی کہ ہواؤں میں اُڑنے والوں کی ہوا نکل گئی اورجو کل تک ننگ وطن اور قانون شکن کی حیثیت سے جیل کی ہوا کھاتے تھے وہ ہوا پانی بدلنے کے لئے ہواؤں میں اڑتے ہوئے کسی ہوادار مقام پر چلے جاتے ہیں۔
بہر کیف ! آج کی نیتاؤں کی بلند پروازی ،سماجی حیثیت اور کشادگی ٔ رزق دیکھ کر ہمارے دل میں بیک وقت حسد اور رشک جڑواں بھائی کی طرح پیدا ہوئے اور ہم بھی لیلائے سیاست کی تسخیر کے طریقوں پر غور کر نے لگے مگر چونکہ زمانے سے ہمارے دل کے پاس پاسبان عقل کی جگہ خالی ہے اس لئے ہمارے ذہن میںکوئی ترکیب نہ آسکی ۔ آخرش ہم نے اپنے دیرینہ دوست سے رجوع کر نے کا فیصلہ کیا جو مشورے دینے میںماہرہیں۔ موصوف کا مطالعہ وسیع ، مشاہدہ عمیق اورفکر ونظر غیر معمولی ہے ۔ میری عرض سن کر پہلے تو انہوں نے میری جانب بنظر استعجاب دیکھا اور پھر بولے ۔
! یہ آپ کس کا فر ادا کے چکر میں پڑگئے ۔ آپ شریف آدمی ہیں۔ کیوں مفت میں بدنام ہونے کی سوچ لی ہے ۔ یہ آپ کے بس کی چیز نہیں۔انہی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد۔
موصوف کی بات سن کر ہم سمجھ گئے کہ وہ ہمیں Demoralise کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ہم نے ایک آہ سر د کھینچی اور کہا۔
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا
ہمارے دوست پر غالب کے اس شعر کا کچھ بھی اثر نہ ہوا ۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
جناب ! آپ لیلائے سیاست کی فتنہ سامانیوں سے واقف نہیں۔ لیلائے سیاست کا مجنوں بھی قیس کی مانند کبھی سنگسار ہوتاہے تو کبھی پا بہ زنجیر ، کبھی صحرانوردی پر مجبور ہوتاہے تو کبھی جلاوطن قرار دیا جاتاہے مگر لیلیٰ لیلیٰ پکارنے سے باز نہیں آتا اور ایک عاشق صادق کی مانند اپنے معشوق کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے ہمہ وقت اور ہمہ تن حاضر رہتاہے ۔ لیلا ئے سیاست کبھی پکے نمازیوں کی نماز چھڑ دادیتی ہے تو کبھی بے نمازیوں سے نماز پڑھوادیتی ہے۔ کسی کے سر سے ٹوپی اتار دیتی ہے تو کسی کے سر پر ٹوپی پہنادیتی ہے ۔ یہ اپنے عاشق کو کبھی مزارات پر سجدہ ریز کر دیتی ہے تو کبھی یگیہ میں شامل ہونے کے لئے مجبور بنادیتی ہے ۔ کبھی بائیں بازووالے اشتراکیوں کو عبادت گاہوں میںپہنچادیتی ہے تو کبھی دائیں بازوالے کٹر پنتھیوں کو افطار پارٹی کروادینے پر مجبور کر دیتی ہے ۔ یہ دشمن کو دوست اور دوست کو دشمن یوں بناتی ہے جیسے کبھی کچھ ہواہی نہیں ۔ ویسے بھی سیاست میں نہ مستقل دوستی ہوتی ہے نہ مستقل دشمنی ۔ اور یوں بھی آج کل سمیکرن کا زمانہ ہے۔ کب کون نیتا کس پارٹی میں شامل ہوجائے اور کب کون سی پارٹی کس پارٹی سے تال میل بٹھا لے کہا نہیں جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ذاتی اور نظریاتی یاسیاسی اختلافات کے باوجود مختلف پارٹیوں کے نیتا جب کسی محفل میں یکجا ہوتے ہیں تو ساتھ ساتھ دکھائی دیتے ہیں ۔ایک ہی ٹیبل پر کھانا کھاتے ہیں اورایک ہی گاڑی میںوہاں سے روانہ ہوتے ہیں
۔
ہم موصوف کی تقریر دل پذیر سن کر حیرت کے سمندر میں غوطے کھانے لگے ۔ سچ پوچھئے تو محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً ہماری بولتی بندہوگئی ۔ موصوف کہتے رہے ۔
لیلائے سیاست کے در تک رسائی حاصل کرنے کے لئے عشاق طرح طرح کی حرکتیں کرتے ہیں ۔مشاعرے سے لے کر مذاکرے تک اور میلاد سے لے کر اکھاڑے تک ہر قسم کی تقریبوں میں شریک ہوتے ہیں اور اپنی موجودگی درج کر واتے ہیں تاکہ ان کی عوامی شبیہ برقرار رہے ۔ وہ قبرستان اورشمشان سے یکساں طورپر دلچسپی لیتے ہیں تاکہ ان کی مذہبی رواداری ، وسیع المشربی اور کشادگیٔ قلب مترشح ہو۔ وہ اپنے علاقے کے ایم ایل اے اور ایم پی کے پیچھے حقہ بر دار بن کر گھومتے ہیں۔ وہ اخبار نویسوں سے سانٹھ گانٹھ کر کے تصویر کھینچواتے ہیں اور اخبار میںاپنا نام شائع کر واتے ہیں ۔ دیکھنے والے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں ۔
عشق لیلائے سیاست نے تو اس مجنون کو
اتنا دوڑایا لنگوٹی کردیا پتلون کو
اور وہ بے چارے اس امید پر جیتے ہیں کہ ایم ایل اے کی کرسی نہ سہی کسی کھادی گرام ادیوگ ، کسی سنی وقف بورڈ یا کسی اکادمی کی چیر مینی یا کم از کم ممبری ہی مل جائے۔
ہم نے کہا۔
حضور ! آپ صحیح فرمارہے ہیں ۔ ہم نے خود اپنی گناہگار آنکھوں سے ایسے کئی نظارے دیکھے ہیں۔ لیکن یہ سمجھ پانے سے قاصر ہیں کہ وہ کیوں کر ایسا کر پاتے ہیں ۔ یقیناً ان کے اندر غیر معمولی صلاحیتیں ہوتی ہوں گی ۔
موصوف نے ہماری پیٹھ ٹھونکتے ہوئے کہا۔
بے شک ! آپ کا اندازہ درست ہے ۔ سیاست داں بننے کے لئے چند اوصاف حمیدہ و خصلت پسندیدہ کا ہونا ضروری ہے ۔
ہم نے پوچھا ۔
مثلا؟
کہنے لگے ۔
ایک کامیاب سیاست داں کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ اس کا جسم تو گرم و خشک رہتاہو مگر دماغ سرد و تر ۔ سیاست ایک ایسامذہب ہے جس میں غصہ حرام ہے ۔ آپ کو برسر عام گالیاں دی جارہی ہیں اور آپ ہیں کہ مسکرائے جارہے ہیں۔ لوگ آپ کے خلاف نعرے لگارہے ہیں اورآپ دونوں ہاتھ جوڑ کر ان کا شکریہ ادا کر رہے ہیں ۔ اگرکوئی آپ کے ایک گال پر چانٹا مارتا ہے تو آپ جھٹ دوسرا گال پیش کر دیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں آج تک گاندھی جی سے بڑاpoliticain پیدا نہیں ہوا۔
ہم نے کہا۔
واہ ! واہ! آپ کے مشاہدے کا جواب نہیں ۔ موصوف نے خوش ہوکر سر خم کیا اور پھر کہنے لگے۔
سیاست داں کا دوسرا بڑا وصف یہ ہے کہ وہ کپڑے اتروانے میں کبھی شرم محسوس نہیں کرتا خواہ وہ شموئل احمد کے افسانے ایڈز کی مسزکمدچگانی کا بیڈ روم ہو یا امریکہ کا کینڈی ایئر پورٹ ۔
اس بار مسکرانے کی باری ہماری تھی۔ ہماری مسکراہٹ شاید انہیں پسند نہ آئی جھنجھلا کر بولے۔
آگے سنئے ، سیاست داں کی تیسری بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ Talentedہو اور اس نے جیل کی ہوا ضرور کھائی ہو۔ کسی نیتا کے لئے یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ وہ کبھی جیل نہ گیا ہو۔ کیس جتنا زیادہ سنگین ہو گا نیتا اتنا ہی قد آور سمجھاجائے گا ۔ حوالہ ،گھوٹا لا، مردڑ ، ریپ وغیرہ تو تھرڈ گریڈ کے نیتاؤں کا مشغلہ ہے ۔اگر کسی نیتا پر فساد کروانے اور عبادت گاہوں کو ڈھانے جیسے الزامات ہوںتو کیا کہنے اور اگر اس پر ملک دشمنی کا الزام ہو تو سونے پہ سہاگہ ۔
ہم اپنے مشیر بے نظیر کی باتیں سن کر کچھ بداحوس تو ضرور ہوئے مگر ہمت یکجا کر کے یوںگویا ہوئے۔
آپ تو یہ سب درجہ اول کے نیتاؤں کی خوبیاںبیان کر رہے ہیں۔5
صف اولین تو ہے خاص صف وہاں پاؤں جائے کہاں شرف
صف آخریںسے بھی دور تک جو نظارا ہو تو وہی سہی
ہم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
دیکھئے ! نام تو ہمارااقبال ہے مگر اقبال مندی تما م تر نیتاؤں اوران کے چمچوں کی حصے میں چلی گئی ہے۔ اس ناچیز کو کوئی ایسا تیر بہدف نسخہ مرحمت فرمائیے کہ لیلائے سیاست ہمارے پہلو میں آجائے اورہم گو ہر مراد حاصل کر کے شاد کام ہوجائیں ۔
موصوف کسی وزیر با تدبیر کی طرح آنکھیں بند کر کے مراقبے میں چلے گئے ۔ چند ساعتوں بعد انہوں نے آنکھیں کھولیں ۔ اٹھے ۔ اندر گئے اورڈاکٹر ہمایوں اشرف کی مرتب کر دہ تصنیف رضانقوی واہی ۔ آئینہ در آئینہ لا کر ہمارے سامنے رکھ دی۔ پھر انہوں نے اس ضخیم کتاب کے صفحے پلٹے اور ایک نظم ہماری آنکھوں کے سامنے کردی۔ عنوان تھا لیڈری کا نسخہ۔ نظم پڑھ کر ہمارے چودہ طبق روشن ہو گئے ۔ اللہ اللہ ! شاعر بھی کیا خوب مخلوق ہے ۔ کسی اہل دانش نے سچ فرمایا ہے کہ شاعری جزو پیغمبری است رفاع عام کیلئے نظم پیش خدمت ہے ۔امید کہ لیڈر بننے کے خوہش مند افراد اس نسخے سے استفادہ فرمائیں گے اورہمیں دعائیں دیںگے اور واہیؔ صاحب کے لئے دعا ئے مغفرت کریں گے ۔ ملاحظہ فرمائیے ۔
وہ لوگ آج کل جنہیں فکر معا ش ہے
آسودگی زیست کی جن کو تلاش ہے
اس کے عوض کہ جا کے کہیں نوکری کریں
واہی کا مشورہ ہے کہ وہ لیڈری کریں
معجو ن لیڈری کا بڑا کامیاب ہے
نسخہ یہ کسب زر کے لئے لا جواب ہے
انمول ہے یہ جنس تجارت کے واسطے
ترکیب لکھ رہاہوں سہولت کے واسطے
ایمان اور ضمیر کو پہلے کھرل کریں
ور اس کے بعد خون حمیت میں حل کر یں
تخم ریا کو عقل کے کانٹے پہ تول لیں
سازش کا زہر شہد فصاحت میںگھول لیں
بادام خلق و پستہ تہذیب پیس لیں
دونوں کو خوب سل پہ شقاوت کے پیس لیں
سچ میں سفید جھوٹ کا پانی ملائیں پھر
حرص وہوس کی آنچ پہ سب کو پکائیں پھر
جو شاندہ جب ابال پہ آئے اتارلیں
اور اس کو پھر دماغ کی بوتل میںگارلیں
قند سیاہ فرقہ پرستی ملائیں پھر
اور کوشش ضعیف کو اپنی کھلائیں پھر
بیمار کو غذائے مقوی بھی چاہئے
مرغ ہوس کی تھوڑی سی یخنی بھی چاہئے
انڈے بھی کچھ حسد کے ہوں لحم خودی کے ساتھ
دونوں کو کھائیں بغض و عداوت کے گھی کے ساتھ
دیکھیں دوا کا معجزہ فضل خدا سے پھر
بیمار نا امید نہ ہوگا شفا سے پھر
ہمت کا خوں رگوں میں اچھلنے لگے گا پھر
عزم ضعیف اٹھ کے ٹہلنے لگے گا پھر
ٹھو کر ے اپنی فتنہ ء محشر جگائے گا
او رملک پر عذاب خدا بن کر چھائے گا
تخم ہوس سماج کو کھیتی میںبوئے گا
طوفان بن کے قوم کا بیڑا ڈبوئے گا
پھر تو قدم کو چومے گا اقبال باربار
قربان اس پہ ہوں گے مہ و سال بار بار
دولت کنیز بن کے خواصی میں آئے گی
لچھمی خود اس کے ماتھے پہ چندن لگائے گی
نظم پڑھ کر ہم نے اپنی سانس کی آمد ورفت کو محسوس کیا اور شکر ادا کیا کہ ابھی در توبہ بند نہیں ہوا ہے۔ ہم نے تو لیلائے سیاست کے کوچے میں قدم رکھنے سے تو بہ کر لی مگر ہماری دلی خواہش ہے کہ ہمارے حلقے کا کوئی جواں مرد اس محشر ساماں اورفتنہ دوراںکو زیر دام کر لے اور فاتحین میں اس کا شمار ہو،تا کہ ہم بھی جناب رضوان احمد کی طرح قومی تنظیم میں ایک کالم لکھ اس سے اپنی قربت کا اعلان کر تے ہوئے اس کی مدح سرائی کر یں او رہوسکتاہے کہ وہ خوش ہو کر کسی ادارے سے میرے مسودے کی اشاعت کے لئے مالی امداد دلوانے کی سبیل پیدا کر دے اورپھر میں اپنی مطبوعہ کتاب کے پیش لفظ میں اس کا شکریہ ادا کروں۔ وہ مزید خوش ہو کر اس کتاب کی سو پچاس کا پیاں سرکاری اداروں میں فروخت کر وادے اورمیںحاصل شدہ رقم سے دوسری کتاب چھپوانے کی سوچ لوں اور یہ سلسلہ یوںہی چلتا رہے لیکن ۔ع
اے بسا آرزو کہ خا ک شدہ
٭٭٭
واہ ، بہت عمدہ
ReplyDeleteرحمان حفیظ