محمد ظہیر بدر
یہ تو طے ہے کہ جب انسان اس دنیا میں آ تا ہے تو رو کر اپنے آنے اور ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ انسان کے اس فطری عمل کی فلاسفروں حکیموں اور اہل ادب نے اپنے اپنے خیال اور سوچ کے مطابق کئی توجیہات پیش کی ہیں۔ حضرت سعدی نے تو اس کے ساتھ منشور حیات وابستہ کر دیا ہے145 کہتے ہیں 146146جب تو اس دنیا میںآیا تھا تو رو رہا تھا ہم خوش تھے145 زندگی اس طرح بسر کر کہ جب تو اس دنیا سے رخصت ہو تو ہنس رہا ہو اور ہم سب رو رہے ہوں۔145145 کسی کا خیال ہے کہ دنیا میں آنے کو کسی کا جی نہیں کرتا کیونکہ یہ جگہ ہی ایسی ہے۔ یہاں دکھ ہی دکھ ہیں اسی لئے رونے کا عمل انسان کی سرشت میں داخل کیا گیا تا کہ وہ دکھ جھیلنے کے قابل رہ سکے۔ ورنہ عین ممکن ہے کہ دکھوں کا پہلا ہلہ ہی اس کا انجام بن جائے اور وہ اپنی سرشت کے دیگر عوامل کو کام ہی میں نہ لا سکے۔ یہی باعث ہے کہ انسان کو جینا پڑتا ہے۔ جینا اس کے لئے فرض ہے اور اس کے وجود پر قرض ہے۔ نفی ذات کی صورت میں ادا کرنا پڑتا ہے۔ نفی ذات کا آخری مرحلہ حالت نزع کی صورت نمودار ہوتا ہے۔ صاحب لوگ اس کٹھن مرحلے کی تیاری پہلے ہی کر لیتے ہیں۔ زندگی کو فرمان الٰہی کا مظہر بنا لیتے ہیں۔ اپنی مرضی کو اس کی رضا پر قربان کر دیتے ہیں۔ مرنے سے پہلے مرنے کی مشق کرتے رہتے ہیں اور گنے چنے دنوں کے اس کھیل میں کھونے کی بجائے خود کو پانے کے عمل میں سرگرداں رہتے ہیں۔ بیشک قرآن صحیح کہتا ہے یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں145 بقا پانے والے ہیں مگر ادھر صورت حال یہ ہے کہ میں بھی گذشتہ کئی سالوں سے اپنی تلاش کے سفر پر ہوں۔ یہ سلسلہ کب اور کیوں آغاز ہوا کسی معین لمحے یا وقت کا تو اندازہ ہیں البتہ اتنا یاد ہے کہ مجھے چیزیں رکھ کر بھول جانے کی عادت ہے۔ ایک ضعیف سا خیال ہے یا مہین سا احتمال ہے کہ میں خود کو بھی کہیں رکھ کر بھول چکا ہوں۔ کب145 کہاں اور کیوں؟ کچھ یاد نہیں لوگ کہتے ہیں تمہاری یادداشت کمزور ہے جس کے نتیجے میں میں تمہیں رکھی ہوئی چیزیں یاد نہیں رہتیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ پھر مجھے بھولی ہوئی چیزیں کیونکر یاد رہتی ہیں۔ بہرحال میں نے اس بارے میں سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے البتہ اپنی تلاش کا عمل جاری و ساری ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے کئی بند گلیاں پھری ہیں مگر یہاں جب بھی قیام یا مراقبے کا ارادہ کیا میرا دم گھٹنے لگا اور میں موت کے خوف سے گھبرا کر سابقہ145 عام ڈگر پر لوٹ آیا مگر طبع روا ں کی سیمابیاں سستانے بھی نہیں دیتی۔ کھوئے ہوئے یاد آنے لگتے ہیں۔
کوئی اجنبی منظر دیکھ کر اکثر یہی کیفیت ہوتی ہے جیسے بعض لوگوں کو پہلی دفعہ دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے میں جانتا تھا اسے پہلی بار سے پہلے یوں لگتا ہے یہ منظر میرا دیکھا بھالا ہے اس بارے میری تکرار اور میرا اصرار لوگوں کی نظرمیں میری ذہنی حالت کو مشکوک بنا دیتا ہے چنانچہ میں چپ ہو جاتا ہوں۔ البتہ اس حالت میں مجھ پر نامی گرامی شعراء کے ادق اور ثقیل اشعار کے نئے نئے مفاہیم اترنے لگتے ہیں۔ تھوڑی دیر کے لئے میں ناسٹلجیا یا فاتر العقل افکار سے پرے ہو جاتا ہوں ۔ پھر نجانے کونسی انجانی قوت مجھے معرفت اور عرفان کائنات کے لامتناہی سفر پر رواہ کر دیتی ہے۔ میں رومی و سعدی اور حافظ شیراز سے ہوتا ہوا خواجہ احمد جامی تک پہنچتا ہوں کشتگان خنجر تسلیم را ہر زماں از غیب جان دیگر است ۔۔۔او میرے اللہ! یہ کس عذاب میں گھر گیا ہوں145 میں کس سراب میں پھنس گیا ہوں۔ پھر سنبھلتا ہوں کہ رومیؔ کے ہونہار اور ہوشمند مفسر اور عارف اقبال کے در پر دستک دیتا ہوں۔ مگر یہ فرزاہ بھی تکمیل ذات کے بعد اس حویلی کا 146146کنڈا مار145145 کر زمانوں کی سیر کو نکل چکا ہے۔ یہ سب میرے ساتھ کیونکر چل سکتے ہیں۔ میں تنہائی کی پہنائیوں سے ڈرتا145 ہونی انہونی کے خوف میں مبتلا145بالآخر آسمانی کتابوں کی طرف رجوع کرتا ہوں مگر استدلال یہ کہ سب میں تحریف ہو چکی ہے ماسوائے آخری کے۔چنانچہ آخری کتاب کا پہلا صفحہ ہی مجھ پر کپکپی طاری کر دیتا ہے۔ ہدی للمتقین۔۔۔ یہ تو متقیوں کی ہدایت کے لئے ہے۔میں۔۔۔میں متقی ہوں؟میں متقی ہوں؟ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں ۔ہم نماز میں ہر رکعت میں دعا مانگتے ہیں ۔ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔تجھ سے مدد مانگتے ہیں ۔ہمیں سیدھے راستے پر چلا جو تیرے انعام یافتگان کا راستہ ہے۔ہمیں اس راستے سے محفوظ فرما جس پر چلنے والوں پر تیرا غضب ہواکرتا ہے۔ اگر ہم کسی سے کچھ مانگنے کے باوجود نہ ملنے کی دو وجوہ ہوتی ہیں ۔یا تو وہ چیز اس کے پاس نہیں ہوتی یا کوئی ناراضی کی وجہ سے اس سے بے اعتنائی سے اغماض برتتا ہے۔مگر اللہ کے پاس تو سب کچھ ہے ۔وہ ناراض بھی ہوتا ہے تو مان بھی جاتا ہے۔ہر بچہ اللہ کی فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے ۔بچے کی طرح اللہ بھی تو فوراً خوش ہو جاتا ہے ۔ایک پتھر راستے سے اٹھا کر ادھر کردو تو وہ خوش ہو جاتا ہے۔ماں باپ کی طرف مسکرا کر پیار سے دیکھو تو وہ خوش ہو جاتا ہے ۔کسی کی فریاد سنو ، داد رسی کرو خوش ہو جاتا ہے۔پھر وہ خوش کیوں نہیں ہوتا ۔سو دے کر ڈھائی لے کر خوش ہو جاتا ہے۔راضی ہو جاتا ہے ۔وہ راضی کیوں نہیں ہوتا۔اگر وہ راضی ہے تو ہدایت کیوں نہیں دیتا ۔
اس کے پاس کیا کمی ہے۔کمی ہے تومیرے پاس۔میری کمی کون پوری کرے گا۔میری کمی وہ کیوں نہیں پوری کرتا ۔مجھے کیوں امتحان میں ڈالتا ہے ۔اس سے زیادہ مجھے کون جانتا ہے ۔اسے نہیں پتہ کہ میں اس کے امتحان میں پورا نہیں اتر سکتا،اس کی مدد کے بغیر، وہ میری مدد کیوں نہیں کرتا۔مجھے کیوں توفیق نہیں دیتا۔مجھے ہمت کیوں نہیں دیتا۔مجھے خطا اور نسیان کا مرکب بنا کر میری بھول چوک اور خطاؤں کو معاف کیوں نہیں کرتا۔اور اگر معاف کر دیتا ہے تو مجھے احساس کیوں نہیں ہوتا۔ مجھے کیا پتہ مجھے کیا خبر کہ میں کون ہوں کیہ جاناں میں کون۔۔۔ اقبالؔ کہتے ہیں کہ اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی پا لے مگر مجھے نہ تو اپنے من میں ڈوبنا ہے نہ ی زندگی کا سراغ لگانا ہے اور نہ ہی اپنا بننا ہے۔ مجھے تو اپنی ذات و شناخت کا عرفان چاہیے مگر ہر وہ شخص جو معانقہ یا مصافحہ کرتا ہے۔ اپنی شناخت کرواتا ہے بتاتا ہے کہ وہ کون ہے اور جو الجھتا ہے وہ پوچھتا ہے تم کون ہو؟ کوئی نہیں بتاتا کہ میں کون ہوں! ٹوٹے ہوئے یقین کی کرچیان چن چن کر میرا احساس لہو لہو ہو چکا ہے۔ ہر آنے والے لمحے کے ہاتھ میں فنا کی دستاویز ہے۔ بقا کیا ہے؟ شعور ذات145 عرفان ذات تحلیل نفسی145 ضبط نفس اور مقام بندگی۔ میرے لئے یہ سب الفاظ ہیں محض الفاظ145 جن سے نقاد محققین اور مفسرین اپنی تحریر و تقریر کو پر مغز145 مدلل اور معتبر بنانے کا کام لیتے ہیں اور عوام و خواص کو علم و حکمت سے مسرور اور متاثر کرتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس نے خود کو پہچانا اپنے رب کو پہچانا۔ مگر خود کو کیسے پہچانوں؟ رب کو پہچاننے کے لئے تو کائنات آیات اللہ سے معمور ہے مگر مسئلہ تو میری کھوئی ذات کا ہے۔ میں کہاں کھو گیا ہو145 کتنا کھو گیا ہوں! ! یہاں تک کہ مجھے آئینے کے روبرو بھی اپنا آپ دکھائی نہیں دیتا۔ میں جب بھی آئینے کے روبرو ہوتا ہوں تو وہاں ایک عجیب فیشن ایبل شخص اپنے آپ سے بیگانہ ہو کر میری نقل اتار رہا ہوتا ہے۔ میں گھبرا کر رشیوں145 صوفیوں کا دامن کھنگالتاہوں مگر جبر و قدر145 من و تو اور وجود و شہود کے مباحث میں الجھ کر رہ جاتا ہوں اور عقدہ تشنہ بکشارہ جاتا ہے۔ 146146میں کون ہوں145 کیا ہوں اور کیوں ہوں145145 ایک ویران اور تنہا رات کی تاریکی میں میں خود کلامی کر رہا تھا کہ ایک آوارہ لمحہ میرے کان میں یہ سرگوشی کر کے گزر گیا۔ 146146تسلیم کرو اور مزے کر
کوئی اجنبی منظر دیکھ کر اکثر یہی کیفیت ہوتی ہے جیسے بعض لوگوں کو پہلی دفعہ دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے میں جانتا تھا اسے پہلی بار سے پہلے یوں لگتا ہے یہ منظر میرا دیکھا بھالا ہے اس بارے میری تکرار اور میرا اصرار لوگوں کی نظرمیں میری ذہنی حالت کو مشکوک بنا دیتا ہے چنانچہ میں چپ ہو جاتا ہوں۔ البتہ اس حالت میں مجھ پر نامی گرامی شعراء کے ادق اور ثقیل اشعار کے نئے نئے مفاہیم اترنے لگتے ہیں۔ تھوڑی دیر کے لئے میں ناسٹلجیا یا فاتر العقل افکار سے پرے ہو جاتا ہوں ۔ پھر نجانے کونسی انجانی قوت مجھے معرفت اور عرفان کائنات کے لامتناہی سفر پر رواہ کر دیتی ہے۔ میں رومی و سعدی اور حافظ شیراز سے ہوتا ہوا خواجہ احمد جامی تک پہنچتا ہوں کشتگان خنجر تسلیم را ہر زماں از غیب جان دیگر است ۔۔۔او میرے اللہ! یہ کس عذاب میں گھر گیا ہوں145 میں کس سراب میں پھنس گیا ہوں۔ پھر سنبھلتا ہوں کہ رومیؔ کے ہونہار اور ہوشمند مفسر اور عارف اقبال کے در پر دستک دیتا ہوں۔ مگر یہ فرزاہ بھی تکمیل ذات کے بعد اس حویلی کا 146146کنڈا مار145145 کر زمانوں کی سیر کو نکل چکا ہے۔ یہ سب میرے ساتھ کیونکر چل سکتے ہیں۔ میں تنہائی کی پہنائیوں سے ڈرتا145 ہونی انہونی کے خوف میں مبتلا145بالآخر آسمانی کتابوں کی طرف رجوع کرتا ہوں مگر استدلال یہ کہ سب میں تحریف ہو چکی ہے ماسوائے آخری کے۔چنانچہ آخری کتاب کا پہلا صفحہ ہی مجھ پر کپکپی طاری کر دیتا ہے۔ ہدی للمتقین۔۔۔ یہ تو متقیوں کی ہدایت کے لئے ہے۔میں۔۔۔میں متقی ہوں؟میں متقی ہوں؟ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں ۔ہم نماز میں ہر رکعت میں دعا مانگتے ہیں ۔ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔تجھ سے مدد مانگتے ہیں ۔ہمیں سیدھے راستے پر چلا جو تیرے انعام یافتگان کا راستہ ہے۔ہمیں اس راستے سے محفوظ فرما جس پر چلنے والوں پر تیرا غضب ہواکرتا ہے۔ اگر ہم کسی سے کچھ مانگنے کے باوجود نہ ملنے کی دو وجوہ ہوتی ہیں ۔یا تو وہ چیز اس کے پاس نہیں ہوتی یا کوئی ناراضی کی وجہ سے اس سے بے اعتنائی سے اغماض برتتا ہے۔مگر اللہ کے پاس تو سب کچھ ہے ۔وہ ناراض بھی ہوتا ہے تو مان بھی جاتا ہے۔ہر بچہ اللہ کی فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے ۔بچے کی طرح اللہ بھی تو فوراً خوش ہو جاتا ہے ۔ایک پتھر راستے سے اٹھا کر ادھر کردو تو وہ خوش ہو جاتا ہے۔ماں باپ کی طرف مسکرا کر پیار سے دیکھو تو وہ خوش ہو جاتا ہے ۔کسی کی فریاد سنو ، داد رسی کرو خوش ہو جاتا ہے۔پھر وہ خوش کیوں نہیں ہوتا ۔سو دے کر ڈھائی لے کر خوش ہو جاتا ہے۔راضی ہو جاتا ہے ۔وہ راضی کیوں نہیں ہوتا۔اگر وہ راضی ہے تو ہدایت کیوں نہیں دیتا ۔
اس کے پاس کیا کمی ہے۔کمی ہے تومیرے پاس۔میری کمی کون پوری کرے گا۔میری کمی وہ کیوں نہیں پوری کرتا ۔مجھے کیوں امتحان میں ڈالتا ہے ۔اس سے زیادہ مجھے کون جانتا ہے ۔اسے نہیں پتہ کہ میں اس کے امتحان میں پورا نہیں اتر سکتا،اس کی مدد کے بغیر، وہ میری مدد کیوں نہیں کرتا۔مجھے کیوں توفیق نہیں دیتا۔مجھے ہمت کیوں نہیں دیتا۔مجھے خطا اور نسیان کا مرکب بنا کر میری بھول چوک اور خطاؤں کو معاف کیوں نہیں کرتا۔اور اگر معاف کر دیتا ہے تو مجھے احساس کیوں نہیں ہوتا۔ مجھے کیا پتہ مجھے کیا خبر کہ میں کون ہوں کیہ جاناں میں کون۔۔۔ اقبالؔ کہتے ہیں کہ اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی پا لے مگر مجھے نہ تو اپنے من میں ڈوبنا ہے نہ ی زندگی کا سراغ لگانا ہے اور نہ ہی اپنا بننا ہے۔ مجھے تو اپنی ذات و شناخت کا عرفان چاہیے مگر ہر وہ شخص جو معانقہ یا مصافحہ کرتا ہے۔ اپنی شناخت کرواتا ہے بتاتا ہے کہ وہ کون ہے اور جو الجھتا ہے وہ پوچھتا ہے تم کون ہو؟ کوئی نہیں بتاتا کہ میں کون ہوں! ٹوٹے ہوئے یقین کی کرچیان چن چن کر میرا احساس لہو لہو ہو چکا ہے۔ ہر آنے والے لمحے کے ہاتھ میں فنا کی دستاویز ہے۔ بقا کیا ہے؟ شعور ذات145 عرفان ذات تحلیل نفسی145 ضبط نفس اور مقام بندگی۔ میرے لئے یہ سب الفاظ ہیں محض الفاظ145 جن سے نقاد محققین اور مفسرین اپنی تحریر و تقریر کو پر مغز145 مدلل اور معتبر بنانے کا کام لیتے ہیں اور عوام و خواص کو علم و حکمت سے مسرور اور متاثر کرتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس نے خود کو پہچانا اپنے رب کو پہچانا۔ مگر خود کو کیسے پہچانوں؟ رب کو پہچاننے کے لئے تو کائنات آیات اللہ سے معمور ہے مگر مسئلہ تو میری کھوئی ذات کا ہے۔ میں کہاں کھو گیا ہو145 کتنا کھو گیا ہوں! ! یہاں تک کہ مجھے آئینے کے روبرو بھی اپنا آپ دکھائی نہیں دیتا۔ میں جب بھی آئینے کے روبرو ہوتا ہوں تو وہاں ایک عجیب فیشن ایبل شخص اپنے آپ سے بیگانہ ہو کر میری نقل اتار رہا ہوتا ہے۔ میں گھبرا کر رشیوں145 صوفیوں کا دامن کھنگالتاہوں مگر جبر و قدر145 من و تو اور وجود و شہود کے مباحث میں الجھ کر رہ جاتا ہوں اور عقدہ تشنہ بکشارہ جاتا ہے۔ 146146میں کون ہوں145 کیا ہوں اور کیوں ہوں145145 ایک ویران اور تنہا رات کی تاریکی میں میں خود کلامی کر رہا تھا کہ ایک آوارہ لمحہ میرے کان میں یہ سرگوشی کر کے گزر گیا۔ 146146تسلیم کرو اور مزے کر
No comments:
Post a Comment
از راہ کرم کوشش کیجئے کہ اردو زبان میں اپنی رائے کا اظہار کریں اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو کی سہولت موجود نہیں بھی ہے تو آپ کسی بھی اردو ایڈیٹر مثلاٰ
www.urdueditor.com
پر جاکر اردو میں ٹائپ کر کے یہاں چسپاں کر سکتے ہیں۔