December 31, 2011

December 30, 2011

آخری کوشش

ٹکٹ بابو نے گيٹ پر گھسيٹے کو روک کر کہا:
ٹکٹ؟
گھسيٹے نے گھگھا کر بابو کي طرف ديکھا ، انہوں نے ماں کي گالي دے کراسے پھاٹک کے باہر ڈھکيل ديا، ايسے بھک منگوں کے ساتھ جب بلا ٹکٹ سفر کريں اور کيا ہي کيا جاسکتا ہے؟
گھسيٹے نے اسٹيشن سے باہر نکل کر اطمينان کي سانس لي کہ خدا خدا کرکے سفر ختم ہوگيا، راستہ بھر ٹکٹ بابوئوں کي گاليان سنيں، ٹھوکريں سہيں، بيسيوں بار ريل سے اتارا گيا، ايک اسٹيشن سے دوسرے اسٹيشن پيدل بھي چلنا پڑا۔
 ايک دن کے سفر ميں بائين دن لگے مگر ان باتوں سے کيا؟ کسي نہ کسي طرح اپنے وطن پہنچ تو گئے؟وطن پچيس برس کے بعد، ہاں پچيس ہي برس تو ہوئے جب ميں کلکتہ پہنچا تو کالي مل کھلي تھي، اور اب لوگ کہتے ہيں اس کو کھلے پچيس سال سے زيادہ ہو چکے ہيں۔
 آگئے وطن ہاں اب اب فاصلہ ہي کيا ہے، اگر غلطي نہيں کرتي ہے تو وھ کوس کا کچا راستہ اور دو گھنٹہ کي بات ہے، اپنا گھر اپنے لوگ، وہ تعمتيں جن کا پچيس سال سے مزا نہيں چکھا ہے کلکتہ ميں گھر کے نام کو سڑک تھي، يا دکانوں کے تختے يا پھر شہر سے ميلوں دور ٹھيکہ دار کي جھونپڑياں جس کي زمين پر اتنے آدمي ہوتے تھے کہ کروٹ لينے کي جگہ نہ ملتے تھي، رہے اپنے لوگ سو وہاں کون اپنا تھا؟
سب غرض کے بندے، بے ايمان، حرام زادے، ايک وہ سالا بھوندو اور دوسرا تھا بھورا اور وھ ڈائن بھنگوي جو خونچے کي ساري آمدني کھاگئي، وہ ملوں کے مزدور، بھائي بھائي ہيں مگر مزدوري کا موقع آيا ہر ايک کو اپني اپني پڑ گئي، جہاں جائو کوئي دوسرا مزدور سفارش لئے موجود يہاں سفارش کرنے والا کون تھا؟
 جب جيلر نے آکر مجھے حکم سنايا ہے کہ تيري معياد ختم، تو آنکھوں سے نہ جانے کيوں آنسو نکل آئے، بس ايکدم سے گھر کي ياد آئي، گھر کيا چيز ہے؟
گھسيٹے کو يقين تھا پچيس سال کي تھکي ماندي آتما کو گھر پہنچتے ہي سکھ مل جائے گا اور گھر اب قريب تھا، اسٹيشن سے کچھ دور آکر گھسيٹے بھونچکا ساراہ گيا، يہاں کي دنيا ہي اب اور تھي، کھتيوں اور باغوں کي جگہ ايک شکر مل تھي، کچي سڑکي کي جگہ اب پکي سڑک تھي اور اس کے برابر مل تک ريل کي پٹرياں نظر آتي تھي، سڑک خوب آباد تھي۔
 مزدوروں کے بہت سے چھوٹے چھوٹے غول آجا رہے تھے، اتني دير ميں کئي موٹريں فراٹے بھرتي نکل گئي تھيں، ايک مال گاڑي چھک چھک کرتي جارہي تھي غرض کہ خغرافيہ اتنا بدل گيا، کہ راستہ  پہچاننا بس سے باہر تھا ليکن،  پھر بھي گھسيٹے کا دل اس بات پر راضي نہ ہوا کہ ميں اپنے اسٹيشن پر اتر کر اپنے ہي قصبہ کا راستہ پوچھوں، يہ آپ ہي آپ ايک طرف مڑ گيا، تھوڑي دور جا کر جب مل کي حديں ختم ہونے لگيں اور اوکھ کے کھيت اور باغوں کا سلسلہ آگيا تب اس کے دل نے دھڑک کہ کہا ميرا راستہ ٹھيک نہيں۔
ڈيڑھ کوس چلنے کے بعد اپنے قصبے کے تاڑ دکھائي دينے لگے، ذرا اور چل کر شاہي زمانے کي ايک توٹي ہوئي مسجد ملي جس کا ايک مينار تو ناچتي ہوئي بيلوں سے منڈھا اور جنگلي کبوتروں سے آباد تھا اور دوسراتقريبا مسلم زمين پر ليٹا کائي کي مخمليں چادر اوڑھے  تھا، اس پر نظر پڑنا تھي، کہ بچپن کي بہت سي چھوٹي چھوٹي ياديں جو کب کي بھول چکي تھي۔
 پچيس برسوں کے بھاري بوجھ کے نيچے اکدم پھڑ پھڑ کر تڑپ کر نکل آئيں اور کم سن ديہاتي چھوکريوں کي طرح سامنے اچکنے کودنے لگيں، وہ زمانہ آنکھوں کے سامنے پھر آگيا، جب اس مسجد کے گرد پاني بھر جاتا اور گائوں بھر کے لونڈے ننگے اس ميں نہاتے تھے، اس وقت بھي يہ کھڑا مينار يوں ہي کھڑا تھا اور ليٹا مينار يوں ہي ليٹا تھا۔
آگے چل کر گر برگد کا درخت  ملا يہ وہ جگہ تھي جہاں ہيرا، بقائي، بلاقي تينوا، نيولا، سورج، بلي اور وہ کنوا سالا کيا نام تھا اس کا ور کون کون ساري کي ساري ٹولي جمع ہوتي تھي، اور دن دن بھر سيار مار ڈنڈا اڑا کرتا تھا، وہ گڑھيا کے اس پار امرود کا ايک باغ تھا، اس پر کبھي کبھي لونڈا ڈا کہ پڑتا تھا، لونڈے گھس کر اور چپکے چپکے کچے امرود نوچ نوچ کر جيبوں ميں بھرنے لگے، رکھوالا ماں بہن کي سناتا دوڑتا ہوا آتا آنا فانن سب ہوا ہوگئے۔
  ايک بار ايسا ہوا کہ لونڈے امرود کھسوٹ رہے تھے، کہ ادھر سے ايک فقيرني نکل آئي جو منما منما کر گارہي تھي کچھ لونڈو کو شرارت سوجھي، وہ چڑيل چڑيل چلا کر بھاگے، پھر کيا تھا، سب سر پر پائوں رکھ کر بہاگے، بلاقي رہ گيا، ارے ڈر کے مارے اسکي جو گھگھي بندھي ہے اور جو لگا ہے فقيرني کے سامنے ہاتھ جوڑنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھيسٹے يہ ياد کر بے اختيار ہنس پڑا۔

کفن

جھونپڑے کے دروازے پر باپ اور بيٹا دنوں ايک بجھے ہوئے الائو کے سامنے خاموش بيٹھے ہوئے تھے اور اندر بيٹے کي نوجوان بيوي بدھيا درد سے زدہ بچھاڑيں کھا رہي تھي، اور رہ رہ کر اس کے منہ سے اس دل خراش صدا نکلتي تھي کہ دونوں کليجہ تھام ليتے تھے، جاڑوں کي رات تھي فضا سناٹے ميں غرق سارا گائوں تاريکي ميں جذب ہوگيا تھا، گھيسو نے کہا معلوم ہوتا ہے بچے گي نہيں سارا دن تڑپتے ہوگيا جا ديکھ تو آمادھو درد ناک لہجے ميں بولا مرنا ہےتو جلدي مر کيوں نہيں جاتي ديکھ کر کيا آئو؟ تو بڑا بے درد بے سال بھر جس کے ساتھ جندگاني کا سکھ بھوگا اس کے ساتھ اتني بے وپائي، تو مجھے سے تو اس کا تڑپنا اور ہاتھ پائوں پنکنا نہيں ديکھ جاتا، چماروں کا کنبہ تھا اور سارے گائوں ميں بدنام، گھسيو ايک دن کام کرتا تو تين دن آرام کرتا، مادھو اتنا کام چور تھا کہ گھنٹہ بھر کام کرتا تو گھنٹہ بھر چلم پيتا، اس لئے انہيں کوئي رکھتا ہي نہيں تھا، گھر ميں مٹھي بھر اناج ہو تو ان کيلئے کام کرنے کي قسم تھي۔
جب دو ايک وقت کے فاقے ہوجاتے تو گھيسو درختوں پر چڑھ کت لکڑياں توڑ لاتا اور مادھو بازار ميں اس کو بيچ آتا اور جب تک وہ پيسے رہتے دنوں ادھر ادھر مارے مارے پھرتے، جب فاقے کي نوبت آجاتي تو پھر لکڑياں توڑتے يا کوئي اور مزدوري تلاش کرتے، گائوں ميں کام کي کمي نہ تھي، کاشتکاروں کا گائوں تھا۔
محنتي آدمي کيلئے چار پچاس کام تھے، مگر ان دنوں کو لوگ اسي وقت بلاتے جب آدميوں سے ايک کا کام پاکر بھي قناعت کرلينے کے سوا اور کوئي چارہ نہ ہوتا، کاش دونوں سادھوں ہوتے تو انہيں قناعت اور توکل کيلئے ضبط نفس کي مطلق ضرورت نہ ہوتي، يہ ان کي خلقي صفت تھي، عجيب زندگي تھي ان لوگوں کي گھر ميں مٹي کے دو چار برتنوں کے سوا کوئي اثاثہ نہيں، پھٹے چھتيڑوں سے اپني عرياني ڈھانکے ہوئے دنيا مکروں سے آزاد قرض سے لدے ہوئے، گالياں بھي کھاتے تھے مگر کوئي غم نہيں۔
مسکين اتنےکہ وصول کي مطلق اميد نہ ہونے پر بھي لوگ کچھ نہ کچھ قرض دے ديتے تھے، مٹريا آلو کي فصل ميں کھيتوں سے مڑ يا آلو اکھاڑ لاتے اور بھون بھون کر کھاتے يا ديں پانچ دس اوکھ توڑ لاتے اور راتوں کو چوستے گھسيو نے اسي زاہدانہ اداز سے ساتھ سال کي عمر کاٹ لي اور مادھو بھي سعادت مند بيٹے کي طرح اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتا رہا تھا، بلکہ اس کا نام اور بھي روشن کر رہا تھا، اس وقت بھي دونوں الائو کے سامنے بيٹھے آلو بھون رہے تھے، جو کسي کے کھيت سے کھود کر لائے تھے۔
گھيسو کي بيوي کا تو مدت ہوئے انتقال ہوگيا تھا، مادھو کي شادي پچھلے سال ہوئي تھي، جب سے عورت آئي تھي اس نے اس خاندان ميں تمدن کي بنياد ڈالي تھي، پسائي کرکے گھاس چھيل کر دو سير بھر آٹے کا بھي انتظام کر ليتي اور ان دونوں بے غيرتوں کا دوزخ بھرتي تھي، جب سے وہ آئي يہ دونوں اور بھي آرام طلب اور السي ہوگئے تھے، بلکہ اکڑنے بھي لگے تھے، کوئي کام سے بلا تو بے نيازي سے دو گئي مزدوري مانگتے، وہي عورت آج صبح سے دردزہ سے مررہي تھي، اور يہ دونوں انتظار کررہے تھے کہ مرجائے تو آرام سے سوجائيں، گھيسو نے آلو نکلا کر چھيلتے ہوئے کہا، جاکر ديکھ تو کيا حالت ہے اس کي پڑيل کي پھساد ہوگا، اور کيا يہاں تو اوجھا بھي ايک روپيہ مانگتا ہے کہ کس کے گھر سے آئے؟ مادھو کو انديشہ تھا کہ وہ کوٹھري ميں گيا تو گھيسو آلوں کا بڑا حصہ صاف کردے گا، بولا مجھے وہاں ڈر لگتا ہے۔

آپا

جب کبھي بيٹھے بٹھائے مجھے آپا کي ياد آتي ہے تو ميري آنکھوں کے آگے ايک چھوٹا سا بلوريں ديا آجاتا ہے جو مدھم ہوا سے جل رہا ہو۔

مجھے ياد ہے کہ ايک رات ہم سب چپ چاپ باورچي خانے ميں بيٹھے تھے، ميں آپا اور امي جان کہ چھوٹا بدد بھاگتا ہوا آيا ان دنوں بدو يہي چھ سات سال کا ہوگا، کہنے لگا امي جان ميں بھي بياہ کروں گا۔
اوہ ابھي سے اماں نے مسکراتے ہوئے کہا، پھر کہنے لگيں۔
اچھا بدو تمہارا بياہ آپا سے کرديں؟
انہوں نے بدو سے سر ہلاتےہوئے کہا۔
اماں کہنے لگيں، کيوں آپا کو کيا ہے؟
ہم تو چھا جو باجي سے بياہ کريں گے بدو نے آنکھيں چمکاتے ہوئے کہا۔
اماں نے آپا کي طرف مسکراتے ہوئے ديکھا اور کہنے لگيں کيوں ديکھو تو آپا کيسي اچھي ہيں۔
ميں بتائوں کيسي ہيں؟ وہ چلايا
ہاں بتائوں تو بلا ماں نے پوچھا بدو نے آنکھيں اٹھا کر چاروں طرف ديکھا جيسے کچھ ڈھونڈ رہا ہو، پھر اس کي نگاہ چولہے پر آکر رکي، چولہے پر اپلے کا ايک جلا ہوا ٹکڑا تھا، بدو نے اس کي طرف اشارہ کيا اور بولا ايسي پھر بجلي کے روشن بلب کي طرف اشارہ کيا اور چیخنے لگا، اور چھا جو باجي ايسي اس بات پر ہم سب دير تک ہنستے رہے اتنے ميں تصديق بھائي آگئے اماں کہنے لگي تصديق بدو سے پوچھ تو آپا کيسي ہي، آپا نے تصديق بھائي کو آتے ديکھا تو منہ موڑ کر يوں بيٹھ گئي جيسے ہنڈيا پکانے ميں منہمک ہو۔
ہاں تو کيسي ہے آپا بدو وہ بولے بتائو، بدو چلابيا اور اس نے اپنے کا ٹکڑا اٹھانے کيلئے ہاتھ بڑھايا غالبا وہ اسے ہاتھ ميں لے کر ہميں ديکھانا چاہتا تھا مگر آپا نے جھٹ اس کا ہاتھ پکڑ ليا اور انگلي ہلاتے ہوئے بولي اونہہ بدو رونے لگا تو اماں کہنے لگيں، پگلے اس ہاتھ ميں نہيں اٹھاتے اس ميں چنگاري ہے، وہ تو جلا ہوا ہے بدو بسورتنے ہوئے کہا، اماں نے جواب ديا ميرے لال تمہيں معلوم نہيں اس کے اندر آگ ہے، اوپر نہيں دکھائي ديتي بدو نے بھولے پن سے پوچھا کيوں آپا اس ميں آگ ہے اس وقت آپا کے منہ پر ہلکي سي سرخي دوڑ گئي، ميں کيا جانوں وہ بھرائي ہوئي آواز ميں بولي اور پھنکني اٹھا کر جلتي ہوئي آگ میں بے مصرت پھونکيں مانے لگيں۔
اب ميں سمجھي ہوں کہ آپا کي گہرائيوں ميں جتيں تھيں اور وہ گہرائياں اتني عميق تھي کہ بات ابھرتي بھي تو نکل نہ سکتي، اس روز بدو نے کيسے پتے کي بات کہي تھي مگر ميں کہا کرتي تھي، آپا تم تو بس بيٹھي رہتي ہو اور وہ مسکراکر کہتي، پگلي اور اپنے کام ميں لگ جاتي، ويسے تو وہ سارا دن کام ميں لگي رہتي تھي ہر کوئي اسے کسي نہ کسي کام کو کہہ ديتا اور ايک ہي وقت ميں اس اسے کئي کام کرنے پڑتے، ادھر بدو چيختا آپا مير دليا ادھر بار گھورتے سجاد ابھي تک چائے کيوں نہيں بني، بيچ ميں اماں بولي اٹھتيں بيٹا دھوبي کب سے باہر کھڑا ہے اور آپا جپ چاپ سارے کاموں سے نپٹ ليتي، يہ تو ميں خوب جانتي تھي مگر اس کے باوجود جانے کيوں اسے کام کرتے ہوئے ديکھ کر يہ محسوس نہيں ہوتا تھا کہ وہ کام کر رہي ہے يا وہ اتنا کام کرتي ہے، مجھے تو بس يہي معلوم ہوتا ہے کہ بيٹھي ہي رہتي ہے اور اسے ادھر ادھر گردن موڑنے بھي اتني دير لگتي ہے اور چلتي ہے تو چلتي ہوئي معلوم نہيں ہوتي اس کے علاوہ

آنندی

بلديہ کايہ اجلاس زورون پر تھا، ہال کھچا کھچ بھر اہوا تھا اور خلاف معمول ايک ممبر بھي غير حاضر نہ تھا، بلديہ کے زير بحث مسلئہ يہ تھا کہ زنان بازاري  کو شہر بدر کر دياجائے، کيوں ان کا وجود انسانيت، شرافت اور تہذيب کے دامن پر بد داغ ہے۔

بلديہ کي ايک بھاري بھر کم رکن جو ملک و قوم کے سچے خير خواہ مانے جاتے تھے نہايت فصاحت سے تقرير کر رہے تھے اور پھر حضرات آپ يہ بھي چنانچہ ہر شريف آدمي کو چار رونا چار چار اس بازار سے گزرنا پڑتا ہے، علاوہ ازين شرفا کي پاک دامن بہو بيٹيان اور بازا کے تجارتي اہميت کي وجہ سے يہاں آنے اور خريد و فروخت کرنے پر مجبور ہيں ، صاحبان جب يہ شريف زلوياں ان آبرو باختہ اور نيم عرياں بيوائوں کے بنائو سنگار کو ديکتھي ہيں تو قدرتي طور پر ان کے دم ميں بھي آراش و دل رہائي کي نئي نئي امنگين اور ولوے پيدا ہوتے ہيں اور اپنے غريب شوہروں سے طرح طرح کے غازوں لونڈروں زرق برق ساڑيوں اور قيمتي زيوروں کي فرمائشيں کرنے لگتي ہيں نتيجہ يہ ہوتا ہے کہ ان کا پر مسرت گھر ان کا راحت کدہ ہميشہ کيلئے جہنم کا نمونہ بن جاتا ہے۔
اور صاحبان پھر آپ يہ بھي خيال فرمائيے کہ نونہالان قوم کو درس گاہوں ميں تعليم پارہے ہيں، اور جن کي آئنفدہ ترقيون سے قوم کي اميديں وابستہ ہيں اور قياس کہتا ہے کہ ايک نہ ايک دن قوم کي کشتي کو بھنور سے نکالنے کا سہرا ان ہي کے سر بندے گا، انہيں بھي صبح و شام اسي بازار سے ہو کر جانا پڑتا ہے، يہ قبحائيں ہر وقت بارہ ابھرن سولہ سنگھار کئے ہرا راہ پر لے حجانہ نگاہ و مثر کے ٹيروسنان برساقي جواني کے نشے ميں سر شار سودوزياں سے بے  پروہ نونہالان قوم اپنے جذبات و خيالات اور اپني اعلي سيرت کو مصيبت کے مسموم اثرات سے محفوظ رکھ سکتے ہيں؟ صاحبان؟ کيا ان کا حسن زاہد نونہالان قوم کو جادو مستقيم سے بھٹکا کر ان کے دل ميں گناہ کي پر اسرار لذتوں کي تشنگي پيدا کر کے ايک بے کلي ايک اضطراب ايک ہيجان برپا نہ کرديتا ہوگا۔۔۔۔۔؟
اسي موع پر ايک رکن بلديہ جو کسي زمانے ميں مدرس رہ چکے تھے اور اعداد شمار رکھتے تھے بول اٹھے۔
صاحبان واضع رہے کہ امتحانوں ميں ناکام رہنے والے طلبا کا تناسب پچھلے سال کي نسبت ڈيوڑيا سا ہوگيا ہے۔
ايک رکن جو چشمہ لگائے ہوئے تھے اور ايک ہفتہ وار اخبار کے مدير اعزازي تھے تقرير کرتے ہوئے حضرات ہمارے شہر سے روز بروز غيرت، شرافت، مردانگي، نکوکاري اور پرہيزگاري اٹھتي جارہي ہے، اس کے بجائے بے غيرتي، نامردي، بزدلي، بدمعاشي، چوري اور جعل سازي کا دور دورہ ہوتا ہے، منشيا کا استعمال بہت بڑھ گيا ہے، قتل و غارت، خود کشي اور ديواليہ نکلنے کے وارداتيں بڑھ رہي ہيں، اس کا سبب محض ان زنان بازاري کا ناپاک وجود ہے، کيوں کہ ہمارے بھولے بھالے شہري ان کي زلف گرہ گير کے اسير ہو کر ہوش و خرو کھو بيٹھتےہيں، اور ان کے ہار سنگار تک رسائي حاصل کرنے کيلئے زيادہ سے زيادہ قيمت ادا کرنے کيلئے ہر جائز و ناجائز طريق سے زر ہو جائے اور نہايت قبيح افعال کا ارتکاب کر بيتھے ہيں نتيجہ يہ ہوتا ہے، کہ يا تو وہ جان عزيز ہي سے ہاتھ دھو بيٹھتے ہيں اور ياجيل خانوں

چوتھی کا جوڑہ

سر داري کے چوکے پر آج صاف ستہري جازم بچھي تھي، ٹوٹي پھوٹي چھريوں ميں سے دھوپ کے آرے ترچھے قتلے پورے دلان ميں بکھرے ہوئے تھے، ٹولے کي عورتيں خاموش اور سبھي ہوئي سي بيٹھي تھيں جيسے کوئي بڑي واردات ہونےوالي ہو، مائوں نے بچے چھاتيوں سے لگائے تھے کبھي کبھي کوئي خستي سا چڑا چڑا بچہ رصد کي کمي کي دہائي دے کر چلا اٹھتا۔
نائيں نائيں ميرے لال دبلي پتلي ماں اسے اپمے گھٹنے پر لٹا کر يوں جيسے دھان ملے چاول دھوپ ميں پھٹک رہي ہو، اور پھر ہنکارے بھر کر ابھي سفيد گزري کا نشاني ہو اٹھنے کي کسي کي ہمت نہ پڑي تھي، کاٹ چھانٹ کے معاملہ ميں کبري کي ماں کا مرتبہ بہت اونچا تھا اس کے سوکھے سوکھے ہاتھوں نے نہ جانے کتنے جيہز سنوارے تھے، کتنے چھٹي چھو چکے اور کتنے ہي کفن پيونتے تھے جہاں کہيں محلے ميں کپڑا کم پڑجاتا اور لاکھ جتن پر بھي بيونت و بيٹھتي کبري کي ماں کپڑے کي کان نکاليتں کلف توڑتين کبھي تکون بناتيں کبھيچوکھنا کر تيس اور دل ہي دل ميں قينچي چلا کر آنکھوں سےناپ تول کر مسکرا پڑتيں۔
 آستيں کيلئے گھير تو نکل آئے گا گريباں کيلئے کترن ميري  بقيچي سے لے لو، اور مشکل آسان ہوجاتي ہے، کپڑا تراش کردہ کترنوں کي پنڈي بناکر پکڑاديتيں۔
يوں تو آج سفيد گزي کا ٹکڑا بہت ہي چھوٹا تھا اور سب کو يقين تھا کہ آج تو کبري کي ماں کي ناپ تول رہ جائے گي، جب ہي تو سب دم سادھے ان کا منہ تک رہي تھيں، کبري کي ماں کے استقلال چہرے پر فکر کي کوئي شکل نہ تھي چارہ گر گڑي کے ٹکڑے کو ہو نگاہوں سے پينوت رہي تھيں، لال ٹولکا عکس ان کے نيلگوں زرد چہرے پر شفق کي طرح پھوٹ رھا تھا، وہ اداس اداس گہري جھرياں اندھيري گھٹائوں کي طرح ايک دم اجاگر ہوگئيں جيسے گھنے جنگل ميں آگ بھڑک اٹھي ہو، اور انہوں نے مکسرا کر قينچي اٹھالي۔
محلہ واليوں کے جمگھٹے سے ايک لمبي اطمينان کي سانس ابھري گود کے بچے بھي ٹھسک دئيے گئے، چيل جيسي نگاہوں والي کنواريوں نے چمپا چپ سوئي کے ناکوں ميں ڈورے پردئے بياہي دلہنوں نے انگشنا نے پہن لئيے کبري کي ماں کي قينچي چل پڑي تھي۔
سہ وردي کے آخري کونے ميں پلنگڑي پر حميد پير لٹکائے ہتھيلي پر تھوڑي رکھے دور کچھ سوچ رہي تھي۔
دوپہر کا کھانا نمٹا اسي طرح بي اماں سر دري کي چوکي پر جا بيٹھي اور بقيچي کھولکر برنگے کپڑوں کا جال بکھير ديا کرتي ہيں، کونڈھي کے پاس ميٹھي مانجھي ہوئي کبري کن آنکھيوں سےان لال کپڑوں کو ديکھتي تو ايک سرخ جھپکي اس کے زردي مائل مٹيالے رنگ ميں لپک اٹھتي، رو پلي کٹوريوں کے جال جب پولے پولے ہاتھوں سے کھول کر اپنے زانوں پر پھيلاتيں تو ان کا مرجھايا ہوا چہرہ ايک عجيب ارمان بھر روشني سے جگمگا اٹھتا، گہري صندوقوں جيسي شکنوں پر کٹوريوں کا عکس نھني نھني مشعلوں کي طرح جگمگانے لگتا ہر ٹانکے پر رزي کا کام ہلتا اور مشعليں کپکپا

بڈھا

جب منڈيروں پر  پھد کتي ہوئي چڑياں ايک دم بھرر سے فضا ميں ابھرا جاتيں اور کھرليوں کے قريب گٹھڑياں بنے ہوئے بچھڑۓ اپنے لمبے لمبے کانوں کے آخري سرے ملا کر محرابيں سي بناليتے تو جھکي ہوئي ديواروں کے سائے ميں بيٹھے ہوئے کسان مسکراتے اور خشک تمباکو کو ہتھيليوں سے ملتے ہوئے ياکھيس کے دھاگوں ميں بل ڈالتے ہوئے کہتے، بابا عمرو کھانسا ہے۔

بابا عمرو کي کھانسي بہت گونجيلي تھي، يوں معلوم ہوتا تھا جيسے تانبے سے بنے ہوئے کنوئيں ميں يکبار چند پتھر گر پڑے ہيں۔۔۔۔۔وہ اپنے جھونپڑے کي چوکھٹ پر بيٹھا بکريوں کے بال بٹتا رہتا اور جب کھانستا تو پسليوں کو دنوں ہاتھوں سے جکڑ ليتا، اس زور سے تھوکتا کہ اس کي مونچھوں کے جيھکے ہوئے بال لوہے کے تنے ہوئے تار بن جاتے، خربوزے کے مرجھائے ہوئے چھلکوں کے گالوں پر چھريوں کا جال سا تنا جاتا، اور جھکي ہوئي بھوسلي بھووں کے نيچے سے ندي کنارے کے گول کنکروں کي سي آنکھوں پرپاني کي پتلي سي لہر تير جاتي، پڑوسن کے بچے تالياں بجاتے اور چلاتے، بابا عمرو کھانسا ہے۔۔۔۔۔۔بابا عمرو کے کانوں ميں ان چيخوں کي بھنک پڑجاتي تو بکريوں کے گولے پر بے تابانہ انگلياں پھيرتا، رسي ميں اتنے بل ڈالتا کہ وہ تن کہ ٹيڑھي ہوجاتي اور پھر پاس ہي بيٹھي ہوئي بلي کو گردن سے پکڑ کر اپني جھولي ميں بٹھا ليتا اور کہتا بابا عمرو کيا کھانسا، مداري نے پٹارے سے ڈھکنا ہٹا ديا، چھچھوندر کہيں کے ديکھوں گا ميري عمر کو پہنچ کر کيسے نہيں کھانستے، ميں بھي تو جب جواني ميں کھانستا تھا تو ايسا لگتا تھا جيسا کوئي طبلہ بجا رہا ہے۔

اچانک پڑوس کي ايک لڑکي لپک کر گھر سے نکلتي اور جب بابا عمرو کو اپنے آپ سے سرگوشياں کرتے ديکھتي  تو آگے بڑھ کر کہتي، بابا عمرو ميں آگئي۔
بابا عمرو چونک اٹھتا اور پھر اس کے لبوں پر ايسي جناتي مسکراہٹ نمودار ہونے لگتي جيسے ٹوٹے پھوٹے قبرستان ميں چاندني، کہتا ميں جانتا تھا ميري وليتو آئے گي، تو اتني دير تک کيا کرتي رہي وليتو بيٹا؟
ہمارے گھر چاول پکے ہيں، نھني وليتو تالي بجا کر کہتي، ميٹھے چاول ۔۔۔۔۔۔۔لے آئوں تمہارے لئے بابا عمرو؟ہيں بابا عمرو؟
چاول قابض ہوتے ہيں، وہ ہونٹ سيکٹر کر کہتا اور جب لڑکي کے صاف چہرے پر انکار کے صدمے کا احساس شفق کي پھوار سي چھڑک ديتا تو وہ انداز گفتگو بدل کر کہتا، پر وليتو تيري خاطر مٹھي بھر کہا لوں گا ميں بھي، وليتو بچي کا جي برا کروں، تو کہا جائو ميں بڈھا کھوسٹ؟
نھني وليتو اچھلتي کودتي اپنے گھر ميں گھس جاتي، گھڑۓ کے ڈھکنے پر مونگ کي گھنگھنياں ڈالے پلٹتي اور بابا عمرو کے سامنے گھٹنوں پر ٹھوڑي رکھے بانہوں کو پنڈليوں پر لپيٹے بيٹھ جاتي، بابا عمرو چاولوں کے تصور کو منگ ميں بدلتے ديکھ کر يوں ہنستا جيسے نيا نيا رہٹ رک رک کر چل رہا ہو اور پھر اس کے قہقہے گونجيل کھانسي ميں تبديل ہوجاتے، پسليوں کو دونوں ہاتھوں سے جکڑ کر سامنے پڑوسي کي ديوار پر چٹاخ سے تھوک کر کہتا، يہ چاول کہاں سے آئے نھنو؟
کرپالو کي دکان سے، ويستو پلکيں جھپکا کر مسکراتي۔
اور بابا عمرو کہتا ميں سمجھا وليتو نے ولايت سے چاول منگائے ہيں۔۔۔۔۔

منزل منزل

راجدہ نہ کہا تھا ميرے متعلق افسانہ مت لکھنا، ميں بدنام ہوجائوں گي، اس بات کو آج تيسرا سال ہے اور ميں نے راجدہ کے بارے ميں کچھ نہيں لکھا اور نہ ہي کبھي لکھوں گا، اگرچہ وہ زمانہ جو ميں نے اس کي محبت ميں بسر کيا، ميري زندگي کا سنہري زمانہ تھا، اور اس کا خيال مجھے ايک ايسے باغ کي ياد دلاتا ہے، جہاں سدا بہار درختوں کي پرسکون چھائوں ميں سچے گلاب کے پھولوں کے جھاڑ مسکرارہے ہوں اور جس کي کھلي اور آزاد روشوں پر خوشحالي لوگ  محو خرام ہوں، پھر بھي ميں اس باگ کے متعلق کچھ نہيں بتائوں گا، خواہ وہ اس ميں راجدہ کي بدنامي ہو يا نيک نامي، جب سے راجدہ جدہ ہوئي ہے ميں نے راجدہ کے کومجھ سے جدائے ہوئے آج تيسرا سال ہے۔

            اس عرصے ميں راجدہ کو ميں نے ايک پل کيلئے بھي نہيں ديکھا اور شايد اس نے بھي مجھے نہ ديکھا ہو، ہم۔۔۔۔۔۔۔جو ايک دوسرے کي پل بھر کي جدائي برداشت نہيں کرسکتے تھے، زندگي کے تين سال ايک دوسرے سے جدا رہ کر چپ چاپ بسر کر گئے ہيں، ان تين سالوں پر سے گزر کر پيچھے کي طرف جاتے ہوئے مجھے محسوس ہورہا ہے کہ ميں جھڑے ہوئے پتوں والي ايک پرمردہ سڑک پر چل رہا ہوں، جو قبرستان ميں سے ہوکر گزرتي ہے۔
         ان دنوں ميں لاہور کے ايک اخبار کے دفتر ميں ملازم تھا، گھر چونکہ امرتسر میں تھا، لہذا شام کي گاڑي سے واپس اپنے گھر چلا جاتا تھا، اگر لاہور ميں بڑي آپا کا گھر تھا اور وہ لوگ ميري اس ہر صبح  سفر، ہر شام سفر ايسي زندگي پر مجھے اکثر پالتو کلرک کہا کرتے تھے، تاہم جو مزا اپنا گھر ميں تھا وہ نہ بلخ ميں تھا نہ بخارے ميں۔۔۔۔علاوہ ازيں کہ ميري  عادت کہ ميں امرتسري انگريزوں کي طرح ہوں۔۔۔۔ان اطوار کے پيش نظر اپنا گھر چھوڑنا عين حماقت تھي۔
ليکن راجدہ سے ملنے کے بعد ميں نے امرتسر  تقريبا چھوڑ ديا، آج سے تين سال پہلے موسم گرما کي کي وہ ايک گرم اور چمکيلي شام تھي، ميں ابھي ابھي گاڑي سے اترا تھا، مجھے حسب معمول بھوک لگ رہي تھي، تيز تيز قدم بڑھارہا تھا، پر شور بازاروں اور دھندلي گليوں ميں سے گزرتا ميں گھر کي طرف بڑھا، ابھي ميں گھر کي سيٹرھيوں ميں ہي تھا کہ مجھے اوپر بھانچي کي آواز سنائي دي، بھانجي اور ميں ميں ہم عمر تھے اور ايک ساتھ کھيلے اور بڑے ہوئے تھے، وہ کافي دنوں کے بعد اپني ناني کے گھر آئي تھي اور ميں اس سے بڑے آرام سے ملنا چاہتا تھا، چنانچہ ميں سيدھے اپنے کمرے ميں گھس گيا، کپڑے اتارے، ٹھنڈے پاني سے غسل کيا، اور کپڑے بدلنےلگا، بھانجي چھوٹے بھائي سے کسي نہي فلم کي ہيروئن کے بارے ميں گرماگرم بحث کررہي تھي، اس کے خيال میں ميں ہيروئن سے زيادہ خوبصورت ہيرو تھا، مگر چھوٹا بھائي کہتا کہ ہيروئن کي آنکھيں بھينگي ہونے کے علاوہ اس کے مونچھيں بھي تھيں، اس لئے وہ کسي طرح بھي خوبصورت نہيں کہلائي جاسکتي۔۔۔۔۔۔
کپڑے بدل کر ميں صحن ميں آگيا بھانجي مجھے ديکھتے ہي اچھل پڑي ميں بھي تقريبا اچھل پڑا سب قہقہے مار کر ہنسنے لگے، وہاں شور مچ گيا جس ميں ميرے اور بھانجي کے قہقہوں کے آواز نماياں تھيں، يونہي ميري نظر چق کے پيچھے صحن کے دوسرے آدھے حصے ميں پڑي، وہاں بھانجي کي نند عظمي بيٹھي ہمارے قہقہوں ميں دلچسپي لے رہي تھي۔
تو گويا آپ بھي ہيں؟
اور ميں چق اٹھا کر تيزي سے اس کے پاس پہنچا گيا، عظمي کے ساتھ ايک اور لڑکي بيٹھي تھي، جسے ميں نے بالکل نہ ديکھا اور جس نے مجھے ديکھ کر منہ جلدي سے دوسرے طرف پھير ليا، ميں ذرا ٹھٹھک گيا، اتنے ميں بھانجي بھي آگئي اور اس لڑکي کو مجھ سے پردا کرتے ديکھ کر بول اٹھي۔

مٹی کی مونا لیزا

مونا ليزا کي مسکراہٹ ميں بھيد ہے؟
اس کے ہونٹوں پر يہ شفق کا سونا، سورج کا جشن طلوع ہے يا غروب ہوتے ہوئے آفتاب کا گہرا ملال؟ ان نيم دا مستبم ہونٹوں کے درميان يہ باريک سي کالي لکير کيا ہے؟ يہ طلوع و غروب کے دين بيچ میں اندھيرے کي آبشار کہاں سے گر رہي ہے؟ ہرے ہرے طوطوں کي ايک ٹولي شور مچاتي امرود کے گھنے باغون کے اوپر سے گزرتي ہے۔ ويران باغ کي جنگلي گھاس میں گلاب کا ايک زرد شگوفہ پھوٹتا ہے۔ آم کے درختون مین بہنے والي نہر کي پليا پر سے ايک تنگ دھڑنگ کالا لڑکا رتيلے ٹھنڈے پاني ميں چھلانگ لگاتا ہے اور پکے ہوئے گھرے بسنتي آموں کا ميٹھا رس مٹي پر گرنے لگتا ہے۔
سنيما ہال کے بک اسٹال پر کھڑے ميں اس ميٹھے رس کي گرم خوشبو سونگھتا ہوں اور ايک آنکھ سے انگريزي رسالے کو ديکھتے ہوئے دوسري آنکھ سے ان عورتوں کو ديکھتا ہوں جنہیں ميں نے فلم شروع ہونے سے پہلے سب سے اونچے درجے کي ٹکٹوں والي کھڑکي پر ديکھا تھا۔ اس سے پہلے انہیں سبز رنگ کي لمبي کار ميں سے نکلتے ديکھا تھا اور اس سے پہلے بھي شايد انہیں کسي خواب کے ويرانے ميں ديکھا تھا۔ ايک عورت موٹي بھدي ، جسم کا ہر خم و گوشت ميں ڈوبا ہوا، آنکھوں ميں کاجل کي موتي تہہ، ہونٹوں پر لپ اسٹک کا ليپ، کانوں ميں سونے کي بالياں ، انگليوں پر نيل پالش ، کلائيوں ميں سونے کے کنگن ، گلے ميں سونے کا ہار، سينے ميں سونے کا دل، ڈھلي ہوئي جواني، ڈھلا ہوا جسم، چال ميں زيادہ خوشحالي ، اور زيادہ خوش وقتي کي بيزاري، آنکھوں ميں پر خوري کا خمار اور پيٹ کے ساتھ لگايا ہوا بھاري زرتار پرس۔۔دوسري لڑکي۔ل الٹرا ماڈرن ، الٹرا اسمارٹ ، سادگي بطور زيور اپنائے ہوئے، دبلي پتلي، سبز رنگ کي چست قميض کٹے ہوئے سنہرے بال ، کانو ں ميں چمکتے ہوئے سبز نگينے کلائي ميں سونے کي زنجير والي گھڑاي اور دوپٹے کي رسي گلے ميں ، گہرے شيڈ کي پنسل کے ابرو، آنکھوں ميں پر کار سحر کاري، گردن کھلے گريبان ميں سے اوپر اٹھي ہوئي ، دائيں جانب کو اس کا ہلکا سا مگرور خم ، ڈورس ڈے کٹ کے بال، بالون ميں يورپي عطر کي مہک، دماغ گزري ہوئي کل کے ملال سے نا آشنا، دل آنے والي کل وسوسوں سے بے نياز زندگي کي بھر خوشبوئوں اور مسرتوں سے لبريز جسم ، کچھ رکا رکا سا متحرک سا، کچھ بڑ بڑاتا ہوا۔ اس دودھ کي طرح جسے ابال آنے ہي والا ہو۔ سر انيگلو ، پاکستاني، لباس، پنجابي زبان انگريزي اور دل نہ تيرا نہ ميرا۔
بک اسٹال والا انہیں اندر داخل ہوتے ديکھ کر اٹھ کھڑا ہوا اور کٹھ پتلي کي طرح ان کے آگے پيچھے چکر کھانے لگا۔ اس نے پنکھا تيز کر ديا۔ کيونکہ لڑکي بار بار اپنے ننھے ريشمي رومال سے ماتھے کا پسينہ پونچھ رہي تھي۔ موتي عورت نے مسکرا کر پوچھا۔ آپ نے "لک" اور وہ "ٹر اسٹوري" نہيں بھجوائے۔ اسٹال والا احمقوں کي طرح مسکرانے لگا۔ وہ جب اب کے ہمارا مال راستے ميں رک گيا ہے۔ بس اس ہفتے کے اندر اندر سرئنلي بھجوا دوں گا۔ موٹي عورت نے کہا۔ پليز ضرور بھجواديں۔ لڑکي نے فوٹو گرافي کا ارسالہ اٹھا کر کہا۔ پليز اسے پيک کر کے گاڑي ميں رکھوا ديں۔ بک اسٹال والا بولا۔ کيا آپ انٹرويل ميں ہي جا رہي ہيں۔ موٹي عورت بولي ۔يس پکچر بڑي بور ہے۔ 
انہوں نے ساڑھے تين روپے کے ٹکٹ لئے تھے۔ پکچر پسند نہیں آئي ۔ لمبي کار کار دروازہ کھول ديا اور کار ديرا کي پر سکون لہر کي طرح سات روپوں کے اوپر سے گزر گئي۔ وہ سات روپے جن کے اوپر سے لوہاري دروازےکے ايک کنبے کے پورے ساتہ دن گزرتے ہيں۔ اور لوہاري دروازے کے باہر ايک گندہ نالہ بھي ہے۔ اگر آپ کو اس کنبے سے ملنا ہو تو اس گندے نالے کے ساتھ ساتھ چلے جائيں۔ ايک گلي دائيں ہاتھ کو ملے گي۔ اس گلي ميں سورج کبھي نہيں آيا ۔ ليکن بدبو

آخری آدمی

الياسف اس قرئيے ميں آخري آدمي تھا، اس نے عہد کيا تھا کہ معبود ي سوگند ميں آدمي کي جون ميں پيدا ہوا ہوں اور میں آدمي ہي کي جون ميں مروں گا اور اس آدمي کي جون ميں رہنے کي آخر دم تک کوشش کي، اور اس قرئيے سے تين دن پہلے بندر غائب ہوگئے تھے، لوگ حيران ہوئے اور پھر خوشي منائي کہ بندر جو فصليں بربد اور باگ خراب کرتے تھے نابود ہوگے، پر اس شخص نے جوا نہيں سبت کے دن مچھليوں کے شکار سے منع کيا کرتا تھا، کہا کہ بندر تو تمہارے درميان موجود ہيں، مگر يہ کہ تم ديکھتے نہيں، لوگوں نے اس کا برامانا اور کہا کيا تم ہم سے ٹھٹھا کرتا ہہے اور اسنے کہا کہ بے شک ٹھٹھا کرنے والا ہے ، اس کے تيسرے دن يوں ہوا کہ اليدرز کي لونڈ گجر دم اليدزر کي خواب گاہ ميں داخل ہوئي اور سبھي ہوئي اليعدز کي جورو کے پاس الٹے پائوں آئي، پھر اليعدز کي جورو خواب گاہ ميں گئي اور حيران و پريشاني واپس آئي پھر يہ خبر دور دور پھيل گئي تھي اور دور دور سے لوگ العيدز کے گھر آتے اور اس کي خواب گاہ تک جا کر ٹھٹھک گئے کہ اليعذ رکي کو اب گاہ ميں اليعذر کي بجائے ايک بڑا بندر آرام کرتا تھا اور العيذر نے پچھلے سبت کے دن سب سے زيادہ مچھلياں پکڑي تھيں، پھر يوں ہوا کہ ايک دوسرے کو خبر دي، کہ اے عزيز العيذر بندر بن گيا ہے اس پر دوسرا زور سے ہنسا تو نے مجھے سے ٹھٹھا کيا اور وہ ہنستا ہي چلا گيا حتي کہ منہ اس سرخ پڑگيا، اور دانت نکل آئے اور چہرے کے ڈروخال کھيينچے چلے گئے اور وہ بندر بن گيا، تب پہلا کمال حيران ہوا منہ اس کا کھلا رہ گيا اور آنکھيں حيرت 
سے پھيلتي چلي گئيں اور پھر وہ بھي بندر بن گيا۔

  اور الياب ابن زبلون کو ديکھ کر ڈرا اور يوں بولا کہ ابے زبلون کے بيٹے تجھے کيا ہوا کہ تيرا چہرہ بگڑ گيا اب زبلون نے اس بات کا برا مانا اور غصے دسے دانت کچکچانے لگا تب الياب مزيد ڈرا اور چلا کر بولا اے زبلون تيري ماں تيرے سوگ ميں بيٹھي ضرور تھے کچھ ہوگيا ہے اس پر ابن زبلون کا منہ غصہ سے لال ہوگيا، اور دانت بھينچ کر الياب پر جھپتا تب الياب پر خوف سے لرزہ طاري ہوا اور ابن زبلون کا چہرہ غصے سے اور الياب خوف سے اپنے آپ سکڑتا اور وہ دونوں ايک مجسم غصہ اور ايک خوف کي پوتھ تھے آپس ميں گھتم گئے، انکے چہرے بگڑتے چلے گئے پھر ان کے اعضا بگڑنے پھر ان کي آوازيں بگڑيں کہ الفاط آپس ميں مد غم ہوتے چلے گئے اور پھر وہ بندر بن گئے، الياسف کہ ان سب ميں عقل مند تھا اور سے آخري آدمي بنا رہا، تشويش سےکہا کہ لوگوں مقرر ہميں کچھ ہوگيا، آئو ہم اس شخص سے رجوع کريں جو ہميں سبت کے دن مچھيلياں پکڑنے سے منع کرتا ہے، پھر الياسف لوگوں کے ہمراہ لے کر اس شخص کے گھر گيا اور حلقہ زن ہو کے دير تک پکارا کيا تب وہ وہاں مايوس پھر اور بڑي آواز سے بولا کہ اے لوگوں وہ شخص جو ہميں سبت کے دن مچھيلياں پکڑنے سے منع کرتا تھا آج۔
            ہمیں چھوڑکر چلا گيا ہے اور اگر سوچون تو اس ميں ہمارے لئے خرابي ہے،لوگوں نے سنا اور دہل گئے ايک بڑے خوف  نے انہيں آليا، دہشت سے صورتين ان کي چپڑي ہونے لگيں اور خدوخال مسخ ہوتے چلے گئے اور الياسف نے گھوم کر ديکھا اور سکتہ ہوگيا اس کے پيچھے چلنے والے بندر بن گئے تب بھي اس نے سامنے ديکھا اور بندرون کے سوا کسي کو نہ پايا، جاننا چاہئيے کہ وہ بستي ايک بستي تھي، سمندو کے کنارےاونچے پر جوں اور بڑے دروازوں والي حويلياں کي بستي بازاروں ميں کھوئے سےکھوا چھلتا تھا کٹورا بجتا تھا، پر دم کے دم ميں بازار ويران اور اونچي ڈيوڑھياں سوني ہوگئيں، اور اونچے برجوں ميں عالي شان چھتون پر بندر ہي نظر آنے لگے۔
اور الياسف نے ہر اس سے نظر دوڑائي اور سوچا ميں اکيلا آدمي ہوں اور اس خيال سے وہ ايسا  ڈرا کہ اس کا خوف جمنے لگا ليکن اسے الياب ياد آيا کہ خوف سے کس طرح اسکا چہرہ بگڑتا چلا گيا تھا، اور عزم باندھ کر معبود کي سوگند آدمي کي جون ميں پيدا ہوا اور آدمي کي جون ميں ہي مروں گا اور الياسف نے اپنے ہم جنسو سے نفرت کي اس نے ان کي لال بھبھو کا صورتوں اور بالوں سے ڈھکے ہوئے جسموں کو ديکھا اور نفرت سے چہرہ اسکا بگڑنے لگا  مگر اسے اچانک زبان کا خيال آيا کہ نفرت کي شدت سے صورت اس کي مسخ ہوگئي تھي، اس نے کہا کہ الياسف نفرت مت کرو کہ نفرت سے آدمي کي کايا بدل جاتي ہے، اور الياسف نے نفرت سے کنارہ کيا، اور کہا بے شک ميں ان ہي ميں سے تھا اور وہ دو دن ياد کئے، جب ون ان ميں سے تھا اور دل اس کا محبت کے جوش سے امنڈنے لگا اسے بنت الاخضر کي ياد آئي کے فرعون کے رتھ کي دودھيا گھوڑيوں ميں سے ايک گھوڑي کي مانند تھي، اور اسکے برے گھر کے در سروکے کڑياں سنوبر کي تھيں اس ياد کے ساتھ الياسف کو بيتے دن ياد آئے کہ وہ سرو کے دروں اور صنوبر کي کڑيوں والے مکان ميں عقب سے گيا تھا اور چھپر کھٹ کيلئے اسے ٹٹولا جس کيلئے اس کا جي چاہتا تھا اور اس نے ديکھا۔

لمبے بال اس کي رات کي بوندوں سے بھيگے ہوئے ہيں اور چھاتايا ہرن کي بچوں کے موفق تڑپتي ہے اور پيٹ اس کا گندم کي ديوڑھي کي مانند ہے اور پاس اس کے صندل کا گول پيالہ ہے اور لياسف نے بنت الاخضر کو ياد کيا اور ہرن کے بچوں اور گندم کي ڈھيري اور صندل کے گول پيالے کے تصوير ميں سرو کے دوروں اور صنوبر کي کڑيوں والے گھر تک گيا ساس نےخالي مکان کو ديکھ اور چھپر کھٹ پر اسے ٹٹولا جسکے لئيے اس کا جي چاہتا تھا اور پکارا کہ اے بنت  الاحضر تو کہا اور اسے وہ کر جس کيلئے ميرا جي چاہتا ہے ديکھ موسم کا بھاري مہنيہ گزرگيا اور پھولوں کي کيارياں ہري بھري ہوگئيم اور قمرياں اونچي شاخوں پر پتھرائي ہيں تو کہا ہے اے خضر کي بيٹي اے اونچي چھت پر بچھتے ہوئے چھپر کھٹ پر آرام کرنے والي تجھے دشت ميں دوڑتي ہوئي ہر نيوں اور چٹانو کي دراڑوں ميں چھپے ہوئے کبوتروں کي قسم تو نيچے اتر اور مجھ سے آن مل کہ تيرے لئے ميرا جيي چاہتا ہے۔

آخری گاڑی

آخری گاڑی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ منیر احمد فردوس

ڈھولک کی تھاپ گھر بھر میں  گونج رہی تھی۔کمرے میں رانو گوٹے والا سرخ دوپٹہ سر پر ڈالےمنہ چھپائے دلہن بنی بیٹھی تھی۔اور آٹھ دس لڑکیاں اسے نیم دائرے میں گھیرے  "ساڈا چڑیاں دا چنبہ وے، بابل اسی اڈ جانڑاں" گا رہی تھیں۔گاتے ہوئے وہ اتنا زور لگا رہی تھیں کہ ان کے چہرے خون کی سرخی سے لال ہو کر خوب دمک رہے تھے اور ہر چہرہ تازگی میں پھولوں کو کملا رہا تھا۔مگر باہر وسیع صحن میں فیضو اپنے سر کو دونوں ہتھیلیوں پر رکھے اور داہنی ٹانگ کو بائیں ٹانگ پر دھرے کھاٹ پر ہر چیز سے بے نیاز یوں لیٹا تھا جیسے ڈھولک اس کے گھر میں نہیں کہیں اور بج رہی ہو۔اس کا وجود کھاٹ پر پڑا تھا مگر اس کے چہرے سے صاف پتہ چلتا تھا کہ سوچ کے اڑتے پنچھی کا پیچھا کرتے ہوئے وہ کسی اور جہاں میں پہنچا ہو اتھا۔وہ شدید تذبذب کا شکارلگ رہا  تھا، یوں لگتا تھا جیسے اس کا چہرہ میدانِ جنگ بنا ہوا ہے جہاں دولمحوں کے بیچ جنگ لڑی جا رہی ہے۔ کافی دیر تک وہ اسی حالت کا قیدی رہا اور پھر اچانک اس کے چہرے پر طمانیت یوں پھیلتی چلی گئی جیسے ٹوٹی پھوٹی دیوار پر سفیدی کی دبیز چادر چڑھا دی گئی ہو۔اسے دیکھ کر لگتا تھا کہ جیسے کسی ایک لمحے کی جیت ہو گئی ہے۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھا اور اپنی ماں کوتلاشتے ہوئے  ادھر ادھر دیکھا جو اسے بھینسوں کے آگے چارہ ڈالتی ہوئی نظر آئی۔فیضو ننگے پائوں ہی اپنی ماں کی طرف بڑھ گیا۔ قریب پہنچ کر اس نے اپنی ماں سے کہا"اماں! میں بابے کو ڈھونڈنے شہر جائوں گا۔" اس کی ماں چارہ ڈالتے ڈالتے یک لخت رک گئی اور جم سی گئی۔ ڈھولک کی تھاپ اور لڑکیوں کے گانے کی آوازیں مسلسل گونج رہی تھیں۔ فیضو کی ماں چند لمحے تو ساکت و جامد کھڑی اسے دیکھتی رہی اور بالآخر وہ بھینس کو چارہ ڈالتے ہوئے تفکر سے بولی"یہ تو کیا کہہ رہا ہے پتر؟"اس کے چہرے پر فکر اپنا نقشہ بنا نے لگی تھی۔ "ہاں اماں! میں نے سوچا ہے کہ میں بابے کے واسطے شہر جائوں گا۔"فیضو نے بھینس کی دائیں آنکھ کے قریب چمٹا بڑا سا تنکا ہٹاتے ہوئے کہا "ناں فیضو ناں! میں تجھے شہر نہیں جانے دوں گی۔ میں ڈرتی ہوں کہ شہر میں جا کر کہیں تو گم نہ ہو جائے۔" اس کی ماں تشویشناک لہجے میں بولی۔ "نہیں اماں! مجھے کچھ نہیں ہو گا، تُو تو بس ایویں ہی پریشان ہو جاتی ہے، میں اتنا چھوٹا تو نہیں کہ بابے کو ڈھونڈنے شہر نہ جا سکوں؟"فیضو نے بھینس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ اچانک بکری کی " میں۔ ۔ ۔میں۔ ۔ ۔" گونج اٹھی۔فیضو نے صحن نے آخری کونے میں بندھی بکری کو دیکھا، جو اسی کی طرف دیکھے "میں۔ ۔ ۔میں۔ ۔ ۔ " کئے جا رہی تھی، جیسے وہ بھوک کی حالت میں اپنے مہربان کو دیکھ رہی ہو۔"مگر پتر! تمہارا اکیلے شہر جانا صحیح نہیں ۔ سنا ہے کہ شہر کے حالات بہت خراب ہیں" اس کی ماں نے قدموں کے زور پر بیٹھ کر بھینس کو چارہ ڈالتے ہوئے کہا۔ وہ اپنی ماں کو کوئی جواب دئیے بغیر برآمدے کی جانب چل دیا، وہاں سے ہری ہری گھاس اٹھائ اور جا کر بکری کے آگے ڈال دی۔ بکری بے چین ہو کر ممیانے لگی اور زور زور سے دم ہلانے لگی، جیسے وہ اس مہربانی پر فیضو کا شکریہ ادا کر رہی ہو اور پھر تازہ تازہ گھاس کھانے لگی، جو تھوڑی دیر پہلے ہی فیضو اس کے لئے کاٹ لایا تھا۔فیضو دوبارہ ماں کے پاس آ کربولا "اماں! تو یہ بھی تو سوچ ناں کہ بابے کو شہر کو گئے ہوئے تین دن ہو گئے ہیں اور وہ ابھی تک نہیں آیا، ہم کتنے پریشان ہیں، بس اماں! میں بابے کو ڈھونڈنے شہرضرور جائوں گا۔"فیضو نے نہایت ٹھوس لہجے میں کہا "سوہنڑاں رب خیر کرے فیضو پتر! مگر تو اپنے باپ کو کہاں ڈھونڈے گا؟شہر تو بہت بڑا ہے اور کوئی بھی نہیں جانتا کہ وہ کس سنارے سے زیور لینے گیا ہے؟" اس کی ماں نے بھینس کا تازہ تازہ گوبر اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر ساتھ رکھے بڑے سے تھال میں ڈالتے ہوئے کہا، جو کہ ایک دوسری بھینس نے چارہ کھاتے ہوئے ابھی ابھی دیا تھا۔اس کے لہجے سے پریشانی پانی کے

December 27, 2011

برائے توجہ احباب



تمام احباب سے گزارش ہے کہ اپنا طبع زاد نثری کلام ( افسانہ، انشائیہ، مضمون، اقتباس، نثر لطیف، وغیرہ)  جلد     از جلد ای میل۔۔  

QamarSabzwari@gmail.com
 پر  ارسال کر دیں تا کہ اشاعت کر کے آراء کے سلسلے کا باقاعدہ آغاز کیا جا سکے۔۔۔۔۔۔




December 23, 2011

تعارف - شموئیل احمد



سنگھار دان



December 21, 2011

ندی (نقل بشکر یہ اردو ناولز ڈاٹ نیٹ)۔۔



December 20, 2011

کاٹنے والے جوڑنے والے



December 16, 2011

آنٹی ایم - حصہ اول



آنٹی ایم - حصہ دوئم



آنٹی ایم - حصہ سوئم



آنٹی ایم - حصہ چہارم



December 12, 2011

میٹا مورفو سِس از کافکا



ڈی اربروِل کی ٹَیس از تھامس ہارڈی



اساطیر اقوام عالم



چیخوف کے خطوط



منتخب روسی افسانے



انیس سو بائیس عیسوی کے منتخب برطانوی افسانے



امریکی فکاہیہ افسانے



December 11, 2011

مصری کی ڈلی


December 8, 2011

جنت کا پھول



کلمہ گو



کھڑکی سے آنے والا جھونکا



ایک اداس شام



بسلامت روی و باز آئی